1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

رہنمائی درکار ہے ! اس مالی معاملے میں ۔۔۔

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن حمزہ, ‏ستمبر 26، 2017۔

  1. ‏ستمبر 26، 2017 #1
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    222
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔۔
    اس مسئلے میں علماء کرام سے رہنمائی کی درخواست ہے!!!
    ایک خاتون نے پاکستان سے اپنی بہن کو جو سعودیہ میں مقیم ہیں کچھ رقم بھیجی جو 3000 سعودی ریال بنتی تھی ۔ اور ان سے کہا کہ سونے کے کڑے خرید کر بھیج دیں ۔ وہ اپنے شوہر کی مصروفیات کی وجہ سے اور کچھ اس انتظار میں کہ سونا سستا ہو گا تو لوں گی ۔۔ نہ لے سکیں حتی کہ 3 سال گزر گئے اور دوسری بہن کی بچی کی شادی آگئی اور ان کو خرید کر بھیجنے پڑے۔۔
    جب رقم دی گئی تھی تو سونا 150 ریال فی گرام تھا اور جب انہوں نے خریدا تو سستا ہونے کے بجائے مہنگا ہو گیا اور 220 ریال فی گرام ہو گیا اور وہ 6500 ریال کے خریدے۔
    اب وہ کہتے ہیں کہ جو اوپر رقم لگی ہے وہ سعودیہ والی بہن ادا کرے اور بلکہ کسی سے فتوی پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مزید دو تولہ سونا بھی دیں۔۔ ان کے حالات اچھے نہیں ہیں اور سخت پریشان ہیں ۔۔
    اب سوال یہ ہے کہ جو خرچہ اوپر آیا ہے وہ کون ادا کرے گا؟؟
    اگر ممکن ہو تو ایک دو دن میں جواب دے دیں ۔۔
    جزاکم اللہ خیرا۔۔
     
  2. ‏ستمبر 27، 2017 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,736
    موصول شکریہ جات:
    5,257
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    علمائے کرام کے جواب کا انتظار فرمائیے۔ ان واقعات میں حساب کتاب تو کچھ یوں بنتا ہے، اگر پیش کردہ اعداد و شمار درست ہیں تو۔

    () 220 ریال فی گرام کے حساب سے اس وقت 6500 ریال کا سونا خریداگیا۔ یعنی 29.55 گرام سونا خریدا گیا۔

    () تین سال قبل سونے کا ریٹ 150 گرام فی ریال تھا۔ اتنا ہی سونا اگر اس وقت خریدا جاتا تو اس کی قیمت 4432 ریال ہوتی۔

    () پاکستانی بہن نے تو تین سال قبل محض 3000 ریال بھیجے تھے۔ اس وقت کے سونے کے ریٹ کے حساب سے انہیں صف 20 گرام سونا ملنا تھا۔ جبکہ انہیں ساڑھے انتیس گرام سونا ملا۔

    () چنانچہ پاکستانی بہن کو اضافی 9.55 گرام سونے کی کل قیمت (تین سال قبل کے ریٹ 150 ریال فی گرام) کے حساب سے 1432 ریال مزید ادا کرنے ہوں گے۔

    ٓآپ کے بیان اور پیش کردہ اعداد و شمار میں عدم مطابقت ہے۔ دوبارہ سے چیک کرکے تین سال پہلے سونے کی قیمت اورآج سونے کی قیمت لکھئیے۔ اور یہ بھی کنفرم کیجئے کہ آج کتنا سونا خریدا گیا ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 27، 2017 #3
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    222
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    جزاکم اللہ خیر ۔
    پوچھ کر بتاؤں گا ان شاء اللہ
     
  4. ‏ستمبر 30، 2017 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,127
    موصول شکریہ جات:
    8,177
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جتنے پیسے سونا خریدنے کے لیے بھیجے گئے ، اتنے پیسوں کا جتنا بھی سونا آئے ، وہی دینا ضروری ہے ۔ سونے کا سستا یا مہنگا ہونا ، اس کا فائدہ یا نقصان پیسے بھیجنے والوں کو ہے ۔ جنہوں نے خرید کر دینا ہے ، ان کا اس میں کوئی تعلق نہیں ۔
    ہاں البتہ اگر تین سال پیسے رکھ کر استعمال کیے گئے ہیں ، یا خریدنے میں سستی کی گئی ہے ، تو یہ چیزیں اخلاقیات اور خیرخواہی کے منافی ہیں ، جن کا حساب اللہ کے ہاں ہی ہوگا ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں