1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان المبارك كى ابتدا اور انتہاء ميں رؤيت كا اعتبار ہو گا !!!

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جون 28، 2014۔

  1. ‏جون 28، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    رمضان المبارك كى ابتدا اور انتہاء ميں رؤيت كا اعتبار ہو گا

    كچھ لوگ يہ خيال كرتے ہيں كہ انہوں نے رمضان المبارك كا چاند ديكھا ہے، ليكن فلكيات والوں كا كہنا ہے كہ اس رات چاند نظر آنا ممكن نہيں تھا.

    مجھے اس ميں اشكال نہيں كيونكہ حساب اور اندازہ غلط ہو سكتا ہے، ليكن مجھے اشكال يہ ہے كہ فلكيات والوں كا خيال ہے كہ ان كے پاس جو جديد آلات ہيں انہوں نے اس رات ان آلات كے ساتھ چاند ديكھا ہے ليكن انہيں نظر نہيں آيا تو پھر بغير آلات كے صرف آنكھ كے ساتھ كيسے ديكھا جا سكتا ہے ؟
    حالانكہ اگر معاملہ اس كے برعكس ہوتا يعنى انہوں نے آلات كے ساتھ چاند ديكھ ليا ہوتا اور آنكھ سے نظر نہ آتا تو اختلاف ہو سكتا تھا كہ روزہ ركھا جائے يا نہيں، اور آيا لوگ عيد كريں يا نہيں ؟
    ليكن مشكل يہ ہے كہ يہ كيسے ہو سكتا ہے كہ وہ آلات كے ساتھ چاند نہ ديكھ سكے اور لوگوں نے آنكھ كے ساتھ ہى ديكھ ليا، اس امر ميں ميں ا كيلا ہوں مجھے پريشانى ہے آپ اس كى شافى توضيح كريں تا كہ ميرا يہ اضطراب اور پريشانى ختم ہو سكے ؟



    الحمد للہ:

    رمضان المبارك كى ابتداء كے ليے قابل اعتماد چيز رؤيت ہلال ہے، يا پھر اگر چاند نظر نہيں آتا تو شعبان كے تيس يوم پورے ہونا، صحيح احاديث اسى پر دلالت كرتى ہيں،اور اہل علم بھى اسى پر متفق ہيں.

    امام بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم چاند ديكھ كر روزے ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى عيد كرو، اور اگر چاند نظر نہ آئے تو پھر تم شعبان كے تيس يوم پورے كرو "

    اور ايك روايت ميں ہے:

    " اگر تم پر آسمان ابر آلود ہو جائے "

    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1081 ).

    اس ميں فلكى حساب پر اعتماد نہيں كيا جائيگا، كيونكہ رؤيت ميں اصل يہى ہے كہ اسے آنكھ كے ساتھ ديكھا جائے، ليكن اگر جديد آلات كے ساتھ چاند ديكھا جائے تو پھر اس رؤيت پر عمل كيا جائيگا، جيسا كہ سوال نمبر ( 106489 ) كے جواب ميں بيان ہو چكا ہے.

    ليكن يہ كہ: صرف آنكھ كے ساتھ چاند كيسے نظر آ گيا اور فلكيات والے جديد آلات كے ساتھ بھى اسے نہ ديكھ سكے ؟

    يہ چيز جگہ اور وقت ميں اختلاف ہونے پر منحصر ہے كہ جہاں فلكيات والے تھے وہاں نظر نہيں آيا ليكن دوسرى جگہ اور مقام پر نظر آ گيا.

    بہر حال حكم رؤيت ہلال پر معلق ہے، جب ثقہ اور باعتماد ايك يا دو مسلمانوں نے چاند ديكھا ہے تو اس رؤيت پر عمل كرنا واجب ہے.

    سپريم قضاء كميٹى كے چئرمين جناب شيخ صالح بن محمد اللحيدان حفظہ اللہ كا كہنا ہے:

    " ايك بھائى جس كا نام عبد اللہ ا لخضيرى ہے جو چاند ديكھنے ميں بہت شہرت ركھتے ہيں اور ان كو چاند كے بارہ ميں معلومات ہيں، چاہے نيا چاند نہ بھى ہو انہيں اس كے متعلق خبر ہے اور وہ اس كى منازل كو جانتے ہيں.

    كچھ فلكيات والے ان كے پاس گئے اور منطقہ " حوطۃ سدير " ميں ان كے ساتھ ميٹنگ كى اور اس بھائى نے مجھے بتايا ہے كہ ان فلكيات والوں نے اندازہ لگايا كہ اس رات چاند فلاں جگہ نكلے گا ان كے حساب اور اندازے كے مطابق جو انہوں نے آلات پر لگايا تھا، ليكن اس نے انہيں بتايا كہ جس جگہ وہ كہہ رہے چاند اس جگہ نہيں نكلےگا، كيونكہ اس نے خود كل رات سے قبل چاند كو ديكھا تھا اور وہ چاند كى منزل كا علم ركھتا ہے كہ ہر رات كو وہ كہاں سے نكلےگا جہاں سے وہ پہلے گزرا ہے وہ اس كے بعد والى جگہ سے گزرتا ہے.

    اور جب چاند نكلا تو وہ وہاں سے نكلا جہاں اس نے كہا تھا، نہ كہ اس جگہ سے جو فلكيات والوں نے متعين كى تھى، اور يہ چيز ان كو معذور كرتى ہے كہ انہوں نے مشاہدہ كے ساتھ اس كى تحديد نہيں كى تھى، بلكہ اپنے پاس موجود آلات كے ذريعہ تحديد كى تھى جو غلط ثابت ہوئى " انتہى

    الرياض اخبار كو انٹرويو.

    يہ انٹرويو آپ درج ذيل لنك پر ديكھ سكتے ہيں:

    http://www.alriyadh.com/2007/10/12/article286271_s.html

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب
     
  2. ‏دسمبر 08، 2014 #2
    ردا علی

    ردا علی مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 08، 2014
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    بھائی مجھے اپنے پشاور والے بھائیوں کی ایک بات سمجھ نہیں آئی، ان کو صرف ومضان اور عیدین کے چاند ایک دن پہلے نظر آتےہیں۔ باقی مہینوں کے چاند پھر ہمارے ساتھ کس طرح نظرآجاتے ہیںِِ؟
     
  3. ‏مارچ 10، 2015 #3
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    ہوسکتا ہو ا نہیں نظر آتا ہو بقیہ بھی آتے ہوں کیوںکہ میڈیا پر صرف رمضان و عید کے چاند کا احتمام کیا جاتا ہے اس لئے وہ ہائی لائٹ ہوجاتا ہے ۔چاند کا اس طرح نظر آنا بلکل ممکن ہے ۔لیکن اس میں سیاسی و مذہبی فرق کے پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چائے۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں