1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ریاض الصالحین ۔۔۔ تحفۃ العابدین سے استفادہ

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ام اویس, ‏ستمبر 20، 2016۔

  1. ‏ستمبر 20، 2016 #1
    ام اویس

    ام اویس مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2016
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    حدیث نمبر ۷

    الله تعالی کی خوشنودی کی نیت سے انسان جو کچھ بھی خرچ کرے سب عبادت ھے ۔ حتی کہ بیوی کے منہ میں نوالہ بھی اس نیت سے دے تو وہ بھی عبادت اور اجر و ثواب کا موجب ھے
    حضرت سعد بن ابی وقاص جو ان دس صحابہ میں سے ایک ہیں جن کو زن کی زندگی میں جنت کی بشارت دے دی گئی ۔ سے روایت ھے ۔
    (۱۰ہجری میں ) حجۃ الوداع کے سال ( میں مکہ میں جاکر شدید بیمار ہوگیا) تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم فداہ ابی و امّی میری عیادت کے لئے میرے پاس تشریف لائے ۔
    میں نے عرض کیا ۔۔۔ یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم !
    آپ دیکھ رہے ہیں کہ میری بیماری خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے اور میں کافی مالدار ہوں اور میری صرف ایک بیٹی ھے ۔ تو کیا میں دو تہائی مال الله جل شانہ کی راہ میں صدقہ کر دوں ؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ! نہیں
    میں نے عرض کیا : آدھا مال یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ! نہیں ۔
    تو میں نے عرض کیا : ایک تہائی مال یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ! ہاں تہائی مال اور تہائی مال بھی بہت ھے ۔ یا فرمایا ! بڑا حصہ ھے ۔
    اور فرمایا ! یاد رکھو ! بے شک تم اپنے وارثوں کو غنی اور مالدار چھوڑو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اُن کو محتاج و مفلس چھوڑو ۔ کہ وہ ایک ایک کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ اور بے شک تم الله جل شانہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے جو مال بھی خرچ کرو گے تمہیں ضرور اس کا اجر ملے گا ۔ یہانتک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ بھی دو
    اس پر سعد بن وقاص نے عرض کیا : تو کیا یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ جاؤں گا ؟
    آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : تم پیچھے رہ بھی گئے تو جو بھی نیک کام تم الله تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرو گے یقینا اس کی وجہ سے تمہارا درجہ زیادہ اور بلند ہو گا ۔ اور غالب تو یہی ہے کہ تم پیچھے رہو گے ۔ اور تمہاری ذات سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچے گا ۔ اور بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچے گا ۔
    ( پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم دعا فرماتے ہیں )
    اے الله ! تُو میرے اصحابہ کی مکہ سے مدینہ ہجرت کو برقرار رکھنا ۔ اور ان کو پچھلی حالت پر نہ لَوٹانا ۔۔۔۔ لیکن قابلِ رحم تو ہے بے چارہ سعد بن خولہ ۔
    راوی کہتے ہیں ۔ کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقصد اس کلمہ سے سعد بن خولہ کی حالت پر افسوس اور رحم کا اظہار ہے کہ ان کی وفات مکہ میں ہو گئی ۔
    (یعنی آپ کی دعا سے پہلے ان کی وفات ہو گئی اور وہ دعا سے فائدہ نہ اٹھا سکے )
    مُتّفَق علیہ ۔
    مال کی دینی اہمیت
    تمام مالی عبادات و حقوق العباد کی ادائیگی کے بعد مال الله کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اور بڑی نعمت ھے ۔ الله سبحانہ تعالی کے احکام کے مطابق مال خرچ کرنا اس نعمت کا شکریہ اور الله تعالی کے وعدے کے مطابق مال کی زیادتی ، فراوانی اور برکت کا سبب ھے ۔ اور آخرت میں درجات کی بلندی کی وجہ ھے ۔ ایک مفلس اور غریب آدمی مال نہ ہونے کی وجہ سے ان سعادتوں سے محروم رہ جاتا ہے ۔
    اسی لئے حدیث میں "مال " کو بہترین مددگار بتایا گیا ہے ۔
    مال دیکھ بھال کر خرچ کرنا چاہئیے
    جس شخص کو الله سبحانہ و تعالی نے مال دیا ہو اسے مال دیکھ بھال کر خرچ کرنا چاہئیے ۔ سارا مال ایک ہی دفعہ ۔۔۔ صدقہ یا خیرات ہی کیوں نہ ہو ۔۔ نہیں کرنا چاہئیے ۔ بلکہ تھوڑا تھوڑا بقدر ضرورت اپنی اور اھل خانہ و رشتہ داروں ، پڑوسیوں ، حاجتمندوں وغیرہ کی ضرورت میں لگانا چاہئیے ۔
    یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں آخری وقت سمجھتے ہوئے بھی مال کو صدقہ نہ کرے ۔ کہ ورثا کی حق تلفی ہو گی اور اگر بیماری سے بچ گیا تو خود مفلس ہو جائے گا ۔
    ارشاد باری تعالی ھے ۔
    وَلَا تَبْسُطْھَا کُلُّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْماً مّحْسُوراً
    بنی اسرائیل ۔
    تم اپنا ہاتھ بالکل ہی نہ کھول دو کہ تمہیں قابل ملامت اور بے دست وپا ہو کر بیٹھنا پڑے ۔
    بیوی کے منہ میں نوالہ دینا ۔۔ ثواب کی وجہ
    انسان اپنی نادانی کی وجہ سے بیوی بچوں کی دلجوئی کو اور اُن کی ضرورتیں پوری کرنے کو ایک طبعی بلکہ نفسانی تقاضہ سمجھتا ھے ۔ اور اجر عظیم سے محروم رہتا ھے ۔ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بیوی کی دلجوئی اور اس کے حقوق کی ادائیگی کو الله تعالی کی خوشنودی اور اجر و ثواب کا موجب قرار دے کر اس کے عبادت و اطاعت ہونے سے آگاہ فرمایا ھے ۔
    ایک موقع پر ایک صحابی نے حیرت سے کہا : یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم ایک شخص اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے ۔ یہ بھی صدقہ ہے ؟
    رحمت دوعالم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے فرمایا :
    اگر یہی بوسہ وہ کسی اجنبی عورت کا لے تو اس پر گناہ ہو گا یا نہیں ؟
    صحابی نے عرض کیا ! ضرور ہو گا ۔
    اس پر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا !
    ( تو جب اس نے جائز جگہ اور طریقہ سے اپنی خواہش کو پورا کیا ) تو اس پر ضرور ثواب ملنا چاہئیے ۔
    افسوس صد افسوس ہماری نادانی ، غفلت اور محرومی پر کہ ہم نیت کی درستی کا ذرا خیال نہیں کرتے ۔ اگر ہم اپنے تمام طبعی تقاضوں ، خواہشوں اور جائز کاموں اور عادی امور میں دل میں یہ نیت اور ارادہ رکھیں کہ یہ تمام کام ہم اس لئے کر رہے ہیں کہ الله جل شانہ نے اپنی رحمت خاصہ سے ان کاموں کو ہمارے لئے حلال کیا ہے ۔ تو ہماری ساری زندگی عبادت اور ہماری ہر عادت اس کی اطاعت اور ہماری دنیا دین بن جائے گی ۔
    سبحان الله کتنا آسان ہے دین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا لیکن ہم اپنی لاپرواہی اور بے حسی کی وجہ سے اس سعادت سے محروم رہتے ہیں ۔

    مأخذ
    بیوی کی دلجوئی اور اس سے اچھا سلوک ۔۔۔
    وَعَاشِرُوْھُنّ بِالْمَعْرُوف
    اور بیوی کی ضروریات کی کفالت ۔۔۔۔
    اَلرِّجَالُ قَوّامُوْنَ عَلی النّساَء
    اور اولاد کی ضروریات کی کفالت ۔۔۔۔
    و علی الْمَوْلود لَہُ رِزْقُھُنَّ وکِسْوَتُھُنّ بِالْمَعرُوفِ
    سے ثابت ھے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں