1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

زکوۃ کا مسئلہ

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 11، 2016۔

  1. ‏جولائی 11، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,579
    موصول شکریہ جات:
    6,511
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!
    ایک بھائی نے سوال کیا ہے:

    ایک بھائی کے پاس تین پلاٹ ہیں، ان میں سے ایک پر اُس نے اپنا گھر بنانا ہے۔
    باقی دو پلاٹ بیچ کر ایک پر پیسے لگائے گا۔
    کیا اُس کو ہر سال کے آخر پر زکوۃ دینی ہوگی اور تین پلاٹ پر یا دو پلاٹ پر یا کسی پر نہیں؟
    گھر بنانے میں تین چار سال لگ سکتے ہیں۔
     
  2. ‏جولائی 11، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,675
    موصول شکریہ جات:
    2,013
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    و علیکم السلامورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    درج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں :
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زمیں خرید کر اسے تجارت اور تعمیر کیلئے تقسیم کردیا ہے، اسکی زکاہ کیسے ادا کریگا؟
    سوال: میں نے کچھ زمین خریدی ہے، میرا اس پر کچھ اپنے لئے اور کرائے پر دینے کیلئے مکان بنانے، اور کچھ کو فروخت کرنے کا ارادہ ہے، زمین کی بحالی کے بعد میں نے اسے مختلف سائز کے پلاٹوں میں تقسیم کردیا ہے، اسکی زکاۃ کیسے ادا کی جائے گی؟ یاد رہے کہ زمین کو ہموار کرکے متعدد پلاٹوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔
    دوسرا سوال یہ ہے کہ: رقم کی کمی کے باعث نا مکمل لیکن زیر تعمیر مکان کی زکاۃ سال گزرنے پر کیسے ادا کی جائے گی؟
    تیسرا سوال یہ ہے کہ: مسجد کی تعمیر مکمل کرنے کیلئے مخیر حضرات کی عدم موجودگی کی وجہ سے کافی عرصے سے رُکی ہوئی ہے، کیا اس مسجد کی تعمیر کیلئے زکاۃ کی رقم استعمال کی جاسکتی ہے؟
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔
    جواب :
    اول:

    زمین پر زکاۃ اسی وقت ہوتی ہے جب زمین بیچنے کیلئے خریدی جائے۔
    چنانچہ جو زمین ذاتی رہائش یا کرائے پر دینے کیلئے مکانات کی تعمیر کیلئے مختص ہو اس پر کوئی زکاۃ نہیں ہوتی ۔

    جبکہ ایسی زمین جسے فروخت کرنے کیلئے خریدا گیا ہے تو اس میں زکاۃ واجب ہے، چنانچہ سال مکمل ہونے پر اس کی [موجودہ]قیمت میں سے 2.5٪ زکاۃ ادا کی جائے گی۔
    مزید کیلئے سوال نمبر: (38886) کا جواب ملاحظہ کریں۔

    دوم:

    زیر تعمیر مکان کی زکاۃ کے بارے میں یہ ہے کہ: اس میں کوئی زکاۃ نہیں ہے، الّا کہ آپ اسے تعمیر کرنے کے بعد فروخت کرنا چاہیں، اور اس سے منافع کمانا مقصود ہو، تو پھر سال مکمل ہونے کے بعد موقع پر موجودہ حالت میں مکان کی قیمت لگائی جائے گی، اور زکاۃ کا حساب لگایا جائے گا، اور پھر مکان فروخت ہونے کے بعد اسکی زکاۃ ادا کردی جائے گی۔

    اور اگر یہ زیر تعمیر مکان ذاتی رہائش یا کرائے پر دینے کیلئے ہے تو اس پر زکاۃ نہیں ہے۔

    دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ:
    "جو مکانات رہائش کیلئے مختص ہیں، بیچنے کیلئے نہیں ہیں، ان میں زکاۃ نہیں ہے، اور جو مکانات کرائے پر دینے کیلئے ہیں تو ان کے کرائے میں سے بچی ہوئی رقم پر سال مکمل ہونے اور نصاب پورا ہونے کی شکل میں زکاۃ واجب ہوگی، کرائے پر دئے جانے والے مکانات کی قیمت پر زکاۃ نہیں ہوگی، اور جو مکانات فروخت کرنے کیلئے مختص ہوں تو ایک سال مکمل ہونے کے بعد انکی قیمت پر ہر سال زکاۃ واجب ہوگی"انتہی
    "فتاوى اللجنة الدائمة" (9 /335)

    شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:
    "سامان تجارت، یعنی وہ سامان جسے فروخت کرنے کیلئے رکھا گیا ہے، اس سارے سامان کی سال کے آخر میں قیمت لگائی جائے گی، اور اسکی مجموعی قیمت میں سے چالیسواں حصہ یعنی: 2.5٪ زکاۃ کی مد میں ادا کیا جائے گا، چاہے اسکی قیمت [مارکیٹ میں] سامان کی اصلی قیمت والی ہو، یا کم /زیادہ ہو [اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا]۔
    سامان تجارت میں یہ چیزیں بھی شامل ہے: فروخت کیلئے خریدی گئی زمین، عمارتیں، کاریں، پانی کیلئے پمپ، وغیرہ تمام سامان جو فروخت کیلئے رکھا گیاہے۔
    جبکہ ایسی عمارتیں جنہیں کرائے پر دیا جاتا ہے، فروخت نہیں کیا جاتا، تو انکے کرائے پر زکاۃ سال گزرنے کے بعد واجب ہوگی، لیکن ان عمارتوں کی قیمت پر زکاۃ نہیں ہے، کیونکہ یہ عمارتیں فروخت کرنے کیلئے نہیں ہیں "انتہی
    "مجموع فتاوى ابن باز" (14 /234)

    واللہ اعلم.
    اسلام سوال وجواب (https://islamqa.info/ar/152786 )
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں