1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزہ اور عید سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ

'روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عامر عدنان, ‏مئی 02، 2019۔

  1. ‏مئی 02، 2019 #1
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    روزہ اور عید سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟ (1)۔

    چاند دیکھ کر روزہ رکھنا اور چاند دیکھ کر عید کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جو عہد ِ نبوت سے اب تک پیہم چلا آرہا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں چاند دیکھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی کیا کیفیت تھی یہ احادیث مبارکہ صحیحہ میں بالکل واضح ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا حکم دیا، اور اگر کوئی نہ دیکھ سکے تو کسی ایسے مسلم عادل گواہ کی گواہی کا اعتبار کرکے روزہ شروع کرنے کا حکم دیا جس نے چاند دیکھا ہو۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا بیان اور اس کی تفسیر خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔
    جیسے نماز ویسے ہی پڑھو جیسا مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور اس فرمان کی تفسیر نماز کا وہ طریقہ کار ہے جو تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام تک احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔
    ویسے ہی حج کے مسائل کے سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج کے مسائل مجھ سے سیکھو اور پھر ان تمام مسائل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عملی طور پر کرکے دکھایا۔
    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فرمان رویت ہلال کے متعلق ہے اس پر خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے کیسے عمل کیا یہ جاننا ہمارے لئے بہت اہم ہے.
    کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاند کی خبر دور دراز علاقوں میں بھیجنے کا اہتمام کرتے تھے؟
    یا دور سے خبر لانے کیلئے قاصد روانہ کرتے تھے تا کہ تمام لوگ روزہ و عید ایک ساتھ کرکے اتحاد کا حسین منظر پیش کر سکیں؟
    کیوں کہ یہ مسئلہ ایک ایسی عبادت کا ہے جس کا تعلق چاند سے ہے، اگر چاند نکلنے سے ایک دن پہلے روزہ رکھا تو وہ شمار نہیں ہوگا، اور اگر ایک دن بعد روزہ رکھا تو عید کے دن روزہ رکھنا لازم آئے گا جو کہ حرام ہے۔
    مذکورہ بات کا اہتمام اس لئے بھی بہت ضروری تھا کیوں کہ عدم اہتمام کے سبب حرمت میں واقع ہونے کا خطرہ تھا، اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دور دراز علاقوں میں قاصد بھیجتے اور طلوع ہلال کا پتہ لگواتے تاکہ (نعوذ باللہ) نبی کے ساتھ ساتھ تمام صحابہ شریعت مخالفت سے محفوظ رہتے۔
    لیکن آپ نبی اکرم صلی اللہ کی مدنی زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ پر بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ اس قسم کا کوئی بھی اہتمام نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے زمانے میں نہیں کیا.
    قارئینِ کرام: آپ سبھی جانتے ہیں کہ چاند ہمیشہ ایک گاؤں یا ایک شہر میں نہیں نکلتا، بلکہ کبھی کہیں دکھتا تو کبھی کہیں اور،
    نیز یہ بات بھی مسلَّم ہے پوری دنیا میں ایک ہی دن چاند نہیں نکلتا اور نہ ہی نظر اتا ہے،
    اور نبی کے زمانہ میں بہت دور افتادہ علاقے میں نکلنے والے چاند کی خبر نبی کو پہنچنا بھی نا ممکن تھا، پھر ایسی صورت میں صرف دو ہی طریقہ رہ جاتا تھا، ایک یہ کہ اللہ رب العالمین انہیں بذریعہ وحی خبر دیتا کہ مدینہ سے دور فلاں علاقے میں چاند دیکھا گیا ہے، تاکہ امت اس عظیم کو متحدہ طور انجام دے سکے۔
    لیکن رب العالمین کا دوسری جگہوں کے متعلق نبی کو خبر نہ دینا یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ اختلاف مطلع سنت الہی ہے۔

    اور دوسری صورت یہ کہ مدینہ منورہ یا مکہ مکرمہ کی رؤیت کو شرعی طور پر معتبر قرار دیا جاتا تاکہ امت متحد رہ سکے اور انہیں دو مقامات مقدسہ کے مطابق روزہ و عید منائی جائے، لیکن شریعت کا اس امر کا اہتمام نہ کرنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اختلاف مطلع شرعی قانون ہے.

    محترم قارئین: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کیلئے کافی دور سے لوگ تشریف لا یا کرتے تھےجیسے یمن وغیرہ، آپ انہیں اسلام کی تعلیمات دیتے، لیکن چاند کے متعلق کچھ نہ کہتے، اور نہ پوچھتے کہ تمہارے یہاں چاند کب نکلتا ہے، کیوں کہ یہ بدیہی امر تھا کہ جب چاند نظر آئے گا تب سے روزہ شروع ہوگا، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ بھی نہیں کہتے کہ چاند نکلے تو ہمیں خبر کر دینا اور ہم تمہیں خبر بھجوا دیں گے، اور جس کے یہاں پہلے چاند نکلا ہو اسی کے حساب سے روزہ رکھا جائے گا، اور اگر بعد میں خبر ملی تو جس نے روزہ بعد میں شروع کیا ہے اسے بعد میں روزہ کی قضاء کرنی پڑے گی.
    اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل، علی بن ابی طالب اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کو یمن کی طرف داعی اور گورنر کی حیثیت سے روانہ کیا تھا، انہیں بھی چاند کے اتنے اہم مسئلہ کے متعلق کوئی بھی ہدایت نہیں دی کہ اگر تمہارے یہاں چاند نظر آجائے تو مدینہ خبر بجھوا دینا اور میری خبر کا بھی انتظار کرنا ۔

    قارئینِ کرام: اگر وحدتِ رؤیت ممکن ہو سکتی تھی تو وہ صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو سکتی تھی، کیوں کہ وحی الہی کا سلسلہ جاری تھا اور شمس و قمر کا خالق ومالک ووحدہ لاشریک دین اسلام کی تعلیمات نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعہ امت تک پہنچا رہا تھا، اور یہ بات مسلم ہے کہ سب سے پہلے مدینہ میں چاند نہیں نکلتا تھا کہ یہ کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاند کا پتہ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، نیز یہ وہ زمانہ تھا کہ اللہ رب العالمین ہر چھوٹی بڑی بات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو آگاہ کرتا رہا، موئے سر برابر بھی دین میں نقص نہیں رہا، لیکن اس کے باوجود دوسری جگہ کے چاند کی خبر بذریعہ وحی نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک نہیں پہنچی.
    آپ خود غور وفکر کریں کہ جو دین صف بندی کو اتحاد امت سے تعبیر کرتا ہو، کثرتِ سلام کو موجب مودت ومحبت قرار دیتا ہو، جوتے میں لگی گندگی کو بحالت نماز دور کرنے کی تلقین کرتا ہو، پھر وہ اتحاد کے اتنے بڑے سبب یعنی ایک دن روزہ اور ایک دن عید سے پہلو تہی کیسے کر سکتا ہے؟

    وحدتِ رؤیت کے قائلین کے مطابق کتاب وسنت کے تمام دلائل انہیں کی رائے کی تائید کرتے ہیں، لیکن یہاں پر آدمی ایک بات سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحدتِ رؤیت کی تعلیم دی انہوں نے (نعوذ باللہ) امت کو متحد کرنے کیلئے وحدتِ رؤیت کی کوشش نہیں کی؟
    اس کے علاوہ خلفائے راشدین اور ائمہ سلف کے دور کو لے لیجئے، جب اسلامی حکومت کا طوطی بولتا تھا، ایک ہی خلیفہ ہوتے تھے، انہیں کا حکم نافذ ہوتا تھا، اگر مصر و شام میں کوئی مسئلہ ہوتا فورا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک خبر پہنچ جایا کرتا تھا، ایسے سنہرے اور زریں دور میں جب کہ علماء اسلام، فقہاء امت، اتحاد ملت کا درد رکھنے والے صحابہ کرام موجود تھے جنہوں نے ہر مسئلہ کی وضاحت امت کے سامنے چمکتے سورج کی طرح کی، لیکن بڑے تعجب کی بات ہے کے اتنا اہم ترین مسئلہ ان کی نگاہِ دور رس پر مخفی رہا، اور چودہ سو سال بعد کچھ انٹر نیٹ اور کچھ کتابوں کے جیالے طالبعلموں پر یہ پر اسرار معاملہ منکشف ہوا، جس پر نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا، نہ صحابہ نے، نہ تابعین اور نہ ہی تبع تابعین نے۔۔۔الخ۔

    جاری.................

    ابو احمد کلیم الدین یوسف
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
     
  2. ‏مئی 02، 2019 #2
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    *روزہ اور عید سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ؟.(2).*

    اسلام نے اپنے ماننے والوں کیلئے ہر باب میں آسان اور سہل عمل کو پسند کیا ہے، تاکہ امت مشقت میں نہ پڑے، رؤیت ہلال کا مسئلہ بھی نہایت آسان بنایا ہے، چنانچہ ماہ رمضان کے روزے کی ابتدا اور اس مہینہ کی الوداع کو چاند دیکھنے سے جوڑا، تاکہ اس میں ہر فرد بلا کسی تفریق کے شامل ہو سکے، مزید آسانی کی راہ پیدا کرتے ہوئے کسی ایک عادل مسلمان کے چاند دیکھنے کی گواہی کو روزہ کی ابتداء کیلئے معتبر قرار دیا، اور دو عادل مسلمان کی گواہی پر عید منانے کو مشروع کیا۔
    "صوموا لرؤیتہ"(1) چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اس حکم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی شروعات کو رؤیت ہلال پر معلق کیا ہے، چنانچہ اس کا مفہوم مخالف یہ ہوگا کہ چاندنظر نہ آئے توروزہ نہ رکھو، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: "لا تصوموا حتی ترووا الہلال"(2)، جب تک چاند نہ دیکھو روزے کی شروعات نہ کرو.
    اگر آسمان ابر آلود ہو اور بادل کی وجہ سے چاند نظر نہ آئے تو تیس دن کی گنتی مکمل کی جائے گی، جیساکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فان غم علیکم فکملوا العدۃ ثلاثین"(3).
    محترم قارئین ذرا غور وفکر سے کام لیں کہ اگر ہم رویت وحدت کے قائلین کے مطابق چلیں گے تو آسمان پر بادل چھانے کے سبب چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن مکمل کرنے والی حدیث بے معنی اور بے فائدہ ہو کر رہ جائے گی، اس کی وجہ یہ ہے کہ وحدت رؤیت کے قائلین کے مطابق چاند دنیا کے جس کونے میں طلوع ہوگا اس کا اعتبار ہر اس جگہ پر ہوگا جہاں بادل ہے چاہے وہ جگہ اس سے لاکھوں کیلو میٹر دور ہی کیوں نہ ہو، اور پوری دنیا میں ایک ہی دن بادل آجائے اور ابر کی وجہ کر کہیں بھی چاند نظر نہ آئے یہ تو نا ممکن امر ہے، اور ہر سال اسی طریقے سے رویت ہلال پر عمل کیا جاتا رہے تو ایسی صورت میں یقیناً ابر والی حدیث بے فائدہ اور بے معنی ہو کر رہ جائے گی، بلکہ اس کا اہمال لازم آئے گا، اور یہ بات بعید از عقل و شرع ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی کوئی ایک بھی صحیح حدیث لا یعنی اور بے فائدہ ہو، کیوں کہ یہ بات وحیِ الہی کے مزاج کے خلاف ہے.
    پتا یہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ نے وحدت رؤیت کا نہیں بلکہ اختلاف مطلع کا اعتبار کیا ہے، کیوں کہ اگر وحدتِ رؤیت مقصود ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کو دور دراز علاقے میں جاکر چاند کی خبر حاصل کرنے کی تلقین کرتے نہ کہ اپنے شہر میں بیٹھ کر بادل کے چھنٹنے کا اور طلوع ہلال کے انتظار کا حکم دیتے.
    "فان غم علیکم.." والی حدیث اپنے اپنے مطلع کے حساب سے روزہ رکھنے پر دلالت کرتی ہے وہ اس طرح کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امت کیلئے رؤیتِ وحدت چاہتے تو یہاں اس بات کی تلقین ضرور کرتے کہ ابر کی وجہ کر اگر چاند نظر نہ آئے اور تمہیں بعد میں خبر ملے کہ کسی دور دراز علاقے میں اس دن چاند نظر آیا تھا جس دن تمھارے یہاں بدلی تھی تو تم پہلے روزے کی قضا کرلینا کیوں کہ ایک جگہ کا چاند پوری دنیا کیلئے کافی ہوتا ہے، اور وہاں کے چاند کے حساب سے تمہارا پہلا روزہ چھوٹ گیا اس لئے اس کی قضا ضروری ہے، اور قاعدہ شرعیہ ہے"لا یجوز تاخیر البیان عن وقت الحاجۃ"، کہ جس وقت امت کو کسی مسئلے میں وضاحت کی ضرورت ہو اس وضاحت کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا، چناں چہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس مسئلہ کو بر وقت بیان نہ کرنا، اور صحابہ کو بادل کی وجہ کر دوسرے مقامات سے چاند کی خبر معلوم کرنے کے بجائے تیس دن کی گنتی مکمل کرنے کا حکم دینا اس بات کی قوی دلیل ہے کی ہر آدمی اپنے مطلع کے اعتبار سے روزہ کی شروعات کرےگا نہ کہ وحدتِ رؤیت کا اعتبار کرےگا۔

    بعض احباب نے اختلاف مطلع کے قول کو شاذ قرار دیا ہے، حالانکہ جس قول کو وہ شاذ کہہ رہے ہیں در اصل وہی مشہور ومعروف قول ہے، ذیل میں ملاحظہ فرمائیں.

    اختلاف مطلع کے قائلین۔
    عبد اللہ بن عباس رضی عنہما، سالم بن عبد اللہ بن عمر، قاسم بن محمد، عکرمہ،
    عبد اللہ بن مبارک، امام مالک، المغیرۃ،
    ابن دینار، ابن الماجشون، اسحاق بن راہویہ (4)، امام شافعی، امام احمد(5)، امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اہل علم کے نزدیک اختلافِ مطلع پر ہی عمل ہے(6)، امام ابو داؤد کے طریقہ کار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اس کے قائل ہیں چناں چہ اپنی کتاب سنن میں ایک باب باندھتے ہیں "باب اذا رأي الهلال في بلد قبل الآخرين بليلة"، باب اس بات کے بیان میں کہ جب ایک ملک میں دوسرے ملک سے ایک دن قبل چاند نظر آجائے، اور اس باب کے تحت انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث ذکر کی ہے(7)، امام نسائی اپنی کتاب سنن میں باب باندھتے ہیں " اختلاف اہل الآفاق فی الرؤیہ"، مسلمانان عالم کی رؤیت میں اختلاف، اور اس باب کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث کو ذکر کیا ہے(8)، امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں باب باندھا ہے "باب الدلیل علی ان الواجب علی اھل کل بلدۃ صیام رمضان لرؤیتہم لا رؤیۃ غیرھم"، باب اس بات کے بیان میں کہ ہر ملک کیلئے اپنی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھنا واجب نہ کہ دوسرے کی رؤیت کے مطابق(9)، اما الحرمین جوینی، امام بغوی،امام غزالی، امام رافعی (10)، ابن تيميه(11)، ابن عبد البر نے اختلاف مطلع پر اجماع نقل کیا ہے(12)، اسی طرح ابن رشد نے بھی اجماع نقل کیا ہے(13)، امام نووی صحیح مسلم میں باب باندھتے ہیں کہ "باب بيان أن لكل بلد رؤ يتهم وأنهم إذا رأوا الهلال ببلد لا يثبت حكمه لما بعد عنهم"،باب اس بات کے بیان میں کہ ہر ملک والے اپنی اپنی رؤیت کے حساب سے روزہ رکھیں گے، چناں چہ جب ایک ملک میں چاند نظر آئے تو اس کا حکم اس سے دور والے ملک کیلئے ثابت نہیں ہوگا(14).
    مذکورہ بالا محدثین اور فقہاء کرام رحمہم اللہ اجمعین کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ اختلاف مطلع کے قائل ہیں جن کا ذکر بخوفِ طوالت ترک کیا جاتا ہے۔
    کیا اتنے ائمہ کرام کے اختلاف مطلع کے قائل ہونے کے باوجود بھی اس قول کو شاذ کہنا شرعا درست ہے؟ یا اسے حقیقت سے اعراض کہیں گے؟

    کچھ احباب شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ البانی رحمہما اللہ کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے وحدتِ رؤیت کا نعرہ لگاتے ہیں در اصل وہ ان کے آدھے قول سے استدلال کیا کرتے ہیں جو ان کے موقف کی تائید کرتا ہے، اور جو ان کے منشا اور رائے کے خلاف ہے وہ اس سے بالکل ہی دامن بچا کر نکل جاتے ہیں.
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا دو قول ہے ایک وحدت رویت کی موافقت میں اور دوسرا قول اختلاف مطلع کے قائلین کی تائید کرتا ہے، اور بعض محققین نے اسی دوسرے قول کو راجح قرار دیا ہے اور ان کے فقہی اختیارات میں شامل کیا ہے، ذیل میں الفتاوی الکبری سے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی عبارت ملاحظہ ہو: " تختلف المطالع باتفاق أهل المعرفة بهذا، فإن اتفقت لزمه الصوم وإلا فلا، وهو الأصح للشافعية وقول في مذهب أحمد"(15).
    ترجمہ: ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جنہیں اختلافِ مطالع کی گہری معرفت اور اس کا علم ہے ان کا اختلاف مطلع پر اتفاق ہے، پس اگر مطلع ایک ہے تو اسی کے حساب سے روزہ رکھنا لازم ہوگا، بصورتِ دیگر اپنے اپنے مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے روزہ رکھیں، شوافع کے یہاں یہی صحیح قول ہے، نیز حنابلہ کے یہاں بھی یہ قول موجود ہے.

    شیخ البانی رحمہ اللہ کا پورا موقف ذیل میں ملاحظہ کیجئے:
    شیخ البانی رحمہ اللہ تمام المنہ فی التعلیق علی فقہ السنہ میں رقم طراز ہیں: مجھے پتہ نہیں کہ (سید سابق اختلاف مطلع) کی شاذ رائے اختیار کرنے پر مجبور کیوں ہو گئے، جبکہ حدیث کا عموم رؤیت وحدت پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور ائمہ کا مذہب ہے، جیسے ابن تیمیہ، شوکانی، اور صدیق حسن خان وغیرہم رحمہم الله، اور یہی مسلک حق ہے، نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث اس سے متعارض بھی نہیں ہوتی، اور عدم تعارض کے اسباب امام شوکانی نے ذکر کیا ہے، دونو حدیث میں تطبیق اس طور پر دی جا سکتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو اس شخص پر محمول کیا جائے جس نے اپنے ملک کی رؤیت کے اعتبار سے روزہ کی شروعات کی ہو، لیکن دورانِ رمضان اسے خبر ملی ہو کہ دوسرے ممالک کے لوگوں نے اس سے ایک دن قبل چاند دیکھا ہے تو اس حالت میں وہ ماہ رمضان کا روزہ اپنے ملک والے کے ساتھ مکمل کرے گا، اس توجیہ سے اشکال دور ہوجاتا ہے اور حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے عموم پر باقی رہ جاتی ہے، چنانچہ دنیا کے کسی بھی کونے سے چاند کی خبر آتی ہو تو پوری امت مسلمہ کیلئے قابل عمل ہوگا، آج کے زمانہ میں وحدتِ رؤیت پر عمل بہت آسان ہے، بس اسلامی ممالک کے حکام اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیں تو تو معاملہ سہل ہو جائے گا، لیکن یاد رہے کہ عالمی اتحادِ رؤیت پر عمل اسی وقت کیا جائےگا جب تمام اسلامی ممالک کے حکمراں وحدتِ رؤیت پر متفق ہوں بصورتِ دیگر میری یہی رائے ہے کہ ہر ملک والے اپنے ملک کے حساب سے روزہ رکھیں، ایسا نہ ہو کہ بعض لوگ اپنے ملک کے حساب سے روزہ رکھیں اور بعض دوسرے ملک کے حساب سے تو یہ صحیح نہیں کیوں اس سے دائرہ اختلاف وسیع ہوتا ہے"(16).

    آپ شیخ البانی رحمہ اللہ کا تورع اور احتیاط ملاحظہ کیجئے کہ اپنا موقف ذکر کرنے کے باوجود بھی مخالفین کی رائے پر عمل کرنے کی تلقین کر رہے ہیں، اسی کو فقہ فی الدین ، اور دور اندیشی کہتے ہیں، انہوں نے اپنے علم کے ذریعہ سے امت کو تقسیم نہیں کیا بلکہ امت کے اتحاد واتفاق کو اجتہادی مسئلہ پر فوقیت دی، اگر ہند وپاک میں وحدت رویت کے قائلین شیخ البانی رحمہ اللہ کے ہی منہج کو اپنا لیں تو اختلاف پیدا ہی نہیں ہوگا، اور نہ ایک دن پہلے روزہ رکھنے کی نوبت آئے گی اور نا ہی ایک دن پہلے عید منانے کی.

    جاری............

    ابو احمد کلیم الدین یوسف
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

    .............................................................
    (1) صحیح بخاری (1909/27/3).
    (2) صحيح بخاری (1906/27/3).
    (3) صحیح بخاری (1907/27/3).
    (4) (الاستذکار لابن عبد البر 10/29، بدایۃ المجتہد لابن رشد 1/287، المجموع للنووی 6/273).
    (5) (فتح الباری لابن حجر 4/123، الفتاوی الکبری لابن تیمیہ 5/375)، والإختيارات الفقهية لشيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله 1/458).
    (6) جامع ترمذی 3/67.
    (7) (2/299)۔
    (8) (4/131)۔
    (9) (3/205)۔
    (10) (المجموع للنووي 6/273).
    (11) (الفتاوى الكبرى 5/375).
    (12) (الاستذكار 3/383).
    (13) (بداية المجتهد ونهاية المقتصد 2/50).
    (14) (7/197)۔
    (15) (الفتاوى الكبرى 5/375)، (والإختيارات الفقهية لشيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله 1/458).
    (16) تمام المنہ فی التعلیق علی فقہ السنہ(صفحہ 398).
     
  3. ‏مئی 02، 2019 #3
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    845
    موصول شکریہ جات:
    239
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    *روزہ اور عید سب کے ساتھ یا اپنے اپنے مطلع کے ساتھ-(3)۔*

    ((مضمون قدرے مفصل ہے، کیوں کہ موضوع اس بات کا متقاضی تھا کہ تھوڑی طوالت سے کام لیا جائے))

    علم وآگہی سے ذرہ برابر بھی تعلق رکھنے والا مطلع کے اختلاف کا منکر نہیں ہو سکتا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس بات پر اہل معرفت کا اتفاق نقل کیا ہے، جیسا کہ کل کی تحریر میں بات آئی.
    رؤیتِ ہلال کا مسئلہ ایسا نہیں کہ ایک صدی میں ایک بار پیش آتا ہو، اور نہ ہی اس مسئلہ کا تعلق امت کے سرکردہ شخصیات، یا مخصوص افراد سے ہوتا ہے کہ اس سے عام لوگ ناواقف ہوں، بلکہ ہر مہینہ امت اس سے گذرتی ہے، اور رؤیتِ ہلال کے نتیجے میں جو احکام مرتب ہوتے ہیں اس میں امت کے تمام مکلفین افراد بلا استثناء شامل ہیں۔
    رؤیت ہلال ان مسائل میں سے ایک ہے جو شروع زمانے سے ہی علماء کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے، اور امت مسلمہ 1400 سال سے اختلاف کے ایک پہلو کو راجح مان کر اسی پر عمل پیرا ہے، دنیا کے ہر کونے میں امت کے افراد اپنے اپنے مطلع کے حساب سے روزہ و عید مناتے آئے ہیں، حتی کہ جو علماء اتحاد رؤیت کے قائل ہیں وہ بھی روزہ اور عید اپنے ملک والے کے ساتھ کرتے ہیں، اتحاد رؤیت کو بنیاد بنا کر امت کے اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کرتے، اور یہی ایک سمجھدار اور فقیہ عالم کی نشانی ہے، جیسا کہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے مشورہ دیا ہے۔
    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ "من تكلم في غير فنه أتى بالعجائب"، اس لئے جو جس فن کا ماہر ہے وہ اسی میں مہارت دکھائے تو اس کو بھی فائدہ ہوگا اور اس فن کی خدمت بھی ہوگی کیوں کہ ماہرین فن کو اپنے فن کی باریکیوں سے اچھی طرح واقفیت ہوتی ہے، بصورت دیگر توما الحکیم سی کہانی بن کر تاریخ کا سیاہ باب بن جاتا ہے، عربی میں ایک جملہ ہے الحبۃ السوداء جسے ہم کلونجی کے نام سے جانتے ہیں، اسے black seed بھی کہتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں بڑھاپے اور موت کے سوا تمام بیماریو کا علاج ہے۔
    بات کافی پرانی ہے ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے جو جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے میں ماہر تھے، وہ الحبۃ السوداء سے بھی علاج کیا کرتے تھے، ان کے انتقال کے بعد ان کا بیٹا ان کا جانشیں ہوا جو حکیمی سے نابلد تھا لیکن عربی جانتا تھا، اتفاق سے اس کے والد کے پاس جو کتاب تھی اس میں طباعت کی غلطی تھی miss print تھا، چناں چہ اس کتاب میں "الحبۃ السوداء" کی جگہ "الحیۃ السوداء" لکھا ہوا تھا جس کا مطلب ہوتا ہے کالا سانپ، آپ غور کریں دونوں جملے میں بالکل یکسانیت ہے بس "ب" کے نیچے ایک نقطہ کا اضافہ ہو گیا جس نے کلونجی کو کالا سانپ بنا دیا، اور اس حکیم صاحب کے فرزند رشید نے اپنی عربی دانی پر اعتماد کرتے ہوئے کالے سانپ سے علاج شروع کر دیا، باقی نتیجہ کا علم آپ کو تو ہو ہی گیا ہوگا۔
    خلاصہ یہ کہ جس فن میں مہارت نہ ہو اس میں قدم رنجہ فرمانے کی زحمت نہ کریں مبادا آپ اپنی اور دوسرے کی ہلاکت و بربادی کا سبب نہ بن جائیں۔

    اسلام نے ہر جگہ بے راہ روی کی روک تھام کی ہے، شتر بے مہار کو لگام دی ہے، حتی کہ قرآن و سنت کے فہم میں بھی ایک لگام ہے جس کے بنا کتاب و سنت کی تعلیمات کا صحیح مفہوم ہمیں نہیں مل سکتا، وہ ہے"فہمِ سلف" یعنی کتاب وسنت کو سلف نے جس انداز سے سمجھا ہے، اور جس طرح انہوں نے عمل کیا ہے، ہم بھی اسی طرح سمجھنے اور عمل کرنے کے پابند ہیں، تاکہ ضلالت وگمرہی کو دین میں کو ئی راہ نہ ملے ۔
    یہ مضمون رؤیتِ ہلال کے سلسلے کی تیسری اور آخری کڑی ہے جس میں ایک خاص اور حساس مسئلہ موضوع سخن ہوگا ان شاء اللہ، وہ مسئلہ مطالع کی تحدید کا ہے کہ ایک مطلع کی تحدید کہاں سے کہاں تک ہونی چاہئے، اور ایک مطلع میں کتنا کیلو میٹر یا میل آتے ہیں وغیرہ وغیرہ، اتحاد رویت کے قائلین اس مسئلے کو بڑے زور شور سے اٹھاتے ہیں۔

    قبل اس کے کہ میں آپ قارئین کی خدمت میں تحدید مطلع کے متعلق علماء کے اقوال پیش کروں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا اختلاف مطلع کے سلسلے میں ایک بہترین تجزیہ پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ہم یقینی طور پر یہ جانتے ہیں کہ صحابہ وتابعین کے زمانہ میں بعض علاقوں میں چاند نظر آتا تھا اور بعض جگہ نظر نہیں آتا تھا، اور یہ مسئلہ ہمیشہ پیش آیا کرتا تھا، کیوں کہ یہ فطری امر ہے، اور کائنات کا نظام بھی ہے جس میں کبھی بھی تبدیلی نہیں ہو سکتی ، اور جب معاملہ ایسا تھا کہ چاند کہیں پہلے نظر آسکتا تھا اور کہیں بعد میں تو انہیں دوران رمضان طلوع ہلال کی خبر کہیں نہ کہیں سے ضرور موصول ہوتی ہوگی، چناں چہ اگر کسی دوسری جگہ چاند ان کے یہاں سے قبل نظر آتا ہوگا تو انہیں اس دن کی قضا بھی کرنی پڑتی ہوگی جس دن انہوں وہاں کے چاند کے حساب سے روزہ نہیں رکھا، اور جب معاملہ ہر سال روزہ کے قضا کرنے کا تھا تو وہ ماہ رمضان کے چاند کے متعلق بیرونِ شہر بھی ویسی ہی بحث وتفتیش کرتے رہے ہوں گے جیسا کہ اندرونِ شہر کرتے تھے، اور جب جب یہ خبر ملتی کہ انہوں نے بعد میں روزہ رکھنا شروع کیا ہے تو تمام لوگ اس چھوٹے ہوئے پہلے روزے کی قضا کرتے ہوں گے، اگر وہ ایسا کرتے تو اس سلسلے میں ان کے تمام اقوال و افعال ہم تک منقول ہوتے، لیکن اس طرح کی کوئی بات ہم تک نہیں پہنچی، تو یہ تمام امور اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس مسئلہ کی کوئی اصل نہیں، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت اس بات پر قوی دلیل ہے. (مجموع الفتاوی:25/108).

    تحدید مطلع کے سلسلے میں علماء کے اقوال۔

    (۱) جن علاقوں اور شہروں کے مطالع مختلف ہوں گے جیسے حجاز اور شام یا عراق اور خراسان ، ان کا اعتبار بلاد بعیدہ میں ہوگا، اورجن کے مطالع مختلف نہیں ہیں جیسے بغداد اور کوفہ یا رَی اور قزوین ان کو بلاد قریبہ میں شمار کیا جائے گا ،اس کے قائل جمہور عراقی اور صیدلانی وغیرہ شافعیہ ہیں اور امام نووی رحمہ اللہ نے اسی کو“ الروضۃ”اور “ المجموع” میں اصح کہا ہے، اور اسی کے قائل محققین حنفیہ ، مالکیہ ،شافعیہ اورحنابلہ ہیں. (المجموع :٩؍۲۲۷، فتح الباری :٤؍۱۲۳).

    (۲) مسافت قصر، بعید ہے اور اس سے کم قریب ، اس کے قائل ،امام الحرمین ، غزالی ،بغوی ہیں، رافعی نے“ الصغیر ”میں اور نووی نے شرح مسلم میں اس کو صحیح کہاہے ،اور اسی کو شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے المصفیٰ میں اختیار کیا ہے۔

    (۳) اقالیم کے اتحاد واختلاف کا اعتبار کیا جائے گا ،چنانچہ جو شہر اور علاقے ایک اقلیم کے ہیں وہ قریب مانے جائیں گے اور جو دوسرے اقلیم کے ہیں وہ بعید ،اس کے قائل صیمری وغیرہ ہیں۔

    (٤) مقام رؤیت سے جو شہر یا علاقہ اتنے فاصلے پر ہو کہ جب یہاں چاند نظر آئے اور اگر کوئی مانع نہ ہو تو وہاں پر بھی لازماً اسے نظر آنا چاہئے ، ایسی صورت میں وہ قریب ہے ، ورنہ بعید ہے یہ امام سرخسی کا قول ہے۔

    (۵) اگر امام اعظم (سلطان ) کے نزدیک رؤیت ہوجائے تو وہ اپنی پوری مملکت میں اس کو نافذ کرسکتا ہے، اس واسطے کہ پورا ملک اس کے حق میں ایک شہر کی طرح ہے کیو نکہ اس کا حکم سب میں نافذ ہوتاہے ، اور یہ ابن الماجشون کا قول ہے ۔ (فتح الباری : ٤؍١٠٥).

    (٦) مقام رؤیت سے جو جگہ طبعی اور جغرافیائی اعتبار سے مختلف ہو وہ بعید ہے اس کے علاوہ قریب ۔ مثلاًبلند مقام پر چاند نظر آیا تو اس رؤیت کو نشیبی علاقے کے لئے نہیں مانا جائے گا ،اسی طرح اس کے برعکس۔ ( نیل الاوطار).

    (۷) ایک مہینہ کی مسافت بعید ہے اور اس سے کم قریب ہے۔(مجمع الانہر:۱؍۲۲۹،الدررالمنتقیٰ برحاشیہ مجمع : ۱؍۲۳۹، فتاوی مولانا عبد الحئی : ۱؍۳۷۲)
    ایک مہینہ کی مسافت سے مراد وہ فاصلہ ہے جو پیدل کی رفتار کے لحاظ سے بنتا ہے.

    (۸) وہ قریبی جگہ جہاں سے رؤیت کی خبر ان تک پہلے دن سورج ڈوبنے سے پہلے پہونچ جائے وہاں تک کی رویت معتبر ہوگی ، اور اسے قریب مانا جائے گا اور اگر ایسی جگہ سے رؤیت کی خبر آئی جہاں سے پہلے دن کے ختم ہونے سے پہلے خبر نہیں پہونچ سکتی تو وہاں کی رویت کا اعتبار نہیں ہوگا ۔ یہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ الله کا قول ہے ۔(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ :۲۵؍۱٠٦).

    (۹) ہر شہر کی رؤیت صرف اسی شہر کے لئے معتبر ہوگی اوردوسرے شہر وں میں اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ، ابن المنذر نے یہ قول عکرمہ ، قاسم ، سالم اور اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا ہے ۔ (مجموع:٦/۲۲)اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہی’’اہل علم ‘‘کا یہی فیصلہ بتایا ہے اورکوئی دوسرا قول ذکر نہیں کیاہے ، اور ماوردی نے شافعیہ کے یہاں بھی اسے ایک وجہ بتایا ہے ۔ (انظر مرعاۃ : ٦؍٤۲۵).

    (۱۰) دو شہروں کی رویت میں ایک دن سے زیادہ کا فرق ہو تو یہ بعید شمار ہونگے اور ان میں اختلاف مطالع مانا جائے گا، اور اس سے کم فرق ہو تو وہ قریب شمار ہونگے اوران کا مطلع ایک ہی مانا جائے گا ،کیونکہ نصوص میں صراحت ہے کہ مہینہ۲۹ یا ۳۰ دن کا ہوتا ہے (نہ کم نہ زیادہ) تو ایسی جگہ کی شہادت پر عمل نہیں کیا جائے گا جہاں کی شہادت پر عمل کرنے سے۲۹ سے کم یا ۳۰ سے زیادہ دن کا مہینہ بن جاتا ہو ۔یہ قول مولانا شبیر احمد عثمانی ، مولاناانور کشمیری ،مفتی محمد شفیع اور دیگر بہت سے علماء احناف کا ہے، فتح الملہم شرح صحیح مسلم (۳/۱۲ )، (نیز دیکھئے مولانا برھان الدین سنبھلی کا رسالہ رویت ہلال کا مسئلہ.

    مطلع کی تحدید میں اس کے علاوہ بھی اقوال وارد ہوئے ہیں۔
    پہلے، چوتھے اور ساتویں قول میں ایک گونہ مشابہت نظر آتی ہے چناں چہ مطلع کی تحدید میں یہ اقوال ایک حد تک معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

    جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دہلی میں نظر آنے والے چاند کا اعتبار دہلی سے 1000 کیلو میٹر دور تک کیا جا سکتا ہے تو پھر جہاں دہلی کے چاند کا اعتبار ہو رہا ہے اگر وہاں چاند نکلے توکیا اس سے 1000 ہزار کیلو میٹر دور تک اس کا اعتبار کیوں نہیں ہو سکتا، اور یہ سلسلہ دراز کیا جائے تو پوری دنیا کو شامل ہو سکتا ہے، اس لئے ایک جگہ کی رؤیت پورے عالم اسلام کیلئے ہوگی ۔
    تو جوابا عرض ہے کہ جس دن کیرلا میں چاند نظر آتا ہے اس دن دہلی یا کولکاتا جیسے شہر اور اس کے مضافات میں آسمان صاف رہنے کے باوجود چاند نظر نہیں آتا، حالانکہ ان جگہوں میں ابر نہیں ہوتا، اور آسمان بھی بالکل صاف ہوتا ہے اس کے باوجود ایک جگہ چاند کا نظر آناا اور دوسری جگہ اس کا نظر نہیں آنا، یہی اختلاف مطلع کی دلیل ہے اور یہی بات امام سرخسی رحمہ اللہ نے کہی ہے جیسا کے چوتھے قول میں مذکور ہے۔
    اور رہی بات چاند کی خبر قبول کرنے کی کہ کتنی دور تک کی خبر قبول کی جا سکتی ہے تو اسے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے قول کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے،
    ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "وہ قریبی جگہ جہاں سے رؤیت کی خبر ان تک پہلے دن سورج ڈوبنے سے پہلے پہونچ جائے وہاں تک کی رویت معتبر ہوگی ، اور اسے قریب مانا جائے گا اور اگر ایسی جگہ سے رؤیت کی خبر آئی جہاں سے پہلے دن کے ختم ہونے سے پہلے خبر نہیں پہونچ سکتی تو وہاں کی رویت کا اعتبار نہیں ہوگا ۔(مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ :۲۵؍۱٠٦).

    قارئینِ کرام! ان تمام اقوال کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ مطالع کی تحدید اہل علم ونظر کے درمیان ایک اجتہادی مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور جتنے بھی علماء کرام کا ذکر آیا ان سب کو عقل ودانش کا وافر حصہ ملا تھا، سب کے سب علم و عمل کے پیکر تھے، نیز امت کے ما بین اتحاد کرانے، اور انہیں اختلاف و افتراق وانتشار سے دور رکھنے کے سلسلے ميں ہم سے زیادہ فکر مند تھے، اس کے باوجود مطالع کا اعتبار کرنے کی تلقین کرنا اس بات کی قوی دلیل ہے ہر جگہ کے لوگ اپنے اپنے مطلع کے اعتبار سے روزہ رکھیں گے، اس مسئلہ میں کثرت اختلاف کا پایا جانا مسئلہ میں وسعت کی دلیل ہے۔

    مثال کے طور پر سفر کے مسائل کو لے لیں، کتنی مسافت پر قصر کیا جائے اور کتنی مدت تک قصر کیا جائے، مسافتِ قصر اور مدتِ قصر کی تحدید میں علماء کے اقوال ویسے ہی مختلف فیہ ہیں جیسا کہ مطالع کی تحدید میں، تو اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ خط کھینچ کر بتاؤ کہ کہاں سے کہاں تک سفر میں قصر کیا جائے، اسی طرح مدت کی تحدید میں بھی شدید اختلاف ہے۔
    مسئلہ میں اختلاف کا پایا جانا اس کے باطل ہونے کی دلیل نہیں بلکہ مسئلہ میں وسعت وکشادگی کی دلیل ہے۔
    بعض احباب جو رویت وحدت کے قائل وہ سوال وجواب میں کافی تعسف وتعنت سے کام لیتے ہیں، اور مسئلہ رویت ہلال کو کفر واسلام کا مسئلہ سمجھنے لگتے ہیں.
    محترم قارئین : بعض عقدی امور ایسے ہیں کہ اگر ہم ان پر زبر دستی کے سوالات وارد کریں گے جیسا کہ اتحاد رویت کے قائلین کرتے ہیں تو (نعوذ باللہ) احادیث مشکوک ہو جائے گی.
    مثال کے طور پر صحیح بخاری کی روایت ہے اللہ رب العالمین رات کے تہائی حصہ یعنی آخری پہر میں اس آسمان پر اتر کر تشریف لاتا ہے جو زمین سے قریب ہے۔
    اگر ہم اتحاد رؤیت کے قائلین سے مؤدبا گذارش کریں کہ مہربانی کر کے یہ بتائیں کہ اللہ تعالیٰ کون سے ملک کے رات کی آخری پہر کا اعتبار کرتا ہے؟
    یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں بیک وقت رات کا سہ پہر ہونا ناممکن ہے، تو پھر کس ملک کی پہر کا اعتبار کیا جاتا ہے؟ اگر آپ کہیں گے کہ اللہ رب العالمین ہر ملک کی رات کی آخری پہر کے اعتبار سے نازل ہوتا ہے ، تو پھر آپ سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العالمین کا نزول بار بار ہوتا ہے یا صرف ایک بار؟ اور اگر ایک ہی مرتبہ ایک ملک کی آخری پہر کا اعتبار کرتے ہوئے اترتا ہے تو کیا (نعوذ باللہ) دوسرے ممالک کے لوگوں کو رب العالمین اپنی رحمت سے محروم کر دیتا ہے؟
    خط کھینچ کر مسئلہ کو واضح کریں کہ کہاں سے کہاں تک رب کریم نازل ہوتا اور کہاں تک نہیں، اور باری تعالیٰ کے نزول کے متعلق اشکالات کا تشفی بخش جواب عطا کریں۔
    کیا ان تمام سوالات کا جواب اتحاد رویت کے قائلین دے سکتے ہیں؟
    لیکن ہمارا ایمان و یقین ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا کلام بالکل سچ ہے، کل کے سورج کے نکلنے میں تو ہم شک کر سکتے ہیں لیکن اللہ اور اس کے رسول کی بات کی صداقت میں رتی برابر بھی شک نہیں۔
    بس ہم بے اختیار یہی کہتے ہیں کہ"سبحانك لا علم لنا، إلا، ما علمتنا إنك أنت العليم الحكيم"۔
    قارئین کرام: جس طرح دنیا کے تمام ممالک کی رات کے آخری پہر کے اعتبار سے رب العالمین نازل ہو سکتا ہے اور لوگ اس کی رحمت سے مستفید ہو سکتے ہیں تو پھر دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کا اپنے اپنے مطلع کا اعتبار کرتے ہوئے روزہ رکھ کر رب کی رحمت سے مستفید ہونے کو مستبعد کیسے سمجھا جا سکتاہے؟؟
    اس لئے اعتراض میں تعنت اور تعسف سے پرہیز کرنا چاہئے ۔

    اسی طرح دوسری مثال لیجئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج جب غروب ہوجاتا ہے تو عرش الہی کےپاس جاتا ہے اور رب کو سجدہ کرتا ہے اور پھر کل طلوع ہونے کیلئے اجازت طلب کرتا ہے۔
    اتحاد رویت کے قائلین سے پھر سے ادبا عرض ہے کہ کس ملک کا سورج ڈوبنے کے بعد سجدہ کرنے کیلئے جاتا ہے؟؟

    کیوں کہ ہمہ وقت کسی نہ کسی ملک میں سورج طلوع رہتا ہے، تو پھر رب کو سجدہ کرنے جاتا کب ہے؟
    تھوڑا خط کھینچ کر واضح کریں کہ کون سے ملک کا سورج کب اور کس وقت جاتا ہے؟

    یاد رہے کہ جن لوگوں کے عقل و دانش کی تعریف رب نے کی ان لوگوں نے کبھی ایسے سوالات نہیں کئے، حالانکہ کہ وہ ان تمام امور پر بخوبی مطلع تھے اور نتائج سے واقف بھی، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تمام باتوں کی خبر دیتے، حتی کہ آسمان میں اڑنے والے پرندے میں بھی اگر امت کیلئے کوئی بھلائی ہوتی تو امت کو بتا دیتے، پھر تو وحدتِ رؤیت مسلمانان عالم کے لئے تالیف قلب کا، اور دنیا میں وحدت ویگانگت پیش کرنے کا بہترین مظہر تھا، اس تعلق سے نہ صحابہ نے کوئی سوال کیا اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بیان کی کوئی حاجت سمجھی، کیوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر ماہ رمضان کی شروعات اور اس کی انتہا رؤیت ہلال پر معلق کر کے امت کیلئے رؤیت ہلال کے مسئلے کو بالکل واضح کردیا تھا اس لئے مزید توضیح وبیان کی حاجت نہیں رہی۔
    محترم قارئین! اس مسئلہ کو دوسرے زاویے سے بھی سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

    1۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا أقبل الليل من ها هنا وأدبر النهار من ها هنا وغربت الشمس فقد أفطر الصائم"
    صحیح بخاری کی روایت ہے کہ جب رات یہاں سے آجائے اور دن یہاں سے چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو ایک روزہ دار کے روزہ کا وقت ہوگیا۔

    اتحاد رویت کے قائلین ہمیشہ اس بات کو دہراتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا صوموا لرویتہ، چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور یہ حکم تمام مسلمانوں کیلئے عام ہے، اس میں کسی ملک یا شہر کی قید نہیں، تو میں ایک سوال ان کے گوش گذار کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ روزہ دار کے افطار کے سلسلے میں پیش کی گئی مذکورہ حدیث کیا تمام مسلمانوں کیلئے عام نہیں، اس میں بھی کسی جگہ اور ملک کی قید نہیں ہے تو اتحاد رویت کے قائلین کون سے ملک کے اعتبار سے سحری کریں گے اور کس ملک کے اعتبار سے افطار کریں گے ؟؟؟
    2- ابو کریب نے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اس کے تمام پہلو پر غور کریں تو اختلاف مطلع پر عمل کرنے کی حقیقت مزید آشکارہ ہو جائے گی۔
    ا- شام میں معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت تھی اور وہاں مدینہ سے ایک دن قبل چاند نظر آگیا، اگر معاویہ رضی اللہ عنہ اتحاد رویت کے قائل ہوتے تو ضرور ہلال کی خبر اہل مدینہ اور دیگر ان تمام علاقوں میں بھجواتے جہاں چاند نظر نہیں آیا تھا، نیز خبر دیر سے پہنچنے کی صورت میں انہیں پہلے روزہ کے قضا کا حکم بھی دیتے، پتہ چلا کہ وہ اختلاف مطلع کے قائل تھے، اسی طرح جب یہ خبر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے اختلاف مطلع پر عمل کرنے کی صراحت کی، بلکہ ابو کریب جو یہ سمجھ رہے تھے کہ ایک جگہ کی رویت تمام جگہوں کیلئے کافی ہوتی ہیں ان پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رد بھی کیا، اور اپنے اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے موقف کی تائید میں حدیث رسول پیش کیا، اور اسی حدیث سے ابو کریب کے فہم کا رد بھی کیا۔
    3۔ رویت ہلال پر اسلام کے بہت سارے احکام موقف ہیں۔
    مثال کے طور پر جن عورتوں کے شوہر وفات پا جاتے ہیں وہ چار مہینے دس دن عدت گذار یں گی، اب سوال یہ ہے کہ وہ اپنی عدت گذارنے کے لئے کہاں کی رویت کا اعتبار کریں گی؟
    کیوں کہ اگر وہ اپنے یہاں کی رویت کا اعتبار کریں گی تو ممکن ہے کہ ان کے یہاں مہینہ 29 کا ہو اور جہاں سب سے پہلے چاند نکلا وہاں مہینہ 30 دن کا ہو، اسی طرح چار مہینہ میں دو سے تین دن کا فرق آئے گا، اور اگر اس خاتون نے دوسرے ملک کی رویت کے حساب سے تین دن یا دو دن عدت کم گذاری اور عدت کے فورا بعد شادی کرلی تو اس کیلئے یہ حرام ہوگا، کیوں کہ عدت کے درمیان شادی نہیں کر سکتے۔
    اسی طرح قتل، رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری اور ظہار کا کفارہ دو مہینہ روزہ رکھنا ہے ، اب سوال یہ ہے کہ ان کفارات کی ادائیگی میں کہاں کی رویت کا اعتبار کیا جائے گا؟ ؟
    4- یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ جو وسائل اس زمانے میسر ہیں قدیم زمانے میں نہیں تھے، اس لئے آج اتحاد ممکن ہے جبکہ اس زمانہ میں وسائل کی عدم موجودگی میں یہ اتحاد ممکن نہیں تھا، کیوں کہ معاصرین علماء کی اکثریت آج بھی رویت وحدت کے قائل نہیں۔
    چنانچہ 7 سے 17 ربیع الاول سن 1401ہ میں اتحاد رویت کے سلسلے میں مکہ مکرمہ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں تمام علماء کی رائے اور مسئلہ کے تمام پہلو پر غور وفکر کرنے کے بعد کانفرس میں شریک علماء اس نتیجہ پر پہنچے کہ اتحاد رویت کی دعوت دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔
    5- اپنے اپنے مطالع کا اعتبار کرکے روزہ رکھنا امت کا عملی تواتر رہا ہے، اور اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں کبھی ایسا موقع نہیں آیا کہ پورے عالم میں مسلمان ایک ہی رؤیت سے ماہ رمضان کا آغاز کریں اور ایک ہی رؤیت سے عید بھی منائیں، حالانکہ صدیوں تک امت ایک حاکم کے ما تحت رہی، پھر بھی وحدت رؤیت پر اتفاق نہیں ہوا، یہ الگ بات ہے کے وحدت رؤیت کے قائلین ہر زمانے میں پائے گئے، لیکن انہوں نے رؤیت وحدت کے نام پر جماعت سے مستقل ہو کر رمضان اور عید نہیں منائی، بلکہ ہمیشہ ان کے پیش نظر امت کا اتحاد رہا، نتیجتا وہ امت محمدیہ کے انتشار واختلاف کا سبب بننے سے محفوظ رہے، میری ناقص رائے کے مطابق اسلامی تاریخ میں پہلی بار وحدتِ رؤیت کو ایسے حمایتی ملے ہوں گے جنہوں نے اس کے نام پر امت کو دو دھاروں میں تقسیم کر دیا، مخالفین پر اتهاماتِ باطلہ اور ظنونِ کاذبہ کے مسموم نشتر چلائے، دلوں کے درمیاں دوریوں کو جنم دیا، اجتہادی مسئلہ کو فتنہ کا روپ دیا، اور جدال و خصومات کا اکھاڑا بنا دیا۔
    اللہ رب العالمین سے دعاء ہے کہ ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے، اور سلف صالحین کے راستے پر قائم ودائم رکھے۔

    ابو احمد کلیم الدین یوسف
    جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں