1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزہ کے فوائد

'فضائل روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏مارچ 19، 2011۔

Tags:
  1. ‏مارچ 19، 2011 #1
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,384
    موصول شکریہ جات:
    16,871
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    روزہ کے فوائد

    ارشادباری تعالٰی ہے : ’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ‘‘ “اے ایمان والو !تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے ، تاکہ تم تقوی اختیار کرو ” "روزے میں اللہ تعالٰی نے بہت سے شرعی و دنیوی فائدے رکھے ہیں ، ذیل میں روزہ کے چند فوائد کا ذکر کیا جاتا ہے ، شاید کچھ لوگوں کے لئے ہمت افزائی کا سبب بنے " {البقرة:183}

    [1] روزے کا اجر و ثواب اللہ تعالٰی نے غیر محدود رکھا ہے :

    رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ قال اللہ تعالی : کل عمل ابن آدم لہ الا الصوم فانہ لی وانا اجزی بہ والصیام جنۃ واذاکان یوم صوم احدکم فلا یرفث ولا یضحب فانہ سابہ أحد او قاتلہ فلیقل الی امرؤ صائم ‘‘ " اللہ تعالی نے فرمایا : ابن آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا اور روزہ ایک ڈھال ہے پس جب تم میں سے کسی کا روزے کا دن ہو تو وہ فحش بات نہ کرے ، نہ شور وغل مچائے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا لڑائی کرے تو کہہ دے میں روزے دار ہوں " ۔ { صحیح بخاری :1904، الصوم – صحیح مسلم :1151 ، الصیام }

    یعنی چونکہ روزے میرے اور میرے بندے کے درمیان ایک سر ہے لہذا اس کا اجر بھی میں اپنے حساب سے دوں گا جس کا کوئی شمار نہ ہوگا ، اور یہ بھی معنی بیان کیا گیا ہے کہ دوسرے اعمال کا اجر تو قیامت کے دن کوئی دوسرا لے سکتا ہے البتہ روزے کا اجر کسی بھی صاحب حق کو نہ ملے گا ۔

    [2] روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : " الصیام جنۃ وحصن حصین من النار " " روزہ جہنم سے ڈھال اور مضبوط قلعہ ہے " { مسند احمد :2/402 }

    ایک اور حدیث میں ہے : " الصیام جنۃ یستجن بھا العبد من النار " " روزہ بندے کے لئے جہنم سے ڈھال ہے " { مسند احمد :3/341 ، بروایت جابر بن عبد اللہ }نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےارشاد فرمایا : جو بندہ بھی اللہ تعالٰی کے لئے [ یا اللہ تعالٰی کے راستے میں ] ایک دن کا روزہ رکھ لے گا تو اللہ تعالٰی اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے بقدر دور کردے گا ۔ { صحیح بخاری :284 ، الجہاد – صحیح مسلم :1153 ، الصیام ، بروایت ابو سعید الخدری }

    [3] روزہ جنت کا راستہ ہے :

    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : " یا رسول اللہ دلنی علی عمل ادخل بہ الجنۃ قال :علیک بالصوم فانہ لا مثل لہ " " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اسے انجام دے لوں تو اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روزہ رکھو اس لئے کہ روزے کا مقابلہ کوئی عمل نہیں کرسکتا " { صحیح ابن حبان :3406 ، 5/296 } ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ فرمان نبوی سن لینے کے بعد حضرت ابو امامہ کے گھر میں دن میں دھواں دکھائی نہیں دیتا تھا الا یہ کہ آپ کے یہاں کوئی مہمان آجائے ، چنانچہ جب لوگ دن میں آپ کے گھر سے دھواں اٹھتا دیکھتے تو جان لیتے کہ آپ کے یہاں آج کوئی مہمان ضرور آیا ہے ۔

    [4] روزے داروں کے لئے جنت کا ایک خاص دروازہ :

    حشر کے میدان میں روزہ داروں کو ایک امتیازی شان یہ حاصل ہوگی کہ ان کے لئے جنت کا ایک دروازہ خاص کردیا جائے گا جس سے کسی اور عبادت کا اہتمام کرنے والے کو داخلہ نصیب نہ ہوگا ، اس دروازے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہوگی کہ اس سے جو شخص داخل ہوجائے گا وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا ۔ ارشاد نبوی ہے : " ان فی الجنۃ بابا یقال لہ الریان یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ لا یدخل منہ احد غیرھم فاذا دخلوا أغلق فلم یدخل منہ أحد " " جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے ، قیامت کے دن اس سے روزہ دار داخل ہوں گے اس کے سوا اس سے کوئی داخل نہ ہوگا جب روزہ دار داخل ہوجائیں گے تو اس دروازے کو بند کردیا جائے گا پس کوئی اس سے داخل نہ ہوگا " ۔{ صحیح بخاری :1896 ، الصوم – صحیح مسلم :1152 ، الصیام ، بروایت سہل بن سعد }سنن الترمذی میں ہے کہ جو اس دروازے سے داخل ہوگا وہ کبھی بھی پیاسا نہ ہوگا ۔ { سنن الترمذی :765 ، الصوم }

    [5] روزہ جنسی شہوت کا بہترین علاج ہے : اس دنیا میں ہر شخص شادی کی استطاعت نہیں رکھتا اور بہت سے لوگ جو شادی کی استطاعت رکھتے ہیں اپنے رفیقِ حیات کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے ، ایسے لوگوں کی ظروف وحالات کے لحاظ سے جنسی شہوت پریشان کرتی ہے اور بہت سے لوگوں کے لئے وہ متعدد امراض کا سبب بنتی ہے ، ایسے لوگوں کے لئے روزہ بہترین علاج ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " یا معشر الشباب من استطاع منکم الباءۃ فلیتزوج فانہ أغض للبصر و أحصن للفرج ومن لم یستطیع فعلیہ بالصوم فانہ لہ وجاء " " اے نوجوانوں کی جماعت، جو کوئی تم میں شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرلے کیونکہ یہ نگاہوں کو پست رکھتی اور شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہے، اور جو اسکی استطاعت نہ رکھتا ہے تو اسے چاہیے کے وہ روزہ رہے کیونکہ یہ ڈھال ہے" { صحیح بخاری و صحیح مسلم ، بروایت عبد اللہ بن مسعود }

    [6] روزہ قیامت کے دن بندے کی شفاعت کرے گا :

    ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : "الصيام والقرآن يشفعان للعبد يوم القيامة يقول الصيام أي رب منعته الطعام والشهوات بالنهار فشفعني فيه ويقول القرآن منعته النوم بالليل فشفعني فيه قال فيشفعان " " روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں گے ، روزہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے اسے دن میں کھانے پینے اور شہوت کے کام سے روکے رکھا تھا ، لہذا اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما ، قرآن کہے گا اے رب ! ہم نے اسے رات میں سونے سے روکے رکھا تھا ، لہذا اس کے بارے میں میری شفارش قبول فرما ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالٰی ان دونوں کی سفارش قبول فرمالے گا " ۔ { مسند احمد :2/176 – مستدرک الحاکم :1/554 ، بروایت عبد اللہ بن عمرو }

    [7] روزہ گناہوں کا کفارہ ہے :

    ارشاد نبوی ہے : " من صام رمضان ایمان واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ " " جس شخص نے رمضان کا روزہ ایمان و احتساب کے ساتھ رکھا اس کے سب گزشتہ گناہ معاف کردئے گئے " ۔ صحیح بخاری :38، الایمان – صحیح مسلم :760، الصیام ، بروایت ابو ہریرہ }۔ گناہوں اور اطاعت الہٰی میں کوتاہی کا کفارہ جس قدر روزے کو قرار دیا گیا ہے کسی اور عبادت کو نہیں قرار دیا گیا چنانچہ ظہار کا کفارہ روزہ ہے ، قسم توڑنے کا کفارہ روزہ ہے ، حالت احرام میں شکار کرنے کا کفارہ روزہ ہے ، حالت احرام میں ممنوعات چیزوں کے ارتکاب کا کفارہ روزہ ہے وغیرہ وغیرہ ۔

    [8] روزہ دار کے منہ کی بو کستوری سے زیادہ پسندیدہ :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ : " والذی نفس محمد بیدہ لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک " ۔ الحدیث

    " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے " ۔ { صحیح بخاری : 1805 ، الصوم – صحیح مسلم : 1151 ، الصیام ، بروایت ابوہریرہ }

    [ 9 ] روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : " ثلاثۃ لا ترد دعوتھم ، الامام العادل ، والصائم حتی یفطر ودعوۃ المظلوم " الحدیث " تین لوگوں کی دعا رد نہیں ہوتی، عادل حکمراں، روزےدار اور مظلوم کی بددعا"{ مسند احمد :2/305 – صحیح ابن حبان :10/386 ، بروایت ابو ہریرہ }

    [ 10 ] روزہ صحت انسانی کا ضامن ہے :

    اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سلسلے میں جتنی حدیثیں مروی ہیں سب ضعیف ہیں البتہ طبی نقطہ نظر سے روزہ انسانی صحت کے لئے ایک اہم چیز ہے بلکہ اس وقت دنیا میں بہت سے ایسے مراکز کا قیام عمل میں آیا ہے جس میں بعض خاص قسم کے مریضوں کو بھوکے رکھ کر ان کا علاج کیا جاتا ہے جس کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں ہے ۔

    بڑے اختصار کے ساتھ روزے کے چند اہم فوائد وفضائل کا یہ ذکر ہے ، تفصیل کے خواہاں حضرات اسے بنیاد بنا کر مزید فوائد و فضائل کا استنباط کرسکتے ہیں ۔

    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ایمان وا حتساب کے ساتھ روزہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 20، 2011 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏جولائی 14، 2011 #3
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : " یا رسول اللہ دلنی علی عمل ادخل بہ الجنۃ قال :علیک بالصوم فانہ لا مثل لہ " " اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ اسے انجام دے لوں تو اس کی وجہ سے جنت میں داخل ہوجاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم روزہ رکھو اس لئے کہ روزے کا مقابلہ کوئی عمل نہیں کرسکتا " { صحیح ابن حبان :3406 ، 5/296 } ۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ یہ فرمان نبوی سن لینے کے بعد حضرت ابو امامہ کے گھر میں دن میں دھواں دکھائی نہیں دیتا تھا الا یہ کہ آپ کے یہاں کوئی مہمان آجائے ، چنانچہ جب لوگ دن میں آپ کے گھر سے دھواں اٹھتا دیکھتے تو جان لیتے کہ آپ کے یہاں آج کوئی مہمان ضرور آیا ہے ۔

    buhut he ahem baate yaha pe ziker hue Roza k bare mei JazakAllah Khair...aur es hadith k bare aapse pochna tha k eska kia yahi matlab hai k yeh hamisha roza rakte the ya phir kuch aur??
     
  4. ‏جولائی 15، 2011 #4
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    hamara jawab abhi tak kisine nahi diya
     
  5. ‏جولائی 16، 2011 #5
    عائشہ پروین

    عائشہ پروین مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 03، 2011
    پیغامات:
    101
    موصول شکریہ جات:
    660
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم
    حافظ نوید بھائی آپ اپنا یہ سوال سوال و جواب سیکشن میں کریں امید ہے آپکو وہاں پہ جواب مل جائے گا
     
  6. ‏جولائی 16، 2011 #6
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    bahen hamara sawal is thread ki ek hadees se mutalliq hai isliye hamne yahin pucha
    baki ap kehte ho to wahan bhi puch lete hain
    jazakillah khair
     
  7. ‏جولائی 16، 2011 #7
    عائشہ پروین

    عائشہ پروین مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 03، 2011
    پیغامات:
    101
    موصول شکریہ جات:
    660
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جزاک اللہ بھائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں