1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان المبارک اور ترویح کے رکعات

'مسائل رمضان' میں موضوعات آغاز کردہ از فرحان محمد خان, ‏مئی 28، 2017۔

  1. ‏جون 09، 2017 #81
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    194
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    بیس 20 رکعات تراویح کی نسبت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی۔ اسی پر خلیفہ راشد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام صحابہ کرام کو جمع کیا۔
     
  2. ‏جون 09، 2017 #82
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    194
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    اگر کوئی حنفی تراویح میں قیام طویل نہیں کرتا تو ان کے پیچھے تراویح پڑھنے والے غیرمقلدین بیس کیوں نہیں پڑھتے (تاکہ لمبے قیام کا بدل زیادہ رکعات سے ہوجائے جیسا کہ غیر مقلدین کہتے ہیں) آٹھ پڑھ کر کیوں بھاگتے ہیں؟
    اس سے ایک تو فرقہ واریت کو ہوا ملتی ہے اور دوسرے بدنظمی بھی ہوتی ہے۔
     
  3. ‏جون 09، 2017 #83
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    742
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    محترم داؤد بھائی

    اس ساری گفتگو کے بعد میں یہ سمجھا ہوں کہ اہل حدیث کے بقول تروایح 8 رکعات ہیں جو دراصل تہجد ہیں ۔ جو اس سے زیادہ پڑھتا ہے وہ نفل میں اضافہ کرتا ہے جو جائز ہے۔

    سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ اختیاری ہیں۔ کرلیں تو ثواب نہ کرنے پرکوئی گناہ نہیں اور آخرت میں اس کے بارے میں کوئی سوال نہ ہوگا۔؟

    جو اس کو تہجد کی نماز کے علاوہ ایک الگ نماز سمجھ کر پڑھے اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرے تو کیا یہ بھی جائز ہوگا۔کیا یہ بدعت نہیں ہوگا؟
    جو تواتر کے ساتھ رمضان میں تروایح نہیں پڑھتا یا بالکل نہیں پڑھتا تو کیا وہ گناہ گار ہوگا۔؟
    (اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی کہ کیا اہل حدیث حضرات تراویح کے بعد اخیر رات میں تہجدکی نماز دوبارہ بھی پڑھتے ہیں؟)
     
  4. ‏جون 09، 2017 #84
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    194
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    سنت مؤکدہ اسے کہتے ہیں جس کی تاکید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکید سے انحراف غیرمقلدین کے ہاں جائزہوسکتا ہے مگر اہل سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو حرزِجاں بناتے اور اس سے اعراض کو گناہ یقین رکھتے ہیں۔
     
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 09، 2017 #85
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,599
    موصول شکریہ جات:
    414
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جرح ثابت تو کرو ان پر پہلے اور لفاظیوں سے آپکی دال نہیں گلنے والی

    اور روات پر بہس کس منہ سے کروگے اصلیت تو سامنے آچکی ہے :)
     
  6. ‏جون 10، 2017 #86
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,318
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یتیم فی الحدیث فقہ کی تقلید کرنے والوں کو یہی نہیں معلوم کہ عبد اللہ بن عباس سے ہی اس قول کی نسبت ثابت نہیں!
    اور خلیفہ راشد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا صحابہ و تابعین کو 11 رکعت بمع وتر پر جمع کرنا ثابت ہے!
     
    Last edited: ‏جون 10، 2017
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏جون 10، 2017 #87
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    742
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    السلام علیکم
    @ابن داودبھائی
    کچھ گذارشات اس ناچیز نے بھی کی تھیں۔ ان کے بارے میں بھی اپنی قیمتی رائے سے نوازیں۔
     
  8. ‏جون 10، 2017 #88
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میری رائے !
    محترم نسیم صاحب ! مثبت انداز سے بات کر رہے ہیں ، ان کے ساتھ بحث کو آگے بڑھانا چاہیے ۔
    اس سے ہٹ کر اس پوری بحث میں دو نکتے بار بار زیر بحث آرہے ہیں :
    1۔ ایک فریق کا بار بار ضعیف احادیث پیش کرنا ، دوسرے کا بار بار اس کی تردید کرنا ۔ گویا ضعیف حدیث سے استدلال کرنا ہی محل نزاع ہے ۔
    2۔ دوسرا یہ پوائنٹ اٹھایا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ صحابہ و تابعین یا بعد کے ادوار میں تراویح کا معمول کیا رہا ہے ؟ اور پھر اگر وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اگر مختلف ہے ، تواس کی کیا توجیہ ہوگی ؟
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 10، 2017 #89
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,318
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    جی درست! لیکن یوں کہنا بہتر ہوگا کہ رکعات نفل زیادہ کرتا ہے، فی نفسہ یہ کسی نفل کا اضافہ نہیں! بلکہ وہی نفل نماز ہے!
    جی درست! مگر ایک بات کا خیال رہے ؛ جو پہلے بھی آپ کو ہی کہی تھی کہ:
    معاملہ ذرا پیچیدہ ہے!
    صرف نام دینے بدعت کا حکم نہیں لگے گا!
    جیسے تراویح جو کہ تہجد و قیام اللیل ہے ، اسے ایک نام دیا گیا، اس امر میں مسئلہ نہیں!
    اگر کوئی شروع رات میں تراویح کے بعد آخر رات میں نوافل کو تہجد کا نام دے تو یہ غلط نہیں! بلکہ درست ہے، کہ وہ ہے تہجد ہی!
    لیکن تراویح کو تہجد سے خارج قرار دینا باطل ہے!
    لیکن دونوں اوقات میں نوافل کا ادا کرنا درست ہے! یہ نوافل بدعت نہیں کہلائیں گے!
    جی! جیسا اوپر بیان کیا! اور قیام رمضان پر تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی بشارتیں اور فضائل ہیں!
    لیکن بہر حال یہ نوافل ہی ہیں!
    جی! یہ اسی طرح ہے جیسے کہ وتر کو آخری نماز بنانے کے متعلق احادیث ہیں!
    کوئی اول شب میں تراویح کے بعد آخر رات میں دوبارہ نوافل ادا کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور اسےوتر آخر میں ادا کرنے چائیں!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 11، 2017 #90
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    194
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    صحيح البخاری: کتاب الایمان: بَاب تَطَوُّعُ قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ الْإِيمَانِ:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
    ارشاد باری تعالیٰ
    {وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَا يَعْلَمُونَ} [البقرة: 13]

    فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    صحیح بخاری: كِتَاب السُّنَّةِ: بَابٌ فِي لُزُومِ السُّنَّةِ:
    ’’
    فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذ‘‘

    صحيح البخاري: كِتَابُ صَلاَةِ التَّرَاوِيحِ: بَابُ فَضْلِ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ:

    فَقَالَ عُمَرُ: «إِنِّي أَرَى لَوْ جَمَعْتُ هَؤُلاَءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ، لَكَانَ أَمْثَلَ» ثُمَّ عَزَمَ، فَجَمَعَهُمْ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ

    لأحاديث المختارة = المستخرج من الأحاديث المختارة مما لم يخرجه البخاري ومسلم في صحيحيهما (3 / 367):
    1161 - أخبرنَا أَبُو عبد الله مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَهَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرهُم قِرَاءَة عَلَيْهِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد الله بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَار وَلَا يحسنون أَن (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة (إِسْنَاده حسن)

    مسند ابن الجعد (1 / 413):
    2825 - حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، أنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «كَانُوا يَقُومُونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً، وَإِنْ كَانُوا لَيَقْرَءُونَ بِالْمِئِينَ مِنَ الْقُرْآنِ»

    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (4 / 261):
    عَبْدُ الرَّزَّاقِ،
    عَنِ الْأَسْلَمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «كُنَّا نَنْصَرِفُ مِنَ الْقِيَامِ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ، وَقَدْ دَنَا فُرُوعُ الْفَجْرِ، وَكَانَ الْقِيَامُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ ثَلَاثَةً وَعِشْرِينَ رَكْعَةً»
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں