1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سبق نمبر 2 (گرائمر ابتدائیہ 2)

'اسباق' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدہ, ‏اپریل 26، 2014۔

  1. ‏اپریل 26، 2014 #1
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    دوسرا سبق

    پہلے سبق میں ہم نے یہ جانا ہے کہ عربی گرائمر کے لئے علم النحو اور علم الصرف پڑھنا پڑے گا اب باقاعدہ ان دونوں علوم کو شروع کرنے سے پہلے ان میں استعمال ہونے والی کچھ بنیادی اصطلاحات کو سمجھتے ہیں

    کلمہ
    ہر لفظ جو مفرد معنی کے لئے وضع کیا گیا ہو مثلا قَتَلَ داودُ جالوتَ میں تین کلمات ہیں ہر ایک مفرد معنی کے لئے بنایا گیا ہے

    کلمہ کی اقسام ( PARTS OF SPEACH)
    ہر زبان میں کلموں کی خصوصیات کو دیکھتے ہوئے انکو مختلف گروپوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اسکی وجہ یہ ہوتی ہے کہ چونکہ ایک جیسے خصوصیات والے کلمات پر ایک جیسے قواعد اپلائی ہونے ہوتے ہیں تو اسی مناسبت سے اکے گروپ بنا دیئے جاتے ہیں تاکہ قواعد بتلانے میں اور یاد کرنے میں آسانی ہو- پھر ہر گوپ کے اندر بھی مختلف سب گروپ بنا لیے جاتے ہیں تاکہ فرعی قواعد کا اطلاق مزید آسان ہو جائے

    انگلش گرائمر والوں نے اپنے قواعد کی مناسبت سے کلمہ کو ۸ یا ۹ قسموں میں تقسیم کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں
    Noun, Pronoun, Adjective, Verb, Adverb, Conjunction, Preposition, interjection, articles

    لیکن عربی میں انکو شروع میں صرف تین بنیادی قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے البتہ ہر ایک کے اندر مزید سب گروپس بنائے جاتے ہیں
    تین بنیادی قسمیں اسم، فعل اور حرف ہیں اور اوپر کے انگلش کی تقریبا ساری قسمیں انہیں تینوں میں سما جاتی ہیں مثلا Noun, Pronoun, Adjective, Adverb عموما عربی کے اسم میں آ جاتے ہیں Preposition, Articles عموما حرف میں آ جاتے ہیں Verb فعل میں آتا ہے اور باقی عموما اسم یا حرف میں مشترک آتے ہیں

    اسم فعل اور حرف کی پہچان
    سب سے پہلے حرف کی پہچان کرتے ہیں
    حرف کی پہچان
    اسکے لئے ہم کلمات کو دو گروپس میں تقسیم کرتے ہیں
    1-ان الفاظ کا گروپ جو اکیلا لکھا ہو تو پھر بھی معنی دے
    2-وہ جو اکیلا لکھا ہو تو معنی سمجھ میں نہ آٓئے جب تک کوئی اور کلمہ نہ ملایا جائے

    پہلے گروپ میں اسم اور فعل آتے ہیں جبکہ دوسرے گروپ میں حرف آتا ہے
    مثلا ضَرَبَ زید بالعصا اس میں چار کلمات ہیں پہلا ضرب دوسرا زیدتیسرا ب اور چوتھا العصا

    اب اگر ضَرَبَ(مارا) اکیلا لفظ بولا جائے تو فورا آپکے ذہن میں مارکی شبیہ یعنی تصور آ جائے گا (کیونکہ آٓپ نے مار کھائی ہو گی-ابتسامہ)

    اسی طرح زید یا العصا (چھڑی) اکیلا بولا جائے تو آپ کے ذہن میں انکی شبیہ آ جائے گی

    مگر "ب" بولا جائے جس کا معنی "سے" ہے تو آپ پر اسکی شبیہ اس وقت تک ذہن میں واضح نہیں ہو گی جب تک اسکے ساتھ کچھ اور نہ لگا ہو
    پس "ب" حرف ہے اور باقی فعل یا اسم ہو سکتے ہیں

    اسم اور فعل کی تفریق
    اب اسم اور فعل میں فرق کرنے کے لئے مزید علامت یہ ہے کہ جس میں زمانہ بھی ہو وہ فعل اور جس میں نہ ہو وہ اسم

    پس زید اور العصا(چھڑی) میں چونکہ زمانہ نہیں تو وہ دونوں اسم ہیں اور ضرب میں ماضی کا زمانہ ہے تو وہ فعل ہے

    اسم
    جو فی نفسہ اپنے معنی پر دلالت تو کرے (یعنی اس سلسلے میں دوسرے کلمہ کا محتاج نہ ہو ) مگر اس میں زمانہ (بلحاظ ھیۃ یعنی سانچہ یا صیغہ) نہ پایا جائے

    فعل
    جو فی نفسہ اپنے معنی پر دلالت بھی کرے اور اس میں زمانہ بھی (بلحاظ ھیۃ) پایا جائے

    حرف
    جو فی نفسہ اپنے معنی پر دلالت نہ کرے

    نحو اور صرف کے حوالے سے کلمات
    صرف میں چونکہ الفاظ کے صیغوں (سانچوں) میں پھیرنے کو پڑھا جاتا ہے اور حرف میں پھرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی البتہ فعل اور اسم میں یہ صلاحیت ہوتی ہے پس صرف میں ہم فقط اسم اور فعل کو پڑھیں گے
    نحو میں چونکہ کلمات کو ملانے کے قواعد پڑھے جاتے ہیں اور اسم فعل اور حرف تینوں آپس میں مل سکتے ہیں پس نحو میں تینوں کلمات کے متعلق قواعد پڑھیں گے
     
    • زبردست زبردست x 7
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 26، 2014 #2
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جیسا کہ اوپر ہم نے پڑھا کہ اگرچہ عربی میں بنیادی طور پر کلمات کو تین قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے مگر آگے پھر ہر قسم کے اندر مزید ایک جیسی خصوصیات رکھنے والے الفاظ کے مزید سب گروپس (انواع) بنا دیئے گئے ہیں یہ سب گروپس (انواع) اسم، فعل اور حرف تینوں میں بنائے گئے ہیں
    پس باقاعدہ علم النحو اور علم الصرف شروع کرنے سے پہلے ہم اسم اور فعل کی انہیں انواع سے متعلق کچھ ایسی اصطلاحات پڑھتے ہیں جو نحو اور صرف دونوں میں استعمال ہوتی ہیں تاکہ بعد میں دونوں جگہ دہرانا نہ پڑے البتہ یہاں صرف انکا بنیادی تعارف کروایا جائے گا تفصیل اپنے سیکشن میں بعد میں بیان کی جائے گی (حرف کا تعلق چونکہ صرف نحو سے ہوتا ہے پس اسکے سب گروپس یعنی انواع کو آگے علم النحو کے اسباق میں بیان کیا جائے گا)
     
    • پسند پسند x 7
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 26، 2014 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اسم کی انواع یا سب گروپس
    اسم کو ہم مختلف لحاظ سے سب گروپس بنا کر تقسیم کر سکتے ہیں

    1-بلحاظ جنس
    اس لحاظ سے اسم کی دو قسمیں (انواع) ہیں یعنی مذکر و مونث

    2-بلحاظ عدد
    اس لحاظ سے تین اقسام ہیں یعنی واحد، تثنیہ و جمع (انگلش یا اردو میں تثنیہ علیحدہ قسم نہیں ہوتی بلکہ جمع ہی میں شمار کی جاتی ہے کیونکہ اسکے قواعد جمع کے تحت ہی آتے ہیں)

    3-بلحاظ اظہار
    اس لحاظ سے دو اقسام ہیں یعنی اسم ظاہر اور اسم ضمیر- جب اصل اسم کا صراحۃ ذکر کیا گیا ہو تو وہ اسم ظاہر کہلاتا ہے اور جب اس اسم کو چھپا کر (متکلم، مخاطب اور غائب کی مناسبت سے) کوئی لفظ کنایۃ اسم ظاہر کی نیابت کے لئے لایا جائے تو وہ اسم ضمیر کہلاتا ہے جس کے لئے کچھ الفاظ معین کر دیئے گئے ہیں اسم ضمیر کو انگلش میں Pronoun کہتے ہیں

    4-بلحاظ صیغہ
    اس لحاظ سے تین اقسام ہیں جامد (جو نہ پھرے)، مصدر(جس کو پھیر کر باقی بنائے جائیں) اور مشتق (جو مصدر سے پھیر کر بنائے گئے ہوں)

    5-بلحاظ جنس الحروف
    اس میں اسم کو حروف کی جنس کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے یعنی اسم میں استعمال ہونے والے حروف حروف علت میں سے ہیں (معتل) یا کوئی حرف ہمزہ ہے (مہموز) یا دو ایک جیسے حروف شامل ہیں (مضاعف) یا انکے علاوہ ہے
    اس لحاظ سے تقسیم چونکہ صرف اور نحو میں مختلف ہوتی ہے پس مزید تفصیل ہم متعلقہ سیکشن (نحو یا صرف) میں پڑھیں گے

    6-بلحاظ تعداد الحروف
    یعنی جن حروف سے اسم بنا ہے انکی تعدار کتنی ہے (اصل کتنے ہیں اور زائد کتنے ہیں وغیرہ) اسکی تفصیل صرف کے سیکشن میں پڑھیں گے

    7-بلحاظ عموم خصوص
    یعنی وہ اسم معرفہ ہے یا نکرہ-اسکی تفصیل نحو کے سیکشن میں پڑھیں گے

    8-بلحاظ اعراب
    اس لحاظ سے اسم کو دو بنیادی قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے ینعی معرب اور مبنی- جنکی تفصیل اگرچہ نحو میں پڑھیں گے مگر کچھ بنیادی اور ضروری تعارف یہاں کروا دیا جاتا ہے جو آگے استعمال ہونا ہے
    معرب اور مبنی کی بحث کو ہم انگلش اور اردو میں ضمیر یعنی Pronoun کے استعمال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں

    A-انگلش میں
    انگلش میں Pronoun (اسم ضمیر) کو تین حالتوں میں استعمال کیا جاتا ہے

    pronoun.jpg
    جس طرح اوپر ٹیبل میں ایک ہی ضمیر (میں یا I) کی تین مختلف حالتیں ہمیں نظر آ رہی ہین اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے لفظ"میں" کی انگلش کرتے وقت I, Me, My میں سے کون سا لفظ استعمال کرنا ہے
    پس اسکے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ وہ ضمیر فاعل بن رہی ہے یا مفعول بن رہی ہے یا اسکی طرف کسی دوسری چیز کی اضافت ہو رہی ہے اسی مناسبت سے اسکی بالترتیب Subjective, Objective or Possessive form استعمال کرنا ہو گی یعنی
    I beat Aslam​
    Aslam beats me
    This is my book
    اوپر تینوں مثالوں کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ پہلی مثال میں لفظ "میں" چونکہ فاعل کے طور پر استعمال ہوا ہے تو اسکی فاعلی حالت یعنی I استعمال ہوئی ہے دوسری مثال میں یہی لفظ مفعول کے طور پر استعمال ہوا ہے تو اسکی مفعولی حالت یعنیmeاستعمال ہوئی ہے اسی طرح تیسری مثال میں چونکہ اس لفظ کی طرف اضافت کی گئی ہے تو اضافی حالت یعنی my کا استعمال کیا گیا ہے (یہاں یہ بھی یاد رکھیں کہ کچھ ضمیریں ایسی بھی ہیں جو فاعلی اور مفعولی حالت میں ایک ہی آتی ہیں جیسے You فاعل اور مفعول میں ایک ہی طرح استعمال ہوتا ہے یعنی بدلتا نہیں

    B-اردو میں
    اردو کو لیں تو بھی ہم دیکھتے ہیں کہ "میں" کی ضمیر کے لئے تین لفظ استعمال ہوتے ہیں یعنی "میں" اور "مجھے" اور "میری"

    پس جب فاعل کے لئے استعمال کریں گے تو ہم کہیں گے کہ
    میں نے اسلم کو مارا

    جب مفعول کے طور پر استعمال کریں گے تو کہیں گے
    اسلم نے مجھے مارا

    اور جب ملکیت ظاہر کرنی ہو گی تو کہیں گے
    یہ میری کتاب ہے

    C-عربی میں
    بالکل اسی طرح عربی میں بھی اسم ضمیر کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں جو ہم تفصیل سے علم النحو میں پڑھیں گے
    اگرچہ باقی زبانوں میں ایسا زیادہ تر ضمیر کے ساتھ ہی ہوتا ہے مگر عربی میں مختلف مواقع کے لئے ہر اسم کی مختلف حالتیں استعمال ہوتی ہیں یعنی ایک اسم چونکہ مختلف جگہوں پر استعمال ہونا ہوتا ہے یعنی کبھی فاعل بنتا ہے اور کبھی مفعول اور کبھی کچھ اور- تو ہر اسم کے لئے تین مختلف حالتیں استعمال ہوتی ہیں جنکو رفعی حالت (اوپر فاعلی حالت کی طرح)، نصبی حالت (اوپر مفعولی حالت کی طرح) اور جری حالت (اوپر اضافی حالت کی طرح) کہتے ہیں ایسے اسم کو معرب کہتے ہیں البتہ کچھ اسماء ایسے بھی ہوتے ہیں جو اوپر You کی طرح ایک جیسے رہتے ہیں انکو آپ مبنی کہیں گے (تفصیل آگے علم النحو میں)
     
    • زبردست زبردست x 6
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 26، 2014 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    فعل کی انواع یا سب گروپس
    اسم کی طرح فعل کو بھی ہم مختلف لحاظ سے سب گروپس بنا کر تقسیم کر سکتے ہیں

    بلحاظ زمانہ
    اس لحاظ سے عموما تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے یعنی ماضی،مضارعاور امر-
    یہ بھی یاد رہے کہ اردو اور انگلش میں حال اور مستقبل کا استعمال چونکہ علیحدہ علیحدہ قواعد کے تحت ہوتا ہے پس انگلش اور اردو میں ان کی علیحدہ علیحدہ قسمیں بنا دی گئیں مگر عربی میں حال اور مستقبل کا استعمال ایک جیسے قواعد کے تحت ہونے کی وجہ سے ان دونوں کو ایک ہی بنیادی قسم یعنی مضارع میں رکھا گیا ہے البتہ حال اور مستقبل میں تفریق کے لئے بعد میں کچھ اضافی قواعد بیان کیے جاتے ہیں جو آگے پڑھیں گے

    بلحاظ طلب
    ہر فعل کو کھڑا ہونے (قائم رہنے) کے لئے ایک سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اسکے بغیر وہ کھڑا نہیں ہو سکتا جیسے ٹیک (دیوار ، سٹینڈ وغیرہ) کے بغیر بلیک بورڈ کھڑا نہیں ہو سکتا
    اسی وجہ سے فعل کو مُسند (منسوب کی جانے والی چیز) کہتے ہیں جس کی نسبت کسی اسم کی طرف کی جاتی ہے جسکو مُسند الیہ (جسکی طرف نسبت کی گئی ہو) کہتے ہیں اب ظاہر ہے کہ اگر ایک چیز کی نسبت ہم کسی دوسری چیز کی طرف کرتے ہیں تو وہ پہلی چیز دوسری کی محتاج ہو جاتی ہے اور اسکے بغیر وہ کھڑی نہیں ہو سکتی مثلا حنفی کی نسبت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ہے پس اگر کوئی ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ہی نہیں جانتا تو وہ حنفی (ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف نسبت) سے کیا سمجھے گا پس یہ ثابت ہوا کہ ہر فعل کسی سہارے کا شدت سے طلبگار ہوتا ہے اور وہ سہارا فاعل ہوتا ہے
    اب فعل کی یہ طلب اگر صرف فعل تک محدود رہے تو اس فعل کوفعل لازم کہتے ہیں یعنی اسکی طلب یہاں تک رک گئی ہے لیکن اگر فعل فاعل کے بعد کسی اور چیز کا بھی مطالبہ کر دے تو اس فعل کو فعل متعدی کہتے ہیں یعنی اسکی طلب ابھی رکی نہیں بلکہ آگے منتقل ہو گئی جیسے متعدی بیماری آگے منتقل ہوتی ہے (البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ پہلی یعنی فاعل کی طلب تو وجوب کے حکم میں ہوتی ہے یعنی اسکے بغیر فعل بالکل راضی نہیں ہوتا البتہ دوسری طلب جواز کے حکم میں ہوتی ہے یعنی مل جائے تو فعل خوش ہو جاتا ہے اور اگر نہ ملے تو گزارہ کر لیتا ہے
    پس طلب کے لحاظ سے فعل کی دو قسمیں بنتی ہیں یعنی فعل لازم اور فعل متعدی- انگلش میں فعل لازم کو Intransitive verb اور فعل متعدی کو Transitive verb کہتے ہیں اگرچہ اسکا صرف میں بھی ایک جگہ استعمال ہوتا ہے مگراسکی زیادہ تفصیل ہم نحو میں پڑھیں گے

    بلحاظ وجودِ فاعل
    اس لحاظ سے فعل کی دو قسمیں ہوتی ہیں یعنی فعل معروف(جس میں فاعل موجود ہو) اور فعل مجہول (جس میں فاعل موجود نہ ہو)
    جیسا کہ اوپر بلحاظ طلب میں پڑھا ہے کہ ہر فعل ایک فاعل کا لازمی مطالبہ کرتا ہے اب کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ فعل کا فاعل مجہول ہوتا ہے یعنی اسکا علم نہیں ہوتا اس صورت میں پھر فعل لازمی طلب والا کام مفعول سے لینے کی کوشش کرتا ہے اور فاعل کی بجائے مفعول کا سہارا لے لیتا ہے اس فعل کو فعل مجہول کہیں گے یعنی اسکا فاعل مجہول ہے
    انگلش میں فعل معروف کو Active voice کہتے ہیں اور فعل مجہول کو Passive voice کہتے ہیں

    بلحاظ تصرف
    یعنی تینوں زمانوں میں پھرنے (تصرف) کے لحاظ سے اسکی دو اقسام ہوتی ہیں جامد اور متصرف (تفصیل آگے پڑھیں گے)

    بلحاظ عمل
    یعنی اسکا عمل مکمل فعل والا ہوتا ہے یا ناقص فعل والا- اسکی تفصیل ہم نحو میں پڑھیں گے

    بلحاظ اعراب
    اوپر اسم کی طرح اس کو بھی مختلف قسموں (اعرابی حالتوں) میں تقسیم کیا جا سکتا ہے جسکی تفصیل ہم نحو میں پڑھیں گے
     
    • زبردست زبردست x 6
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں