1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دین میں اصل حرمت ہے اباحت نہیں

'فقہ اہل الرائے' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو زہران شاہ, ‏نومبر 12، 2018۔

  1. ‏نومبر 12، 2018 #1
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    67
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبراکۃ
    دین میں اصل حرمت ہے مجھے اکابر احناف سے اس کا اقرار درکار ہے کیوں کہ بریلوی مکتبہ فکر میں اصل حرمت نہیں بلکہ اباحت ہے۔ مجھے احناف سے اس کے دلائل درکار ہے کہ اصل میں حرمت ہے؟
    جس بھائی کے پاس بھی دلائل ہو تو برائے مہربانی یہاں بتا دیں۔
    جزاک اللہ خیرا

    @اسحاق سلفی
    @ابن داود
    @خضر حیات @محمد نعیم یونس
     
  2. ‏نومبر 13، 2018 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,731
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    دین میں دو چیزیں آتی ہیں، عبادات اور معاملات:
    عبادات میں اصل حرمت ہے۔
    معاملات میں اصل اباحت ہے۔
    پہلا تو متفق علیہ معلوم ہوتا ہے، جبکہ آخری کے متعلق علماء میں اختلاف بیان کیا گیاہے۔ کہ معاملات میں اصل حرمت ہے، یا پھر اباحت۔
    امام سیوطی نے الاشباہ والنظائر میں حنفیہ کا قول ذکر کیا ہے کہ ان کے نزدیک اصل حرمت ہے، جبکہ شافعیہ کے نزدیک اصل جواز ہے۔
    الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ الْإِبَاحَةُ حَتَّى يَدُلُّ الدَّلِيلُ عَلَى التَّحْرِيمِ.هَذَا مَذْهَبُنَا، وَعِنْد أَبِي حَنِيفَةَ: الْأَصْلُ فِيهَا التَّحْرِيمُ حَتَّى يَدُلَّ الدَّلِيلُ عَلَى الْإِبَاحَةِ-
    (الأشباه والنظائر للسيوطي (ص: 60)
    الأصل فی العبادات المنع قاعدے کی تفصیلات پر ایک مستقل کتاب ہے، ڈاکٹر محمد حسین الجیزانی کی، جو کہ مکتبہ شاملہ میں موجود ہے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 13، 2018 #3
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    67
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جزاک اللہ خیرا شیخ
    اس پر متقدمین احناف کے اقوال اگر ہو تو لکھ دیجئے کہ عبادات میں اصل حرمت ہے۔

    اگر یہ قول خود احناف کے اکابر سے مل جائے تو کیا ہی اچھا۔کیوں امام سیوطی نے ذکر کیا ہے اصل میں کہا پر موجود ہے یہ درکار ہے

    اللہ سبحانہ تعالیٰ آپ کے علم و عمر میں برکت عطاء فرمائے۔آمین
     
  4. ‏نومبر 13، 2018 #4
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    67
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    اس میں صحیح قول کون سا ہے؟
     
  5. ‏نومبر 14، 2018 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,731
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ دونوں ہی صحیح ہیں۔
    لیکن ان قواعد کا انطباق و تطبیق علما کا کام ہے۔
    الله اعلم
     
  6. ‏نومبر 14، 2018 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    حنفی فقہاء کے ہاں عبادات میں اصل منع ہے
    یعنی امور تعبدیہ میں جب تک شارع سےکوئی عبادت یا طریقہ عبادت ثابت نہ ہو اس وقت تک کوئی عمل " شرعی عبادت " نہیں بن سکتا ،
    احناف کے اس اصول کو سمجھنے کیلئے بطور مثال فقہ حنفی کے دو تین مسئلے پیش ہیں
    کتب فقہ حنفی میں "ھدایہ " مشہور و معتبر کتاب ہے ،
    اس میں ہے کہ :
    قال المرغینانی ؒ : وقالا: لا يزيد في الليل على ركعتين بتسليمة. وفي الجامع الصغير لم يذكر الثماني في صلاة الليل، ودليل الكراهة أنه - عليه الصلاة والسلام - لم يزد على ذلك، ولولا الكراهة لزاد تعليما للجواز،
    (ھدایۃ : ۱ /۱۲۷ )

    رات کے نوافل کے متعلق صاحب ھدایہ لکھتے ہیں : کہ ایک سلام کے ساتھ دو سے زائد رکعات نہ پڑھی جائیں ،کیونکہ یہ مکروہ ہے اور کراہت کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت دو رکعت سے زائد نفل نمازایک سلام سے نہیں پڑھی ، اور اگر دو سے زائد رکعات ایک ہی سلام سے پڑھنا مکروہ نہ ہوتی تو تعلیم جواز کیلئے زیادہ ضرور پڑھتے ۔

    اسی طرح ھدایہ میں ہے کہ :
    (ويكره أن يتنفل بعد طلوع الفجر بأكثر من ركعتي الفجر) لأنه عليه الصلاة والسلام لم يزد عليهما مع حرصه على الصلاة ( ھدایۃ : ۱ /۱۵۳ )
    طلوع فجر کے بعد صبح کی دو سنتوں کے علاوہ نوافل مکروہ ہیں ،اور مکروہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نبی علیہ السلام نے نماز و عبادات کی شدید حرص کے باوجود صبح کی دو رکعت سنت کے علاوہ اس وقت کوئی نفل وغیرہ نہیں پڑھے ۔

    (2)ولیس فی الکسوف خطبۃ، لانہ لم ینقل ۔ (ھدایۃ : ۱ / ۱۵۶ )
    کسوف کی نماز میں خطبہ نہیں ،کیونکہ یہ منقول نہیں ۔

    (3)ولا یتنفل فی المصلٰی قبل الصلوٰۃ العید ، لانہ النبی ﷺ لم یفعل ذلک مع حرصہ علی الصلاۃ ۔ (ھدایۃ : ۱ / ۱۵۳)
    نماز عید سے پہلے نفل نہیں پڑھنے چاہئیں ،کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی شدید حرص کے باوجود نماز عید سے قبل کوئی نفل نماز نہیں پڑھی ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
    ان تینوں مسائل میں کراہت کی دلیل یہ دی گئی کہ ایسا کرنا شرع میں منقول نہیں ،یعنی جب شرعی دلیل نہ ہو تو اپنی طرف سےکوئی عبادت جائز نہیں۔
    دوسرے لفظوں میں "عبادات میں اصل منع ہے "
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ہاں اشیاء میں اصل جواز و اباحت ہے
    یعنی انسانی زندگی میں کام آنے والی اشیاء اور چیزیں مثلاً کھانے کی اشیاء ،برتن ،کپڑے ،اور دیگر چیزیں اس وقت تک مباح اور جائز وحلال مانی جائیں گی جب تک شریعت ان سے منع نہ کردے۔
    امام کمال الدین ابن ہمامؒ (المتوفی 861 ھ) احناف کے چوٹی کے اصولی اور فقیہ ہیں اور ھدایہ کے شارح بھی ہیں
    فرماتے ہیں :
    وَالْحِلُّ هُوَ الْأَصْلُ فِي الْأَشْيَاءِ
    ’’اشیاء میں جواز ہی اصل ہے۔‘‘​
    شرح فتح القدير،(باب الربوٰ )

    اور ان سے بھی پہلے حنفیوں کے امام شمس الائمہ سرخسی (المتوفی 483ھ) لکھتے ہیں :
    ان الاصل في الاشياء الإباحة وان الحرمة بالنهي عنها شرعا.
    ترجمۃ : اشیاء میں اصل جواز (جائز ہونا) ہے اور حرمت (ممانعت) صرف شرعی دلیل سے ہوگی ۔
    دیکھئے المبسوط جلد 27 ص77
    https://archive.org/stream/FPmbsootmbsoot/mbsoot24#page/n75/mode/2up
    ـــــــــــــــــــــــــ
    اور محدثین کے ہاں بھی "اشیاء " کی اصل یہی ہے
    امام ابوعمر ابن عبدالبرؒ القرطبی(المتوفی 463 ھ) فرماتے ہیں :
    وَأَنَّ أَصْلَ الْأَشْيَاءِ عَلَى الْإِبَاحَةِ حَتَّى يَرِدَ الْمَنْعُ
    ترجمہ : چیزیں اس وقت تک جائز ہیں جب تک شرعی ممانعت نہ ہو۔​
    (التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد)
     
    Last edited: ‏نومبر 14، 2018
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 14، 2018 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    محدثین کے ہاں بھی اشیاء کی اصل اباحت ہے ،

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے :
    ( وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ) (النحل : ١١٦)
    ”کسی چیز کو اپنی زبانوں سے جھوٹ (میں)حلال یا حرام نہ کہہ دیا کرو تاکہ تم اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھو ، جو لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، وہ کامیاب نہیں ہوتے ۔”
    حافظ ابنِ کثیر رحمہ اللہ ( م ٧٧٤ھ) اس آیت کی تشریح وتفسیر میں لکھتے ہیں ويدخل في هذا كل من ابتدع بدعة ليس [له] فيها مستند شرعي، أو حلل شيئا مما حرم الله، أو حرم شيئا مما أباح الله، بمجرد رأيه وتشهيه.
    ”ہر وہ بدعتی اس حکم میں داخل ہے ، جس نے بدعت جاری کی ، جبکہ اس کے پاس اس بدعت پر شرعی ثبوت و دلیل نہیں ہے یا جس نے محض اپنی رائے اور نفسانی خواہش سے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام اور حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا ۔”(تفسیر ابن کثیر : ٤/٧٥)

    نیز ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :
    {وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ} [الأنعام: 119]
    ”اور تمہیں کیا ہے کہ تم اس چیز کو نہیں کھاتے ہو ، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہے ، حالانکہ اس نے تم پر حرام چیزوں کی تفصیل بیان کر دی ہے ، سوائے ان (حرام)چیزوں کے ، جن کے کھانے پر تم مجبور ہو جاؤ۔”

    حافظ ابنِ رجب ( زين الدين عبد الرحمن بن رجب الدمشقي (المتوفى: 795ھ) لکھتے ہیں :
    فَعَنَّفَهُمْ عَلَى تَرْكِ الْأَكْلِ مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، مُعَلِّلًا بِأَنَّهُ قَدْ بَيَّنَ لَهُمُ الْحَرَامَ، وَهَذَا لَيْسَ مِنْهُ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْأَشْيَاءَ عَلَى الْإِبَاحَةِ، وَإِلَّا لَمَا أَلْحَقَ اللَّوْمَ بِمَنِ امْتَنَعَ مِنَ الْأَكْلِ مِمَّا لَمْ يَنُصَّ لَهُ عَلَى حِلِّهِ بِمُجَرَّدِ كَوْنِهِ لَمْ يَنُصَّ عَلَى تَحْرِيمِهِ”
    یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں ان چیزوں کے نہ کھانے پر ڈانٹا ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو ، وجہ یہ بیان کی کہ حرام تو تم پر واضح کردیا گیا ہے اور یہ چیز اس میں شامل نہیں ہے ، یہ آیت ِ کریمہ دلیل ہے کہ چیزوں میں اصل اباحت ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو ملامت کیوں کیا ہے ، جو اس چیز کے کھانے سے رک گیا ہے ، جس کی حلت و حرمت پر کوئی نص (دلیل)موجود نہیں ۔”(جامع العلوم والحکم لابن رجب : ص ٣٨١)
    ــــــــــــــــــــــــــــ
    (2) جب کہ عبادات و اعمال صالحہ اس وقت شرعاً صحیح نہیں جب تک شرع میں ان کا ثبوت نہ ہو،
    کسی غیر ثابت چیز کو بطور عبادت انجام دینے یا کسی ثابت شدہ عبادت میں اپنی طرف سے کیفیات و اوقات کی تعیین و تخصیص کو شریعت کی اصطلاح میں ’’ بدعت ‘‘ کہتے ہیں ، جو باجماع امت حرام اور گناہ کبیرہ ہے ،
    چنانچہ علامہ ابو اسحاق شاطبی ؒ(المتوفی790ھ) فرماتے ہیں :
    ’’ ولا يصح أن يقال فيما فيه تعبد: إنه مختلف فيه على قولين: هل هو على المنع أم هو على الإباحة؟ بل هو أمر زائد على المنع؛ لأن التعبديات إنما وضعها للشارع، فلا يقال في صلاة سادسة ـ مثلا ـ إنها على الإباحة، فللمكلف وضعها ـ على أحد القولين ـ ليتعبد بها لله؛ لأنه باطل بإطلاق، وهو أصل كل مبتدع يريد أن يستدرك على الشارع "
    ( الا عتصام : ۱ / ۳۰۱ )
    https://archive.org/details/waq3936/page/n471
    (ترجمہ ):
    عبادات کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ ان کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ اصل کے اعتبار سے ( دلیل آنے سے پہلے ) ممنوع ہیں یا مباح ، کیونکہ عبادت کو شارع ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ ) ہی نے مقرر کیا ہے ( اور جو شریعت میں ثابت نہ ہو وہ عبادت نہیں ہوگی بلکہ ناجائز اور حرام کام ہوگا ) فرض کیجئے کہ اگر کوئی شخص چھٹی نماز ایجاد کرے تو اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اصل اباحت ہے کہ اصول سے یہ کام اس کے لئے جائز ہے اور اس کو اس طرح ایجاد کا حق ہے بلکہ اس کا یہ فعل مطلقاً باطل ( اور شرعی رو سے قطعاً ناقابل اعتبار ہے ) ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور یہ اصول جو علامہ شاطبی ؒ کی عبارت سے معلوم ہوا کہ عبادت جب تک ثابت نہ ہوا سے عبادت نہیں کہا جاسکتا ، نیز کسی عبادت کا خاص وقت و کیفیت جب تک ثابت نہ ہو تو اسے عبادت ( مستحب یا بہتر ) قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ وہ باطل ہوگا ، یہ اصول انتہائی قوی ہے
     
    Last edited: ‏نومبر 14، 2018
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 14، 2018 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,240
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ(ت 728هـ)
    اسلام میں عبادات اور اعمال صالحہ کی اصل بتاتے ہوئے فرماتے ہیں :
    يقول شيخ الإسلام ابن تيمية : أن الأصل في العبادات التوقيف، فلا يشرع منها إلا ما شرعه الله تعالى وإلا دخلنا في معنى قوله: {أم لهم شركاء شرعوا لهم من الدين ما لم يأذن به الله} [الشورى: 21] .
    والعادات الأصل فيها العفو، فلا يحظر منها إلا ما حرمه الله وإلا دخلنا في معنى قوله: {قل أرأيتم ما أنزل الله لكم من رزق فجعلتم منه حراما وحلالا} [يونس: 59] . ولهذا ذم الله المشركين الذين شرعوا من الدين ما لم يأذن به الله، ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔
    ترجمہ :
    عبادات میں اصل توقیف ہے (یعنی جب تک قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو جائز نہیں ) لہذا وہی عبادت شرعی عبادت ہوگی جسے اللہ تعالی نے شریعت میں رکھا ہے ،اور اگر اللہ تعالی کے بتائے بغیر ہم کوئی عبادت کریں گے تو اللہ رب العزت کے اس فرمان میں داخل ہوجائیں گے جس میں اس نے مشرکین کے متعلق فرمایا کہ (
    کیا ان لوگوں نے ایسے (اللہ کے) شریک (مقرر کر رکھے) ہیں جنہوں نے ان کیلئے ایسے احکام دین مقرر کردیئے جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ؟)


    اور عادات (اشیاء ) میں اصل عفو و مباح ہے ، ان میں سےکوئی چیز اس وقت تک ممنوع نہیں جب تک اللہ تعالی اس سے منع نہ کردے ،
    اگر ہم عادات و اشیاء کو اصلاً حلال و مباح نہیں سمجھیں گے تو اللہ تعالی کے بیان کردہ ان لوگوں میں شمار ہونگے جن کے متعلق فرمایا :
    " آپ پوچھیے کہ تمہارا کیا خیال ہے، اللہ نے تمہارے لیے جو روزی بھیجی ہے اس میں سے کسی کو حلال بناتے ہو اور کسی کو حرام، آپ پوچھیے کہ کیا اللہ نے تمہیں اس کی اجازت دی ہے، یا تم اللہ پر افترا پردازی کرتے ہو۔؟ سورۃ یونس 59
    الفتاوی الکبریٰ طبع دار الکتب العلمیہ ،جلد چہارم ص13
    https://archive.org/stream/FPftawak/ftawak4#page/n11/mode/2up
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 14، 2018 #9
    ابو زہران شاہ

    ابو زہران شاہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2018
    پیغامات:
    67
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    جزاک اللہ خیرا شیوخ
    اللہ سبحانہ وتعالٰی آپ کے علم و عمر میں برکت عطاء فرمائے۔آمین
     
  10. ‏نومبر 14، 2018 #10
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    824
    موصول شکریہ جات:
    237
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ محترم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں