1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روداد مطالعہ نہج البلاغہ

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 31، 2018۔

  1. ‏مئی 31، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20

    روداد مطالعہ نہج البلاغہ

    نہج البلاغہ شیعہ مذہب کی اساسی کتب میں شمار ہوتی ہے، بلکہ 95 فیصد شیعہ لوگوں کے ہاں قطعی الصحت والدلالۃ بھی ہے، ان کے نزدیک نہج البلاغہ کا ہر ہر خطبہ اور ہر ہر لفظ قطعی الصحت ہے، اس کی صحت پر اجماع کا دعوی بھی کیا جاتا ہے، تاہم موجودہ دور کے بعض شیعہ نے نہج البلاغہ کے کچھ مندرجات کو ضعیف بھی قرار دیاہے۔
    ہماری چوں کہ مطالعاتی روش یہ رہی ہے کہ کسی بھی مذہب کو سمجھنے کے لئے اس کے اصل مصادر کو دیکھتے ہیں، لہذا ہم نے بھی اس کا مطالعہ شروع کردیا، اس مطالعہ کے دوران جو جو چیزیں اور حقائق ہم پر کھلے، وہ برادران و خواہر کے سامنے پیش کئے دیتے ہیں :
    یاد رہے کہ اہل سنت کے نزدیک نہج البلاغہ ایک من گھڑت کتاب ہے، فلہذا اس کے مندرجات پر بحث اور ان سے استدلال شیعہ پر اتمام حجت کے لئے ہے، اس کے مندرجات اور حوالوں کو ہمارا ذاتی موقف نہ سمجھا جائے ۔


    نہج البلاغہ کے مطابق شیعہ کیسے لوگ ہیں ؟

    نہج البلاغہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب خطبوں کی طرف غور کریں تو ایک ایسی تصویر سامنے آتی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ گویا مخالفین سے بھی زیادہ اپنا کہلانے والوں سے عاجز آگئے تھے۔
    آپ خطبہ 25 میں فرماتے ہیں : کوفہ کو اللہ غارت کرے۔
    اوراسی خطبے میں آگے چل کر اپنے ہی ساتھیوں سے کہتے ہیں :
    '' میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کےایک پیالے کا بھی امین بناؤں تو یہ ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لے جائے گا۔''
    خطبہ 26 میں اپنے کرب کا اظہار ا ن الفاظ میں کیا :
    '' مجھے اپنے اہل بیت کے سوا کوئی بھی اپنا معین و مددگار نظر نہیں آیا۔''
    خطبہ 27 : اے مردوں کی شکل و صورت والے نامردو
    اللہ تمہیں مارے، تم نے میرے دل کو پیپ سے بھر دیا ہے۔اور میرے سینے کو غضب سے چھلکا دیا ہے۔
    اس سے کوئی بھی ذی فہم او ر معاملہ شناس سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دکھ کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ بلکہ خطہ 29 میں تو یہاں تک فرمایا :
    '' باتیں بڑی بڑی کرتے ہو، مگر جنگ سے پناہ مانگتے ہو، تم کو صدا دینے والی کی صدا بے وقعت ہے۔''
    خطبہ 34 :
    '' تم ہمیشہ کے لئے مجھ سے اپنا اعتماد کھو چکے ہو۔''
    اسی طرح فرمایا:
    '' خدا کی قسم ! میں تمہارے متعلق یہی گما ن رکھتا ہوں کہ اگر جنگ زور پکڑ لے اور موت کی گرم بازاری ہو، تو تم ابن ابی طالب سے اس طرح کٹ جاو گے جس طرح بدن سے سر۔''
    خطبہ 39 :
    ''میرا ایسے لوگوں سے پالا پڑا ہے، جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں، بلاتا ہوں ، تو آواز پر لبیک نہیں کہتے، تمہارا برا۔''
    یہاں ان لوگوں کو خود برا کہہ رہے ہیں، مگر آگے ایک جگہ کہتے ہیں :
    ''کوفہ کے ساتھ جو برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اس کو مصیبت میں جکڑ دے گا۔'' صفحہ 89
    کچھ صفحات آگے، آجائیے !یہ 67 واں خطبہ ہے :
    '' جب بھی شامیوں کے ہراول دستوں میں کوئی دستہ تم پر منڈلاتا ہےتو تم سب کے سب اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیتے ہو اور اس طرح دبک کر بیٹھ جاتے ہو جس طرح گوہ اپنے سوراخ میں اور بجو اپنے بھٹ میں، جس کے تمہارے ایسے مددگار ہوں، اسے تو ذلیل ہی ہونا ہے۔''
    اسی خطبہ میں اپنے ساتھیوں کے فطری نفاق پر یوں کمنٹس دیتے ہیں :
    '' خدا کی قسم ! صحن میں بہت نظر آتے ہو مگر جھنڈوں کے پیچھے تھوڑے۔''
    یعنی جب پوچھا جائے تو جی حضور ہم آپ کے ہوئے، آپ پر جان قربان، مگر جوں ہی جنگ میں ضرورت ہوئی، گھروں میں دبک کر بیٹھ رہے، تب جان پیاری ہوگئی۔ مزے کی بات یہ ہےکہ یہاں کسی کے پاس تقیے کا بہانہ بھی باقی نہیں رہتا، کیوں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اب تو خود جنگیں لڑ رہے ہیں اور یہ لوگ ان ہی سے بغاوت کے درپے ہیں۔
    ان لوگوں کا جنگ میں ڈر جانا تو رہاایک طرف، انہوں نے سیدنا علی پر اتہام بھی اچھال رکھے ہیں۔ آپ پر آپ کے شیعہ کی طرف سے یہ الزام لگا دیا کہ علی نعوذ باللہ جھوٹ بولتے ہیں ، آپ کا خطبہ 69 ملاحظہ کیجئے !
    '' بخدا میں تمہاری طرف بخوشی نہیں آیا، بلکہ حالات سے مجبور ہو کر آگیا ہوں ، مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تم کہتے ہو علی کذب بیانی کرتے ہیں۔''
    خطبہ 95 میں یوں گویا ہوتے ہیں :
    '' رعیتیں اپنے حکرانوں کے ظلم و جور سے ڈرا کرتی تھیں، اور میں اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں۔میں نے تمہیں جہاد کے لئے ابھارا ، لیکن تم نہ نکلے، میں نے تمہیں سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور اعلانیہ بھی تمہیں جہاد کے لئے پکارا اور للکارا ، لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں۔ ''
    اسی خطبہ میں جناب علی رضی اللہ عنہ نے شیعہ کو سبا کی اولاد قرار دیا ہے، اور ان کی ایک خصلت کا ذکر بھی ساتھ ہی کردیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں :
    '' میں ان بدعتوں سے جہاد کرنے کے لئے تمہیں آمادہ کرتا ہوں ، تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولاد سبا کی تتر بتر ہوگئے۔''
    حتی کہ آپ ان کی بنسبت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں سے زیادہ خوش ہیں، اور فرماتے ہیں :
    '' خدا کی قسم ! میں چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے۔''
    یہ قارئین کے ذوق طبع کے لئے بتاتا چلوں کہ اس خطبے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کو شیعہ سے بہتر اور مسلمان سمجھتے تھے، کیوں کہ کافر ہزار ہوں تب بھی ایک مسلمان پر اس کو فوقیت نہیں دی جاسکتی اور یہاں دس دس کوفیوں پر ایک ایک سیدنا معاویہ کے ساتھی کو فوقیت دی جارہی ہے؟
    اسی خطبہ میں آگے چل کر فرمایا :
    '' پہلے تو یہ کہ تم کان رکھتے ہوئے بہرے ہو، اور بولنے چالنے کے باوجود گونگے ہو، او رآنکھیں ہوتے ہوئے اور پھر یہ کہ نہ تم جنگ کے موقع پر جوانمرد ہو اور نہ قابل اعتماد بھائی ہو۔''
    مزید فرمایا :
    '' جنگ میں تم ابن ابی طالب سے اس طرح علیحدہ ہو جیسے عورت بالکل برہنہ ہوجائے۔''
    اس سے بھی آگے بڑھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنے شیعہ سے شکوہ ہے کہ یہ لوگ رازدارن بھی نہیں ہیں، بلکہ پیٹ کے ہلکے ہیں : چنانچہ 133 ویں خطبے میں فرماتے ہیں :
    '' تم تو کوئی مضبوط وسیلہ ہی نہیں ہو کہ تم پر بھروسہ کیا جاسکے اور نہ عزت کے سہارے ہو کہ تم سے وابستہ ہوا جائے۔تم جنگ کی آگ بھڑکانے کے اہل نہیں ہو تم پر افسوس ہے کہ مجھے تم سے کتنی تکلیفیں اٹھانا پڑی ہیں، تم جنگ کے جوان بھی نہیں اور راز دار بھی نہیں۔''
    خطبہ 190 ، میں اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں :
    '' اسلام سے تمہارا واسطہ نام کو رہ گیا ہے اور ایمان سے چند ظاہری لکیروں کے سوا تمہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔''
    یہ تمام خطبے ہمارے سامنے شیعہ کی وہی تصویر لاتے ہیں، جو تصویر ائمہ اہل سنت بتلا گئے، اب اگر ائمہ سنت کے حوالے سے یہ باتیں کی جائیں تو ان کی طبع نازک پر گراں گزرتا ہے، مگر یہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی نے وہ سب کچھ کہہ دیا۔ وللہ الحمد !

    اصول ہائے اسلام کے متعلق نہج البلاغہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آراء

    1۔ حدیث کے متعلق نظریہ

    پہلے خطبے میں آپ فرماتے ہیں :
    '' رسول اللہ نے کتاب کے ناسخ و منسوخ، رخص و عزائم ، خاص وعام، عبرد و امثال، مقید و مطلق، محکم متاشبہ کو واضح طورسے بیان کردیا، مجمل آیتوں کی تفسیر کردی۔''
    مزید اسی خطبہ میں کہتے ہیں :
    '' کچھ احکام ایسے ہیں، جن کا وجوب کتاب سے ثابت ہےا ور حدیث سے ان کے منسوخ ہونے کا پتہ چلتا ہےاور کچھ احکام پر عمل کرنا حدیث کی رو سے واجب ہے لیکن کتاب میں ان کے ترک کی اجازت ہے۔''
    تبصرہ :
    یہاں چند باتیں قابل غور ہیں:
    1۔قرآن کریم میں ہر چیز کا بیان موجود نہیں، بلکہ ناسخ و منسوخ ، مطلق و مقید وغیرہ حدیث سے ملے گا۔
    2۔ بعض قرآن کی آیات منسوخ ہوچکی ہیں، لہذا شیعہ کا اہل سنت پر یہ اعتراض کہ ان کی کتابوں میں ناسخ ومنسوخ کا تصور تحریف قرآن پر دلالت کرتا ہے، غلط ہوجاتا ہے۔
    3۔ اس سے شیعہ کے اس قاعدے کا رد بھی ہوجاتا ہے کہ حدیث کو قرآن پر پیش کیا جائے گا، اگر قرآن کے موافق ہوئی تو قبول وگرنہ رد ۔
    کیوں کہ اس خطبہ میں حدیث کی اتھارٹی اس حد تک بیان کی گئی ہے کہ وہ متشابہہ آیا ت کو محکم بنا سکتی ہے، یعنی ان کے معنی کا تعین کرسکتی ہے، اسی طرح قرآن کی کسی آیت کو منسوخ بھی کرسکتی ہے، قرآن کے مطلق کو مقید بھی کرسکتی ہے،اورقرآن نے جس کو واجب کہا ہو، حدیث اس کوترک کرنے کی اجازت دیتی ہے، قرآن جس کو ترک کی اجازت دے حدیث اس کو واجب کردیتی ہے۔
    لہذا یہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بجائے حدیث کو قرآن پر پیش کرنے کے، حدیث اور قرآن دونوں کو ملا کر پڑھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
    پھر اس پر مزید تائید سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نہج البلاغہ ہی میں مذکور اس نصیحت سے ہوتی ہے، جب آپ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو خوارج سے مناظرہ کرنے کو بھجتے ہیں توان کو نصیحت کرتے ہیں :
    '' تم ان سے قرآن کی رو سے بحث نہ کرنا، کیوں کہ قرآن بہت سے معنی کا حامل ہوتا ہے اور بہت سی وجہیں رکھتا ہے تم اپنی کہتے رہو گے وہ اپنی کہتے رہیں گے بلکہ تم حدیث سے ان کے سامنے استدلال کرنا، وہ اس سے گریز کی کوئی راہ نہ پاسکیں گے۔'' وصیت : 77
    اسی طرح ایک مکتوب میں کہتے ہیں :
    '' اللہ کی طرف رجو ع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی کتاب کی محکم آیتوں پر عمل کیا جائے اور رسول کی طرف رجوع کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے متفق علیہ ارشادات پر عمل کیا جائے جن میں کوئی اختلاف نہیں۔'' مکتوب، عہد نامہ 53
    ایک جگہ آپ فرماتے ہیں :
    '' قرآن کی آیتوں کا بے محل استعمال ہوگا۔'' خطبہ : 174
    گویا ان تما م خطبوں اور وصیتوں وغیرہ سے ایک قضیہ کھل کر سامنے آگیا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کو اپنی مرضی کا معنی پہنایا جاسکتا ہے، ان کو بے محل استعمال کیا جاسکتا ہے، تو ایسی صورت میں کیوں کر ممکن ہوسکے گا کہ قرآن پر حدیث کو پیش کیا جاسکے؟ اس طرح تو جس کے جو دل میں آئے گا، قرآن کا معنی اس طرح بیان کرے گا اور حدیث کو اپنے ذاتی معنی کی بھینٹ چڑھا کر کہہ دے گا کہ یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے، لہذا رد کی جاتی ہے؟ اسی طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے مذکورہ ذیل خطبے میں اشارہ کیا ہے، فرماتے ہیں :
    '' جب ان میں سے کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلہ کے لئے پیش ہوتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کا حکم لگا دیتا ہے، پھر وہی مسئلہ بعینہ دوسرے کے سامنے پیش آتا ہے تو وہ اس پہلے کے حکم کے خلاف حکم دیتا ہے، پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ کے پاس جمع ہوجاتے ہیں، جس نے انہیں قاضی بنا رکھا ہے۔ تو وہ سب کی رایوں کو صحیح قرار دیتا ہے، حالاں کہ ان کا اللہ ایک، نبی ایک اور کتاب ایک ہے۔''خطبہ 18

    2۔ مسئلہ علم غیب اور ائمہ

    نہج البلاغہ کے تصور کے مطابق ائمہ کے پاس ہر قسم کا علم غیب ہے، سوائے قرآن میں مذکورہ چند اشیاء کے علم کے، چنانچہ پہلے خطبہ میں ائمہ کے متعلق فرمایا :
    ''وہ سر خدا کے امین او ر اس کے دین کی پناگاہیں علم الہی کے مخزن اور حکمتوں کےمرجع ہیں۔کتب کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں۔'' ص:38
    ایک جگہ اپنے لشکر کی بابت فرماتے ہیں :
    '' ہمارے لشکر میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو ابھی مردوں کی صلب اور عورتوں کے شکم میں ہیں۔'' خطبہ : 12
    ا یک جگہ فرماتے ہیں :
    ''اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تم اس وقت سے لے کر قیامت کے درمیانی عرصے تک کی جو بات مجھ سے پوچھو گے میں بتاؤں گا۔
    خطبہ 160میں فرمایا :
    '' علم غیب تو قیامت کی گھڑی ہے اور ان چیزوں کے ہے کہ شکموں میں کیاہے، نر ہے یا مادہ، بدصورت ہے یا خوب صورت، سخی ہے یا بخیل ، بدبخت ہے یا خوش نصیب اور کون جہنم کا ایندھن ہوگا اور کون جنت میں نبیوں کا رفیق ہوگا۔رہا دوسری چیزوں کا علم تو وہ اللہ نے نبی کو دیا اور نبی نے مجھ کو دیا، میرے سینے میں محفوظ ہے۔''
    یعنی ان کے سوا دوسری تمام چیزوں کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس علم موجو دتھا۔ اب کیا یہ بات قرآن کے مخالف ہے یا موافق ؟ اس کا تعین علماء خود کر لیں۔
    لیکن دوسری طرف جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جنگ کی طرف نکلے تو فرمایا :
    '' میری طرف سے اس جوان کو روک لو کہیں اس کی موت مجھے خستہ و بے حال نہ کردے، کیوں کہ میں ان دونوں جوانوں کو موت کے منہ میں دینے سے بخل کرتا ہوں کہ کہیں ان کے مرنے سے رسول اللہ ﷺ کی نسل قطع نہ ہوجائے۔''
    خطبہ 205
    سوال یہ ہے کہ
    1۔ اگریہ معلوم تھا کہ حسن رضی اللہ عنہ زندہ رہیں گے ، تو جنگ سے روکنے کا مطلب؟
    2۔ اگر حسن رضی اللہ عنہ کی امامت پر نص موجود تھی، تو ان کی وفات کا خطرہ چہ معنی؟
    3۔ اگر معلوم نہیں تھا تو عقیدہ امامت اور علم غیب کیا ہوا؟ ایک جگہ فرمانا کہ جو پوچھنا ہے پوچھ لو، پھر کہنا کہ مجھے خطرہ ہے کہیں مر نہ جائیں؟

    3۔ مسئلہ عذا ب قبر
    نہج البلاغہ خطبہ 226 کے مطابق عذاب قبر حق ہے۔ اب شیعہ اس کے متعلق کیا خیال رکھتے ہیں، نہیں معلوم! مگر ایک بات یاد دلاتا چلوں کہ بعض لوگ عذاب قبر کو قرآن کے خلاف کہتے ہیں۔

    4۔ احادیث میں اختلاف کیوں ہے؟
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ احادیث میں اختلاف کیوں ہے، تو انہوں نے مذکورہ ذیل بیان دیا کہ احادیث کی چند صورتیں ہیں :
    1۔ بعض منافقین کی بیان کردہ، جن منافقین کو لوگوں نے صحابہ سمجھ لیا ہے۔
    2۔ بعض بیان کرنے والے سچے ہیں، مگر بھول گئے۔
    3۔ منسوخ بات تو سن لی مگر ناسخ نہ سنی۔
    4۔ روایت تو سن لی مگر حقیقی معنی سے واقف نہ ہوئے۔
    اس پر چند سوال اٹھتے ہیں :
    1۔وہ منافقین کو ن کون تھے، جن کو لوگوں نے صحابہ سمجھ لیا تھا؟ ان کے نام کیوں نہیں بتائے گئے؟ جاہد الکفار والمنافقین کا حکم پھر کیسے لاگو ہوسکتا ہے؟ یعنی جب پتہ ہی نہیں کہ منافق ہے کون؟ تو اس سے جہاد کیوں کر ممکن ہے؟ یا اگر پتہ تھا تو ان کے نام کیوں نہیں گنوائے گئے؟
    2۔بیان کرنے والے سچے ہیں، مگر بھول گئے؟ کون کون؟
    3۔ جب شیعہ عقیدے کے مطابق سبھی لوگ مرتد ہوگئے تھے، توچند ایک سچے پھر کون رہ گئے؟
    کیا ایک امام کے لئے ضروری نہیں تھا کہ لوگوں کو واضح طور پر بتلا کر جاتا؟

    5۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہے

    ایک جگہ فرماتے ہیں :
    ''یارسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کے رحلت فرمانے سے نبوت، خدائی احکام اور آسمانی خبروں کا سلسلہ قطع ہوگیا جو کسی اور کے انتقال سے قطع نہیں ہوا تھا۔''
    خطبہ 232
    سوال اٹھتا ہے :
    1۔ دیگر شیعہ کتب کے مطابق ائمہ پر وحی کا نزول ہوتا ہے،مگر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے جانے کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا؟ یہ کیسا تضاد ہے؟


    6۔ مسئلہ امامت

    امامت کے مسئلے میں نہج البلاغہ کا مصنف تذبذب کا شکار ہوگیا ہے، اب یا توسیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سمجھ نہیں آئی کہ میں امام ہوں، یا پھر۔۔۔۔ خیر، ملاحظہ کیجئے :
    پہلے خطبہ میں فرماتے ہیں :
    '' حق ولایت کی خصوصیات آل محمد ہی کے لئے ہیں، انہیں کے لئے پیغمبر کی وصیت اور انہیں کے لئے وراثت ہے۔'' ص42
    آگے چل کر اسی خطبہ میں کہتے ہیں :
    '' خدا کی قسم ! فرزند ابوقحافہ نے پیراہن خلافت پہن لیا۔ حالاں کہ وہ میرے بارے اچھی طرح جانتا تھا کہ میرا خلافت میں وہی مقام ہے جو چکی کے اندر اس کی کیلی کا ہوتا ہے۔''
    مزید فرمایا:
    ''مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا، لہذا میں نے صبر کیا۔''
    ''میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا۔''
    آگے چل کرکہتے ہیں :
    ''تعجب ہے وہ زندگی میں تو خلافت سے سبکدوش ہونا شاہتا تھا لیکن اپنے مرنے کے بعد اس کی بنیاد دوسرے کے لئے استوار کرگیا۔''ص43
    اسی طرح جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکی وفات ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کمنٹس دئیے :
    '' وہ وقت آگیا کہ آپ کی بیٹی آپ کو بتائیں کہ کس طرح آپ کی امت نے ان پر ظلم ڈھانے کے لئے ایکا کر لیا۔آپ ان سے پوری طرح پوچھیں اور تمام احوال دریافت کریں۔''

    اوپر کی روایات میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ تصویر پیش کی گئی ہے کہ وہ خلافت کے لئے تڑپتے ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کا حق ان سے ظلما چھین لیا گیا، پوری امت ان کی زوجہ پر ظلم میں متحد ہوگئی ہے۔یعنی اب ہر صورت ان کی حکومت آجانی چاہئے، یہیان کا اصلی حق ہے۔؟
    بلکہ آپ قریش کے خلاف بددعائیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں :
    '' خدایا میں قریش سے انتقام لینے پر تجھ سے مدد کا خواستگار ہوں کیوں کہ انہوں نے میری قرابت و عزیز داری کے بندھن توڑ دئیے اور میرے ظروف کو اوندھا کردیا۔''خطبہ 215
    اسی خطبہ میں فرماتے ہیں :
    '' میں نے نظر دوڑائی تو مجھے اپنے اہل بیت کے علاوہ نہ کوئی معاون نظر آیا اور نہ کوئی سینہ سپر اور معین دکھائی دیا۔''
    مگر آپ حیران ہوں گے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان سے خلافت کا کہا گیا تو فرمایا:
    مجھے چھوڑ دو میرے علاوہ کسی اور کو ڈھونڈ لو۔خطبہ 90
    مزید فرمایا :
    میرا امیر ہونے سے وزیر ہونا بہتر ہے۔ خطبہ 90
    پھر جب بیعت ہوجاتی ہے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیعت نہیں کرتے تو ان کے لئے نامہ بھیجتے ہیں ، اس میں کیا کہا؟ ملاحظہ ہو:
    '' جن لوگوں نے ابوبکر ، عمر اور عثمان کی بیعت کی تھی، انہوں نے میرے ہاتھ پر اسی اصول سے بیعت کی، جس اصول پر وہ ان کی بیعت کرچکے تھے۔
    شوری کا حق صرف مہاجرین و انصار کو ہے، وہ اگر کسی پر ایکا کرلیں اور اسے خلیفہ سمجھ لیں تو اسی میں اللہ کی رضا و خوشنودی سمجھی جائے گی۔'' مکتوب 6
    مکتوب 7 میں فرماتے ہیں :
    '' کیوں کہ یہ بیعت ایک ہی دفعہ ہوتی ہے نہ پھر اس میں نظر ثانی کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ پھر سے چناؤ ہوسکتا ہے۔ اس سے منحرف ہونے والا نظام اسلامی پر معترض قرارپاتا ہے اور غور و تامل سے کام لینے والا منافق سمجھا جاتا ہے۔''
    ایک عہد نامے میں فرماتے ہیں :
    '' اور دیکھو اس اچھے طور طریقے کو ختم نہ کرنا کہ جس پر اس امت کے بزرگ چلتے رہے ہیں۔'' عہد نامہ53
    ابن عباس سے کہا کہ اگر میرے پیش نظر حق کا قیام اور باطل کا مٹانا نہ ہوتا تو تم لوگوں پر حکومت کرنے سے یہ جوتا مجھے زیادہ عزیز ہے۔خطبہ 81
    اوپر کے تمام حوالہ جات کا مفاد یہی ہے کہ
    1۔رسول اللہ ﷺ کی امت نے آپ ﷺ کی بیٹی پر ظلم کیا، سیدنا علی سے خلافت چھین کر ان کا حق مارا۔
    2۔ مگر خود جب ان سے خلافت کا کہا گیا تو خلافت لینے سے انکار کردیا، اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر خلافت حق تھا تو ٹھکرایا کیوں؟ اور اگر حق نہیں تھا تو ابوبکر نے کیا ظلم کیا؟
    اور کیا اس سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تصور نہیں بیٹھتا کہ نعوذ باللہ ! آپ کی طبیعت میں تناقض تھا؟ ہم تو یہ نہیں مان سکتے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طبیعت ایسی متناقض تھی۔ہم ان کو سچا مومن مانتے تھے۔
    3۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بقول بیعت کا فیصلہ شوری کے پاس ہے، اور وہ جس سے بیعت کر لیں وہی مومنوں کا خلیفہ کہلائے گا، اس بیعت سے منحرف ہونے والا اسلامی نظام پر معترض ہوتا ہے، اور اس میں غور و تامل کرنے والا منافق شمار ہوتا ہے؟
    نہج البلاغہ کے مصنف کی پتہ نہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی دشمنی تھی کہ ایک طرف ان کی طرف منسوب کرتا ہے کہ شوری جس کی بیعت کر لے وہی حقیقی خلیفہ ہوتا ہے اور اس کی بیعت میں شک اسلامی نظام پر اعتراض کہلاتی ہے، اور دوسرے ہی لمحے ان سے منسوب کرتا ہے کہ انہوں نے خود ہی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے متعلق شوری کے فیصلے کو ظلم قرار دیا اور نعوذ باللہ اسلامی نظام پر معترض قرار پائے؟ نعوذ باللہ من ہذہ الخرافات
    پھر اگلے ہی لمحے سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ پہلوں کی سنت پر عمل کرو، یا للعجب! کیا ظالموں کی سنت پر عمل کا مشورہ دیا جارہا ہے؟

    7۔ مسئلہ معصومیت امام

    یہاں ان کی صرف ایک نص پیش کی جاتی ہے، آپ دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
    '' اگر میں گناہ کی طرف پلٹوں تو ، تو تو اپنی مغفرت کے ساتھ پلٹا! خطبہ76

    8۔سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور نہج البلاغہ

    ان کے معاملے میں بھی نہج البلاغہ کا مصنف عجیب مخمصے کا شکار ہوا ہے، ملاحظہ کیجئے ، فرمایا:
    '' معاویہ گم کردہ راہ سرپھروں کا ایک چھوٹا سا جتھا لئے پھرتا ہے۔'' خطبہ51
    ایک جگہ خطبہ دیتے ہوئے کہا :
    ''اس کو قتل کر ڈالنا، لیکن تم ایسا ہر گز نہیں کرو گے۔''خطبہ 57
    بقول شارح کے، یہاں قتل کا حکم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق دیا گیا ہے۔
    یہاں ایک حیرت آپ کا انتظار کر رہی ہے، کیوں کہ دوسری جگہ فرماتے ہیں :
    '' میرے بعد خوار ج کو قتل نہ کرنا۔ ''خطبہ 59
    یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حکم بقول نہج البلاغہ یہ تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیجئے گا اور خوارج سے قتال نہ کیجئے گا، لیکن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی بجائے اپنی حکومت ہی ان کے حوالے کر کے ان سے بیعت تک کر لی، اور خوارج سے بعد میں لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں جہاد کرتے رہے۔ایک معصوم امام دوسرے معصوم امام کے حکم کو کس بے دردی سے کچل دیتا ہے؟ کیا ہم اس بات کو مانیں یا نہج البلاغہ کو جھوٹ تسلیم کریں؟ فیصلہ آپ خود کرلیں۔
    البتہ اس سے پہلے ایک اور خطبہ پڑھ لیجئے:
    '' اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ قوم اہل شام تم پر غالب آکر رہے گی، اس لئے نہیں کہ ان کا حق تم سے فائق ہے۔بلکہ اس لئے کہ وہ اپنے ساتھی کی طرف باطل پر ہونے کے باوجود تیزی سے لپکتے ہیں اور تم میرے حق پر ہونے کے باوجود سستی کرتے ہو۔''خطبہ 95
    جب یہ پتہ ہے، اور علم بھی ہے کہ اہل شام غالب آئیں گے تو معاویہ رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دینے کا کیا مطلب؟
    اچھا سنئے! ایک مکتوب میں فرمایا :
    معاویہ سے دو ہی کام کروانے ہیں :
    '' گھر سے بے گھر کر دینے والی جنگ یا رسوا کرنے والی صلح، اگروہ جنگ کو اختیار کرے تو تمام تعلقات اور گفت و شنید ختم کردو، اور اگر صلح چاہے تو اس سے بیعت لے لو۔'' مکتوب 8
    اب جس کو قتل کرنا ہے، اس سے بیعت کیوں لینی؟ حیرت ہے!
    ابھی رکئے، مزید ایک مکتوب ملاحظہ کیجئے ، فرماتے ہیں :
    '' ابتدائی صورت حال یہ تھی کہ ہم اور شام والے آمنے وامنے آئے، اس حالت میں کہ ہمارا اللہ ایک، نبی ایک اور دعوت اسلام ایک تھی، نہ ہم ایمان باللہ اور اس کے رسول کی تصدیق میں ان سے کچھ زیادتی چاہتے تھے، اور نہ وہ ہم سے اضافہ کے طالب تھے بالکل اتحاد تھا سوا اس اختلاف کے جو ہم میں خون عثمان کے بارے میں ہوگیا تھا۔'' مکتوب58
    اگر اختلاف صرف خون عثمان کا ہے؟ ایسی صورت میں یہ حکم دینا کہ میرے بعد بھی خون عثمان کے طالب کو قتل ہی کرنا ہے؟ دین ایک، نبی ایک، اللہ ایک، اسلام کی دعوت ایک، تو پھر ان کا ایسا کیا جرم تھا، جس کی یہ سزا دی جارہی ہے؟ زیادہ سے زیادہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بغاوت کی تھی، تو قرآن کی تعلیمات کیا ہیں؟ باغی جب لوٹ آئے تو صلح ہوجاتی ہے، پھر اس سے جنگ نہیں ہوتی، بلکہ صلح کر لی جاتی ہے، ایسے شخص کے بارے میں قتل کا حکم چہ معنی؟

    اس میں سوچنے والوں کے لئے بہت نشانیاں ہیں۔

    ابوالوفا محمد حماد اثری
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں