1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رویت ھلال از شیخ الاسلام ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏جون 29، 2017۔

  1. ‏جون 29، 2017 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    (۱) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ رویت ہلال کے لئے شرع شریف میںکوئی مسافت متعین نہیں ہے ؟ اگر ہے توکتنے میل کی ؟
    (۲) کیامدراس کے مسلمان دہلی کی رویت کا اعتبارکرسکتے ہیں جب کہ دہلی ایک ہزار سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے نیز دہلی اورمدراس کے غروب کے وقت میں نصف گھنٹہ کافرق ہے
    (۳) کیا ریڈیو ،تار، ٹیلیفون کی خبریں اورشہادتیں شریعت میں قابل تسلیم ہیں۔
    (۴) ریڈیو پر ایساآدمی جو شہادت شرعی کے معیار پر صحیح اترتاہو ہندوستان کے کسی حصہ سے اعلان کرکے کہ میں نے بچشم خود چاند دیکھا توکیا ہندوستان کو عید کرنی جائز ہے اسی پر ٹیلیفون ،اورتار کو قیا س فرمائیں۔
    (۵) کیابارہ بجے دن کو چاند کی شرعی تحقیق ہوجائے اورشرعی شہادت کے ذریعہ ثابت ہوجائے کہ ۲۹ کو چاندہوا تو۱۲بجے کے بعد روزہ توڑنا جائز ہے ، بینواتوجروا؟(سید عزیز اللہ ازمدراس)
     
  2. ‏جون 29، 2017 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جواب: دوسرے شہرکی رویت ہلال کے اعتبار میںمسافت یعنی میلوں کی تعین کی کتاب وسنت میں کوئی نص صریح نہیں اسی لئے علماء کرام کے اجتہاد ی اقوال اورمذاہب اس امر میںمختلف ہیں اورسوائے قول اختلاف مطلع کے جس کی تحقیق آگے آتی ہے کوئی قول قابل وثوق نہیں ، کریب کی روایت سے ابن عباس کے مجمل قول کذا امرنا سے بعض نے ، لکل اھل بلد رویتھم کے باب کوحدیث سمجھ لیاہے۔
    عَنْ كُرَيْبٍ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتُهِلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ: " لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ فَقَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . (مسلم ، کتاب الصیام ، باب بیان أن لکل بلد رؤیتہم ، رقم الحدیث : ۲۸۔وأبوداؤد، کتاب الصوم ، باب إذا رئی الھلال فی بلد قبل الأخرین ۔ والترمذی ، کتاب الصوم ، باب ما جاء لکل أھل بلد رؤیتھم ۔ والنسائی ، کتاب الصیام ، باب اختلاف أھل الآفاق فی الرؤیۃ)
    حضرت کریب سے روایت ہے کہ حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ملک شام بھیجا میں شام میں پہنچا تو میں نے حضرت ام الفضل کا کام پورا کیا اور وہیں پر رمضان المبارک کا چاند ظاہر ہوگیا اور میں نے شام میں ہی جمعہ کی رات چاند دیکھا پھر میں مہینہ کے آخر میں مدینہ آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے چاند کا ذکر ہوا تو مجھے پوچھنے لگے کہ تم نے چاند کب دیکھا ہے؟ تو میں نے کہا کہ ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا ہے پھر فرمایا تو نے خود دیکھا تھا؟ میں نے کہا ہاں! اور لوگوں نے بھی دیکھا اور انہوں نے روزہ رکھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی روزہ رکھا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ کیا حضرت معاویہ کا چاند دیکھنا اور ان کا روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسی طرح کرنے کا حکم فرمایا ہے۔
    جوبالکل غلط ہے، یہ تواجتہادی قول ہے، اصل دلیل حدیث نبویﷺ ،صوموا لرویتہ وافطرولرویتہ ،صحیح بخاری ہے ۔
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا العِدَّةَ ثَلاَثِينَ . (البخاری ، کتاب الصوم ، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا رأیتم الھلال فصوموا۔ ومسلم ، کتاب الصیام ، باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال ، رقم الحدیث : ۱۷۔۱۸۔۱۹، والنسائی ، کتاب الصیام ، باب إکمال شعبان ثلاثین إذا کان غیم وابن ماجہ ، کتاب الصوم ، باب ما جاء فی صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ)
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو۔ اور اگر ابر چھایا ہوا ہو تو تیس دن پورے کرو۔
    یہ خطاب عام ہے کوئی مسلم کہیں چاند دیکھے چاند ہوگیا ،عیدالفطر وغیرہ کیلئے دوشخص کی رویت لازمی ہے اورروزہ رمضان رکھنے کے لئے ایک شخص کی شہادت بھی کافی ہے جس کی تفصیل سنن وغیرہ میںیہ بھی ہے کہ آخر رمضان میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میںکچھ لوگ اونٹوں پرسوار دوردراز سے ایسے وقت میں آئے ۔
    عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمُومَتِي، مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلَالُ شَوَّالٍ، فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا، فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَشَهِدُوا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ . (أبوداؤد ، کتاب الصلاۃ ، باب إذا لم یخرج الإمام للعید من یومہ یخرج من الغد۔ والنسائی ، کتاب العیدین ، باب الخروج إلی العیدین من الغد۔ وابن ماجہ ، کتاب الصیام ، باب ما جاء فی الشہادۃ علی رؤیۃ الھلال ۔ والمنتقی لابن الجارود ، ص:۱۰۲ وصحیح ابن حبان ۵/۱۹۰۔ومسند أحمد ۵/۵۷۔۵۸، والسنن الکبری للبیہقی ۴/۲۴۹۔ومصنف عبد الرزاق ، رقم الحدیث : ۷۳۳۹ ومصنف ابن ابی شیبۃ ۳/۶۷ وسنن الدارقطنی ۲/۱۴۹، رقم الحدیث : ۲۱۸۳۔۲۱۸۴)
    حضرت ابوعمیر بن انس بن مالک فرماتے ہیں کہ میرے چچاؤں نے جو انصاری صجابی تھے یہ حدیث بیان کی کہ ایک بار (ابر کی وجہ سے) ہمیں شوال کا چاند دیکھائی نہ دیا تو صبح ہم نے روزہ رکھا پھر اخیر دن میں چند سوار آئے اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ شہادت دی کہ کل انہوں نے چاند دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کر ڈالیں اور کل صبح عید کے لئے آجائیں ۔
    عید کی نماز کا وقت نہیں رہاتھا یعنی بعد دوپہر وہ لوگ حاضر ہوئے تھے انہوںنے یہ شہادت دی کہ کل ہم لوگوںنے اپنے موضع یا شہر میں چاند دیکھا تھاتوآنحضرت ﷺ نے اسی وقت لوگوں کوروزے افطارکرادیئے اوردوسرے روز عید کی نماز پڑھائی، اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دوسرے شہر کے لوگوںکی رویت ہلال کی شہادت کااعتبار ہے بشرطیکہ دوسرے شہر کامطلع اس شہر سے مختلف نہ ہو مختلف مطلع یہ کہ مثلا ایک شہر یاموضع میںدن ہے تو دوسرے میں رات ہے یاایک جگہ ظہر کی نماز کاوقت ہے تودوسرے میںعصر یامغرب کا اگرایسا ہوتوپھر وہاںکی رویت دوسروں کے لئے کافی نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ یا اس کے متفق مطلع والے چاند نہ دیکھ لیں اس پر دلیل یہ ہے کہ مثلا جس شہر یا موضع میں دوسرے شہر سے چند گھنٹے پہلے زوال ہوگا انکوحکم ہے کہ ظہر کی نماز اد اکریں اوراسوقت دوسرے شہر والوں کوجن کامطلع ان سے مختلف ہے اورابھی وہاں زوال میں کئی گھنٹے باقی ہیں نماز ظہر پڑھنا منع ہوگا،اس لئے کہ ابھی یہاںزوال نہیں ہوا اورپہلوںکونماز ظہر پڑھنافرض ہوگا اس سے ثابت ہواکہ مختلف المطالع کاحکم الگ الگ ہے ،اگردوسرے شہر والے پڑھنا بھی چاہیں تواول توہرجگہ اس کاعلم مشکل ہے اوراگرکسی طرح معلوم کرکے پڑھ بھی لیں توپھر جب ان کے ہاں زوال ہوتواگروہ دوبارہ ظہرنہ پڑھیں تو،اقم الصلوۃ لدلوک الشمس، اوراحادیث صحیحہ کے خلاف ہوگا اوراگردوبارہ پڑھیں تو اس میں یہ اشکال ہے کہ ایک دن رات میں جوپانچ نمازیں فرض ہیں کم وبیش نہیں، اس صورت میں پانچ سے زائد کیا؟ بے شمار ہوں گی ، اس لئے چوبیس گھنٹے میںہر وقت کہیں نہ کہیں ظہر،عصر،وغیرہ کا وقت ہوتاہے توہروقت نمازفرض ہوگی تواول توہروقت کاعلم محال دوم پڑھنا بھی محال نیز اس صورت میں تکلیف بالمحال لازم آتی ہے، اوریہ سب امور باطل ہیں لہٰذا یہ صورت بھی باطل ہے اس سے ثابت ہواکہ جن جن شہروں کے آپس میںمطالع مختلف ہوں ان کی رویت ہلال دوسروں کے لئے معتبر نہ ہوگی ، ہاںجن کامطلع ایک ہے ان کی رویت دوسروں کے لئے معتبرہوگی بعض فقہاء کرام نے اختلاف مطالع کی تعین مسافت ایک مہینے کے راستے سے کی ہے مگریہ بھی اسی کریب والی اوپر کی روایت سے استنباط ہے۔
    .............
    سواول توروایت کریب سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ وہ چاند دیکھ کر فورا وہاںسے چلے یاٹھہرکر نیز وہ کس تاریخ کو مدینہ منورہ پہنچے کتنے دن چلتے رہے پھرایک ماہ کے راستہ میں اجمال ہے کہ رفتارپیدل کی یاسواری کی؟ اس میںبہت بڑافرق ہے پھرراستہ میدان تھا یاپہاڑی ٹیڑھا ترچھا یادریائی ایرپھیر کا کھبی ان امور میں زمین آسمان کا فرق ہوجاتاہے تحقیق جدید سے معلوم ہواہے کہ مدینہ منورہ اورشام کے مطلع میں پندرہ بیس منٹ کافرق ہے اوریہ اختلاف رویۃ ہلال کے حکم میںمعتبر نہیں جس کی تحقیق آگے آتی ہے مسافت کم میںبھی مدارشمس کے اختلاف مطالع کی نمازوں میں گھنٹوں کے اعتبار سے ان دیامیں بہت کمی وبیشی ہے متوسط اختلاف کا لحاظ کیا گیاہے یعنی ظہر،عصر،یامغرب کے وقت کااختلاف جوعموماتین گھنٹے سے کم نہیںہوتا لہٰذا جہاں دوشہروں کے طلوع وغروب میںتین گھنٹے کااختلاف ہووہ مختلف مطالع میں شمار ہوں گے اورجن کا اس سے کم نہ ہو وہ اس سے خارج ہوںگے جواب لکھا ہوابوجہ علالت طبع رکھاہواتھا کہ اخبار اہل حدیث مورخہ ۲۹شعبان ۱۳۶۱ھ میں مولانا کا جواب بھی نظر سے گزرا کہ مسافت متعینہ کی روایت میرے علم میں نہیںہے ،ہاں علم ہیت سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ غالبا تیس میل کا فاصلہ پراختلاف مطالع ہوجاتاہے امرتسر سے لاہور کافاصلہ تینتیس میل کا ہے اتنے فاصلے پر تین منٹ کا اختلاف ہے اگرامرتسرمیں چھ بجے سورج غروب ہوتا ہے تولاہورمیں ۶بج کر ۳۳منٹ پر ہوتا ہے اس لئے اختلاف مطالع کی وجہ سے رویت قبول نہیںکی جائے گی،انتھا، میںکہتاہوں کہ اوپر کی سنن کی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جو دوردراز کے اونٹوں کے سوار آخر رمضان میںحاضر ہوتے تھے اورانہوں نے کہاتھا کہ ہم نے کل اپنے شہر میں یاموضع میں چاند دیکھا تھا توان کے کہنے پر حضورﷺ نے بعد دوپہر روزہ افطار کرواکر دوسرے دن عید نماز پڑھنے کوفرمایا وہ غالبا تیس میل یا اس سے بھی زائد ہی سے آئے تھے ۔
    ....................
    اس سے ثابت ہواکہ اس قدر اختلاف مطالع کاشرع میںاعتبار نہیں نیز اختلاف مطالع مدارشمس کے اختلاف سے بھی ہوتا ہے خوا ہ مسافت کہ ہی ہو اورمطلقا تینتیس میل مستلزم اختلاف مطالع نہیں تاوقتیکہ مدارشمس کافرق نہ ہو ،نیز مکہ معظمہ اور جدہ کے درمیان کافاصلہ پچاس میل کا ہے اورایساکبھی معلوم نہیںہو ا کہ مکہ والوںنے جدہ والوںکی رویت ہلال کا اعتبارنہ کیاہو بالعکس نیز اگر۳۳میل کے اختلاف کااعتبار ہوتاتوپھر اختلاف مطالع میں امت کااختلاف ہی نہ ہوتا ،اس لئے کہ یہ توعموما ہواہی کرتاہے اگر ایسا ہوتا تویہ متواتریامشہور ہوجاتا اوراختلاف نہ رہتا ،واذا لیس فلیس،
    نیز جب تینتیس میل پر تین منٹ کااختلاف مطلع ہے توگیارہ میل پرایک منٹ کاہوگا پھراگرمطلقااختلاف مطلع کااعتبارہوگا توگیارہ پربھی ہوگا تواول تویہ اوپر کی سنن وغیرہ کی حدیث سے باطل ہے کہ اس سے زائد فاصلہ کی رویت ہلال کارسول اللہﷺ نے اعتبار کیا، دوم اس سے مکہ والوں کوعرفات کے پرلے سرے جوگیارہ میل پر ہو رویت ہلال کا بھی اعتبار نہ ہوگا اوریہ بالکل غلط ہے اس کاتوکوئی بھی قائل نہیں اس سے تولازم آتاہے کہ دہلی والے غازی آباد( ۱۲)میل اورقطب (۱۱) میل وغیرہ کی رویت ہلال کابھی اعتبارنہ کریں یہ بھی بالکل غلط ہے کوئی اس کاقائل نہیں توجب تک اختلاف مطالع کی حد شرع سے ثابت نہ ہو قابل قبول نہیں ، کتاب وسنت سے مستنبط ہے کہ اگر بالکل اختلاف مطالع کو تسلیم نہ کیاجائے مگرشرع سے اس کی کوئی حد نہ مقرر کی جائے توہر دوصورت میںتکلیف مالایطاق اورمحال لازم آتاہے جوباطل ہے جس سے شریعت محمدیہ پاک ہے لہٰذا جوکچھ اوپر کتاب وسنت کی روشنی میں لکھا گیاہے وہی قابل قبول ہے اور بس۔۔۔
     
  3. ‏جون 29، 2017 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جواب: (۲) کاجواب (۱) کے جواب میںآگیا کہ دہلی اورمدراس کے طلوع وغروب میں چونکہ نصف گھنٹے کافرق ہے جوتین گھنٹے سے کم ہے لہٰذا انکو ایک دوسرے کی رویت ہلال کا اعتبارنہ ہوگا،
     
  4. ‏جون 29، 2017 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جواب: (۳) تار کی خبر عموما علماء کرام اوراساتذہ تسلیم نہیںکرتے اس لئے کہ تار کے کارکن اکثر بالکل کافر غیرمسلم ہوتے ہیں اورکافر کی خبر دیانات میںمقبول نہیں ۔ (درمختاروغیرہ) نیز یہ کہ رویت ہلال محض خبر نہیں اس میں شہادت اورنصاب شہادت اورمجلس قضا بھی ہے اوریہ خبر غائب ہے اس میں معرفت مخبر کی لازم ہے اوریہ امور تار کی خبر میں مفقود ہیں لہٰذا مردود ہے توجواب یہ ہے کہ اول توفقہاء کایہ کلیہ کہ ہرامردینی میںکافر کی خبر کسی حالت میں بھی مقبول نہیں ، بچند دجوہ منقوض ہے وجہ اول یہ کہ کافر فاسق کی خبر کے عدم اعتبار کوآیت قرآنی ،ان جاء کم فاسق بنباء فتبینوا، پ۲۶ رکوع ۱۳، سے استباط کیاگیاہے حالانکہ فقہاء نے لکھاہے کہ اس سے کافر کی خبر مطلقا تردید نہیں ہوتی بلکہ تحقیق پر موقوف ہے لہٰذا بعد تحقیق وثبوت مقبول ہوگی توگویا من وجہ یہ آیت بھی دلیل قبول کی ہے، وجہ دوم قول باری تعالی ہے۔ یایھاالذین امنو ا شھادۃ بینکم اذاحضر احدکم الموت حین الوصیۃ اثنان ذواعدل منکم او اخر ان من غیرکم ان انتم ضربتم فی الارض فاصابتکم مصیبۃالموت ، الایہ پ ۷ رکوع ۴، اس آیت سے کافر کی خبر شہادت بحالت سفر شرعاثابت ہے اس کی شہادت وخبر پر میت کی وصیت وادا ء دیون اس کے اورترکہ کی تقسیم ،اس کی عورت کی عدت ونکاح ثانی ونماز جنازہ غائب اس کے بچوں پرحکم یتیم کا ثبوت ،اس کی ضمانت کااسقاط وغیرہ موقوف ہیں اوریہ امور دینی میں خصوصا نماز جنازہ غائب ووصیت تعمیر مسجد وغیرہ،
    وجہ سوم رسول اللہ ﷺ نے بوقت ہجرت مدینہ منورہ ایک کافر کو اپنی سوار کی اونٹنیاں دے کر کہا کہ فلاں وقت لاکر ہم کومخفی راستے سے مدینہ پہنچادو اوراس نے ایسا ہی کیا ہجرۃ امر دینی ہے اس میں رسول اللہ ﷺ نے کافر کے قول وعمل کا اعتبار کیا اورحضور کا یہ امر دینی ہے، (صحیح بخاری)
    ..............
    وجہ چہارم واقعہ حدیبیہ میں رسول اللہﷺ نے ایک مشرک کاذکر کیا جاسوس بناکر کفارکاحال معلوم کرنے کو بھیجا اس نے آکر خبر دی اس پر اعتبارکرکے حضورﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے مقابلہ کرنے کے بارے میںمشورہ کیا (بخاری)
    عَنِ المِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الحَكَمِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالاَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الحُلَيْفَةِ، قَلَّدَ الهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ أَتَاهُ عَيْنُهُ، قَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ، وَصَادُّوكَ عَنِ البَيْتِ، وَمَانِعُوكَ، فَقَالَ: " أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ البَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ المُشْرِكِينَ، وَإِلَّا تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا البَيْتِ، لاَ تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ، وَلاَ حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ. قَالَ: " امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ . ( البخاری ، کتاب المغازی ، باب غزوۃ الحدیبیۃ)
    وہ مسور اور مروان سے روایت کرتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے سے زیادہ بیان کرتا ہے انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس سو سے کئی سو زائد اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ ذی الحلیفہ میں پہنچے تو قربانی کے جانور کے گلے میں ہار پہنایا اور اس کا کوہان چیرا اور پھر اسی جگہ سے عمرہ کا احرام باندھا اور پھر بنی خزاعہ کے ایک جاسوس کو آپ نے آگے روانہ کیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی برابر چلتے رہے یہاں تک کہ جب مقام غدیر الاشطاط میں پہنچے تو جاسوس نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ قریش نے بہت سے قبائل اور جماعتوں کو آپ سے لڑنے کے لئے اکٹھا کیا ہے وہ آپ کو بیت اللہ تک نہیں جانے دیں گے آپ نے مسلمانوں سے فرمایا لوگو! مجھے اس معاملہ میں بتاؤ کہ کیا کرنا چاہئے کیا میں کافروں کے اہل و عیال پر جھک پڑوں اور ان کو تباہ کردوں جو ہم کو کعبہ سے روکنے کی تدبیریں کر رہے ہیں اور اگر وہ مقابلہ کے لئے آئے تو اللہ تعالیٰ مدد گار ہے اسی نے ہمارے جاسوس کو ان کے ہاتھ سے بچایا ہے اگر وہ نہ آئے تو ہم ان کو سوئے ہوئے یا مفرور کی طرح چھوڑیں گے اس موقعہ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم تو صرف اللہ کے گھر کا ارادہ کرکے حاضر ہوئے ہیں کسی سے لڑنا اور مارنا یا اسے لوٹنا ہماری غرض نہیں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے چلیں اگر کوئی ہم کو روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اٹھو خدا کا نام لے کر چلو۔
    اس سے بھی کافر کی خبر کااثبات ہوا یہ سفر حضورﷺ کاعمرہ کے لئے تھا پھر جنگ کے بارے میں مشورہ کیا مگر جنگ کوملتوی کیاگیا بہرحال عمر ہ ہویاجنگ کفار دونوں امر دینی ہیں ، خلاصہ یہ کہ کافرکی خبر دیانات میں بھی مطلقا مردود نہیں بعد تحقیق وثبوت قرائن مصدقہ بعض امور میں بعض اوقات مقبول بھی ہے ، مثلا اگرکسی اعلی افسر نے دہلی سے کانپور شب کو تار دے کر وہاں کے نائب کو بلایا کہ تم یہاں آجائو ،اس نے فورا جواب دیا کہ یہاں آج چاند ہوگیاہے صبح مسلمانوں کی عید ہے مجھے یہاں کاانتظام کرنا ہے ،توبتائیے اس کے صدق میں کسی کو شبہ ہوسکتاہے؟ ہرگز نہیں ایسے ہی اگر کوئی نابینا یاضعیف البصر کسی ایسے مقام قید ہو جہاں کفار کے سواکوئی مسلم رویۃ ہلال کی خبر دینے والا نہ ہو تووہ اگر کفار کی رویت ہلال پر روزہ رمضان وعید نہ کرے توکیاکرے ، ایسے ہی اگر اس کے مرنے کی خبر کفار دیں اگر اس کے مرنے کا اعتبارنہ کیا جائے تواس کی زوجہ اور اس کے بچے کیاکریں، کیازوجہ ساری عمر اس کے آنے کی منتظر رہے ایسے ہی اس کے ترکہ کی تقسیم اس کی زوجہ کی عدت ونماز جنازہ غائب کا کیاحکم ہوگا، ایسے امور میں اعتبار کیاجائے گا جب قرآن وحدیث سے بعض امور دینی میں کفار کی خبر کااعتبار ہے تارکی خبر بھی انہی بعض قسموں میں سے ہے کہ بعد تحقیق مکر سہ کو تاردینے اورنیز مختلف مقامات سے دریافت کرنے سے اگر یقین یاظن غالب اس کے صدق کا ہوتوقبول ورنہ مردود ،لاکھوں روپے کے کاروبار مرنے وجینے کے حالات تارکی خبر پر تسلیم کئے جاتے ہیں ،کوئی بھی ان میں ترددنہیں کرتا اورنہ کبھی اس میں سناگیاہے کہ فلاںمقام میں رویۃ ہلال کی خبر میںتار والوں نے اہل اسلام کوجھوٹی خبر دے کر روزہ رکھایا ہو یاعید کرائی ہو ،اورنہ ان کو اس جھوٹی خبر دینے سے فائدہ ہی کیاہے، ان کو تو ملکوں سے کام ہے کسے باشد۔
    حاجی لوگ سفرحج سے کسی حاجی کے مرنے کی خبر تار کے ذریعے دیتے ہیں اس پرعمل ہوتا ہے جنازہ غائب بھی پڑھاجاتاہے کوئی اعتراض نہیںکرتا، یہ جنازہ امر دینی نہیں؟ توکیاہے نیز اول توتارکے کارکن سارے کافر نہیںہوتے بلکہ مسلم بھی ہوتے ہیں نیز روپیہ زیادہ خرچ کرکے خالص مسلمانوں ہی کو ذریعہ خبر رسانی تار کابنایاجاسکتاہے، فافھم وتدبر،
    مولاناعبدالحی لکھنویؒ کے مجموعہ فتاوی جلداول مطبوعہ یوسفی پریس لکھنو کے ص ۲۸۱ میں ہے شہادت خطوط یا تار برقی پس چند فقہا ایسے مقامات میں الخط یشبہ لکھتے ہیں لیکن ایسی صورت میںکی ظن حاصل ہوجائے اورشبہ قوی باقی نہ رہے اورخبر تار تاخط بدرجہ پہنچ جائے اس پر عمل ہوسکتاہے اوربحسب اقتضاء انتظام زمانہ حال اس پرحکم عام بھی دے سکتے ہیں، انتھی،
    منع کے دوسرے شبہ کاجواب یہ ہے کہ رویت ہلال کواگر چہ فقہانے من وجہ شہادت لکھا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھاہے کہ یہ امر دینی ہے لہٰذا رویت اخبار کے مشابہ ہے اس لئے اس میں شہادت ونصاب شہادت اورخصوصیت حریت وذکور یت وغیرہ بھی شرط یاضروری نہیں۔ حتی کہ غیر عادل یعنی مستورواحد کی رویۃ بھی کافی ہے تفصیل ہدایۃ اوراس کے شروح وحواشی وغیرہ میںہے تیسرے شبہ کاجواب یہ ہے کہ اول توقضا قاضی کی شرط کتاب وسنت سے ثابت نہیں، دوم فقہانے اس امر کودینی اور مشابہ روایت اخبارلکھاہے توپھر قضاقاضی کی شرط یہ بھی نہ رہی ،سوم ہندوستان میں قضاء کامحکمہ ہی نہیں اگر مفتی عالم کوقائم مقام قاضی ہی بنایا جائے ، تودیہات میں یہ بھی اکثر نہیں ہوتے اورحکم شرع کاعام ہے لہٰذا شرط باطل شبہ ۴کاجواب بھی ۳ میںآگیاہے کہ نصاب شرط نہیں اگرہوبھی تویہ بھی تار کے ذریعے ہوسکتاہے شبہ ۵ کاجواب یہ ہے کہ اوپر کی تحقیق سے مخبر کی معرفت بھی ہوسکتی ہے مکررسہ کردریافت کرنے سے اورٹیلفون کامعاملہ توبالکل واضح ہے کہ اس میں ایک مسلم دوسرے مسلم سے باقاعدہ گفتگو کرسکتاہے اس کی آواز کوپہچان سکتاہے شہادت وغیرہ سب امور طے ہوسکتے ہیں لہذا ٹیلیفون کے ذریعہ ثقہ کی روایت ہلال کی خبر معتبر ہے۔
     
  5. ‏جون 29، 2017 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جواب۔ ۴:۔ ریڈیو بھی اسی قسم سے ہے اگر اس کاحال معلوم ہے کہ ثقہ خبر دیناکرتا ہے اورآواز بھی اس کی پہچانتے ہیں تومعتبر ہے ورنہ نہیں اور تمام ہندوستان کوریڈیو کی خبر پرعید کرنے کاجواب(۱)اور(۲) میںآچکا ہے کہ صرف متفق المطالع شہر اس پر عمل کریںگے مختلف المطالع اس پر عمل نہ کریں گے مولانا نے اخبار میں لکھا ہے کہ اہل حدیث کے نزدیک دوردراز کی رویت ہلال حجت نہیں، یہ فیصلہ صحاب کرام کے زمانے میں ہوچکاہے انتھی، میں کہتا ہوںکہ مولانا نے کچھ تفصیل نہیں کی صحابہ کا یہ کون سا فیصلہ ہے اورکس کس محدث کے نزدیک دورکی رویت حجت نہیں غالبا مولانا کی مراد اس سے روایت کریب میں عبداللہ بن عباس ؓ کاقول مراد ہے۔
    ............
    کہ کریب نے ملک شام سے آکر ابن عباس کو وہاںکی رویت ہلال کی خبر دی توابن عباس نے اس کوتسلیم نہیں کیا ، اس پرکریب نے کہا آپ امیرمعاویہ کی رویت ہلال اورروزہ پربھی اکتفانہیں کرتے ابن عباسؓ نے کہا نہیںکرتے ، ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فرمایاہے، اس کاجواب یہ ہے کہ یہ کل یااکثر صحابہ کرام کافیصلہ نہیں صرف ابن عباسؓ کا مجمل قول ہے جس کی تفسیر وتشریح مشکل ہے ہکذا کے مشار الیہ کو بتایاجائے کہ کیا ہے اور اس کاماقبل کیاکیا ہے جب تک اس مشار الیہ قطعی طورپر معین نہ ہوا س سے کچھ بھی ثابت نہیںہوتا اوراس کامشار الیہ قطعا معین ہوہی نہیں سکتا، شائد کسی کوجامع ترمذی کے قول والعمل علی ہذا الحدیث عند اہل العلم سے دھوکہ ہو، کہ یہ فیصلہ صحابہ کاہے توجواب صرف یہ ہے کہ یہ صرف ایک صحابی ابن عباس کا قول ہے پھر یہ ثابت نہیں ہوا کہ ابن عباس کے اس قول پر دوسرے صحابہ نے بھی عمل کیایانہیںِ ہاںتین تابعی عکرمہ،قاسم ،اورسالمؒ کایہ مسلک ہے اورایک محدث اسحاق کااورایک وجہ شافعیہ کی بھی ہے ،جس کی تفصیل حافظ صاحب نے فتح الباری میں تحریر کی ہے ،اس امر میں علماء کرام کے چھ اقوال ہیں یامذاہب ہیں پھر فیصلہ صحابہ چہ معنی، یوں کہئے کہ ایک صحابی کاقول ہے وہ بھی مجمل جس کی تشریح مشکل، نیل الاوطار میں صاف لکھا ہے کہ یہ مسئلہ اجتہادی ہے صرف ابن عباس کااجتہاد حجت نہیں ہوسکتا پس قصہ ختم صحیح وہ جو اوپر لکھا جا چکاہے۔
     
  6. ‏جون 29، 2017 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,033
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جواب۵: اس سوال سے اگر یہ غرض ہے کہ بارہ بجے دن کے دوسرے شہر سے خبر آئی کہ وہاں کل گزشتہ مغرب کوچاند دیکھا گیا تواس کاجواب نمبرایک میں آچکاہے کہ بعد تحقیق وثبوت متفق المطالع شہر سے خبر آنے پر بعد دوپہر بھی روزہ افطار کیاجائے ،اوراگر یہ غرض ہے کہ بارہ بجے دن کے کسی نے اپنے شہر میں چاند دیکھا تواس میں سلف کے دوقول ہیں کہ آیا وہ چاند شب آئندہ کا ہے یاگزشتہ کا، راجح قول اول ہے۔ واللہ اعلم
    (المجیب ابوسعید شر ف الدین مدرسہ سعیدیہ عربیہ پل بنگش دہلی ) نور توحید لکھنو، ۱۰تا۲۵جولائی ۱۹۵۱ء)
    سوال: ماقولکم رحمکم اللہ تعالی،اندریں صورت کہ جو خبر رویت ہلال بذریعہ تار کے آوے بمبی وغیرہ سے اس کو معتبر جان کرعمل کرناجائز ہے یانہیں بینواتوجروا؟
    جواب: جوخبر رویت ہلال کی بذریعہ تار کے آوے وہ لائق قبول نہیںہے بیان اس کایہ ہے کہ اگر وہ خبر رویت ہلال فطر ہے تو وجہ عدم مقبولیت اسکی یہ ہے کہ وہ خبر خبر محض نہیں ہے بلکہ شہادت ہے اورشہادت میں لفظ اشہد اورمجلس قاضی اورنصاب شہادت ضرور ہے کما ہو مصرح فی کتب الفقہ اورخبر تارمیں ان سب امور کا تحقق غیر مسلم ہے، ومن یدعی فعلیہ البیان ، اوراگر خبر رویت ہلال صیام ہے پس اگرچہ خبر خبر محض ہے شہادت نہیں ہے لیکن چونکہ اس خبر کی تبلیغ میں واسطہ کفار ہوتے ہیں اورخبر کافر کی دیانات میں معتبر نہیں ہوتی ہے اس لئے معتبر نہ ہو گی، درمختار میں مرقوم ہے ،خیر الکافر مقبول بالاجماع فی المعاملات لا فی الدیانات ،انتھی، اوراگر بالفرض جملہ کارکنان محکمہ تارمسلمین وعدول ہوں توبھی یہ خبر معتبر نہ ہوگی ،کیوں کہ یہ خبر الغائب للغائب ہے اورخبر الغائب للغائب میں ضرور ہے کہ کوئی امر ایسا ہوجودلالت کرے اس بات پر کہ یہ خبر اس شخص کی ہے کہ جس کو ہم مخبر جانتے ہیںمثلا جب کوئی کنایۃ خبر دے توضرور ہے کہ مکتوب کاتب کے خط کو پہچانتاہو، تدریب الراوی میں مرقوم ہے۔
    الخامس یصح السماع ممن ھو وراء حجاب اذا عرف صوتہ ان حدث بلفظا وعرف حضورہ بسمع ای کان یسمع منہ ان قری علیہ و یکفی فی المعروفۃ بذلک خبر ثقۃ من اھل الخیرۃ بالشیخ ،انتھی، اوربھی اس میں مرقوم ہے ،ثم یکفی فی الروایۃ بالکتابۃ معرفۃ ای المکتوب لہ خط الکاتب وان لم تقم البینۃ علیہ ، انتھی، اورمانحن فیہ میں تحقیق کس امرکا مانند معرفت صوت ومعرفت خط کے مسلم نہیں ہے ، ومن یدعی فعلیہ البیان ۔ پس خبر تار غیر معتبر ٹھہری وہوالمطلوب ،واللہ اعلم وعلمہ اتم، (کتبہ محمد بشیر)
    اصاب من اجاب فیما اعلم واللہ اعلم وعلمہ اتم ، کتبہ محمد بن عبدالعزیز الجعفری المدعو بشیخ محمد القاضی فی بھوپال)
    اصاب من اجاب واللہ اعلم بالصواب انا العبد المتواری السید عبدالباری وفقہ اللہ للخیر الجاری وصانہ عن التماری ،
    اصاب من اجاب واللہ اعلم بالصواب ،کتبہ ،ابوالعالیۃ محمد سلامت ،
    الجواب صحیح، ذوالفقار احمد ، بذالجواب صحیح ،کتبہ محمد انور علی ۔
    سید محمد نذیر حسین ،فتاوی نذیریہ جلد اول ص ۵۱۱،
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں