1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

روضہ رسول ﷺ کے سبز گنبد کو گرا دیا جائے

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏مئی 17، 2017۔

  1. ‏مئی 17، 2017 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,350
    موصول شکریہ جات:
    6,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    ’’روضہ رسول ﷺ کے سبز گنبد کو گرا دیا جائے ‘‘
    1925 میں جب سعودی نجدی علما نے سبز گندب کو گرانے کا فتویٰ دیا تو ہندوستان سے کس عالم نے انہیں مناظرے میں شکست دی؟
    http://javedch.com/islam/2017/05/16/273341
    اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مدینے میں مسجد نبوی ﷺ پر جو سبز گنبد نظر آتا ہے، یہ تبلیغ جماعت کا کارنامہ ہے۔ 1902میں سلطان عبد العزیز بن عبد الرحمان بن سعود ایک چھوٹی سی ریاست درعیہ کا حکمران تھا۔ عبد العزیز بہت نیک آدمی اور عظیم بادشاہ تھا۔ اس نے 1902 میں ریاض کو فتح کیا۔ ایک چھوٹا سا ماڈل قائم کیا۔ 1924 میں اس نے مکہ اور 1925 میں مدینہ فتح کیا۔ 1936 میں اس نے سارا عرب فتح کرکے اس کا نام المملکۃ العربیتہ السعودیہ رکھا۔ 1939 وہاں تیل نکل آیا۔ 1925 میں جب مدینہ فتح ہوا تو علمائے نجد جن میں شدت بہت ہے، وہ محبت اور حدود میں فرق نہیں کر سکتے۔ گستاخی بھی حرام ہے اور حدود سے تجاوز بھی حرام ہے۔ ان نجدی علمانے کہا کہ مدینے میں جتنے نشانات ہیں، سارے مٹا دو، اس وقت جنت البقیع کے سارے نشانات مٹا دیئے گئے۔ امہات المومنین، صحابہ، اہلبیت اور آل رسول ﷺ کے سب نشات مٹا دیئے گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ سبز گنبد بھی توڑ دیا جائے۔ قبر پر گنبد بنانا منع ہے۔ مولانا طارق جمیل نے کہا کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ قبر پر گنبد بنانا منع ہے۔ اس سبز گنبد کو توڑ دیا جائے۔ جب یہ فتویٰ دنیا میں پھیلا تو اس پر رد عمل ہوا کہ یہ کیوں توڑا جائے؟ اس وقت سعودی نجدی علما نے مناظرے کی دعوت دی۔ ساری دنیا سے علما وہاں جمع ہو گئے۔ 1925 میں ہندوستان سے بھی ایک وفد وہاں گیا۔ اس وفد میں ایک شخص شبیر احمد عثمانی جو کہ مدرسہ دیوبند کا پڑھا ہوا ہے وہ بھی شامل تھا۔ ہندوستان کے وفد کی جب آپس میں گفتگو ہوئی کہ ہمارا مقدمہ کون لڑے گا تو عراقی ، شامی اور ترک سب علما نے شبیر احمد عثمانی کو ترجمان مقرر کیا۔ سلطان عبد العزیز کے سامنے مناظرہ ہوا۔ علمائے نجد نے اپنے دلائل پیش کئے۔ تمام حدیثیں تھیں اور صحیح حدیثیں تھیں۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے ایک حدیث کو بنیاد بنا کر دو گھنٹے مناظرہ کیا۔ وہ بخاری شریف کی ایک حدیث ہے دینائے کعبہ، اس میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے عائشہ! یہ تیری قوم ابھی نئی نئی مسلمان ہوئی ہے، اگر تھوڑا زمانہ گزرا ہوتا تو میں بیت اللہ نئے سرے سے بناتا ہے۔ اس کا فرش نیچے لے جاتا، اس کے دو دروازے بناتا ، ایک داخلی اور ایک خارجی، میں حطیم اس میں شامل کر دیتا، لیکن مجھے خطرہ ہے کہ مسلمان بگڑجائیں گے۔اس حدیث کو مولانا شبیر احمد عثمانی نے بنیاد بنایا اور دو گھنٹے بات کی۔ علمائے نجد سر جھکا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ سلطان عبد العزیز نے علمائے نجد سے کہا کہ اس کو جواب دو۔ اس وقت علمائے نجد نے کہا کہ ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ پھر سلطان عبد العزیز نے کہا کہ شبیر احمد عثمانی کا فیصلہ صحیح ہے۔ اسلئے اس سبز گنبد کو باقی رکھا جائے گا۔ یہ سبز گنبد برصغیر کے علما کے طفیل کھڑا ہے۔
    خبر ختم ہوئی۔۔

    تبصرہ از نعیم یونس:

    محترم تبلیغی جماعت و دیوبندی حضرات!!

    آپ نے صحیح حدیث سے استدلال پیش کیا اور علمائے نجد کے سر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے جھک گئے۔۔اور بقول آپ کے کہ علمائے نجد نے کہا:
    ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔
    الحمد للہ علی ذلک!

    لیکن ہم آپ کو کتنی ہی صحیح احادیث پیش کرتے ہیں، اُسی صحیح بخاری سے۔۔لیکن آپ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔۔اُلٹا باطل تاویلات کا انبار لگا دیتے ہیں۔۔
    جس بات پر آپ فخر کر رہے ہیں۔۔اُسی کو اپنے لیے اصول مقرر کر لیں!!۔۔اور جب صحیح حدیث آجائے تو باطل تاویلات کا دروازہ بند کر کے فرمان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سر تسلیم خم کر لیا کریں!!
     
    • زبردست زبردست x 7
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  2. ‏مئی 17، 2017 #2
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    194
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    آج بھی کچھ شقی القلب حضرات اس گنبد کو گرانے کے حق میں ہیں اپنی سفاہت اور جہالت کے سبب۔
    مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے جو دلیل دی وہ اپنی جگہ بجا مگر جو اسے ڈھانا چاہ رہے تھے ان کے پاس بھی کوئی دلیل نہیں تھی۔ جن احادیث کو وہ اس مقصد مضموم کے لئے بہانہ بنا رہے تھے ان کی زد میں روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم آتا ہی نہیں۔
    جتنی احادیث ہیں ان میں قبر پر عمارت بنانے کی ممانعت ہے اور یہاں عمارت میں قبر بنائی گئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں۔
    ذی فہم سمجھ سکتا ہے اس فرق کو جو قبر پر عمارت بنانے اور عمارت میں قبر بنانے میں ہے۔
     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 18، 2017 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,350
    موصول شکریہ جات:
    6,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    اس خبر کا تجزیہ کرنے کا اصل مقصد یہ ہے:
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 18، 2017 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,350
    موصول شکریہ جات:
    6,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    نیچے مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان بھی پڑھ لیں جس سے وہ "غیر ذی فہم" ثابت ہوتے ہیں..

     
  5. ‏مئی 19، 2017 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,861
    موصول شکریہ جات:
    1,477
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    اگر گنبد خضراء کی کوئی عظمت و اہمیت یا شریعت محمّدیہ میں اس کا کوئی مقام ہوتا تو نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کی وفات کے فوراً بعد ہی آپ کی قبر مبارک پر صحابہ کرام رضوان الله آجمیین اس کی تعمیر فرما دیتے- تاریخی اعتبار سے گنبد خضراء کی تعمیر ایک بادشاہ مصر ٦٢٧ ہجری میں کی جو بلاشبہ ایک بدعت تھی- زمانہ گزرنے کی بنا پر بدعتی اور کلمہ گو مشرکوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور آجکل دنیا میں ایسے مسلمانوں کی کثرت ہے جو نبی صل الله علیہ و آ له وسلم سے غلو کی حد تک محبّت میں مبتلا ہیں- اور یہ ایک امر ہے کہ گنبد خضراء کو گرانے کی صورت میں ایک عالمی فتنہ اٹھنے کا اندیشہ ہے- اس بنا پر بہتر طریقہ یہی ہے کہ گنبد خضراء کو قبر مبارک پر ایسے ہی رہنے دیا جائے- ورنہ شرعی لحاظ سے اس کی کوئی حیثیت نہیں - گنبد کی تعمیر کے وقت اس وقت کے علماء ہر چند کہ اس صاحب اقتدار کو نہ روک سکے ، مگر انہوں نے اس کام کو بہت برا سمجھا ، اور جب یہ مشورہ دینے والا کمال احمد معزول کیا گیا-
    تو لوگوں نے اس کی معزولی کو الله کی طرف سے اس کے اس فعل کی پاداش شمار کیا

    یہ لنک پڑھ لیجئے-

    http://forum.mohaddis.com/threads/گنبد-خضراء-کی-تاریخ.18455/
     
    Last edited: ‏مئی 19، 2017
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 19، 2017 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,869
    موصول شکریہ جات:
    599
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    لنک میرے پاس اوپن نہیں هورہا هے!
     
  7. ‏مئی 19، 2017 #7
    کنعان

    کنعان سینئر رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,398
    موصول شکریہ جات:
    4,343
    تمغے کے پوائنٹ:
    483

    السلام علیکم

    اس لنک میں چیک کریں۔

    والسلام
     
    • زبردست زبردست x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 19، 2017 #8
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,869
    موصول شکریہ جات:
    599
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    جزاک اللہ خیرا کنعان بهائی
    اوپن پهر بهی نہیں هوا میرے پاس!
     
  9. ‏مئی 19، 2017 #9
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,137
    موصول شکریہ جات:
    317
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    میرے پاس ہو رہا ہے
    Screenshot_20170519-150241.png
     
  10. ‏مئی 19، 2017 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    1,869
    موصول شکریہ جات:
    599
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    جی عدیل بهائی اب اوپن هوا ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں