1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رمضان المبارک میں خلیجی ممالک سے سفر اورروزہ

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جون 09، 2017۔

  1. ‏جون 09، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    321
    تمغے کے پوائنٹ:
    195

    رمضان المبارک میں خلیجی ممالک سے سفر کرنے والوں کے مسائل

    مقبو ل احمدسلفی


    سعودی عرب، دوبئی ، قطر، بحرین اور کویت وغیرہ میں کام کرنے والے برصغیر ہندوپاک کے لوگ جب رمضان المبارک میں اپنے ملک کا سفر کرتے ہیں تو انہیں تقریباپانچ قسم کے مسائل کی جانکاری درکار ہوتی ہے ۔
    (1) پہلا مسئلہ یہ ہے کہ دوران سفر روزہ رکھنا چاہئے کہ نہیں ؟
    (2) دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جب خلیجی ممالک سے اپنے ملک کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ملک پہنچ جاتے ہیں تو ہمیں وہاں کے حساب سے روزہ رکھنا چاہئے یا گلف کے حساب سے ؟
    (3) تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم نے سفر میں روزہ توڑ لیا تو کیا اس کی قضا کرنی پڑے گی جبکہ اپنے ملک میں جاکر روزہ رکھنے سے ہمارا روزہ مکمل ہوجاتا ہے ، کبھی کبھی زیادہ ہی ہوجاتا ہے؟
    (4) چوتھا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ریاض یا مسقط یا ابوظبی وغیرہ سے سفر کرتا ہے اس نے سحری وہاں کے حساب سے کھائی ہے افطار کا وقت اس کے لئے کیا ہوگا ؟
    (5) پانچواں مسئلہ بعض لوگوں کے ساتھ یہ پیش آتا ہے کہ ادھر سعودی عرب یا دبئی وقطر میں عید منایا اور اپنے ملک سفر کیا ، ایک دن میں ملک پہنچ گیا اگلے دن وہاں بھی عید ہے اب وہ عید کی نماز وہاں بھی ادا کرے گا یا نہیں؟
    پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے سے مشقت درپیش ہو تو روزہ چھوڑ دینا چاہئے لیکن اگر مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے مثلا بعض پاکستانی یا ہندوستانی حضرات گلف میں ایرپورٹ کے قریب ہی رہتے ہیں ، بلامشقت فلائٹ پہ سوار ہوئے اور بعض حضرات تین اور بعض حضرات چار گھنٹوں میں اپنے گھر تک پہنچ گئے ، کوئی کلفت نہیں ہوئی ،ایسی صورت میں روزہ رکھنا چاہئے ۔ جنہیں فلائٹ کا بھی سفرکرناہے ،بسوں اور ٹرینوں کے سفر سے بھی گزرنا ہے،سفر بھی کئی گھنٹوں پر مشتمل ہو تو لازما مشقت درپیش ہوگی ایسی صورت میں روزہ نہیں رکھنا چاہئے۔
    دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتا ہے تووہ اس ملک کے حساب سے روزہ رکھے گا جہاں کا سفر کررہاہے یہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان سے ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے :
    فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ
    ۖ(البقرة: 185)
    ترجمہ: جو رمضان کا مہینہ پائے وہ روزہ رکھے ۔
    نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    الصَّومُ يومَ تَصومونَ ، والفِطرُ يومَ تُفطِرونَ ، والأضحَى يومَ تُضحُّونَ( صحيح الترمذي:697)
    ترجمہ: روزہ وہ دن ہے جس میں تم سب روزہ رکھتے ہو ، اور افطار وہ دن ہے جس میں تم سب روزہ نہیں رکھتے ہو ،اور عید الاضحی وہ دن ہے جس میں تم سب قربانی کرتے ہو ۔
    آیت وحدیث سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ آدمی جہاں بھی سفر کرکے جائے وہاں کے لوگوں کے حساب سے روزہ رکھے ، افطار کرے اور قربانی دے ۔ اس کومثال سے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ہم روزہ رکھ کر سعودی عرب سے سفر کئے اپنے ملک میں افطار کا وقت ہوگیا جبکہ سعودی عرب میں ابھی افطار کا وقت باقی ہے لیکن اس وقت سعودی میں سوری ڈوبنے کا انتظار نہیں کریں گے بلکہ آپ اپنے ملک والوں کے حساب سے سورج ڈوبتے ہی افطار کرلیں گے۔
    تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر کوئی سفر کی وجہ سے فرض روزہ چھوڑا تھا تو بعد میں اس کی قضا کرے گا بھلے اپنے ملک کا روزہ ملا کر 29یا تیس ہوجاتا ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے جو روزہ چھوڑا تھا وہ فرض روزہ تھا ۔
    چوتھے سوال کا جواب یہ ہے کہ روزہ دار کے لئے جب اور جس جگہ سورج غروب ہوجائے اس وقت اور اس جگہ کے اعتبار سے افطار کرے ۔ اگر جہاز میں رہتے وقت سورج غروب ہورہاہے تو جہاز میں افطار کرے اور جہاز سے اتر کر ایرپورٹ یا گاؤں ، سڑک ، بستی میں سورج ڈوب رہاہے تو وہاں افطار کرے۔
    پانچویں مسئلے کا جواب یہ ہے کہ اس نے رمضان مکمل کریا ، عید کی نماز بھی ادا کرلی اب اس کے ذمہ عید کی نماز باقی نہیں ہے تاہم مسلمانوں کے ساتھ ان کی عید اور خوشی میں شریک ہونا اظہار یک جہتی ہے ۔

    یہاں پر چند باتیں مزید سمجھ لینی چاہئے ۔
    ٭ روزہ رکھنے میں رویت ہلال کا ہی اعتبار ہوتا ہے جیساکہ حدیث میں ہے چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو۔
    ٭ روزہ دار قمری تاریخ کا اعتبار کرے گا نہ کہ عیسوی تاریخ کا ۔
    ٭ قمری مہینہ کم سے کم 29 کا اور زیادہ سے زیادہ 30 دن کا ہوتا ہے ، یہ یاد رہے اکتیس دن قمری مہینے میں ہے ہی نہیں ۔
    ٭آدمی سفر کرکے جس ملک میں جارہا ہے اس ملک کے حساب سے اگر اس کا روزہ اکتیس دن کا ہوجاتا ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر 29 سے کم ہوجاتا ہے تو کم از کم ایک روزہ بعد میں رکھنا ہوگا کیونکہ قمری مہینے میں کم ازکم 29 دن ہوتے ہیں ۔
    ٭اگر کوئی کسی ملک سے عید کرکے دوسرے ملک کا سفر کرتا ہے اس حال میں کہ یہاں ابھی عید نہیں ہوئی ہے یعنی رمضان ہی ہے تو اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ روزہ رکھے کیونکہ اس نے شرعی طریقے سے اپنا رمضان مکمل کرلیا ہے ۔
     
    Last edited: ‏جون 09، 2018
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں