1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رسول ﷺ کے ناموں کے بارے میں معلومات درکار ہے

'سیرت النبی ﷺ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جون 11، 2016۔

  1. ‏جون 11، 2016 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198


    اور نبی کریم ﷺ کے 99 ناموں میں تو اول آخر ظاہر اور باطن اور حق سے کیا مراد ہے۔اور 99 نام ہیں بھی یانہیں
     
  2. ‏جون 11، 2016 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
     
  3. ‏جون 11، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام الانبیاء ، سیدالمرسلین جناب محمد مصطفی ﷺ بے شمار اعلی صفات ،و خصائل و خصائص کے حامل ہیں ،
    لیکن اللہ عزوجل کی طرح ان کے ننانوے نام کسی صحیح یا ضعیف روایت میں منقول نہیں ،
    اور میری معلومات کی حد تک منقول اسماء شریفہ میں۔۔ اول آخر ظاہر اور باطن ۔۔ ثابت نہیں ،
    درج ذیل فتوی دیکھئے :
    س 1: لقد وقع بين أيدينا هنا مصحف خط في الصفحتين الأوليين منه (99) اسما من أسماء الله تعالى الحسنى والمعروفة، وأما الغريب في الموضوع ما خط في الصفحتين الأخيرتين، حيث خط (99) اسما (أو صفة) للرسول صلى الله عليه وسلم، وبنفس الأسلوب الذي خط فيه أسماء الله الحسنى، فهل هذا جائز، هل فعلا أن للرسول (99) اسما؟ والمصحف طباعة باكستان. فأرجو أن توضحوا هذه المسألة، ويا حبذا لو كان برسالة لدار النشر المسؤولة عن طبع هذه المصاحف أو نشره حتى في صحيفة، وإيفاءنا بالرد مشكورين.
    ج: أولا: ليس للنبي صلى الله عليه وسلم إلا خمسة أسماء مذكورة في الحديث الصحيح من قوله صلى الله عليه وسلم: «لي خمسة أسماء: أنا محمد، وأنا أحمد، وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وأنا العاقب ((1) رواه من حديث جبير بن مطعم رضي الله عنه: أحمد 4\ 80، 81، 84، والبخاري 4\ 162، 6\ 62، ومسلم 4\ 1828 برقم (2354) ، والترمذي 5\ 135 برقم (2840) ، والدارمي 2\ 317- 318، وأبو يعلى 13\ 389 برقم (7395) ) » رواه البخاري في (صحيحه) .
    وما زاد على ذلك فهي أسماء لا تصح أو أوصاف للنبي صلى الله عليه وسلم وليست أسماء له، ولا يجوز إثبات أسماء له صلى الله عليه وسلم سوى الخمسة إلا بحديث صحيح.
    ثانيا: كتابة الأسماء المذكورة في المصحف في أوله أو آخره أمر غير مشروع، وإنما الأمر المشروع تجريد المصحف من كل ما سوى القرآن الكريم، كما هو المعروف عن السلف الصالح رضي الله عنهم، وحماية للقرآن أن يزاد فيه ما ليس منه.
    وبالله التوفيق، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم.
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء
    عضو ... عضو ... عضو ... نائب الرئيس ... الرئيس
    بكر أبو زيد ... صالح الفوزان ... عبد الله بن غديان ... عبد العزيز آل الشيخ ... عبد العزيز بن عبد الله بن باز

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ترجمہ :
    س 1: یہاں ہمارے ہاتھوں ایک قرآن لگا جس کے پہلے دوصفحے پر اللہ تعالیٰ کے معروف نناوے اسماء حسنی تحریر ہیں،
    اس بارے میں تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کے آخری دو صفحے پر ، حضرت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ننانوے نام یا صفت بھی لکھے ہوئے ہیں، ، اور یہ بالکل اسی طریقہ پر لکّھے ہوئے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے مبارک نام لکھے گئے ہیں، تو کیا یہ جائز ہے؟
    اور کیا واقعۃً جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی نناوے نام ہیں؟
    قرآن کا یہ نسخہ پاکستان کا مطبوعہ ہے، اس مسئلے کی وضاحت کی درخواست ہے، اور کیا ہی بہتر ہے کہ قرآن کے ان نسخوں کی پبلشر و اشاعت کے ذمہ دار ادارہ کے نام ایک خط بھی تحریر کردیا جائے یا کسی اخبار میں ہی اس کی اشاعت ہوجائے، برائے کرم ہمیں جواب عنایت فرمائیں.
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب ::
    پہلی بات: یہ واضح رہے کہ ایک صحیح حدیث میں جناب رسول الله صلى الله عليه وسلم کے ارشاد میں منقول کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف اور صرف پانچ نام وارد ہیں، آپ کا ارشاد ہے :
    میرے پانچ نام ہیں : میں محمد ہوں ۔اورمیں احمد ہوں ۔ اورمیں "ماحی" ہوں ، جس سے اللہ تعالی کفر کو مٹادیتا ہے ۔ اور میں "حاشر" ہوں ، میرے قدموں پر اللہ تعالی لوگوں کو اکٹھا کرے گا ۔ اور میں "عاقب (یعنی آخری نبی)" ہوں ۔ اسے امام بخاری نے ا پني صحيح ميں روایت کی، ان کے علاوہ جو ہیں وہ یا تو ثابت شدہ نام نہیں ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صفات مبارکہ ہیں نام نہیں ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صحیح حدیث کی روشنی میں صرف پانچ ہی نام ثابت ہیں، ان کے علاوہ کسی اور نام کا اثبات صحیح حدیث سے ہی ہو سکتا ہے۔

    دوسرا : مذکورہ ناموں کو قرآن مجید کے آغاز میں یا آخر میں تحریر کرنا ناجائز ہے، اور قرآن مجید کو ہر طرح غیر قرآن کے اضافہ سے خالی رکھا جائے، جیساکہ اسلاف کرام رضی اللہ عنہم سے مشهور ہے، تاکہ قرآن کریم کو کسی قسم کے اضافے وآمیزش سے محفوظ رکھا جاسکے۔
    وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
    ممبر ممبر ممبر نائب صدر صدر
    بکر ابو زید صالح فوزان عبد اللہ بن غدیان عبد العزیزآل شيخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
     
    Last edited: ‏جون 11، 2016
  4. ‏جون 11، 2016 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عن جبير بن مطعم قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : " إن لي أسماء : أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب " . والعاقب : الذي ليس بعده شيء . متفق عليهوعن أبي موسى الأشعري قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسمي لنا نفسه أسماء فقال : " أنا محمد وأحمد والمقفي والحاشر ونبي التوبة ونبي الرحمة " . رواه مسلم

    سیدنا جبیربن معطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا میرے متعدد نام ہیں جن میں سے میرا مشہور نام ایک تو" محمد " ہے اور دوسرا " احمد " ہے میرا نام " ماحی " بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے ذریعہ کفر کو مٹاتا ہے، میرا نام " حاشر" بھی ہے ، کہ لوگوں کو میرے نقش قدم پر اٹھایا جائے گا اور میرا نام " عاقب" بھی ہے یعنی وہ شخص جس کے بعد کوئی نبی نہیں ( بخاری ومسلم )
    ایک دیوبندی مولوی صاحب اس کی تشریح کرتے ہیں :

    تشریح :
    بعض روایتوں میں " محمد" اور " احمد " کے ساتھ ایک نام " محمود " بھی منقول ہے ، ان تینوں کا مادہ اشتقاق ایک ہی ہے یعنی " حمد" " محمود " کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی ذات وصفات کی تعریف دنیا میں بھی کی گئی اور آخرت میں بھی ۔ محمد کا مطلب وہ ہستی جس کی بے انتہاتعریف کی گئی ۔ احمد ' کا مطلب ہے وہ ہستی جس کی تعریف اگلے پچھلوں اور سابقہ آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ کی گئی ۔" احمد" کے ایک معنی یہ بھی بیان ہوئے ہیں کہ وہ ہستی جو صاحب لوائے حمد ہو اور جو اپنے مولیٰ کی حمد وثنااتنی زیادہ اور اتنے اچھوتے انداز میں کرے کہ کسی کے علم وگمان کی رسائی اس تک نہ ہو جیسا کہ قیامت کے دن مقام محمود میں ہوگا ۔
    " ماحی " کے معنی ہیں مٹانے والا ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں کی دعوت وتبلیغ کی بہ نسبت سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی دعوت وتبلیغ کے ذریعہ کفر کو مٹایا ۔
    " عاقب " کے معنی ہیں سب سے پیچھے آنے والا ۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے وہ نبی اور رسول ہیں جو تمام رسولوں اور نبیوں کے بعد اس دنیا میں تشریف لائے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور نبی ورسول اس دنیا میں مبعوث نہیں ہوگا۔
    اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے اپنی ذات مبارک کے متعدد نام بیان فرمایا کرتے تھے ، چنانچہ (ایک دن ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں " احمد " ہوں میں " محمد" ہوں ، میں " مقفی " (تمام پیغمبروں کے پیچھے آنے والا ہوں ، میں حاشر (یعنی قیامت کے دن تمام لوگوں کو جمع کرنے والا ہوں میں توبہ کا نبی ہوں اور میں رحمت کا نبی ہوں ۔ (مسلم )
    تشریح :
    توبہ کا نبی " یا تو اس اعتبار سے فرمایا کہ خلقت نے آپ کے ہاتھ پر توبہ کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پچھلی زندگی کے اعمال خواہ وہ کفروشرک ہویا گناہ ومعصیت سے بیزاری کا پختہ عہد کرکے دین اسلام کی کامل تابعداری کا اقرار کیا ۔ یا یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ توبہ واستغفار بہت کرتے تھے ، اور رجوع الی اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بنیادی نقطہ ومحور تھا نیز یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات کا فیض تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ اگر پختہ عہد یقین کے ساتھ زبان سے توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی زبانی توبہ کو قبول فرمالیتا ہے جب کہ پچھلی امتوں کے لوگ اس وقت قابل معافی قرار نہیں پاتے تھے جب تک ان کے قصور اور جرم کی سزا قتل یا دوسری صورتوں میں ان کو نہ مل جاتی تھی ، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام " نبی التوبہ " بھی ہوا
    " نبی الرحمۃ " یعنی رحمت کا نبی ۔ یہ قرآن کریم سے ماخوذ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
    وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین ۔
    ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجاہے ۔"
     
  5. ‏جون 11، 2016 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش ولعنهم ؟ يشتمون مذمما ويلعنون مذمما وأنا محمد " . رواه البخاري
    سیدنا الامام ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ :
    جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن صحابہ کرام سے ) فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو قریش مکہ کی گالیوں اور لعنتوں سے کس طرح محفوظ رکھا ہے ؟ وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعنت کرتے ہیں جب کہ میں " محمد " ہوں ۔" (بخاری)

    تشریح :
    " مذمم " معنی کے اعتبار سے " محمد " کی ضد ہے یعنی وہ شخص جس کی مذمت وبرائی کی گئی ہویہ لفظ قریش مکہ کے بغض وعناد کا مظہر تھا ، وہ بدبخت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو " محمد " کہنے کے بجائے مذمم کہا کرتے تھے اور یہی نام لے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بد زبانی کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لعن وطعن کیا کرتے تھے ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تسلی دینے کے لئے فرمایا کرتے تھے کہ قریش مکہ جو بدزبانی کرتے ہیں اور سب وشتم کے تیر پھینکتے ہیں ، ان سے آزردہ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں ہے ، وہ بدبخت تو مذمم کو اپنا نشانہ بناتے ہیں اور مذمم پر لعن طعن کرتے ، اور میں مذمم نہیں ہوں بلکہ محمد ہوں ، یہ تو اللہ کا فضل ہے کہ اس نے میرے نام کو جو میری ذات کا مظہر ہے ، ان حاسدوں کی گالیوں اور لعن طعن کانشانہ بننے سے بچا رکھا ہے ۔
     
    • علمی علمی x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جون 12، 2016 #6
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    اس کے علاوہ حق نام بھی ثابت نہیں ہے؟
     
  7. ‏جون 12، 2016 #7
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    جزاک اللہ خیر
     
  8. ‏جون 12، 2016 #8
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکتہ
    اکثر جگہ اللہ کے 99 ناموں کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام بھی لکھے ہوتے ہیں کیا ان کو پڑھنا ٹھیک ہے یا یہ بھی اللہ کی برابری کرنے کے مترادف ہے۔(اللہ ہمیں شرک سے محفوظ رکھے آمین)

    محمد ارسلان, ‏ستمبر 24, 2010
    #1

    [​IMG]
    بشیراحمد -: ركن مجلس علماء :-

    پیغامات:
    1,575
    والسلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ
    قرآن مجید میں رسول اکرم ﷺ کے اسماء صریحہ
    دو بیان ہوئے ہوئے
    محمد ﷺ احمد ﷺ

    اور اس طرح حدیث میں بھی کچھ نام صراحتا بتائے گئے ہیں ملاحظہ فرمائیں :

    [font="_pdms_saleem_quranfont"]( إِنَّ لِي أَسْمَاءً : أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَنَا أَحْمَدُ ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمَيَّ ، وَأَنَا الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ أَحَدٌ )
    البخاري (4896) ومسلم (2354)

    وعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: ( كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهُ أَسْمَاءً فَقَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ ، وَالْمُقَفِّي ، وَالْحَاشِرُ ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ )
    رواه مسلم (2355) .

    عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ( لِي خَمْسَةُ أَسْمَاءٍ : أَنَا مُحَمَّدٌ ، وَأَحْمَدُ ، وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِي الْكُفْرَ ، وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي ، وَأَنَا الْعَاقِبُ )
    صحيح البخاري (3532)

    ان احادیث سے یہ نام ثابت ہوئے :
    محمد ،
    احمد
    عاقب
    حاشر
    ماحی
    نبی التوبہ
    نبی الرحمٰۃ
    رسول اکرم ﷺ کے اسماء مبارکہ کے بارے میں علماءنے دس سے زیادہ کتب لکھیں ہیں اور اسی طرح سیرت کی کتب میں ابواب بھی قائم کئے ہیں ۔
    لیکن علماء کے درمیاں اس کی تعداد میں اختلاف پایا جاتا بعض علماء رسول اکرم ﷺ جو صفات قران مجید میں بیان ہوئی ہیں مثلا
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]الشاهد، والمبشر، والنذير، والمبين، والداعي إلى الله، ‏والسراج المنير، والمذكر، والرحمة، والنعمة، والهادي، والشهيد، والأمين والمزمل، ‏والمدثر [/font]
    اور جو احادیث میں بیان ہوئی ہیں مثلا
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]( المختار ، المصطفى ، الشفيع ، المشفع ، ‏والصادق، والمصدوق ) [/font]
    ان کو بھی اسماء میں شمار کرتے ہیں
    لیکن بعض علماء ان صفات کو اعلام میں شامل نہیں کرتے ۔
    لہذا ان اسماء اور صفات پر اکتفا کرنا چاہئے جو قرآن وسنت سے ثابت ہوں
    اور مبالغہ آرائی والے اسماء وصفات کی نسبت رسول اکرم ﷺ کی طرف بالکل بھی جائز
    مصحف کے بعض نسخوں کے اخیر
    [font="_pdms_saleem_quranfont"]وحيد . منح . مدعو . غوث . غياث . مقيل العثرات . صفوح عن الزلات . خازن علم الله . بحر أنوارك . معدن أسرارك . مؤتي الرحمة . نور الأنوار . السبب في كل موجود . حاء الرحمة . ميم الملك . دال الدوام . قطب الجلالة . السر الجامع . الحجاب الأعظم [/font]
    جیسے صفات ثابت نہیں ہیں لہذا مصحف اخری ورقہ پر ان قسم کے اسماء کا اندراج ہرگز بھی جائز نہیں ۔
    واللہ اعلم
    [/font]
    لنک
     
  9. ‏جون 12، 2016 #9
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    @اسحاق سلفی بھائی اس تحریر کا جواب درکار ہے ۔ایک صوفی ٹائپ شخص نے یہ جواب دیا ہے ۔ جب میں نے اس کو نام بتائے

    عجیب جہاالت بھائی کیا کہوں میں۔ نذیر مبین۔ یہ مبین کسے کہا گیا ہے؟ تیمیہ کو؟ ترمذی میں حدیث ہے الاکرم فرمایا خود کو کہ میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا قیامت کے روز۔ سورۃ شرح میں ذکر بلند کرنے کا کہا گیا آپ ﷺ کے سو آپ مذکر کہلائے۔ خلیل اللہ بھی آپ ﷺ کا صفاتی نام ہے کہ آپ نے فرمایا اگر اللہ کے سوا کسی کو خلیل بنا سکتا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔​

    اسی طرح ہر صفاتی نام کے پس منظر ہے اور ثابت ہے اور یہ تو بس 99 ہیں نبی کریم ﷺ کے 1000 کے قریب صفاتی نام موجود ہیں۔
    آپ اور تیمیہ اور عبدالوہاب جتنا زور لگا لو مقام مصطفی کو کم تر ثابت نہیں کر سکتے​
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 13، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں