1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

زکواۃ کے متعلق ایک سوال

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از اویس تبسم, ‏جنوری 08، 2016۔

  1. ‏جنوری 08، 2016 #1
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    360
    موصول شکریہ جات:
    131
    تمغے کے پوائنٹ:
    69

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    زکواۃ کے متعلق میرا ایک سوال ہے کہ مثال کے طور پر میری تنخواہ 20 ہزار ہے اور ہر ماہ میرے پاس جمع ہو کر سال تک 2لاکھ چالیس ہزار ہو جاتی ہے اب مجھے کتنی زکواۃ ادا کرنا پڑے گی؟
     
  2. ‏جنوری 08، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,458
    موصول شکریہ جات:
    1,959
    تمغے کے پوائنٹ:
    639

    تنخواہ میں سے ماہانہ بچت پر زکاۃ کس طرح ادا کرے؟
    سوال: میں ایک کمپنی میں تقریبا دو سال سے ملازمت کر رہا ہوں، اور ہر ماہ اپنی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ بچت کے طور پر جمع کرتا ہوں، اور اس طرح سے دسویں ماہ میں میرے پاس اُسوقت کے مطابق نصابِ زکاۃ کے برابر رقم جمع ہوگئی تھی ، اور اس کے بعد میرے پاس موجود رقم کم زیادہ ہوتی رہی لیکن نصابِ زکاۃ سے کم نہیں ہوئی، اب میں اکیسویں مہینے میں ہوں، اور اب میرے پاس تقریبا دو گنا رقم جمع ہوچکی ہے، اور نصاب بھی بدل چکا ہے، جسکی وجہ سے میرے لئے معاملات خلط ملط ہوگئے ہیں، اور مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں کہ کس نصاب پر اعتماد کروں؟ پرانا نصاب یا نیا؟ میرے پاس موجود رقم کو بنیاد بناوں ، یا جس رقم پر سال گزرا ہے صرف اسی رقم کا اعتبار ہوگا؟ از راہِ کرم !مجھے وضاحت سے بتلائیں۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    الجواب :

    الحمد للہ:
    ایک مسلمان کی جانب سے ماہانہ تنخواہ کی بچت میں سے زکاۃ دینے کا آسان اور محفوظ ترین طریقہ یہ ہے کہ :

    ماہانہ تنخواہ سے کی جانے والی بچت جس مہینے میں زکاۃ کے نصاب کے برابر ہوجائے تو اس ماہ سے لیکر ایک اسلامی ہجری سال کے بعد جتنی بھی رقم آپکے پاس ہے ، ساری رقم کی زکاۃ ادا کریں، حتی کہ سب سے آخری مہینے میں کی جانے والی بچت کو بھی زکاۃ کیلئے شامل کرے، جس کو آپ نے ابھی چند دن پہلے ہی بچت کھاتہ میں شامل کیا ہے۔

    چنانچہ جس نصاب پر ایک سال کی زکاۃ واجب تھی اسکی زکاۃ آپ نے ادا کردی ہے۔
    اور اسکے بعد والے مہینوں میں آپکی جمع شدہ بچت کی زکاۃ آپ نے قبل از وقت ادا کردی ہے، اور زکاۃ وقت سے پہلے ادا کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "ماہانہ تنخواہ کی زکاۃ دینے کیلئے اچھا، بہترین، اور آسان ترین راستہ یہ ہے کہ آپ کسی ماہ کو مقرر کر لیں، اور اس ماہ میں اپنے سارے مال کی زکاۃ دے دیں۔
    مثال کے طور پر: ایک انسان کی عادت ہے کہ وہ ہر رمضان میں زکاۃ دیتا ہے، تو وہ ماہِ رمضان میں اپنے پاس موجود سارے مال کی زکاۃ نکال دیتا ہے، حتی کہ شعبان میں حاصل ہونے والی رقم کی بھی زکاۃ دے دیتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ یہ طریقہ بہت اچھا ہے، اور انسان اس طریقے کی بنا پر زکاۃ کے معاملے میں پر سکون رہتا ہے، اس سے پرسکون طریقہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔
    اور اگر کوئی یہ کہے کہ شعبان میں ملنے والی تنخواہ پر تو ابھی کچھ ہی دن گزرے ہیں؟
    تو ہم اسے کہیں گے: اس رقم کی زکاۃ ایڈوانس ادائیگی میں شمار ہوگی، اور انسان اپنے مال کی زکاۃ ایک یا دو سال قبل بھی ادا کر سکتا ہے۔
    چنانچہ ہم کہیں گے کہ بہتر یہ ہے کہ انسان کسی بھی ایک ماہ کو متعین کر لے، اور اس مہینے میں اپنے سارے مال کو جمع کر کے اسکی زکاۃ ادا کر دے ، چاہے کچھ مال پر سال گزر چکا ہو اور کچھ پر ابھی سال گزرنا باقی ہو" انتہی
    " مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین " (18/175)

    اس سے پہلے بھی متعدد فتاوی جات میں تنخواہ سے زکاۃ ادا کرنے کی وضاحت کی گئی ہے، جسے آپ مندرجہ ذیل سوال نمبروں پر ملاحظہ کرسکتے ہیں: (26113) ، (50801) ، اور (93414)۔

    واللہ اعلم.
    اسلام سوال و جواب
    https://islamqa.info/ur/160574
     
  3. ‏جنوری 08، 2016 #3
    اویس تبسم

    اویس تبسم رکن
    جگہ:
    گجرات،پاکستان
    شمولیت:
    ‏جنوری 27، 2015
    پیغامات:
    360
    موصول شکریہ جات:
    131
    تمغے کے پوائنٹ:
    69

    جزاکم اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں