1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رکعات تراویح میں سنت نبوی ﷺ اور تعاملِ صحابہ

'فضائل روزہ' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏جولائی 30، 2011۔

  1. ‏جولائی 30، 2011 #11
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,976
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    روایت 4:
    سنن کبری بیہقی جلد ۲ ص ۴۹۶ میں یزید بن خصیفہ کے طریق سے ہے۔
    حضرت عمرؓ کے عہد خلافت ميں لوگ ماه رمضان ميں بيس ركعت پڑھا کرتے تھے۔ راوی کا بیان ہے کہ مئین سورتیں پڑھتے اور حضرت عثمانؓ کے عہد میں شدت قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے۔
    یہ اثر کئی وجہ سے ضعیف ہے۔
    دیگر کئی آثار حضرت عمرؓ کی طرف نسبت کئے جاتے ہیں لیکن وہ سب متکلم فیہ ہیں۔ ایسے ہی بعض آثار حضرت علی، ابی بن کعب اور عبد اللہ بن مسعود کی طرف منسوب ہیں لیکن کوئی بھی جرح وقدح سے خالی نہیں۔
    اس لئے اقرب الی الصواب یہی ہے کہ نماز تراویح گیارہ رکعت ہیں جیسا کہ حضرت عائشہؓ و جابرؓ وغیرہ کی صحیح احادیث میں گزر چکا ہے۔
    حافظ جلال الدین سیوطی رسالہ ’’المصابیح فی صلوۃ التراویح‘‘ میں امام مالک سے نقل کرتے ہیں۔
    ہمارے اصحاب میں سے جوری مالك سے نقل كرتے ہیں کہ وه فرماتے ہيں۔ جس شی پر حضرت عمر بن الخطاب نے لوگوں کو جمع کیا تھا۔ وہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اور وہ گیارہ رکعت ہیں۔ یہی رسول اللہ (ﷺ) کی نماز ہے۔ امام مالکؒ سے پوچھا گیا کیا گیارہ رکعت بمعہ وتر؟ فرمایا: ہاں اور تیرہ رکعت بھی قریباً اور فرمایا میں نہیں جانتا کہ یہ کثرت تعداد رکعت کہاں سے بدعت نکال لی ہے۔
    مندرجہ بالا ساری بحث سے ثابت ہوا کہ رکعات تراویح میں سنت نبوی اور تعاملِ صحابہ آٹھ رکعت ہے۔

    بعض علماء نے سنت نبوی آٹھ ركعت تسليم كر لينے كے باوجود صحابہ سے بيس ركعات ثابت كرنے كی كوشش كی ہے۔ ان روایات کا ضعف ناظرین ملاحظہ فرما چکے ہیں، نیز یہ بات قابل غور ہے کہ آٹھ رکعت سنت نبوی ثابت ہو جانے کے بعد بعض صحابہ کا عمل

    اگر بالفرض وہ زیادہ ثابت کر بھی دیں تو اس کی کیا پوزیشن ہو گی؟ انہیں اِنَّ خَيْرَ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ (ﷺ) مد نظر رکھنا چاہئے۔ صحابی شارع نہیں ہوتا کہ وہ مستقلاً قابل اتباع ہو۔ ھٰذَا مَا عِنْدِيْ وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 30، 2011 #12
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ خیرا کلیم بھائی جان
     
  3. ‏جولائی 30، 2011 #13
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاک اللہ کلیم بھائی
     
  4. ‏جولائی 02، 2014 #14
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,620
    موصول شکریہ جات:
    415
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏جولائی 06، 2014 #15
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا کلیم بھائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں