1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

زکوۃ کے متعلق چند سوال

'زکوۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏دسمبر 31، 2016۔

  1. ‏جنوری 02، 2017 #11
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,615
    موصول شکریہ جات:
    5,223
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    میرا خیال ہے کہ گوشریعت میں ایسی کوئی "ہدایت" موجود نہیں ہے، جس میں کسی ایک طریقہ ادائیگی کو "افضل" قرار دیا گیا ہو تاہم "پیشگی ادائیگی" کے حسب ذیل فوائد سے اسے "بہتر" قرار دیا جاسکتا ہے۔

    ۱۔ سونے چاندی کے زیورات پر زکوۃ دینے والے متوسط طبقوں کے خواتین و حضرات کے پاس عموما٘ سال بھر کے بعد زکوۃ کی ادائیگی کے لئے یکمشت پیسے نہیں ہوتے۔ پیشگی قسط وار ادائیگی انہیں زکوۃ ادا کرنے کا باسہولت راستہ فراہم کرتی ہے۔

    ۲۔ یکمشت زکاۃ ادا کرنے والے بالعموم زکوۃ کی رقم لے کر مستحقین زکوۃ کو تلاش کرتے ہیں۔ ہم عموما٘ ماہ رمضان میں زکوۃ ادا کرتے ہیں اور "زکوۃ کے اس سیزن" میں بہت سے "غیر مستحقین " بھی زکوۃ اکٹھے کرتے ہیں۔ چنانچہ ہماری زکوۃ انہیں بھی جاسکتی ہے

    ۳۔ جبکہ سال بھر عموما٘ حقیقی مستحق لوگ ہم سے "امداد" کے طلب گار ہوتے ہیں۔ یوں ہمیں ان مستحقین کو "تلاش" نہیں کرنا پڑتا۔

    ۴۔ ہم سال بھر مساکین کو ریگولر بنیادوں پر ماہانہ امداد دے سکتے ہیں۔ جن سے مساکین کا زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔

    واللہ اعلم بالصواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں