1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

" رمضان کیسے گزاریں؟ " خطبہ مسجد نبوی ،خطیب فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم

'خطبات حرمین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 04، 2019۔

  1. ‏مئی 04، 2019 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    " رمضان کیسے گزاریں؟ "


    فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر جسٹس عبد المحسن بن محمد القاسم حفظہ اللہ نے 28 شعبان 1440 کا خطبہ جمعہ " رمضان کیسے گزاریں؟ " کے عنوان پر مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا:،

    جس میں انہوں نے کہا کہ ماہ رمضان بڑی شان والا مہینہ ہے، یہ مہینہ غریبوں کے دکھ بانٹنے، صدقہ خیرات اور دوسروں کا درد اپنا درد سمجھنے کا مہینہ ہے، اس ماہ میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اس ماہ میں روزے رکھ کر ساری دنیا کے تمام مسلمان یکجہتی اور ایک امت ہونے کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں، اس مہینے میں فرائض کی پابندی کے ساتھ نفل عبادات کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، رمضان میں قیام اور روزوں کا اہتمام کرنے سے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں، نیز رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہے، اس ماہ میں رسول اللہ ﷺ تیز آندھی سے بھی زیادہ صدقہ کیا کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا چاہیے، روزہ انسان کو تقوی کی دولت سے آراستہ کرتا ہے اور گناہوں کے سامنے ڈھال بن جاتا ہے، ماہ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، اسی ماہ میں قرآن مجید نازل ہوا، اس لیے اس ماہ میں تدبر اور فہم کے ساتھ تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے، روزے کی حالت میں دعا رد نہیں ہوتی اس لیے روزے کے دوران زیادہ سے زیادہ دعائیں کریں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ دین حسن سلوک اور برتاؤ کا نام ہے، اور تمہارے حسن سلوک کے سب سے پہلے حقدار تمہارے والدین ہیں، اسی طرح دیگر رشتہ داروں کے ساتھ بھی مکمل صلہ رحمی کریں، سلف صالحین اپنے روزے کے تحفظ کے لیے مسجد میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے تھے تا کہ زبان کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہ سکیں، آخر میں انہوں نے کہا کہ ابھی سے ماہ رمضان میں اجر و ثواب سمیٹنے کیلیے عزم مصمم کر لیں اور پھر معمولی سی بھی کوتاہی نہ کریں، آخر میں انہوں نے سب کے دعا فرمائی۔

    ترجمہ سماعت کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔
    پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ یا پرنٹ کرنے کیلیے کلک کریں۔
    عربی خطبہ کی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

    پہلا خطبہ:

    یقیناً تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلب گار ہیں اور اپنے گناہوں کی بخشش بھی اسی سے مانگتے ہیں، نفسانی اور بُرے اعمال کے شر سے اُسی کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت عنایت کر دے اسے کوئی بھی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی بھی رہنما نہیں بن سکتا، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد -ﷺ-اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل، اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلامتی نازل فرمائے۔

    حمد و صلاۃ کے بعد: اللہ کے بندو! اللہ سے کما حقّہ ڈور اور اسلام کو مضبوطی سے تھام لو۔

    مسلمانو!

    دن اور رات تیزی سے گزر رہے ہیں، ان کے پیچھے مہینے بھی چلتے جا رہے ہیں اسی اثنا لوگ اللہ کی جانب بڑھ بھی رہے ہیں، اور سب لوگ جلد ہی اپنے اعمال دیکھ لیں گے۔

    یہ اللہ تعالی کا فضل و کرم ہے کہ لوگوں کے لیے نیکیوں کی بہاریں مقرر فرمائیں، اس ضمن میں کچھ ایام ، راتوں اور لمحات کو خصوصی مقام سے نوازا؛ تا کہ لوگوں کے جذبات کو مہمیز ملے اور بڑھنے والے مزید آگے بڑھیں۔

    جب بھی ماہ رمضان کا چاند طلوع ہوتا ہے تو ہمارے لیے ہمیشہ بابرکت گھڑیاں لاتا ہے، مسلمان ماہ رمضان کا انتہائی مسرت اور خوشی کے ساتھ استقبال کرتے ہیں، مسلمانوں کو اتنی خوشی کیوں نہ ہو! اللہ تعالی نے اس ماہ کو خصوصی شرف اور فضیلت عطا کی ہے کہ اس مہینے میں اللہ تعالی نے اپنے رسول ﷺ کی بعثت فرمائی، اسی میں قرآن مجید نازل کیا، اللہ تعالی نے اس کے روزے فرض فرمائے۔

    ماہ رمضان کی ایک ایک گھڑی بابرکت ہے، اس مہینے کا ہر لمحہ خیر و بھلائی سے بھر پور ہے، اس مہینے میں خیرات کا تسلسل جاری رہتا ہے، برکتیں عام ہوتی ہیں، یہ دوسروں کے کام آنے اور صدقہ خیرات کرنے کا موسم ہے، یہ مہینہ حصول مغفرت اور گناہوں کو ختم کروانے کا مہینہ ہے، دن صیام میں اور رات قیام میں گزرتی ہے، یہ مہینہ قرآن اور نماز سے آباد ہوتا ہے، اس مہینے میں جنتوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے جو اس سے محروم ہو گیا وہی حقیقی معنوں میں محروم ہے۔

    ماہ رمضان نیکیوں کی دوڑ میں آگے نکلنے کا وسیع میدان ہے، یہ مہینہ نفس کو ہمہ قسم کی آلائش اور بیماریوں سے پاک صاف کرنے کا مہینہ ہے، یہ انتہائی معزز مہینہ ہے اس میں اعمال کا اجر بڑھا دیا جاتا ہے، اس ماہ میں گناہوں اور خطاؤں کو معاف کر دیا جاتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (پانچوں نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے) مسلم

    اس مہینے میں مسلمان اسلام کے ایک رکن کی ادائیگی کرتے ہیں، در حقیقت یہ مہینہ اس دین کی عظمت اور مسلمانوں کی باہمی یگانگت کی عملی منظر کشی کرتا ہے، اس مہینے میں واضح طور پر اللہ تعالی کا فرمان عملاً دیکھنے میں آتا ہے کہ:

    {إِنَّ هَذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ}

    بیشک یہ ہے تمہاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں، اس لیے میری عبادت کرو۔ [الأنبياء: 92]


    نیکیوں کی اس بہار کو غنیمت سمجھنا بھی اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی توفیق ہوتی ہے، اللہ تعالی جسے چاہتا ہے اس توفیق سے نوازتا ہے، ماہ رمضان میں ساری کی ساری بنیادی عبادات یکجا ہو جاتی ہیں، چنانچہ نماز اللہ تعالی اور بندے کے درمیان ناتا اور رابطہ ہے ، نماز مسلمان کی زندگی کا لازمی جزو ہے، مرد کے لیے باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے جو مرد کی گھر یا بازار میں ادا کی ہوئی نماز سے 27 درجے افضل ہوتی ہے، مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ روزے کے ساتھ نفل نمازوں کا بھی خصوصی اہتمام کرے اور رات کے وقت زیادہ سے زیادہ قیام کرے؛ کیونکہ:

    (جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) متفق علیہ


    اور اسی طرح فرمایا:

    (اور جو شخص امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ [نماز مکمل کر کے] چلا جائے، تو اس کے لیے رات بھر کا قیام لکھ دیا جاتا ہے) ترمذی


    زکاۃ اور نفل صدقہ خیرات؛ دولت کو پاک کرتے ہیں اور ان میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں، یہ دریا دلی اور دل کی صفائی کا ذریعہ ہیں، زکاۃ کی ادائیگی کا اثر شخصیت، دولت اور اولاد سب پر یکساں پڑتا ہے، زکاۃ بلاؤں کو ٹالتی ہے اور خوشیاں سمیٹتی ہے، اللہ کے بندوں پر جو سخاوت کرے تو اللہ تعالی اس پر سخاوت فرماتا ہے،

    آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اللہ تعالی فرماتا ہے: ابن آدم، تم [میری راہ میں ]خرچ کرو میں تم پر خرچ کروں گا) متفق علیہ

    روزِ قیامت ہر شخص اپنے صدقے کے سائے تلے ہو گا، اس لیے صدقہ لازمی کرو چاہیے معمولی ہی کیوں نہ ہو، صدقہ کرتے ہوئے خوشی سے دو اور غریبوں کے دکھ درد بانٹو، روزہ افطار کروانے والے کو اتنا ہی اجر ملے گا جتنا روزے دار کو ملتا ہے، آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ تھی کہ آپ بہت زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے تھے، آپ کو خرچ کرتے ہوئے غربت یا تنگی کا ڈر نہیں ہوتا تھا، کسی کو دیتے تو دریا دلی کے ساتھ دیتے اور کسی کو نوازتے تو کھل کر عنایت فرماتے تھے، آپ نے کبھی کسی سائل کو خالی واپس نہیں موڑا، آپ سے کچھ بھی مانگا گیا آپ نے کبھی انکار نہیں کیا، آپ ﷺ ماہ رمضان میں خصوصی جود و سخا کا مظاہرہ فرماتے، اسی لیے آپ ماہ رمضان میں تیز اندھیری کی طرح خرچ کیا کرتے تھے۔

    روزہ اس فضیلت والے مہینے میں خصوصی عبادت ہے، اس مہینے میں مسلمان روزہ رکھ کر تقوی کی نعمت حاصل کرتے ہیں، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ}

    اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے لکھ دئیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر لکھے گئے تھے، تا کہ تم متقی بن جاؤ۔ [البقرة: 183]

    روزے کا ثواب بے حد و حساب ملے گا، اللہ تعالی کا حدیث قدسی میں فرمان ہے:

    (روزے کے علاوہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے؛ کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا) متفق علیہ

    اسی طرح فرمایا: (جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کی امید کے ساتھ روزہ رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں) متفق علیہ

    روزہ ؛ روزے داروں اور برائی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (روزہ [گناہوں کے سامنے] ڈھال ہے) ترمذی

    ماہ رمضان میں عمرہ بہت بڑی غنیمت ہے؛ کیونکہ آپ ﷺ کا فرمان ہے: (رمضان کا عمرہ [ثواب میں]حج کے برابر ہوتا ہے) متفق علیہ

    قرآن کریم اللہ تعالی کا کلام ہے اور اللہ تعالی کی لوگوں پر حجت ہے، قرآن کریم سرچشمہ حکمت اور رسالت نبوی کی نشانی ہے، اللہ تعالی کی جانب قرآن کریم کے علاوہ کوئی راستہ نہیں جاتا، قرآن کریم کے بغیر ہمارے لیے نجات ممکن نہیں، یہ بصیرت اور بصارت دونوں کے لیے نور ہے، قرآن کے قریب ہونے والا صاحب شرف بن جاتا ہے، اس پر عمل پیرا شخص معزز ہو جاتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت ثواب کے ساتھ رہنمائی بھی ہے، قرآن کریم کا مطالعہ علم اور ثابت قدمی کا باعث ہے، قرآن کریم پر عمل تحفظ اور امان کا باعث ہے، قرآن کریم کی تعلیم اور قرآن کی جانب دعوت نیک لوگوں کے سر کا تاج ہے، ماہ رمضان میں قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے، رمضان میں قرآن کریم کی تلاوت، تدبر، تعلیم و تعلم، اور اس پر عمل کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے؛ کیونکہ قرآن کریم کا نزول اسی مہینے میں ہوا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:

    {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ}

    ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا قرآن لوگوں کو ہدایت دینے والا ہے اور اس میں ہدایت والی حق و باطل میں تمیز کی نشانیاں ہیں [البقرة: 185]

    جبریل علیہ السلام ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ قرآن مجید کی ہر رمضان میں ایک بار دہرائی کرتے تھے، اور جس سال آپ ﷺ کی وفات ہوئی اس سال آپ نے دو بار قرآن کریم کی دہرائی فرمائی۔

    دعا ایک مستقل عبادت ہے، دعا سے مشقت کے بغیر فائدہ حاصل ہو جاتا ہے، دعا کی بدولت خوشیاں ملتی ہیں، دعائیں بلائیں ٹالتی ہیں، دعا کرنے والا کبھی تباہ حال نہیں ہوتا، دعا کے ذریعے انسان اپنی تمنا اور مطلوب پا لیتا ہے، چنانچہ کس قدر ناممکن چیزیں بھی دعا کے ذریعے ممکن ہو گئیں! کتنی مشکل چیزیں بھی آسان ہو گئیں!

    رات کے آخری حصے میں مانگی جانے والی دعائیں قبولیت کے قریب تر ہوتی ہیں، اگر بندہ اپنے پروردگار کے سامنے گڑگڑائے تو اللہ تعالی اس کی دعا پوری فرما دیتا ہے، نیز روزے دار کی دعا رد نہیں کی جاتی، ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں: "روزے دار دن ہو یا رات عبادت میں ہی رہتا ہے، روزے دار کی دعائیں دوران روزہ اور افطاری کے وقت قبول کی جاتی ہیں، روزے دار دن میں روزہ رکھ کر صبر کرتا ہے اور رات کو کھا پی کر شکر کرتا ہے" اس لیے وہی کامیاب ہوتا ہے جو زیادہ سے زیادہ آسمان کا دروازہ کھٹکھٹائے، اور رمضان کے شب و روز میں اپنے لیے نیکیاں جمع کر لے۔

    ذکر الہی بھی عظیم لیکن آسان ترین عبادت ہے، اللہ کا ذکر کرنے والے کو اللہ تعالی بھی یاد رکھتا ہے۔ نیز اگر انسان کی زبان ذکر الہی میں مشغول نہ ہو تو اسے فضول یا گناہوں میں مشغول کر دیتا ہے۔

    دین برتاؤ اور تعامل کا نام ہے۔ ساری مخلوقات میں سے اچھے برتاؤ کا حقدار وہ ہے جس کے حقوق اللہ تعالی نے اپنے حقوق کے ساتھ ملا کر بیان کئے ہیں، اس لیے والدین تمہارے لیے جنت بھی ہیں اور جہنم بھی، تمہارے حسن اخلاق پر تمہارے والدین کا سب سے زیادہ حق ہے-

    آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس شخص کا ستیاناس ہو جائے، اس شخص کا پھر ستیاناس ہو جائے، اس شخص کا پھر ستیاناس ہو جائے) "کہا گیا : کس کا؟ اللہ کے رسول!" آپ نے فرمایا: (جو اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور جنت میں داخل نہ ہو پائے) مسلم

    (رشتہ داری عرش کے ساتھ چمٹی ہوئی کہتی ہے: جو مجھے جوڑے اللہ اسے جوڑ دے، اور جو مجھے توڑے اللہ اسے توڑ دے) متفق علیہ

    اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ: (جس شخص کو اچھا لگے کہ اس کے رزق میں فراخی کر دی جائے، اور اس کی عمر میں اضافہ کر دیا جائے تو وہ صلہ رحمی کرے) متفق علیہ

    کامل اطاعت میں یہ بھی شامل ہے کہ کسی بھی ایسی چیز سے مکمل بچیں جس سے اطاعت میں کمی آئے یا سرے سے نافرمانی ہو جائے؛ تو نبی ﷺ نے روزے دار کو خصوصی طور پر روزہ توڑنے یا خراب کرنے والی تمام اشیا سے محفوظ رکھنے کی ترغیب دلائی اور فرمایا: (جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو بیہودہ باتیں مت کرے نہ ہی شو و غل مچائے، اور اگر کوئی اسے گالی گلوچ دے یا لڑے تو اسے کہہ دے: میرا روزہ ہے۔) متفق علیہ

    سلف صالحین رحمہم اللہ جمیعا کی یہ عادت تھی کہ جب وہ روزہ رکھتے تو مسجدوں میں بیٹھے رہتے اور کہتے کہ: "اس طرح ہم اپنے روزے کا تحفظ کریں گے اور کسی کی غیبت بھی نہیں کریں گے"

    امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: "روزے دار کو اپنی زبان کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے، اور زبان درازی نہ کرے"

    ان تمام تر تفصیلات کے بعد، مسلمانو!

    اللہ تعالی نیک عمل کو اسی وقت قبول فرماتا ہے جب اللہ سے ایسی محبت کے ساتھ کیا جائے جو انسان کو خلوص ،للہیت، اور صدق دل سے رسول اللہ ﷺ کی اتباع پر ابھارے۔

    کوئی بھی عمل اس وقت تک نیکی نہیں بن سکتا جب تک اس کی بنیاد ایمان نہ ہو بطور عادت یا خواہش کے کیا ہوا عمل عبادت نہیں ہوتا، اسی طرح شہرت اور ریا کاری کے لیے کیا گیا عمل بھی عبادت نہیں بنتا، چنانچہ جس وقت ایمان کے ساتھ عمل ہو تو قبولیت اور مغفرت کا باعث بنتا ہے۔

    أَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ: {وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ}

    اور اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف دوڑو جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے جو پرہیز گاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ [آل عمران: 133]

    اللہ تعالی میرے اور آپ سب کیلیے قرآن مجید کو خیر و برکت والا بنائے، مجھے اور آپ سب کو ذکرِ حکیم کی آیات سے مستفید ہونے کی توفیق دے، میں اپنی بات کو اسی پر ختم کرتے ہوئے اللہ سے اپنے اور تمام مسلمانوں کے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، تم بھی اسی سے بخشش مانگو، بیشک وہی بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔

    دوسرا خطبہ :

    تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں کہ اس نے ہم پر احسان کیا، اسی کے شکر گزار بھی ہیں کہ اس نے ہمیں نیکی کی توفیق دی، میں اس کی عظمت اور شان کا اقرار کرتے ہوئے گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود بر حق نہیں وہ یکتا اور اکیلا ہے، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالی آپ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں رحمتیں، سلامتی اور برکتیں نازل فرمائے۔

    مسلمانو!

    دنیا تو اپنی خوشیوں اور غموں کے ساتھ ختم ہو ہی جائے گی، عمریں لمبی ہوں یا چھوٹی یہ بھی گزر جائیں گی، پھر آخر کار سب اپنے پروردگار سے ملیں گے، اس وقت مال یا اولاد کچھ کام نہیں آئے گا، ماسوائے اس شخص کے جو اللہ تعالی کے پاس قلب سلیم لے کر آئے؛ اس لیے ماہ رمضان کا استقبال سچی توبہ کے ساتھ کرو، ابھی سے عزم مصمم کر لو کہ اس کے اوقات و لمحات کو نیکیوں سے بھر پور رکھو گے؛ کیونکہ زندگی تو محدود سانسوں کا نام ہے، فضیلت والے ان اوقات کو غنیمت سمجھیں، نیکیاں کرتے چلے جائیں اور اللہ تعالی پر امید رہیں ۔

    حقیقی خسارہ زدہ شخص تو وہ ہے جو رمضان تو پا لے لیکن اسے بخشا نہ جائے، آپ ﷺ کا فرمان ہے: (اس شخص کا ستیاناس ہو جائے جس کی زندگی میں رمضان آئے اور اسے پروانہ مغفرت ملنے سے پہلے چلا جائے) ترمذی

    اسی طرح فرمایا: (جو شخص خلاف شریعت بات کہنے یا اس پر عمل کرنے سے باز نہ آئے تو اللہ تعالی کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔) متفق علیہ

    اصلاح قلب کے لیے اللہ کا ذکر اور قرآن کریم کے ساتھ مضبوط تعلق مفید ترین وسائل ہیں، اسی طرح قیام اللیل اور نیک لوگوں کی صحبت بھی کارگر ثابت ہوتے ہیں۔

    یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں اپنے نبی پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا:

    {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا}

    اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

    اللهم صل وسلم وبارك على نبينا محمد، یا اللہ! حق اور انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے والے خلفائے راشدین: ابو بکر ، عمر، عثمان، علی سمیت بقیہ تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ !اپنے رحم و کرم اور جو د و سخا کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا اکرم الاکرمین!

    یا اللہ !اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، شرک اور مشرکوں کو ذلیل فرما، یا اللہ !دین کے دشمنوں کو نیست و نابود فرما، یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو امن و استحکام اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے۔

    یا اللہ! ہمارے حکمران اور ان کے ولی عہد کو تیری رہنمائی کے مطابق توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کی نیکی اور تقوی کے کاموں کے لئے پیشانی سے پکڑ رہنمائی فرما، ان دونوں کے ذریعے اسلام اور مسلمانوں کو فائدہ پہنچا فرما۔

    یا اللہ! تمام مسلم حکمرانوں کو کتاب و سنت پر عمل پیرا ہونے اور نفاذ شریعت کی توفیق عطا فرما، یا ذالجلال والا کرام!

    یا اللہ! ہمیں دنیا اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ فرما۔

    یا اللہ! ہمیں ماہ رمضان نصیب فرما، یا اللہ! پورے ماہ رمضان میں ہمیں نیکیوں میں مشغول فرما، یا اللہ! اپنے خصوصی فضل اور کرم کے صدقے رمضان میں ہماری کی ہوئی عبادات کو قبول فرمانا، یا اکرم الاکرمین!

    یا اللہ! ہم نے اپنی جانوں پر بہت زیادہ ظلم ڈھائے ہیں اگر توں ہمیں معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔

    اللہ کے بندو!

    {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ}

    اللہ تعالی تمہیں عدل، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں وعظ کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ [النحل: 90]

    تم عظمت والے جلیل القدر اللہ کا ذکر کرو تو وہ بھی تمہیں یاد رکھے گا، اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر ادا کرو تو وہ تمہیں اور زیادہ دے گا، یقیناً اللہ کا ذکر بہت بڑی عبادت ہے، تم جو بھی کرتے ہو اللہ تعالی جانتا ہے ۔
     
  2. ‏مئی 14، 2019 #2
    zahra

    zahra مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 04، 2018
    پیغامات:
    144
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    25

    nice sharing its amazing one keep sharing
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں