1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سبق آموز حکایات: ناانصافی کی سر زمین

'گوشہ اطفال' میں موضوعات آغاز کردہ از سدرہ منتہا, ‏اکتوبر 17، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 17، 2012 #1
    سدرہ منتہا

    سدرہ منتہا رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 14، 2011
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    576
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح ا
    ور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔

    کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔

    مدعی نے کہا۔
    ”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“

    مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
    ”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “

    سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
    ”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“

    ”ہاں ہے!“

    پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
    ”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“

    ”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔

    ”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“

    اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔

    سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“

    ”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“

    سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“

    شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
    جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
    میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔

    سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟

    شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
    ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

    ”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“

    ”جی ہاں کیوں نہیں؟“

    ”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“

    ”بالکل!“

    ”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“

    ”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“

    ”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 4
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 21، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    زبردست
     
  3. ‏اکتوبر 21، 2012 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    انصاف اور تقوے کی یہ جھلکیاں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین و تبع تابعین کے دور میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 22، 2012 #4
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,503
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    سبق آموز تھریڈ
     
  5. ‏اکتوبر 22، 2012 #5
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    بلکل بھائی
     
  6. ‏نومبر 06، 2012 #6
    عبیداللہ

    عبیداللہ رکن
    جگہ:
    حیدرآباد
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    117
    موصول شکریہ جات:
    236
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    زبردست
     
  7. ‏مارچ 23، 2016 #7
    Abu Hurrarra

    Abu Hurrarra مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2016
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    ماشاءاللہ بہت خوب
     
  8. ‏اپریل 08، 2016 #8
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    سبحان اللہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں