1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رنج وغم ، مصیبت وتکلیف اورمشکل وپریشانی کے وقت کی دعائیں

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از کفایت اللہ, ‏جولائی 18، 2016۔

  1. ‏جولائی 18، 2016 #1
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    رنج وغم ، مصیبت وتکلیف اورمشکل وپریشانی کے وقت کی دعائیں

    ترتیب: کفایت اللہ سنابلی​
    نوٹ :-اس مضمون کو ہماری ویب سائٹ پر پڑھنے کے لئے ذیل کا لنک ملاحظہ کریں:


    {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ } [الأنبياء: 87 ]
    سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں یہ دعاء پڑھتے تھے اور یہ ایسی دعا ہے کہ جب بھی کوئی مسلمان شخص اسے پڑھ کر دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا“۔[ سنن الترمذی رقم 3505 واسنادہ صحیح]

    {حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ} [التوبة: 129]
    ابوالدرداء رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح وشام سات مرتبہ یہ کلمات کہے اللہ تعالی اس کی دنیا وآخرت کی پریشانیوں کے لئے کافی ہوجائے گا۔ [عمل اليوم والليلة لابن السني ص: 67 ورجالہ ثقات]
    یہ روایت موقوفا اور مرسلا بھی مروی ہے اکثر محققین نے اسے حسن کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قراردیاہے(الضعیفہ 5286)۔علامہ البانی رحمہ اللہ کی بات ہی اقرب الی الصواب ہے۔ لیکن یہی الفاظ قرآن میں دعاء کے سیاق میں وارد ہیں اس لئے انہیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔

    { أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ } [الأنبياء: 83]
    ایوب علیہ السلام مصیبت کے وقت ان الفاظ میں دعاء کرتے تھے جیساکہ قرآن میں ہے۔

    {لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ العَظِيمُ الحَلِيمُ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ العَرْشِ العَظِيمِ، لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَرَبُّ الأَرْضِ، وَرَبُّ العَرْشِ الكَرِيمِ}
    ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کی حالت میں یہ دعاپڑھتے تھے[صحيح البخاري:ج 8ص75 رقم 6346]

    {اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الهَمِّ وَالحَزَنِ، وَالعَجْزِ وَالكَسَلِ، وَالبُخْلِ، وَالجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ}
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ دعاپڑھا کرتے تھے[صحيح البخاري:ج8ص 78 رقم 6363]

    {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا}
    ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو بھی کوئی مصیبت لاحق ہوئی اور اس نے یہ کلمات پڑھے تو اللہ تعالی اسے نعم البدل عطاء فرمائے گا[صحيح مسلم: ج 2ص 631 رقم 918]

    {يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ}
    انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سخت تکلیف و پریشانی کا معاملہ درپیش ہوتا تو آپ یہ دعاء پڑھتے تھے[سنن الترمذي :ج 5ص 539 رقم 3524 حسن بالشواهد وحسنه الألبانی]

    {اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ}
    ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پریشان حال شخص کے لئے یہ دعاء ہے[سنن ابي داؤد :ج 4ص805 رقم 5090واسنادہ حسن وحسنہ الالبانی، جعفر بن میمون حسن الحدیث علی الراجح ]

    {أَللَّهُ أَللَّهُ رَبِّي لَا أُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا}
    اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دکھ اور پریشانی کی حالت میں یہ دعاء پڑھنے کے لئے کہا [سنن أبي داود:ج2ص87 رقم 1525 واسنادہ صحیح وصححہ الالبانی]

    {اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، ابْنُ عَبْدِكَ، ابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجِلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي}
    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو جب بھی کوئی مصیبت اور غم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات پڑھ لے تو اللہ تعالی اس کی مصیبت وغم کو دور فرمادے گا اوراس کی جگہ خوشی عطاء فرمائے گا [مسند أحمد: ج 6ص 246 رقم 3712 واسنادہ صحیح وصححہ الالبانی ، ابوسلمہ ھو موسى بن عبد الله الجهني الثقة کما قال ابن معین واحمد شاکر والالبانی و عبدالرحمن بری من التدلیس]

    {اللَّهُمَّ لاَ سَهْلَ إلاَّ مَا جَعَلْتَة سَهْلاً، وَأَنْتَ تَجْعَل الْحَزْنَ إذَا شِئْتَ سَهْلاً}
    الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہ پریشانی کی حالت کی دعاء ہے[صحيح ابن حبان(احسان) 3/ 255 رقم 974 واسنادہ صحیح علی شرط مسلم وابن السنی رقم 351 واللفظ لہ]

    نوٹ: ان دعاؤں کے ساتھ کثرت سے توبہ واستغفار بھی پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ ہے جیساکہ متعدد نصوص سے پتہ چلتاہے۔

    ترتیب
    کفایت اللہ سنابلی
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 20، 2016 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ!
     
  3. ‏جولائی 20، 2016 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ابتداء میں بریکٹ کے اندر سہی لفظ ’ ربي ‘ کا اضافہ ہونا چاہیے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 21، 2016 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    آپ کی بات بالکل صحیح ہے ۔
    لیکن میں نے عمدا ایسا نہیں کیا کیونکہ اندیشہ ہے کہ ایک طبقہ دعائے ماثورہ میں تبدیلی یا قرآن میں تحریف کے نام سے ایک الگ بحث شروع کردے گا۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 25، 2018 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    @مصطفیٰ خلیل صاحب آپ نے شیخ @اسحاق سلفی صاحب سے یہ سوال پوچھاہے:
    ’’محترم مجھے نہایت شدید ڈپریشن اور شک کی بیماری لاحق ہیں کافی علاج معالجہ کیا لیکن کوئی فرق نہیں ہوا
    اپنی علم کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر اعمال بھی کرتا ہوں
    میرا آپ سے درخواست ہے کہ مجھے کوئی مسنون وظائف دے دیں میں اس فورم میں نیا ہوں ‘‘
    اس پوسٹ کو پڑھ لیں:
    قرآن کریم کی تلاوت، نماز کی ادائیگی، اپنے گناہوں کی معافی اور استغفار
    یہ تین چیزیں قلب و ذہن کے اطمینان و سکون کا باعث ہیں۔
    جس طرح دوائی کھاتے ہوئے، ہم شفا کی نیت اور امید رکھتے ہیں، اس سے بھی زیادہ پر امید ہو کر یہ کام کریں، اللہ تعالی رحم و کرم فرمائے گا۔


     
  6. ‏مارچ 25، 2018 #6
    مصطفیٰ خلیل

    مصطفیٰ خلیل مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 23، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    جزاك الله خيرا كثيرا
    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
    آپ سب دوستوں سے درخواست ہے کہ مجھے آپنی دعاؤں میں یاد رکھیں
    ( میں نے اس طرح کی ایک حدیث سنی ہے جس میں آپ نیک بندوں سے دعا کی درخواست کرسکتے ہو)
    اللہ تعالیٰ معاف فرما دے مجھے پورا واقعہ یاد نہیں ہے( یمن کا رہنے والا تھا اور اپنی والدہ محترمہ کی انتہائی خدمت کرتا تھا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے اپنے لیے دعا کی درخواست کی تھی) اگر کسی بھائی کو مکمل معلومات ہو تو برائے مہربانی میرے ساتھ شئیر کریں
     
  7. ‏مارچ 25، 2018 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    @مصطفیٰ خلیل بھائی ! ۔۔۔۔۔ اللہ رحمن و رحیم آپ کی اور ہماری مشکلات اپنی خاص رحمت سے دور فرمائے ۔آمین
    آپ کا پیغام پہلے دن سے میری نظر میں ہے ،لیکن اپنے کچھ ظروف کے سبب جواب میں تاخیر ہوئی ،جس کیلئے معذرت خواہ ہوں
    ـــــــــــــــــــــــــ
    ہمارے محترم فاضل شیخ خضر حیات صاحب نے بہت مفید رہنمائی فرمائی ہے جزاہ اللہ تعالی خیراً

    اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب،نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں،غموں اور پریشانیوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے،لیکن وہ انسان خوش قسمت ہے جو اس غم،دکھ اور پریشانی کو صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔

    اور قرآن کریم نے حقیقت کشائی کی ہے کہ انسان پر آنے والی اکثر مصائب اور مشکلات کا سبب اس کے اپنے اعمال و افعال ہوتے ہیں ،
    (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (30)الشوریٰ
    ترجمہ :(تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کے سبب آتی ہیں، اور وه (اللہ مہربان ) تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ (سورۃ الشوری 30 )
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    امام ابن کثیرؒ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :
    ( أي: مهما أصابكم أيها الناس من المصائب فإنما هو (2) عن سيئات تقدمت لكم {ويعفو عن كثير} أي: من السيئات، فلا يجازيكم عليها بل يعفو عنها، {ولو يؤاخذ الله الناس بما كسبوا ما ترك على ظهرها من دابة} [فاطر: 45]
    وفي الحديث الصحيح: "والذي نفسي بيده، ما يصيب المؤمن من نصب ولا وصب ولا هم ولا حزن، إلا كفر الله عنه بها من خطاياه، حتى الشوكة يشاكها" (صحیح بخاری) .

    لوگو ! تمہیں جو کچھ مصائب و آلام جھیلنے پڑتے ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» ‏‏‏‏ (35-فاطر: 45) اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ (صحیح بخاری:5642)
    اوراللہ رب العزت نے ایمان اور گناہوں سے دور رہنے کو اپنی رحمتیں اور برکتیں سمیٹنے کا وسیلہ قرار دیا ہے
    فرمایا : ( وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ )
    اور اگر انسانی آبادیوں میں بسنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔(سورۃ الاعراف:96)
    اور دوسری جگہ فرمایا :
    ( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ يُسْرًا) (سورۃ الطلاق )
    اور جو شخص اللہ تعالٰی سے ڈرے گا اللہ تعالٰی اس کے (ہر) کام میں آسانی کر دے گا۔

    اور گناہوں کے سبب جو مشکلات و مصائب انسان کو لاحق ہوتے ہیں وہ بھی محض سزا و انتقام کے مقصد سے نہیں نازل نہیں کیئے جاتے بلکہ ان کی غایت مومن کو گناہوں سے پاک کرنا اور گناہوں کاشہ کفارہ بنانا ہوتا ہے ،
    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :
    عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا كثرت ذنوب العبد، ولم يكن له ما يكفرها من العمل، ابتلاه الله عز وجل بالحزن ليكفرها عنه "
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے (مسند احمدؒ 25236 )
    اس حدیث کو علامہ ھیثمیؒ نے مجمع الزوائد میں مسند کے حوالہ سے ہی نقل فرمایا ہے اور اس کے متعلق لکھا ہے کہ (وقال: رواه أحمد والبزار، وإسناده حسن )
    اس لئے مشکلات سے نجات کیلئے فوراً اپنے گناہوں کی معافی اور مسلسل استغفا ر کرنا لازم ہے ،
    حدیث شریف میں استغفار کی اہمیت بتاتے ہوئے پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
    عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ جَعَلَ اللهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا، وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ»عبداللہ بن سیدناعباس رضی اللہ عنہما کروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی استغفار کا التزام کر لے تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا“۔

    تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الیوم واللیلة (۴۵۶)، سنن ابن ماجہ/الأدب ۵۷ (۳۸۱۹)، (تحفة الأشراف:۶۲۸۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۴۸) (ضعیف) (اس کے راوی حکم بن مصعب مجہول ہیں)
    تاہم اس کا معنی قرآن مجید سے ثابت ہے :
    ارشاد باری ہے «وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبْ» ” جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کیلئے ( مشکلات و مصائب سے نکلنے کی ) راہیں عطا فرمائے گا اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جس کا وہ گمان بھی نہیں رکھتا ہو گا “۔
    تقویٰ اور استغفار
    امن و سکون اور آسائشوں کے حصول کا یہ ایسا نسخہ ہے جو صدیوں سے آزمودہ ہے ؛
    مصائب و آزمائشوں سے نجات کے اس نسخہ کو دوسرے لفظوں میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ :
    "اپنے آپ کو شریعت کی روشنی میں بدلو ، حالات قادر مطلق بدل دے گا "
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ​
    مزید ان شاء اللہ اگلی نشست میں پیش کرتا ہوں ؛ والتوفیق بیداللہ
     
  8. ‏مارچ 25، 2018 #8
    مصطفیٰ خلیل

    مصطفیٰ خلیل مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 23، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
    اور مجھے اور ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے
    آمین
    (وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (30)الشوریٰ
    ترجمہ :(تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کے سبب آتی ہیں، اور وه (اللہ مہربان ) تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔ (سورۃ الشوری 30 )
    اللہ تعالیٰ میرے اور میرے والدین کی اور آپ تمام حضرات کی اور تمام کلمہ گو مسلمانوں کی گناہوں کو معاف فرما دے (آمین)
     
  9. ‏مارچ 26، 2018 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    جی واقعی دوسرے مومن کو دعاء کیلئے کہہ سکتے ہیں ،
    جس نیک آدمی کا ذکر کررہے ہیں ،وہ مشہور تابعی سیدنا اویس قرنیؒ ہیں ، ان کے متعلق صحیح مسلم شریف میں حدیث مبارکہ وارد ہے ،
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ مکمل حدیث دیکھئے :
    عن أسير بن جابر، قال: كان عمر بن الخطاب إذا أتى عليه أمداد أهل اليمن، سألهم: أفيكم أويس بن عامر؟ حتى أتى على أويس فقال: أنت أويس بن عامر؟ قال: نعم، قال: من مراد ثم من قرن؟ قال: نعم، قال: فكان بك برص فبرأت منه إلا موضع درهم؟ قال: نعم، قال: لك والدة؟ قال: نعم، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن، من مراد، ثم من قرن، كان به برص فبرأ منه إلا موضع درهم، له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره، فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل» فاستغفر لي، فاستغفر له، فقال له عمر: أين تريد؟ قال: الكوفة، قال: ألا أكتب لك إلى عاملها؟ قال: أكون في غبراء الناس أحب إلي. قال: فلما كان من العام المقبل حج رجل من أشرافهم، فوافق عمر، فسأله عن أويس، قال: تركته رث البيت، قليل المتاع، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: «يأتي عليكم أويس بن عامر مع أمداد أهل اليمن من مراد، ثم من قرن، كان به برص فبرأ منه، إلا موضع درهم له والدة هو بها بر، لو أقسم على الله لأبره، فإن استطعت أن يستغفر لك فافعل» فأتى أويسا فقال: استغفر لي، قال: أنت أحدث عهدا بسفر صالح، فاستغفر لي، قال: استغفر لي، قال: أنت أحدث عهدا بسفر صالح، فاستغفر لي، قال: لقيت عمر؟ قال: نعم، فاستغفر له، ففطن له الناس، فانطلق على وجهه، قال أسير: وكسوته بردة، فكان كلما رآه إنسان قال: من أين لأويس هذه البردة
    (صحیح مسلم ،کتاب الفضائل )
    سیدنا اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جب یمن سے مدد کے لوگ آتے (یعنی وہ لوگ جو ہر ملک سے اسلام کے لشکر کی مدد کے لیے آتے ہیں جہاد کرنے کے لیے) تو وہ ان سے پوچھتے: تم میں اویس بن عامر نام کا بھی کوئی شخص ہے ،(اس طرح کچھ عرصہ پوچھتے رہے توایک دفعہ انہیں بتایا گیا کہ یمن سے اویس تشریف لائے ہوئے ہیں )
    تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود اویس کے پاس آئے اور پوچھا: کہ تمہارا نام اویس بن عامر ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم مراد قبیلہ سے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، پوچھا: قرن میں سے ہو؟ انہوں کہا: ہاں، پوچھا: تم کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درم برابر باقی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پوچھا: تمہاری ماں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تمہارے پاس اویس بن عامر آئے گا یمن والوں کی کمکی فوج کے ساتھ وہ مراد قبیلہ کا ہے جو شاخ ہے قرن کی، اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا مگر درم برابر باقی ہے، اس کی ایک ماں ہے اس کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے، پھر اگر تجھ سے ہو سکے اس سے تو دعا کرا اپنے لیے۔“ تو دعا کرو میرے لیے۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کی بخشش کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: تم کہاں جانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: کوفہ میں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:: میں ایک خط تم کو لکھ دوں کوفہ کے حاکم کے نام؟ انہوں نے کہا: مجھے خاکساروں میں رہنا اچھا معلوم ہو تا ہے۔ جب دوسرا سال آیا تو ایک شخص نے کوفہ کے رئیسوں میں سے حج کیا۔ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس کا حال پوچھا: وہ بولا: میں نے اویس کو اس حال میں چھوڑا کہ ان کے گھر میں اسباب کم تھا اور وہ تنگ تھے (خرچ سے)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”اویس بن عامر تمہارے پاس آئے گا یمن والوں کے امدادی لشکر کے ساتھ وہ مراد میں سے ہے، پھر قرن میں سے، اس کو برص تھا وہ اچھا ہو گیا صرف درم برابر باقی ہے، اس کی ایک ماں ہے جس کے ساتھ وہ نیکی کرتا ہے، اگر اللہ پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اس کو سچا کرے، پھر اگر تجھ سے ہو سکے کہ وہ دعا کر ے تیرے لیے تو دعا کرا اس سے۔“ وہ شخص یہ سن کر سیدنا اویس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میرے لیے دعا کرو۔ سیدنا اویس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ابھی نیک سفر کر کے آ رہا ہے (یعنی حج سے) میرے لیے دعا کر۔ پھر وہ شخص بولا: میرے لیے دعا کرو۔ اویس نے یہی جواب دیا، پھر پوچھا: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملا؟ وہ شخص بولا: ہاں، پھر ان کے لیے بخشش کی دعا کی۔ اس وقت لوگ اویس رضی اللہ عنہ کا درجہ سمجھے، وہ وہاں سے سیدھےچلے۔ اسیر نے کہا: ان کا لباس ایک چادر تھی جب کوئی آدمی ان کو دیکھتا تو کہتا: اویس رضی اللہ عنہ کے پاس یہ چادر کہاں سے آئی؟ (رضی اللہ عنہم )
     
  10. ‏مارچ 26، 2018 #10
    مصطفیٰ خلیل

    مصطفیٰ خلیل مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 23، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    جزاك الله خيرا كثيرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں