1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزوں کی قضا کے سلسلے میں خواتین کی لا پرواہی

'قضا' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جون 14، 2016۔

  1. ‏جون 14، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    روزوں کی قضا کے سلسلے میں خواتین کی لا پرواہی


    تحریر: عبدالغفار سلفی، بنارس

    اسلام دینِ فطرت ہے‍. شریعت اسلامیہ کے تمام احکام میں انسانی فطرت وطبیعت کی بھرپور رعایت کی گئی ہے. اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں جو انسان کے لیے پریشانی اور تنگی کا باعث ہو.

    وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ

    اللہ نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی.
    (الحج: 78)

    یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ کا کوئی حکم انسان کی قدرت واستطاعت سے باہر نہیں ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت.اسلام نے ہر ایک کی جسمانی ساخت اور ذہنی قوت(capacity) کے اعتبار سے اس کو شرعی احکام کا مکلف اور پابند بنایا ہے.

    عورتوں کے ساتھ فطری طور پر یہ مجبوری ہوتی ہے کہ ان کے لیے مہینے کے چند ایام ایسے ہوتے ہیں جن میں وہ جسمانی اور ذہنی طور پر تکلیف سے دوچار ہوتی ہیں. شریعت نے ماہواری کے اِن ایام کی رعایت کرتے ہوئے اس حالت میں عورت پر نماز جیسی اہم عبادت کو معاف کر دیا ہے. روزہ بھی عورت کو اس حال میں نہیں رکھنا ہے البتہ روزوں کی قضا کرنی ہے.

    ایامِ حیض میں چھوٹے ہوئے ان روزوں کی قضا عورت کو اگلے سال کا رمضان آنے سے پہلے ہر حال میں کر لینی چاہیے. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

    كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ، فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَ إِلاَّ فِي شَعْبَانَ

    رمضان کے جو روزے مجھ سے چھوٹ جاتے تھے شعبان سے پہلے مجھے ان کی قضاء کی توفیق نہ ہوتی۔
    (صحيح بخاري:1950)

    اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ان روزوں کو شعبان تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت کرتے ہوئے موخر کرتی تھیں کیونکہ شعبان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بکثرت روزہ رکھتے تھے.
    بہرحال اس حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اگلا رمضان آنے سے پہلے پہلے ان روزوں کی قضا کر لیتی تھیں. اسی لیے اس حدیث کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    حضرت عائشہ کے ان روزوں کو شعبان ہی میں پورا کرنے کی کوشش سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان روزوں کی قضا میں اتنی تاخیر کرنی جائز نہیں ہے کہ دوسرا رمضان آ جائے.
    (فتح الباری)

    حیض کی وجہ سے چھوٹے ہوئے یہ روزے عورت اگر کسی مجبوری اور بیماری کی وجہ سے اگلے سال کا رمضان آنے تک پورے نہ کر سکے تو کوئی حرج کی بات نہیں، جب اس کی مجبوری ختم ہو جائے وہ فوراً ان چھوٹے ہوئے روزوں کو پورا کر لے. لیکن اگر کوئی عورت بغیر کسی مجبوری کے ان روزوں کی قضا کے سلسلے میں کوتاہی کرے یہاں تک کہ اگلا رمضان آ جائے تو یقیناً ایسی عورت گناہ گار ہے. لیکن کیا اس عورت کو ان روزوں کی قضا کے ساتھ ساتھ روزے کا فدیہ بھی دینا ہے یعنی مسکین کو کھانا بھی کھلانا ہے؟ اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے. ائمہ ثلاثہ (امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ) اس کے قائل ہیں کہ وہ عورت ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کے ساتھ ساتھ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا بھی کھلائے گی. ان حضرات کی دلیل اس سلسلے میں وارد حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وارد آثار ہیں. لیکن امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایسی عورت کو صرف قضا کرنی ہے کیونکہ قرآن میں بیمار اور مسافر کے لیے صرف قضا کا حکم آیا ہے، کھانا کھلانے کی بات نہیں آئی ہے. امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی بات کے قائل ہیں.

    دلیل کے اعتبار سے یہی بعد والا موقف زیادہ راجح معلوم ہوتا ہے. اسی لیے شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    " جہاں تک صحابہ کے اقوال کا معاملہ ہے تو ان کا حجت ہونا محلِ نظر ہے جب کہ وہ قرآن کے ظاہر کے خلاف ہیں.اس مسئلے میں کھانا کھلانے کو واجب قرار دینا قرآن کے ظاہر کے خلاف ہے.اس لیے کہ اللہ تعالی نے صرف دوسرے دنوں میں روزہ پورا کرنے کو واجب قرار دیا ہے، اس سے زیادہ کچھ بھی واجب نہیں کیا ہے. اس لیے ہم اللہ کے بندوں پر ایسی کوئی چیز لازم نہیں کر سکتے جو اللہ نے لازم نہیں کی ہے الا یہ کہ ایسی کوئی دلیل ہو جو ہمیں بری الذمہ کر سکے. اس لیے حضرت ابن عباس اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے جو مروی ہے ممکن ہے وہ استحباب کے طور پر ہو نہ کہ وجوب کے طور پر. تو اس مسئلے میں صحیح بات یہ ہے کہ روزے سے زیادہ کچھ بھی واجب نہیں ہے لیکن تاخیر کی وجہ سے انسان گناہ گار ہوگا. "
    (الشرح الممتع: 6/451)

    تو خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمارے یہاں خواتین اس معاملے میں جس سستی اور کوتاہی کا مظاہرہ کرتی ہیں اور ان کے چھوٹے ہوئے روزے کئی کئی سال کے یکجا ہو جاتے ہیں یہ بہت خطرناک اور گناہ کی بات ہے. ان عورتوں کو چاہیے کہ وہ اللہ سے توبہ واستغفار کریں اور پہلی فرصت میں ان روزوں کی قضا کریں.

    اللہ ہمیں دینی معاملات میں ہوشیار اور چاک وچوبند رہنے کی توفیق عطا فرمائے.
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 14، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں