1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزہ کی حالت میں بھاپ لینا

'مفسدات' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏اگست 31، 2017۔

  1. ‏اگست 31، 2017 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    ذاتی پیغام (ان باکس ) میں ایک محترم بھائی نے درج ذیل سوال کیا ہے ،
    میں اسے اوپن فورم میں اسلئے پیش کر رہا ہوں تاکہ جواب سے سب قارئین مستفید ہوسکیں ۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    السلام عليكم

    ایک سوال کرنا تھا وہ یہ کے روزے کے دوران اگر پانی کا بھاپ لیا جائے (زکام کے علاج کی خاطر) تو کوئی حرج ہے؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    آپ اس سوال کا جواب سمجھنے کیلئے پہلے روزے کی شرعی کیفیت سمجھ لیں :
    " شریعت میں کھانے، پینے اور جماع سے صبح صادق طلوع ہونے کے وقت سے لیکر غروبِ آفتاب تک عبادت کی نیت سے رکے رہنے کا نام "صوم" روزہ ہے۔ "
    لہذا جوبھی عمل ان تینوں کے رکنے کے منافی ہوگا وہ روزہ کی حالت میں جائز نہیں،
    نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ :
    «أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا»
    " (وضوء میں ) ناک میں پانی چڑھانے میں خوب مبالغہ کرو الا یہ کہ تم روزے کی حالت میں ہو۔’’ (سنن نسائی،الطہارۃ:۸۷)


    یعنی وضوء میں ناک میں خوب آگے تک پانی پہنچانا ضروری ہے ،لیکن روزہ کی حالت میں ایسا کرنا منع ہے کیونکہ اس دوران کسی چیز کا منہ اور ناک سے آگے جانا روزہ کے منافی ہے ،
    کچھ اہل علم نے دوران روزہ انہیلر استعمال کرنے کو جائز کہا ہے ،
    لیکن آپ جانتے ہیں کہ ان ہیلر میں عام پانی بھاپ سے مختلف چیز ہے ،
    عام پانی بھاپ سے رگیں تر ہوتی ہیں ، پیاس کا احساس کم ہوتا ہے اور یہ کیفیت روزے کے بالکل منافی ہے ؛
    حدیث شریف میں افطاری کی ایک دعاء سے بھی ہماری اس بات تصدیق ہوتی ہے :
    كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَفْطَرَ قَالَ: «ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الْأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» سنن ابوداود 2357 )
    یعنی رسول مکرم ﷺ جب روزہ افطار کرتے تو یہ پڑھتے :
    "پیاس ختم ہو گئی ، رگیں تر ہو گئیں ، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا “


    یعنی رگیں تر ہونا روزے کا خاتمہ ہے ،لہذا دوران روزہ کوئی ایسا عمل جس رگیں تر ہوں وہ جائز نہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏مئی 08، 2019
    • علمی علمی x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 08، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    روزہ دار کے لیے ناک، آنکھ اور کان میں دوائی کا قطرہ ڈالنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

    ما حكم قطرة الأنف والعين والأذن للصائم؟
    الجواب: قطرة الأنف إذا وصلت إلى المعدة فإنها تفطر لما جاء في حديث لقيط بن صبرة حيث قال له النبي صلى الله عليه وسلم: ((بالغ في الاستنشاق إلا أن تكون صائماً)) (1) فلا يجوز للصائم أن يقطر في أنفه ما يصل إلى معدته، وأما ما لا يصل إلى ذلك من قطرة الأنف فإنها لا تفطر.
    وأما قطرة العين، ومثلها أيضاً الاكتحال، وكذلك القطرة في الأذن فإنها لا تفطر الصائم؛ لأنها ليست منصوصاً عليها، ولا هي
    بمعنى المنصوص عليه، والعين ليست منفذاً للأكل والشرب وكذلك الأذن فهي كغيرها من مسام الجلد، وقد ذكر أهل العلم أن الإنسان لو لطخ باطن قدمه بشيء فوجد طعمه في حلقه فإنه لا يفطر بذلك؛ لأن ذلك ليس منفذاً، وعليه لا يكون من أكتحل، أو قطر في عينه، أو قطر في أذنه مفطراً بذلك ولو وجد طعمه في حلقه، ومثل هذا أيضاً لو ادّهن الصائم بدهن للعلاج، أو لغير العلاج فإنه لا يضره، وكذلك لو كان عنده ضيق نفس فاستعمل هذا الغاز الذي يبخ في الفم لأجل تسهيل التنفس، فإنه لا يفطر بذلك؛ لأن ذلك لا يصل إلى المعدة، فلا يكون أكلاً ولا شرباً.
    * * *



    روزہ دار کا ناک’کان اور آنکھ میں دوائی ڈالنا

    سوال
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    روزہ دار کے لیے ناک، آنکھ اور کان میں دوائی کا قطرہ ڈالنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟


    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!


    ناک میں ڈالے جانے والا قطرہ اگر معدہ تک پہنچ جائے، تو اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ حدیث حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا:

    «بَالِغْ فِی الْاِسْتِنْشَاقِ اِلاَّ اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا»
    سنن ابی داود، الطهارة، باب فی الاستنثار، ح: ۱۴۲ وسنن النسائی الطهارة، باب المبالغة فی الاسستنشاق، ح: ۸۷۔

    ’’ناک میں پانی چڑھانے میں خوب مبالغے سے کام لو اِلاَّ یہ کہ تم روزہ دار ہو۔‘‘

    لہٰذا روزہ دار کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ ناک میں ایسا قطرہ ڈالے جو اس کے معدے تک پہنچ جائے اور ناک میں ڈالے جانے والا دوائی کا جو قطرہ معدے تک نہ پہنچے، اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ آنکھ میں ڈالنے والے قطرے، سرمہ لگانے اور کان میں ڈالے جانے والے قطرے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ کیونکہ اس کے بارے میں کوئی نص نہیں ہے اور نہ یہ منصوص علیہ کے معنی میں ہے۔ آنکھ کھانے پینے کا راستہ نہیں ہے، اسی طرح کان بھی جسم کے دیگر مساموں کی طرح ہے۔ اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پاؤں کی اندرونی جانب کوئی چیز لگائے اور وہ اپنے گلے میں اس کا ذائقہ محسوس کرے، تو اس سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ یہ بھی کھانے پینے کا راستہ نہیں ہے، لہٰذا جو شخص آنکھ میں سرمہ ڈال لے یا آنکھ میں دوائی کا قطرہ ڈال لے یا کان میں قطرہ ڈال لے تو اس سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا خواہ وہ اس کا ذائقہ حلق میں محسوس کرے۔ اسی طرح اگر کوئی انسان علاج کے لیے یا بغیر علاج کے تیل استعمال کرے، تو اس کے روزے کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ اسی طرح اگر کوئی دمہ کا بیمار ہو اور وہ سانس میں آسانی کے لیے ان ہیلر استعمال کر لے، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس سے دوائی کے اجزا معدے تک نہیں پہنچتے، لہٰذا وہ کھانے یا پینے والا شمار نہیں ہوگا۔

    وباللہ التوفیق
    فتاویٰ ارکان اسلام
    روزے کے مسائل
    محدث فتویٰ​
     
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 09، 2019 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میرے خیال میں بھاپ لینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے پانی وغیرہ انسان کے اندر نہیں جاتا۔
     
  4. ‏مئی 10، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس کی تصدیق میں نے بعض اہل علم سے بھی كى، انہوں نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا ہے۔
     
    Last edited: ‏مئی 11، 2019
  5. ‏مئی 29، 2019 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,363
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کیا ان علماء کے اسماء جان سکتے ہیں؟؟؟
     
  6. ‏مئی 30، 2019 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مولانا عبد المنان راسخ صاحب فیصل آباد پاکستان کے ہیں، ہمارے ہاں معروف عالم دین ہیں۔
     
  7. ‏مئی 31، 2019 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,363
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بارک اللہ فیک
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں