1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزے کا کفارہ دینا ہوگا یا نہیں؟

'کفارہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو عبدالله, ‏جون 14، 2017۔

  1. ‏جون 16، 2017 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    رضا بھائی الاسلام سؤال جواب کا لنک یا حوالہ دے دیا کریں تو زیادہ بہتر ہے ، تاکہ دوبارہ پھر انہیں معلومات کا تکرار نہ ہو۔
     
  2. ‏جون 16، 2017 #12
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یہ میں نے اس ویب سائٹ سے نقل نہیں کیا ہے بلکہ الصیام فی الاسلام نامی کتاب سے ترجمہ کیا ہے، اور اس کا حوالہ لگا دیا ہے، الحمد للہ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 16، 2017 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بہترین۔
     
  4. ‏جون 16، 2017 #14
    ابو عبدالله

    ابو عبدالله مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 28، 2011
    پیغامات:
    720
    موصول شکریہ جات:
    447
    تمغے کے پوائنٹ:
    135

    اس میں کسی بچہ کے روزہ کی حالت مین بالغ ہوجانے کے مسئلہ پر بحث کی گئی ہے جبکہ میرا سوال کسی نابالغ بچے کے روزہ توڑ لینے کے متعلق تھا جس کا جواب آپ کی یا شیخ اسحاق سلفی کی ہوسٹس سے مل گیا ہے. جزاکم اللہ خیرا

    لگے ہاتھوں اس مسئلہ پر بھی روشنی ڈال دیں کہ اگر کسی عورت کو فرض یا نفل روزہ کی حالت میں حیض شروع ہوجائے تو اس دن کے روزہ کا کیا حکم ہوگا؟ یعنی وہ شمار ہوگا یا نہیں؟

    اگر الگ الگ حکم ہو تو الگ الگ بیان کردیجیے گا.
     
  5. ‏جون 16، 2017 #15
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ فتوی دیکھئے :
    ــــــــــــــــــــــ
    إذا حاضت قبل الغروب ولو بلحظة بطل صومها ووجب عليها القضاء
    هل لو جاءت الدورة الشهرية أثناء الصيام هل أتم اليوم صائمة أم لا ؟.
    تم النشر بتاريخ: 2003-11-03
    الحمد لله

    إذا حاضت المرأة أثناء الصيام فسد صومها ، ولو كان نزول الدم قبل المغرب بلحظة ، ووجب عليها قضاؤه إن كان صومها واجباً ، ويحرم عليها الاستمرار في الصيام وهي حائض .

    قال النووي رحمه الله في المجموع (2/386) :

    أَجْمَعَتْ الأُمَّةُ عَلَى تَحْرِيمِ الصَّوْمِ عَلَى الْحَائِضِ وَالنُّفَسَاءِ , وَعَلَى أَنَّهُ لا يَصِحُّ صَوْمُهَا . . . وَأَجْمَعَتْ الأُمَّةُ أَيْضًا عَلَى وُجُوبِ قَضَاءِ صَوْمِ رَمَضَانَ عَلَيْهَا , نَقَلَ الإِجْمَاعَ فِيهِ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ الْمُنْذِرِ وَابْنُ جَرِيرٍ وَأَصْحَابُنَا وَغَيْرُهُمْ اهـ باختصار .

    وقال ابن قدامة في " المغني" (4/397) :

    " أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ الْحَائِضَ وَالنُّفَسَاءَ لا يَحِلُّ لَهُمَا الصَّوْمُ , وَأَنَّهُمَا يُفْطِرَانِ رَمَضَانَ , وَيَقْضِيَانِ , وَأَنَّهُمَا إذَا صَامَتَا لَمْ يُجْزِئْهُمَا الصَّوْمُ , وَقَدْ قَالَتْ عَائِشَةُ : ( كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّوْمِ , وَلا نُؤْمَرُ بِقَضَاءِ الصَّلاةِ ) . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .

    وَالأَمْرُ إنَّمَا هُوَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : ( أَلَيْسَ إحْدَاكُنَّ إذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ , فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا ) . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ .

    وَالْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ سَوَاءٌ ; لأَنَّ دَمَ النِّفَاسِ هُوَ دَمُ الْحَيْضِ , وَحُكْمُهُ حُكْمُهُ . وَمَتَى وُجِدَ الْحَيْضُ فِي جُزْءٍ مِنْ النَّهَارِ فَسَدَ صَوْمُ ذَلِكَ الْيَوْمِ , سَوَاءٌ وُجِدَ فِي أَوَّلِهِ أَوْ فِي آخِرِهِ , وَمَتَى نَوَتْ الْحَائِضُ الصَّوْمَ , وَأَمْسَكَتْ , مَعَ عِلْمِهَا بِتَحْرِيمِ ذَلِكَ , أَثِمَتْ , وَلَمْ يُجْزِئْهَا" اهـ .

    وقال الشيخ ابن عثيمين في رسالة "الدماء الطبيعية للنساء" (ص 28) :

    " وإذا حاضت وهي صائمة بطل صيامها ولو كان ذلك قبيل الغروب بلحظة ، ووجب عليها قضاء ذلك اليوم إن كان فرضاً .
    أما إذا أحست بانتقال الحيض قبل الغروب لكن لم يخرج إلا بعد الغروب فإن صومها تام ولا يبطل على القول الصحيح" اهـ .

    وسئلت اللجنة الدائمة (10/155) عن امرأة صامت وقبل غروب الشمس وقبل الأذان بفترة قصيرة جاءها الحيض هل يبطل صومها ؟

    فأجابت : إذا كان الحيض أتاها قبل الغروب بطل الصيام وتقضيه ، وإن كان بعد الغروب فالصيام صحيح ولا قضاء عليها اهـ .

    الإسلام سؤال وجواب

    https://islamqa.info/ar/50282
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ترجمہ :
    سوال :
    اگرغروب شمس سے ایک لمحہ بھی قبل بھی حیض آجائے توروزہ باطل ہوجاتا ہے اوراس کی قضاء واجب ہوگي
    اگر روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجائے توکیا اس دن کا روزہ مکمل کرے گی یا نہیں ؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
    جواب :
    الحمد للہ
    جب عورت کو روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجائے تو اس کا روزہ باطل ہوجاتا ہے ، اگرچہ غروب شمس سے چندلمحہ قبل ہی ماہواری کاخون آنا شروع ہوجائے ، اگراس کا روزہ واجب ہوتواس پر قضاء واجب ہوگي ، حالت حیض میں عورت کا روزہ جاری رکھنا حرام ہے ۔

    امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
    حائضہ اورنفاس والی عورت کے روزہ کی حرمت میں امت کا اجماع ہے ، لھذا اس بنا پر اس کا روزہ صحیح نہیں ۔۔۔۔ امت کا اس پربھی اجماع ہے کہ اسے اس روزہ کی قضاء میں روزہ رکھنا ہوگا ، امام ترمذی ، ابن مندر ، اورابن جریر اورہماے اصحاب وغیرہ نے یہ اجماع نقل کیا ہے ۔ باختصار
    دیکھیں المجموع للنووی ( 2 / 386 )

    اور ابن قدامہ مقدسی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :
    اہل علم کا اجماع ہے کہ حائضہ اورنفاس والی عورت کا روزہ رکھنا حلال نہیں ، بلکہ وہ رمضان کے روزے نہیں رکھیں گي بلکہ وہ بعد میں اس کی قضاء کریں گی ، اوراگر وہ روزہ رکھ بھی لیں تو ان کا روزہ صحیح نہیں ہوگا ۔

    ام المومنین سیدہ عا‏ئشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ :
    ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہمیں حیض آتا توہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم روزے قضاء کریں اورنماز کی قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ) متفق علیہ ۔

    اس میں حکم تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے ، ابو سعید رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
    ( کیا تم میں سے جب کسی ایک حیض آتا ہے وہ نہ تو نماز ادا کرتی ہے اورنہ ہی روزہ رکھتی ہے ، یہ اس کے دین میں کمی ہے ) صحیح بخاری ۔

    حائضہ اورنفاس والی عورت برابر ہے کیونکہ نفاس کا خون ہی حیض کا خون ہے اوراس کا حکم بھی وہی ہے ، جب دن کے کسی بھی حصہ میں حیض آجائے تو اس دن کا روزہ فاسد ہوجائےگا ، چاہے دن کی ابتداء میں حیض آئے یا پھر شام کے وقت ، اورحائضہ عورت نے جب حالت حیض میں روزہ رکھنے کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود روزہ کی نیت کی اورکچھ نہ کھایا پیا تووہ گنہگار ہوگی ، اوراس کا یہ روزہ رکھنا کافی نہیں ہوگا ۔ اھـ

    شیخ ابن عثیمین اللہ تعالی کا کہنا ہے :
    روزہ کی حالت میں حیض آنے سے روزہ باطل ہوجاتا ہے ، چاہے غروب شمس سے ایک لمحہ قبل ہی کیوں نہ آئے ، اگر توفرضی روزہ ہوتواس دن کی قضاء واجب ہوگي ۔

    لیکن اگر اس نے مغرب سے قبل حیض کے خون کے انتقال کومحسوس کیا اورخون آنا شروع نہیں ہوا بلکہ مغرب کے بعد خون آنا شروع ہوا تواس کا روزہ صحیح اورمکمل ہے اورصحیح قول یہی ہے کہ باطل نہيں ہوگا ۔ ا ھـ
    دیکھیں : الدماء الطبیعیۃ للنساء صفحہ نمبر ( 28 ) ۔

    مستقل فتوی کمیٹی ( اللجنۃ الدائمۃ ) سے مندرجہ ذیل سوال کیاگيا :
    ایک عورت نے روزہ رکھا لیکن غروب شمس اور اذان سے کچھ دیر قبل حیض آنا شروع ہوجائے تو کیا اس کا روزہ باطل ہوجائے گا ؟

    کمیٹی کا جواب تھا :
    اگرتو حیض مغرب سے قبل آئے توروزہ باطل ہوگا اوراس کی قضاء کرے گي لیکن اگر مغرب سے بعد حیض آنے کی صورت میں اس کا روزہ صحیح اورمکمل ہے اس پر کوئي قضاء نہيں ۔ ا ھـ
    دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 10 / 155 ) ۔
    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں