1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ریاستی سطح پر دور خلفاء الراشدین میں پردہ کا نفاذ اور جدید عورت

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏ستمبر 25، 2019۔

  1. ‏ستمبر 25، 2019 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    کیا خلفائے راشدین نے پردے کو ریاست کی سطح پر نافذ کیا تھا؟

    تحریر: حافظ محمد زبیر حفظہ اللہ
    ----------------------------------------------------------------
    دوست کا سوال ہے کہ کیا خلفائے راشدین نے پردے کو ریاست کی سطح پر نافذ کیا تھا تا کہ معلوم ہو سکے کہ اسلامی ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ عورتوں کو مخصوص لباس کا قانونا پابند بنا سکے؟ جواب: اوائل اسلام میں دو طرح کی عورتیں تھیں؛ ایک آزاد اور دوسری لونڈیاں۔ آزاد عورتیں وہ تھیں جنہیں معاشرے میں ایک خاص اسٹیٹس حاصل تھا جو لونڈیوں سے بہر صورت زیادہ تھا۔ یہی عورتیں بیویاں بنائی جاتی تھیں، مرد انہی کے قدر دان تھے، معاشرے میں ان کا ایک مقام، مرتبہ اور ٹہکا ہوا کرتا تھا اور ساتھ میں اگر خاندانی بھی ہوتیں تو ایک خاص قسم کا رعب اور دبدبہ بھی ہوتا تھا۔ دوسری قسم کی عورتیں لونڈیاں کہلاتی تھیں، جن کا اصلا مقصد خدمت تھا اور وہ یہ خدمت مردوں کی بھی کیا کرتی تھیں۔ ان کی حیثیت ایک پراڈکٹ کی سی تھی جسے بازاروں میں بیچا اور خریدا جاتا تھا۔

    اوائل اسلام میں اس بات کا لحاظ کیا گیا کہ دونوں قسم کی عورتوں کے لباس میں فرق رہے تا کہ دونوں کی کیٹیگریز میں فرق باقی رہے۔ آزاد اور خاندانی عورت کے لیے یہ لازم تھا کہ وہ حجاب کرے جبکہ لونڈیاں اپنے ہاتھ، پاؤں، چہرہ اور سر بھی کھلا رکھتی تھیں۔ صحیح آثار اور تاریخی روایات میں مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس لونڈی کو مارتے تھے جو حجاب کرتی یا اپنا چہرہ چھپاتی یا سر ڈھک لیتی تھی تا کہ اس کی آزاد عورتوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے لیے علیحدہ علیحدہ لباس ریاستی سطح پر نافذ کر رکھا تھا۔ اب اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ کیا بعد کے زمانوں میں بھی ایسا ہی حکم جاری ہو گا؟ تو اس بارے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ بعد کے زمانوں میں چونکہ فتنہ زیادہ بڑھ گیا ہے لہذا لونڈیوں کو بھی حجاب کا حکم جاری کیا جائے گا۔

    انسان قرون اولی سے قرون وسطی، اور قرون وسطی سے دود جدید میں داخل تو ہو گیا لیکن عورتوں کی یہ تقسیم باقی رہی، بس اصطلاحات بدل گئیں کہ لونڈی کا تصور اور مقصد ماڈل اور فنکارہ کے نام سے پورا ہونے لگا۔ آج بھی کچھ عورتیں وہ ہیں جنہیں بیوی بنا کر گھر کو زینت بخشی جاتی ہے اور کچھ عورتیں مردوں کو خوش کرنے کے لیے گویا کہ وقف ہیں۔ پرانے زمانے میں لونڈی کے بھی خیر کچھ حقوق ہوتے تھے کہ مرد اس سے استفادہ کرتا تھا تو اس کے خرچے اور نان نفقے کی ذمہ داری بھی اٹھاتا تھا لیکن آج کل کی لونڈیوں کو تو وہ بھی حاصل نہیں ہیں۔ یہ مفت میں مردوں کو خوش کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں، اور اس پر مستزاد یہ کہ مردوں نے انہیں یہ سجھا دیا ہے کہ یہی اصلا آزادی ہے۔ اور اب تو ان ماڈرن لونڈیوں کی صورت حال یہ ہے کہ مردوں پر ایسے ڈل رہی ہوتی ہیں جیسے ان کی کوئی عزت نفس، وقار اور شخصیت ہے ہی نہیں۔ ذرا ابھی اسی وقت کوئی ٹاک شو لگا کر دیکھ لیں کہ جس میں کسی ماڈل کے ساتھ کسی مرد کو بٹھایا گیا ہو تو آپ دیکھیں گے کہ وہ ماڈل ایسے اس مرد پر گر رہی ہو گی جیسے اس نے مرد پہلی مرتبہ دیکھا ہو۔

    تو ہماری رائے میں دور جدید میں خاندانی عورتوں اور ماڈرن لونڈیوں میں فرق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحابہ کے اس فرق کو ملحوظ رکھا جائے اور صرف خاندانی اور شریف عورتوں کو ہی حجاب کے احکامات ریاستی سطح پر جاری کیے جائیں۔ اور جن عورتوں کا مقصد ہی مردوں کی خدمت اور ان کو خوش رکھنا ہے، انہیں حجاب کے حکم سے مستثنی قرار دے دیا جائے تا کہ جو عورت جس مقصد کے لیے ہے، وہ مقصد اچھی طرح سے پورا ہو سکے۔
     
  2. ‏ستمبر 25، 2019 #2
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    ماڈرن لونڈیاں (Sexual Objectification of Women through Media)

    تحریر: حافظ محمد زبیر حفظہ اللہ
    ------------------------------------------------------------------
    کل عورتوں کی معاشرتی حیثیت اور حجاب کے بارے ایک پوسٹ لگائی تھی کہ جس پر بعض دوستوں نے یہ کہا کہ نیم برہنہ لباس میں ملبوس ماڈلز اور اداکاراؤں کے لیے لفظ لونڈی کا استعمال، ان کی تحقیر اور توہین کے مترادف ہے۔ مجھے اس کے جواب میں یہ کہنا ہے کہ جیسے زمانہ قدیم میں عورتوں کی دو کیٹیگریز تھیں؛ آزاد اور لونڈیاں، یہی تقسیم آج بھی باقی ہے، بس اصطلاحات بدل گئی ہیں۔ اصل میں ہمارے دوست "لونڈی" کے لفظ پر زور دے رہے ہیں جبکہ ہم اس کے تصور کی بات کر رہے ہیں۔ ماضی میں لونڈی کا مقصد یہی تھا کہ وہ مردوں کی خدمت کرے، ان کا دل لبھائے، جنسی خواہشات کو پورا کرے، بغیر ان سے نکاح کیے، اور بغیر اس کے اس کو بیوی کا حق اور اسٹیٹس حاصل ہو۔ تو آج کی ماڈلز اور اداکاراؤں کی ایک بڑی تعداد یہی کام کر رہی ہے۔

    مغرب میں اس پر کافی کام ہوا ہے، البتہ وہاں کے دانشور میڈیا کی عورت کو لونڈی نہیں کہتے بلکہ آبجیکٹ کہتے ہیں۔ اور آبجیکٹیفکیشن تھیوری (Objectification Theory) تو آج سے بیس سال پہلے آ چکی تھی کہ جس کا موضوع یہ بھی تھا کہ مغربی میڈیا کس طرح سے عورت کو ایک سیکسچوئل آبجیکٹ (Sexual Object) کے طور پیش کرتا ہے اور عورت میں اس آبجیکٹیفکیشن کی وجہ سے کیا کیا ذہنی مسائل (Mental Disorders) پیدا ہوتے ہیں۔ ٹیلی۔ویژن ایڈز میں عورت کو ہی کیوں دکھایا جاتا ہے، اور وہ بھی نیم برہنہ لباس میں۔ بڑی بڑی شاہراہوں پر لگے بل بورڈز پر عورتوں کی تصویریں ہی کیوں لگائی جاتی ہیں، اور وہ بھی ماڈلز کی۔ بڑے بڑے شاپنگ سنٹرز پر سیلز گرلز کیوں بٹھائی جاتی ہیں، اور وہ بھی فل میک۔اپ میں۔ ریسپشنسٹ اور سیکرٹری عموما عورتیں ہی کیوں ہوتی ہیں اور وہ بھی جوان۔ ایئرہوسٹس عموما لڑکیاں ہی کیوں ہوتی ہیں۔ ظاہری بات ہے یہ سب مردوں کو خوش کرنے کے لیے ہے کیونکہ عموما کماتے وہ ہیں اور لگاتے بھی وہی ہیں۔

    تو ہماری رائے میں فی زمانہ بھی بے پردہ عورتوں کی معاشرتی حیثیت مردوں کو لبھانے والی ایک پراڈکٹ سے زیادہ نہیں ہے اور یہ پراڈکٹ مارکیٹ میں بکتی بھی ہے، اس کی قیمت بھی لگتی ہے۔ تو آج کی عورت بھی اپنی معاشرتی حیثیت میں دو کٹیگریز میں تقسیم ہے، کوئی مانے یا نہ مانے، یہ ایک امر واقعہ ہے۔ اس کے انکار سے وہ تقسیم ختم نہیں ہو جائے گی۔ مردوں نے ایک عورت اپنا گھر بسانے کے لیے رکھی ہوئی ہے کہ جس سے وہ اپنی نسل آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور ایک محض دل پشوری کے لیے کہ جس سے ان کا صرف اتنا مقصد ہے کہ وہ انہیں خوش کر دے۔ تو زمانہ قدیم میں لونڈی ایک آبجیکٹ تھی جبکہ بیوی ہیومین بیئنگ تھی۔

    ایک یونیورسٹی اسٹوڈنٹ کا اپنی کزن کی طرف رشتہ ہو گیا لیکن وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا لیکن اس کا کہنا یہی تھا کہ میری فی۔میل کزن بھی یونیورسٹی میں پڑھتی رہی ہے۔ اب میں اس کی کاؤنسلنگ نہیں کر پایا کیونکہ اس نے یونیورسٹی کا ماحول خود سے دیکھا تھا لہذا اس کا خیال یہی تھا کہ کو۔ایجوکیشن والی یونیورسٹی کی بے پردہ فی۔میل اسٹوڈنٹ ایک آبجیکٹ ہے، ہیومن بیئنگ نہیں۔ آپ اس طالب علم کو جنونی کہہ لیں یا بے وقوف، لیکن اس سے امر واقعہ ختم نہیں ہو جائے گا، اور وہ یہی ہے کہ کچھ عورتیں بیویاں بننے کے لیے پیدا ہوئی ہیں اور کچھ لونڈیاں بننے کے لیے۔ اب یہ عورت کے اوپر ہے کہ اس نے کیا بننا ہے۔
     
  3. ‏ستمبر 25، 2019 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    جدید عورت: آبجیکٹ سے سیکس ٹوائے تک (Modern Woman: From an Object to a Sex Toy)

    تحریر: حافظ محمد زبیر حفظہ اللہ
    کل ماڈرن لونڈیوں کے عنوان سے ایک پوسٹ لگائی تھی تو دوستوں نے مختلف قسم کے ریسپانسز دیے۔ تو سوچا اپنے موقف کو مزید نکھار کر بیان کر دوں۔ بعض دوستوں نے طعنہ دیا کہ اب مولانا صاحب یہ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل نہ کریں۔ تو بھئی ہم نے یہ نہیں کہا کہ لڑکیاں ہائر ایجوکیشن حاصل نہ کریں اور لڑکیوں کے یونیورسٹی جانے کے خلاف نہیں ہیں البتہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ لڑکیوں کو کو۔ایجوکیشن والی یونیورسٹیز میں نہیں بلکہ لڑکیوں والی یونیورسٹی میں جانا چاہیے۔ تو ایسی سوچ میں حرج ہی کیا ہے؟ لڑکیوں کی یونیورسٹیز، لڑکیوں کے لیے ہی تو بنائی گئی ہیں، یا لڑکوں کے لیے ہیں تو بتلا دیں؟ اور اکثر وبیشتر پوسٹ گریجویٹ گرلز کالجز، یونیورسٹیز کا درجہ پا چکے اور جو نہیں بھی پا سکے، وہ بھی بی۔ایس اور ماسٹرز وغیرہ تو کروا ہی رہے ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کو۔ایجوکیشن میں بچوں کا سی۔جی۔پی۔اے (CGPA) نسبتا زیادہ گرتا ہے تو پھر اس کی طرف دوڑ کیوں؟

    بعض دوستوں نے کہا کہ آپ عورت کے باہر جا کر ملازمت کرنے کے خلاف ہیں تو ایسا بھی نہیں ہے۔ عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے، ضرورت کے تحت بھی اور ملازمت کے لیے بھی لیکن ملازمت ملازمت میں فرق ہے۔ ایک عورت لڑکیوں کے کسی اسکول میں بچیوں کو تعلیم دے رہی ہے، یہ ہر گز آبجیکٹ نہیں ہے لیکن جو سیلز گرل کے طور پر شاپنگ مال میں بن سنور کر کھڑی ہے اور مخصوص انداز کی ٹائٹس پہنے شیمپو بیچ رہی ہے، تو وہ ایک آبجیکٹ ہی ہے۔ اس پر پڑنے والی مردوں کی نظریں بتلا رہی ہیں کہ وہ آبجیکٹ ہے۔ باقی وہ مجبوری کے تحت ایسا کر رہی ہے، اس کے گھر کے حالات ایسے ہیں، اللہ نے اسے گناہ دینا ہے یا ثواب دینا ہے، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔

    میرا موضوع تو صرف اتنا ہے کہ کون سی عورت مرد کے لیے آبجیکٹ ہوتی ہے اور کون سی ہیومن بیئنگ۔ اور بعض جابز ایسی ہیں کہ ان میں عورت آبجیکٹ ہی بنتی ہے اور آبجیکٹ ہی رہتی ہے، اسے ہیومن بیئنگ بننا نصیب نہیں ہوتا۔ قندیل بلوچ نے روڈ ہوسٹس کی جاب کی تھی، تو کیا نتیجہ نکلا؟ اب مردوں کو گالیاں دیں، وہ تو دو میری طرف سے بھی دے دیں لیکن روڈ ہوسٹس ایک آبجیکٹ ہے، مرد نے تو اسے دیکھنا ہی ہے۔ بلکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ وہ مردوں کو دکھلانے کے لیے ہی تو رکھی گئی ہے۔ تو مرد اسے دیکھے گا نہیں تو کیا کرے گا؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ حسب حال، مذاق رات اور خبر زار جیسے ٹاک شوز میں بھی جو عورت ہنسانے کے لیے، سوال کرنے کے لیے، خبریں پڑھنے کے لیے بٹھائی جاتی ہے تو وہ ایک آبجیکٹ نہیں ہے کیا؟ اگر آبجیکٹ نہیں ہے تو اس کی جگہ مرد بھرتی کر لیں، پھر دیکھیں، شو کتنا کامیاب رہتا ہے۔

    اسی طرح ہم نے گھر سے بے پردہ نکلنے والی ہر عورت کو ماڈرن لونڈی نہیں کہا۔ البتہ یہ ضرور کہا ہے کہ گھر سے نکلنے والی ہر بے پردہ عورت، مرد کے لیے ایک "آبجیکٹ" ہے نہ کہ ہیومن بیئنگ یعنی مرد کے لیے وہ دیکھنے کی ایک شے ہے جیسا کہ دوسری چیزیں نہ کہ کوئی انسان۔ یعنی بے پردہ عورت سے مرد کو پہلی فیلنگ، آبجیکٹ والی محسوس ہوتی ہے نہ کہ ہیومن بیئنگ والی۔ دوسرا وہ عورتیں جو ماڈلز اور اداکارائیں ہیں اور نیم برہنہ لباس میں (revealing clothes) میں ملبوس ہوتی ہیں تو انہیں ہم نے ماڈرن لونڈیوں سے تشبیہ دی تھی۔ بعض دوستوں نے کہا کہ زمانہ قدیم کی لونڈیاں تو مجبور تھیں اور یہ اپنی آزاد مرضی سے یہ پیشہ اختیار کرتی ہیں تو لونڈی کیسے ہو گئیں وغیرہ وغیرہ؟ تو اس کا علمی جواب تو یہی ہے کہ تشبیہ "من وجہ" ہوتی ہے یعنی ایک پہلو سے ہوتی ہے۔ جب آپ کسی نشی کو مجازا "جہاز" کہہ دیتے ہیں تو کوئی یہ اعتراض کرے کہ جہاز تو اڑتا ہے، یہ تو اڑتا نہیں ہے تو ایسے شخص کو نہ زبان کی سمجھ ہے اور نہ ہی اس کے استعمال کا ڈھنگ آتا ہے۔

    تو میڈیا کی عورت کو ماڈرن لونڈی کہنے میں "وجہ تشبیہ" یہ تھی کہ زمانہ قدیم میں لونڈی بھی ایک آبجیکٹ تھی اور آج میڈیا کی عورت بھی آیک ابجیکٹ ہی ہے۔ بیوی اور لونڈی میں یہی بنیادی فرق ہی یہی ہے کہ بیوی ہیومن بیئنگ کی طرح نکاح میں آ کر مرد کی جنسی خواہش پوری کرتی ہے اور لونڈی سے خواہش ایک آبجیکٹ کی طرح بغیر نکاح کے پوری کی جاتی ہے۔ باقی میڈیا کی یہ لونڈیاں کام یہی کر رہی ہیں لیکن انہیں تاک جھانک کر مردوں کا ان سے اپنی خواہش پوری کرنا جائز نہیں ہے۔ کسی نے یہ بھی کہا کہ حافظ صاحب تکبر میں مبتلا ہیں تو میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اگر قندیل بلوچ سے بھی اپنے آپ کو بہتر سمجھوں۔ میرا موضوع یہ نہیں ہے کہ میڈیا کی عورت جنت میں جائے گی یا جہنم میں، گناہ گار ہے یا نیکوکار، مجھے اس سے کیا لینا دینا بھائی۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اللہ عزوجل نے ایک کتے کو پانی پلانے کی وجہ سے ایک طوائف کو معاف کر دیا۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک نیکوکار عورت ایک بلی کو باندھنے کی وجہ سے جہنم میں چلی گئی۔ تو آخرت کا معاملہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔

    میں تو معروضی حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ میڈیا کی عورت، آبجیکٹ بن کر مفت میں مردوں کی خواہشات پوری کر کے ماڈرن لونڈی کا کردار ادا کر رہی ہے اور بیوی بنانے کو اسے کوئی تیار نہیں ہے، اگر ہے بھی تو اسی کے قبیلے کا غلام، اور وہ بھی زیادہ دیر بیوی بنا کر نہیں رکھتا، جلد ہی طلاق دے دیتا ہے کیونکہ وہ بیوی بننے کے اہل ہی نہیں ہے۔ وہ آبجیکٹ سے ایک سیکس ٹوائے بن چکی ہے لہذا شادی کے بعد بھی اگر وہ اپنا مقصد پورا کرتی رہے تو شادی باقی رہے گی، ورنہ علیحدگی ہو جائے گی۔ اگر اس کی شادی ہو بھی جائے گی تو شوہر کو اس سے بچے اور نسل نہیں، بس صرف سیکس چاہیے ہو گا کہ وہ گھر میں ہیومین بیئنگ نہیں، ایک آبجیکٹ لے کر آیا ہے۔ اور وہ اسے ایک آبجیکٹ کی طرح ڈیل کرے گا نہ کہ ہیومن بیئنگ کی طرح۔ اور اس طرح یہ رشتہ زیادہ عرصہ چل نہیں پائے گا۔ عورت میں حیاء کا وصف جس قدر ہو گا، اسی نسبت سے ہیومن بیئنگ کی فیلنگ دے گی اور جس قدر بے پردہ ہو گی، اسی قدر اپنے آبجیکٹ ہونے کا اظہار کرے گی۔ اب اس پر ریسرچ کر لو۔
     
  4. ‏ستمبر 25، 2019 #4
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    لونڈی اور طوائف کا فرق

    تحریر: حافظ محمد زبیر حفظہ اللہ

    -------------------------
    دوست کا سوال ہے کہ کیا لونڈی اور طوائف ایک ہی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے اپنے ایک حالیہ آرٹیکل میں اسے ایک ہی معنی میں استعمال کیا ہے؟ جواب: جی بہت سے مذہبی لوگوں نے شکوہ کیا ہے کہ طوائف اور لونڈی میں فرق ہے اور ہم نے اپنے آرٹیکل میں طوائف اور لونڈی کی اصطلاح کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔ تو پہلی بات تو یہ ہے کہ جن عورتوں کی ہمارے آرٹیکل میں بات ہو رہی تھی یعنی میڈیا میں آنے والی نیم برہنہ لباس میں ملبوس عورت، بھلے وہ ماڈل ہو، اداکارہ ہو، فنکارہ ہو، ہماری نظر میں اسے طوائف کہنا جائز نہیں کیونکہ یہ لفظ بولنا کسی پر بدکاری کا الزام لگانے کے مترادف ہے کہ جس کے لیے چار عینی گواہ ہونے چاہییں۔

    دوسرا جو ہم نے اپنے آرٹیکل میں بیان کیا، وہ لونڈی کے بارے کوئی شرعی وضاحت نہیں تھی کہ اسلام میں لونڈی یہ یہ ہے یا اس کے یہ احکامات ہیں بلکہ ایک امر واقعہ کا بیان تھا۔ دور جاہلیت میں بھی اور اسلامی تاریخ میں بھی آپ کو جو آزاد عورت اور لونڈی کی تقسیم ملتی ہے تو آپ نوٹ کریں گے کہ ناچ گانے والیوں سے لے کر طوائفوں تک کی تمام انواع لونڈیوں میں ہی پائی جاتی تھیں، نہ کہ آزاد عورتوں میں۔ آزاد عورت کافروں کی بھی ہوتی تھی تو شریف ہی ہوتی تھی، یہ عجب بات ہے۔

    حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بیوی ہندہ رضی اللہ عنہا نے جب اسلام قبول کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت فرمائی تو اس بیعت کے الفاظ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ہندہ کو کہا کہ آپ بیعت کریں کہ اسلام لانے کے بعد بدکاری نہیں کریں گی۔ تو انہوں نے جواب میں کہا: "أو تزني الحرّة ؟"۔ کیا آزاد عورت بھی بدکاری کر سکتی ہے؟ یعنی یہ ان کے حیران کن بات تھی کہ آزاد عورت سے یہ وعدہ لیا جائے کہ وہ زنا نہیں کرے گی کیونکہ آزاد عورت کے زنا کرنے کا تصور زمانہ جاہلیت میں بھی نہیں تھا، چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوتی تھی۔

    عربی ادب میں لونڈی کی ایک قسم "قیان" بہت معروف ہے۔ یہ وہ لونڈیاں تھیں جو ناچنے گانے میں ماہر ہوتی تھیں۔ ہماری تاریخ میں آزاد عورت کے ساتھ جسم فروشی (prostitution) کا کوئی تعلق نہیں رہا ہے بلکہ بازاری عورت جو بھی ہوتی تھی، وہ عموما لونڈیوں میں ہی پیدا ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لونڈیاں اپنے معیار اور اخلاق دونوں میں آزاد عورت سے کم تر ہوتی تھیں۔ پھر کوئی تو وجہ ہے ناں کہ لونڈی کی زنا کی سزا نصف ہے؟ مزید تفصیل کے لیے ابو الفرج اصبہانی کی کتاب "القیان" ملاحظہ فرمائیں کہ جس میں بنو امیہ اور بنو عباس کے دور کی فنکار لونڈیوں یا جدید اصطلاح میں ماڈل گرلز کا تعارف کروایا گیا ہے۔ علمی اصطلاح میں ان دونوں الفاظ میں عموم خصوص مطلق کی نسبت ہے۔
     
  5. ‏ستمبر 25، 2019 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,285
    موصول شکریہ جات:
    2,644
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    حافظ محد زبیر کا تعارف؟
    کیا یہ تحریریں کسی ''ڈائجسٹ'' کے لئے لکھتے ہیں؟
     
  6. ‏ستمبر 25، 2019 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,285
    موصول شکریہ جات:
    2,644
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

  7. ‏ستمبر 25، 2019 #7
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    حافظ محمد زبیر فورم کے ابو الحسن علوی ہیں
    یہاں لونڈی فقہی معنوں میں مراد نہیں
    اور نہ ستر کی فقہی بحث مراد ہے
    بلکہ روشن خیالوں کو کچھ باتوں کی طرف توجہ دلانی ہے بلکہ زیادہ بہتر انکی غیرت جھنجوڑنی ہے
     
  8. ‏ستمبر 26، 2019 #8
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,285
    موصول شکریہ جات:
    2,644
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ!
    ابو الحسن علوی صاحب تو ایک با علم ہستی ہیں!
    مجھے تو بڑی حیرت میں ڈال دیا!
    ٹھیک ہم مانتے ہیں، کہ انہوں نے فقہی معنوں میں مراد نہیں لیا!
    بہت سی باتیں اس میں قابل اعتراض ہیں! اسلام میں لونڈیوں کے ستر کے احکامات کامسئلہ تو سائیڈ پر رکھتے ہیں، لیکن یہ تو معلوم ہونا چاہیئے کہ ''لونڈی'' یا ''باندی'' ایک شرعی اصطلاح ہے، اس اصطلاح کے ساتھ تو یہاں کھلواڑ کیا گیا ہے!
    اس سے بہتر تو یہی تھا کہ طوائف کہہ دیتے!
    یہ بات بھی درست نہیں! طوائف کا زانیہ ہونا ضروری نہیں! طوائف ''منورنجھن'' کروانے والی کو بھی کہتے ہیں!
    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ''آزاد عورت'' اور وہ بھی ''مسلمان آزاد عورت'' کو لونڈی کہنا کس حد تک درست ہے! بلکہ انہوں نے تو یہاں آزاد عورت پر فقہی اصطلاحی لونڈیوں کا جو ان کے نزدیک حکم ثابت ہے، وہ بھی صادر فرما دیا!
    ابو الحسن علوی بھائی! کے کئی مراسلہ بڑھیں ہیں، ان سے بہت استفادہ کیا ہے!
    مگر ان تحریروں میں مجھے فساد زیادہ نظر آتا ہے!
     
    Last edited: ‏ستمبر 26، 2019
  9. ‏ستمبر 26، 2019 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    صاحب تحریر کی سوچ اور مقصود یقینا صالح ہے،، لیکن کئی مقامات پر جس طرح موجودہ عورت بحیثیت sexual object کو اسلام میں لونڈی کے قائم مقام دیا گیا ہے یہ خطرناک ہے۔ ٹھیک ہے کہ بالعموم عہد نبوی میں عورت کی دو حیثیتیں منکوحہ اور ملک یمین موجود تھی لیکن اس لونڈی والی حیثیت کو مغرب کی تعفن زدہ sexualisation یا objectification کی مانند کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جاسکتا نہ حقیقتا نہ مجازا۔ بلکہ اسلام نے جو عفت و حیا کا تصور دیا ہے وہ ہر عورت کو شامل ہے اور اسی طرح لونڈی کو صرف جنسی تسکین کا آلہ قرار دینا بھی اسلام کی اس حکمت و بصیرت کے منافی ہے جو اُس نے لونڈی و غلام کے جواز میں رکھی ہے۔ اسکی وضاحت کی علماء کو یقینا ضرورت نہیں
    اسی طرح موجودہ عورت بحیثیت sexual object کے بالمقابل human being بول کر لونڈی کو انسانیت سے بھی گرا ہو تصور کیا جارہا ہے یا کم از کم یہ تاثر عام قاری کے لئے واضح ہے جو بذات خود اسلامی حقوق سے متصادم ہے،،، بلکہ یہ درحقیقت لونڈی کا وُہی تصور ہے جو مغرب پیش کرتا ہے اور اسلام کو ایک sex oriented مذہب قرار دے کر اُس پر تنقید کرتا ہے۔
    بہت ضروری ہے کہ جب اسلام کا بعض باطل تصورات کے بالمقابل دفاع کیا جائے تو خود اسلامی تصورات و تعبیرات کا محکم مطالعہ ہو اور ایسا نہ ہو کہ دفاع اسلام بجائے خود مغربی آلودگی سے متاثر ہوجائے۔
    ایک عام قاری جب “لونڈی صرف مرد کو لبھانے کے لئے”،،، جیسا کہ آجکل “مغربی sexual object صرف مرد کو لبھانے کے لئے” جیسا موازنہ پڑھے گا تو وہ کیا تاثر لے گا؟؟؟ کیا لونڈی بحیثیت طوائف کا تاثر واضح نہیں؟؟
    رہی بات لبرلز کو تکلیف ہونے یا نہ ہونے کی تو یہ کوئی دلیل نہیں جس بنا پر ایک دینی تصور کو مسخ کرنے کا جواز مل جائے،،، لبرلز کی چیخیں کوئی اہم کام نہیں وہ بات بات پر نکل جاتی ہیں،،، اصل بات یہ ہے کہ حقیقی اسلامی تصور و علم کو عام کیا جائے اور اُسی کی روشنی میں تربیت و اصلاح ہو۔ وگرنہ اگر اسطرح کے ناقص رویہ کو روا رکھا گیا تو یہی چیخنے والے کل آپ ہی کی باتوں کے ذریعے اسلام کے بخئیے ادھیڑیں گے۔
    (ضیاء اللہ برنی)
     
  10. ‏ستمبر 26، 2019 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ایک اور صاحب کا کہنا ہے:
    مغرب اور مغرب زدہ دانشور اسلام کے لونڈی کے تصور پر واقعی ایک شہوت پرست معاشرہ یا مذھب کے طور پر ہی حملہ آور اسی سے آگے بڑھتے ہوئے نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم کی کثرت ازدواج پر بھی طعن شروع ہوتا۔ ڈاکٹر زبیر صاحب کی تحریر معاشرتی پہلوؤں کے اعتبار سے تو ایک اھم بلکہ ناسور کی طرف اشارہ ہے مگر ساتھ ہی اس میں طوائف اور لونڈی کے تصور کو مختلط کردیا گیا۔
    اس روایت کو بھی یاد کیا جائے جس میں نکاح کے باطل تصورات جو مروج تھے ان پر تنقید جبکہ لونڈی کسی کی خاص ملکیت اس کی اولاد کا سٹیٹس پھر دین میں اس کے حقوق اس کی معاشرتی حیثیت قطعا طوائف کی نہیں ہوسکتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں