1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

زندگی کزارنے کے لئے 4 چیزیں !!!

'لباس و ضروریات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 08، 2015۔

  1. ‏جنوری 08، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,505
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    زندگی کزارنے کے لئے 4 چیزیں !!!


    10931272_498997753571824_6081887637929077225_n.jpg

    2341- حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ عَبْدِالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ، قَال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي حُمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: "لَيْسَ لابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ: بَيْتٌ يَسْكُنُهُ، وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ، وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَائِ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الْحُرَيْثِ بْنِ السَّائِبِ، وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ سُلَيْمَانَ بْنَ سَلْمٍ الْبَلْخِيَّ يَقُولُ: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: جِلْفُ الْخُبْزِ يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ إِدَامٌ.

    * تخريج: تفرد بہ المؤلف (تحفۃ الأشراف: ۹۷۹۰)، وانظر حم (۱/۶۲) (ضعیف)

    (سندمیں حریث وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے، اسی لیے اسرائیلی روایات کو انہوں نے مرفوع سمجھ کر روایت کردیا ہے، دیکھیے: الضعیفۃ رقم ۱۰۶۳)

    ۲۳۴۱- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:''دنیا کی چیزوں میں سے ابن آدم کا حق سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے لیے ایک گھرہو جس میں وہ زندگی بسرکرسکے اور اتنا کپڑا ہو جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپ سکے، اور روٹی اور پانی کے لیے برتن ہوں جن سے وہ کھانے پینے کا جتن کرسکے ''۔

    امام ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،

    ۲- یہ حدیث حریث بن سائب کی روایت سے ہے،

    ۳- میں نے ابوداود سلیمان بن سلم بلخی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نضر بن شمیل نے کہا:'' جلف الخبز'' کا مطلب ہے وہ روٹی ہے جس کے ساتھ سالن نہ ہو۔

    http://forum.mohaddis.com/threads/سنن-الترمذی.15729/page-165#post-130375
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں