1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سبب اور شرط میں کیا فرق ہے؟

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏جولائی 21، 2017۔

  1. ‏جولائی 21، 2017 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    اصول فقہ میں سبب اور شرط میں کیا فرق ہے؟آسان فہم انداز میں بیان کیجے۔کہ آسانی سے سمھج میں آجائے۔
     
  2. ‏جولائی 21، 2017 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

  3. ‏جولائی 21، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,892
    موصول شکریہ جات:
    2,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    ( سبب ) لغت میں اس " ذریعہ " کے ہیں جس سے کسی مقصود تک پہنچا جائے ، جیسے کوئی راستہ منزل مقصود تک پہنچاتا ہے
    اور اصطلاح میں " السبب " اس چیز یا وقت اور عمل کو کہاجاتا ہے جس کے وجود سے کوئی شرعی حکم لازم ہو ۔
    اور جس کی عدم موجودگی سے وہ شرعی حکم لازم نہ آئے ۔۔
    مشہور اصولی عالم عبدالکریم النملہ لکھتے ہیں :
    " ما يلزم من وجوده الوجود، ويلزم من عدمه العدم لذاته " الْمُهَذَّبُ في عِلْمِ أُصُولِ الفِقْهِ الْمُقَارَنِ
    یعنی جس کے موجود ہونے سے ایک حکم کا وجود لازم آئے ، اور جسکی عدم موجودگی سے کوئی شرعی حکم لازم نہ آئے ۔
    .مثلاً : زنا کا وجود " سبب " ہے ایک شرعی حکم کا ۔ وہ ہے زنا کی سزا " حد "
    یا جیسے سورج کا ڈھلنا نماز ظہر کے واجب ہونے کا سبب ہے ، رمضان کا آنا روزوں کے فرض ہونے کا سبب ہے ،
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور شرط اصطلاح میں درج ذیل معنی میں استعمال ہوتی ہے
    الشرط في الاصطلاح هو:
    هو: " ما يلزم من عدمه العدم، ولا يلزم من وجوده وجود ولا عدم لذاته ".

    یعنی جس کے وجود پر کسی دوسری کا وجود موقوف ہو ، اگر یہ چیز نہ پائی جائے تو وہ دوسری بھی نہ پائی جائے گی ،
    لیکن شرط والی چیز کا وجود دوسری چیز کو لازم نہیں "
    مثلاً وضوء نماز کیلئے شرط ہے ، اگر وضوء نہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی ، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وضوء موجود ہو تو نماز بھی لازمی موجود ہو
    کیونکہ بسا اوقات نماز کے علاوہ بھی وضوء کا وجود ثابت ہے ،
    اور واضح رہے کہ :
    جس چیز و عمل کیلئے اسے شرط قرار دیا گیا یہ شرط والی چیز اس چیز کے ذاتی وجود کا حصہ نہ ہو ، بلکہ اس سے خارج کی چیز ہو
    جیسے وضوء حقیقت نماز سے خارج کی چیز ہے لیکن اس کیلئے شرط ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب سبب اور شرط میں جوہری فرق دیکھئے :

    upload_2017-7-21_18-24-51.png
     
    Last edited: ‏جولائی 21، 2017
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 21، 2017 #4
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    ۔
     
  5. ‏جولائی 21، 2017 #5
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,771
    موصول شکریہ جات:
    420
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    jjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjjj.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں