1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رفع الیدین اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ اہل حدیث, ‏جولائی 17، 2019۔

  1. ‏جولائی 17، 2019 #1
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    رفع الیدین کے متعلق عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ احادیث ثابت ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کیا ہے۔

    اس طرح کی روایات دو طریق سے ہے:
    ایک سالم عن عبداللہ ابن عمر کے طریق سے
    دوسرا نافع عن عبداللہ ابن عمر کے طریق سے

    بعض لوگ کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ترک رفع الیدین ثابت ہے۔ یہ بہت بڑا جھوٹ ہے۔
    جس کی تفصیل ہم اسی ٹھریڈ میں مختلف پوسٹس کے ذریعے واضح کریں گے



    حضرت ابن عمرؓ سے رفع الیدین کے اثبات


    پہلی حدیث سالم عن ابن عمر



    متن حدیث
    عن سالم بن عبد الله، عن أبيه: " أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة، وإذا كبر للركوع، وإذا رفع رأسه من الركوع، رفعهما كذلك أيضا، وقال: سمع الله لمن حمده، ربنا ولك الحمد، وكان لا يفعل ذلك في السجود "

    ترجمہ
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے، اسی طرح جب رکوع کے لیے «الله اكبر» کہتے اور جب اپنا سر رکوع سے اٹھاتے تو دونوں ہاتھ بھی اٹھاتے ( رفع یدین کرتے ) اور رکوع سے سر مبارک اٹھاتے ہوئے «سمع الله لمن حمده،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ربنا ولك الحمد» کہتے تھے۔ سجدہ میں جاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔



    جاری ہے...................


     
  2. ‏جولائی 17، 2019 #2
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    تخریج

    رواہ بخاری من طریق مالک عن الزھری عن سالم عن ابن عمر ( صحیح بخاری رقم 735) و من طریق یونس عن الزھری عن سالم عن ابن عمر (صحیح بخاری رقم 736) ومن طریق شعیب عن الزھری عن سالم عن ابن عمر (صحیح بخاری رقم 738)

    رواہ مسلم من طریق سفیان ابن عیینہ عن الزھری عن سالم عن ابن عمر ( صحیح مسلم رقم 390 او 861 ) و من طریق ابن جریج عن ابن شہاب الزھری عن سالم عن ابن عمر (صحیح مسلم رقم 861 او 390)

    ورواه التبريزي فى مشكاة المصابيح رقم 793

    صحيح ابن خزیمہ رقم 456 ، صحیح ابن حبان رقم 1868، مستخرج أبي عوانة رقم 1577، جامع ترمذي حديث 255 ، شرح السنة للبغوي رقم 559

    اور بہت سے مقامات پر یہ احادیث موجود ہے




    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
     
  3. ‏جولائی 17، 2019 #3
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    اس حدیث کی صحت

    یہ حدیث صحیحین میں موجود ہے اوپر تخریج میں ہم بتا آئیں ہیں
    امام بخاری اور مسلم نے اپنی صحیح میں لا کر اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

    نیز صحیحین کی صحت پر بھی اجماع ہے
    rps20190517_145959.jpg

    PicsArt_05-19-12.58.21.jpg

    rps20190519_130553.jpg

    PicsArt_05-19-03.46.16.jpg


    rps20190519_213807.jpg


    rps20190520_175436.jpg


    ان سب حوالوں کی رو سے ثابت ہو گیا کہ صحیحین کی صحت پر اجماع ہے۔

    لہذا ان محدثین کے نزدیک بھی یہ روایت صحیح ہے کیوں کہ وہ خود صحیحین پر اجماع کے قائل ہیں

    نیز اس حدیث کو اور کہیں علماء نے صحیح قرار دیا یے

    مثلا امام ابن خزیمہ، امام ابن حبان، امام ترمذی، امام بغوی اور امام ابن عوانہ رحمہ اللہ وغیرھما
    اوپر تخریج کے تحت ہم حوالہ جات ذکر کر آئے ہیں
    لہذا بالاجماع یہ روایت بالکل صحیح و ثابت ہے




    جاری ہے................
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں