1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول اللہ ﷺ کی امت دوراہے پر

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 29، 2018۔

  1. ‏مئی 29، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    رسول اللہ ﷺ کی امت دوراہے پر
    ان دنو ں وہ لوگ جن کو خود کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہئے، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے درہے ہیں، ابھی حال ہی میں ایک گدی نشین کا بیان سننے کو ملا، وہ خال المومنین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ کافر قرار دے رہا ہے۔
    ادھر دیوبندی حلقوں میں بھی اس بحث نے سر اٹھالیا ہے، اور اس ریلے میں بہتے لوگ بہے جاتے ہیں، کچھ متجددین کے منافرانہ جملوں کا دھواں ابھی تھم کے نہیں دے رہا کہ بعض مدارس کے منتظمین اور بظاہر بڑی معزز شخصیات رسول اللہ ﷺ کے سسرال پر ہاتھ صاف کر گئیں، ان کے بدبودار جملوں کی سڑاند نے سارا ماحول مکدر کررکھا ہے۔
    اور بعض دیندار لوگ اور وہ لوگ جنہوں نے بجا طور صحابہ کے دفاع میں اپنا وقت کثیر صرف کیا، آج ان بزرگوں کے دفاع میں کمر بستہ دکھائی دیتے ہیں ۔
    یہ حالات صحابہ کے دیوانوں کے لئے تو اذیت ناک ہیں ہی، مانو کہ خود اسلام کے لئے بھی زہر قاتل سے کم نہیں ہیں۔
    یارو! اسلام کا انکار کروانا بڑا مشکل ہوتا ہے، صرف کہہ کہلا کر رسول اللہ ﷺ کا انکار کروانا ناممکن ہوا کرتا ہے، قرآن سے دور کرنا انتہائی صعب وادی ہے۔ لیکن اگر اسلام اور مسلمان کی درمیان سے اسلاف امت کا واسطہ ہٹا دیا جائے، تو اسلام باقی نہیں رہتا؟
    قرآن کا نام بار بار لیتے رہو، لیکن اگر حدیث رسول ﷺ کا واسطہ نہ رہا تو کیا قرآن پر عمل کرسکو گے؟ ہر گز نہیں۔
    پھر تم بھی قرآنی مطالب کا اور اس کی تفسیر وہی حشر کرو گے، جو محمد شیخ نے کیا تھا، تم بھی قرآن سے تکفیر کے استدلال اسی طرح کرو گے جس طرح خوارج کیا کرتے تھے۔
    تم بھی قرآن سے خنزیر کے خون اور چربی کو حلال ثابت کردو گے، یہ استدلال قائم کر کے کہ قرآن میں صرف گوشت سے منع کیا گیا ہے۔
    تم بھی مرجیہ کی طرح قرآن کی آیات سے ہر شخص کو سیدھا جنتی ثابت کردو گے۔
    اسی طرح تم ہزار بار رسول اللہ ﷺ کا نام لو لیکن اگر صحابہ کا واسطہ درمیان سے نکال دیا جائے تو کبھی سوچا! کہ پھر بچے گا کیا؟ تب تمہیں کون بتائے گا پیغمبر کے شب و روز کیا تھے؟ اللہ کا نبی نماز کیسے ادا کرتا تھا؟ وہ کھاتا پیتا کیسے تھا؟ اس کے معمولات زندگی جیسے تھے؟ اس نے تمہارے سامنے کیا اسوہ پیش کیا؟
    اگرایک طرف تم لوگوں سے کہو کہ نبی کے صحابہ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا
    اور دوسری طرف تم کہو کہ انہوں نے محض حکومت کے لئے، محض اقتدار کے لئے لاکھوں لوگوں کے خون بہا دئیے۔
    ایک فریق کہے کہ علی رضی اللہ عنہ اور اس کے بدر و احد کے ساتھیوں نے اقتدار کے لئے خون بہائے، دوسرا فریق کہے کہ نہیں معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حدیبیہ واحد والے ساتھیوں نے اقتدار کے لئے جنگ لڑی۔
    پھر تم لوگوں کو یہ بھی بتاؤ کہ اللہ نے ان کو جنت کی ضمانت دیتے وقت کہا تھا کہ ہم نے ان کے دلوں کو پرکھ لیا ہے، تبھی تو جنت کی ضمانت دی ہے۔
    تو لوگ تمہاری کون سی بات مانیں گے؟ بھلا جو اقتدار کے لئے ہزاروں لوگوں کے خون بہا سکتے ہوں؟ وہ اقتدار ہی کے لئے نبی پر جھوٹ نہ بول سکتے ہوں گے نعوذ باللہ!
    لیکن پھر اگر کوئی پوچھ لے کہ اللہ نے ان کے دلوں کی ضمانت دی تھی اور تم ان کی نیتیں تاڑتے پھرتے ہو؟ تم کہتے ہو کہ ان کی نیتیں بری تھیں؟ گویا مانتے تو اللہ کو تم بھی نہیں ہو، ہم سے بھلا کیوں منواتے ہو؟ کیا جواب ہوگا تمہارے پاس؟
    ہاں جب صحابہ سے بدظنی کی جاتی رہی تب یہی نتائج نکلیں گے، پھر احادیث کی من مانی تشریحات بھی ہوں گی، جنت اور جہنم کی ٹکٹیں تقسیم کی جائیں گی، ہر جنت والی حدیث خود پر اور ہر جہنم والی حدیث صحابہ پر فٹ کرتے رہو گے، اگلے روز میں نے علی مرزا کے ایک ساتھی کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے جنتی ہونے والی حدیث سنائی تو فٹ کہنے لگا کہ جنتی تو میں بھی ہوں کہ میں نے کلمہ پڑھ رکھا ہے۔ اور وہی شخص دوسرے ہی لمحے صحابہ پر جہنم والی احادیث فٹ کرنے لگا، میں نے کہا کہ تف ہے تیری سوچ پر، صحابہ کو چھوڑ کر سلف کو چھوڑ اپنی مرضی کا مفاہیم و مطالب نکلنے سے یہی کچھ برامد ہوتا ہے۔ جو تمہاری زبان سے برامد ہورہا ہے۔
    یقینا رسول اللہ ﷺ کو اور اسلام کو صحابہ سے جدا نہیں کیا جاسکتا، جو صحابہ سے ان کو جدا کرنا چاہے گا، ٹھوکر کھائے گا اور اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔
    اس کے اسلام پر سوال اٹھیں گے، لوگ پوچھیں گے کہ جن کو تم برا کہتے ہو، جن کی نیتیوں پر شک کرتے ہو، جن کی تفسیق و تکفیر کرتے ہو، وہ تمہارے دین کے راوی ہیں، ہم ایسے لوگوں سے دین کیسے اخذ کر لیں جن کے بارے میں تم ہی بتاتے ہو کہ ان کی نیتیں بری تھیں؟ کیا ان سوالوں کو مطمئن کر پاؤ گے؟
    اللہ کی قسم ! اگر ایمان کو بچانا ہے اور آنے والی نسلوں کو اسلام سے جوڑ کر رکھنا ہے تو اسلاف امت کے منہج کو اپنائے بغیر چارہ نہیں، صحابہ کے مشاجرات میں زبان بندی کر لو، خاموشی اختیار کرو۔ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو، ان کے احسان مند رہو، وگرنہ آنے والی نسلیں جب سوال اٹھائیں گی اور تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا تو پھر وہ تم کو منافق کہہ دیں گی اور یا پھر اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔
    یہ تمہارے اپنے اور تمہاری نسلوں کے ایمان کا سوال ہے۔
    عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جب خوارج سے مناظرہ کرنے گئے تو انہوں نے ان کے سامنے واحد دلیل یہ رکھی کہ امت رسول کے خارجیو! کیا جن قرآن کی آیات سے تم استدلال لیتے ہو؟ ابوبکر و عمر نے نہیں پڑھی تھیں؟ اور اگر انہوں نے پڑھی تھیں، تو یہ مطالب انہوں نے کب اخذ کئے تھے جو تم اخذ کرتے ہو؟
    بس ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ احادیث بھی موجود، قرآن بھی موجود، بس ان کے معنی و مفہوم کا جھگڑا ہے، تم اسلاف کا واسطہ ہٹا کر اپنی مرضی سے معنی کرنا چاہتے ہو اور ہم کہتے ہیں کہ معنی انہیں سے لو جن سے دین لیا ہے، اسی میں تمہاری بقا ہے اسی میں تمہاری فلاح ہے۔
    ابوالوفا محمد حماد اثری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں