1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زندگى كى انشورنس ( بيمہ ) !!!

'انشورنس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 01، 2014۔

  1. ‏جنوری 01، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    زندگى كى انشورنس ( بيمہ )


    كيا موت كے بعد اپنے خاندان كى مالى حالت مامون بنانے كے ليے ميرے ليے اپنى زندگى كى انشورنس كروانى جائز ہے ؟ جواب ميں دلائل سے وضاحت فرمائيں.

    الحمد للہ :

    شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے زندگى كى انشورنس ( بيمہ ) كے بارہ ميں سوال كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

    شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

    زندگى اور ممتلكات كى انشورنس شرعا حرام اور ناجائز ہے، كيونكہ اس ميں دھوكہ و فراڈ اور سود پايا جاتا ہے، اور اللہ تعالى نے امت پر رحمت اور انہيں نقصان دہ اشياء سے بچاؤ كرتے ہوئے ہر قسم كے سودى معاملات اور جن معاملات ميں دھوكہ و فراڈ پايا جاتا ہے حرام قرار ديے ہيں.



    اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ انہوں نے دھوكہ كى تجارت سے منع فرمايا.

    اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے .

    ديكھيں: فتاوى اسلاميۃ ( 3 / 5 ).
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں