1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دکھوں کا مداوا

'اتحاد امت' میں موضوعات آغاز کردہ از SZ Shaikh, ‏مارچ 24، 2018۔

  1. ‏مارچ 24، 2018 #1
    SZ Shaikh

    SZ Shaikh مبتدی
    جگہ:
    India
    شمولیت:
    ‏فروری 13، 2015
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اس طرح کی اصطلاحات اب صرف کتابوں ہی میں سمٹ کردہ گئ ہے۔ اب تو یوں لگتا ہے کہ لغت کے معنی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کے اس کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق اور رشتہ نہیں رہا۔ آج انسان ترقی کی معراج کو پہنچ چکا ہے۔جہاں میلوں کےفاصلے منٹوں میں طے پاتے ہیں ۔ مگر افسوس در افسوس دلوں کے فاصلے طویل ہو گئے ہیں۔ آج انسانیت مٹتی جارہی ہے۔ انسان ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ اورآخر ایسے حالات میں انسانوں کے دکھوں کا مداوا کس طرح ممکن ہے؟ اور وہ کیا اسباب ہے کہ انسان چاہ کر بھی اس کو نہیں کر پاتا ہے۔ دراصل ہم اتنے خوغرض ہو چکے ہیں۔ دلوں اور آنکھوں پر کئی پردے پڑے ہوے ہیں۔کہ ہمیں کچھ نظر نہیں آتا۔ فرمان الہی ہے "صُمّم بُکْم عُمْی فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْن۔ (البقرة:١٨)”بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں اب یہ نہیں پلٹیں گے۔

    کائنات میں غوروفکر کرےاور عبرت کی نگاہ سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر شے چرند پرند حیوانات جمادات نباتات جو بے زبان ہو کر بھی خاموش پیغام د یتی ہے۔ ۔ کوے کی ہی مثال لے لیں. کہ وہ کس طرح ساتھ رہتے ہوے بھی کسی جان کو نقصان نہیں پہنچاتے اور تو اور جب مصیبت کا وقت آتا ہے یا کوئی خطرہ یا کوئی تکلیف ہو تو سارے کے سارے جمع ہوجاتے ہیں ۔کائیں کائیں کر کے ماتم کرتے ہیں۔ جوبے زبان ہو کر بھی اپنی قوم کے دکھ کو تو سمجھتا ہے اور... ہم ؟؟ اور ہم جو زمین کے وارث بناے گئے اتنا تغافل اتنی خود غرضی ۔ کہ آج ہم جیسے انسانوں کو ہی کاٹ کھا رہے ہیں۔ کسی کے دکھ نہیں بانٹتے۔

    اگر ہم نے بروقت اپنااقدامات نہیں کیا یا اپنی روش کو نہیں تبدیل کیا تو ہم اپنے ہی لئےآئندہ مزید دشواری پیدا کر دے گے۔ اور پھر چاہ کر بھی منظر کو نہیں بدل سکے گے۔ وہ کونسے نسخہ کیمائی ہے جو ہماری سوچ ہماری رویوں کو یکسر بدل دے گی۔ دراصل ہمارا رشتہ قرآن سے دور ہوتا جارہاہے۔ بلاشبہ مادیت نے آنکھوں پر کئ طرح کے پردے ڈال دئیے ہیں۔ تعلق باللہ کو پھر سے مضبوط کرنا ہو گا۔ تعلیمات نبوی کی روشنی میں زندگی کی شاہراہ کو طے کرنا ہوگا۔ فرمان رسول (ص) "تم زمین پر رہنے والی مخلوق پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘ اسی ایک نسخے میں انسانیت کی تمام بھلائیاں پوشیدہ ہے۔معاشرے میں اگر ہم انسانیت دیکھنا چاہتے ہیں تو پہلے خود میں انسانیت پیدا کرنی ہوگی، اور یہ کام زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر کرنا ہوگا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں