1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سبق

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از نسرین فاطمہ, ‏جون 01، 2016۔

  1. ‏جون 01، 2016 #1
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,278
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    ایک دفعہ ایک گدھا ایک گہرے کنویں میں جا گرا اور زور زور سے رینکنے لگا گدھے کا مالک کسان تھا جو کنویں کے کنارے پہ کھڑا اسے بچانے کی ترکیبیں سوچ رہا تھا جب اسے کوئی طریقہ نہیں سوجھا تو ہار مان کر دل کو تسلی دینے لگا کہ گدھا تو اب بوڑھا ہو چکا ہے، وہ اب میرے کام کا بھی نہیں رہا، چلو اسے یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں، اور کنویں کو بھی آخر کسی دن بند کرنا ہی پڑے گا، اس لیے اسے بچا کر بھی کوئی خاص فائدہ نہیں یہ سوچ کر اس نے اپنے پڑوسیوں کی مدد لی اور کنواں پاٹنا شروع کر دیا سب کے ہاتھ میں ایک ایک پھاوڑا تھا جس سے وہ مٹی، بجری اور کوڑا کرکٹ کنویں میں ڈال رہے تھے۔
    گدھا اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا اس نے اور تیز آواز نکالنی شروع کر دی کچھ ہی لمحے بعد گدھا بالکل خاموش سا ہو گیا جب کسان نے کنویں میں جھانکا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جب جب گدھے کے اوپر مٹی اور کچرا پھینکا جاتا ہے تب تب وہ اسے جھٹک کر اپنے جسم سے نیچے گرا دیتا ہے اور پھر گری ہوئی مٹی پر کھڑا ہو جاتا ہے یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا کسان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر مٹی اور کچرا پھینکتا رہا اور گدھا اسے اپنے بدن سے ہٹا ہٹا کر اوپر آتا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے کنویں کے منڈیر تک پہنچ گیا اور باہر نکل پڑا. یہ منظر دیکھ کر کسان اور اس کے پڑوسی سکتے میں پڑ گئے. ان کی حیرانی قابل دید تھی اس غیر متوقع نتیجے پر وہ گدھے سے بھی بڑھ کر مجسمہ حیرت بنے ہوئے تھے۔
    (عربی تحریر کا خلاصہ)
    سبق:
    زندگی میں ہمارے ساتھ بھی ایسے واقعات رونما ہو سکتے ہیں کہ ہمارے اوپر کچرا اچھالا جائے، ہماری کردار کشی کی جائے، ہمارے دامن کو داغدار کیا جائے، ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے، لیکن گندگی کے اس گڑھے سے بچنے کا طریقہ یہ نہیں کہ ہم ان غلاظتوں کی تہہ میں دفن ہو کر رہ جائیں، بلکہ ہمیں بھی ان بے کار کی چیزوں کو شانہ اچک کر نیچے گراتے ہوئے اوپر کی طرف اور آگے کی سمت بڑھتے رہنا چاہیے. زندگی میں ہمیں جو بھی مشکلات پیش آتی ہیں وہ پتھروں کی طرح ہوتی ہیں مگر یہ ہماری عقل پر منحصر ہے کہ آیا ہم ہار مان کر ان کے نیچے دب جائیں یا ان کے اوپر چڑھ کر مشکل کے کنویں سے باہر آنے کی ترکیب کریں...خاک ڈالنے والے ڈالتے رہیں اور بھونکنے والے بھونکتے رہیں مگر پرعزم انسان اپنا راستہ کبھی نہیں بدلتا۔۔!!
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 02، 2016 #2
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,790
    موصول شکریہ جات:
    1,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    جزاک اللہ خیرا
    بہت اچھا نقطہ!
    اکثر اوقات ہماری کم ہمتی ہی حالات کو پہاڑ بنا دیتی ہے۔ایک عربی شعر کا مفہوم یاد آرہا ہے کہ جو بھی بلندیوں کی چڑھائی سے خوف کھائے گا ،ساری عمر کھائیوں میں گزار دے گا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 02، 2016 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بہنو مجھے تو لگتا ہے کہ انسان بے بس و محتاج ہے اور اللہ اپنی مخلوق پر مہربان۔
    گھوڑا ہو یا انسان، مشکل کشا تو اللہ تعالی ہی ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 11، 2016 #4
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,790
    موصول شکریہ جات:
    1,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    بالکل بہنا!لیکن بسا اوقات ہم اپنا آپ کو خود ہی اتنا ڈی گریڈ کر لیتے ہیں کہ کسی کو کرنا نہیں پڑتا۔حالانکہ یہ ذمہ داری دوسرے لوگوں کی ہوتی ہے لیکن ہم خود ی میں اتنے انا پرست ہوتے ہیں کہ یہ ذمہ داری بھی خود اٹھا لیتے ہیں))بسا اوقات تو حالت اس قدر بری ہو جاتی ہے کہ دشمن کو ہمدردی ہونے لگتی ہے کہ ہائے !کس مظلوم کو چھیڑ ڈالا ہے))دشمن،مخالف کو ہمیشہ ٹف ٹائم دیں۔لازم نہیں کہ وہ ہار جائے لیکن اہم یہ ہے کہ اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے۔اللہ سبحانہ وتعالٰی ہی مشکل کشا ہے لیکن حالت بدلنے کا کسی قدر اختیار ہمارے پاس بھی اسی کا عطا کردہ ہے۔
    اگر یہی گدھا گڑھے میں چیخ پکار کرتا کہ مر گیا۔۔لٹ گیا تو ہمت و طاقت خوامخواہ ضائع ہوتی اور مایوسی امڈتی۔بعض اوقات آزمائش بہت سخت ہوتی ہے۔۔برداشت کرنے میں نہیں آتی۔۔زخم طبیب کے ہاتھ سے لگ جاتا ہے لیکن ہمت نہیں ہارنی۔۔یہی اس تصوراتی قصے کا سبق ہے۔
    قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
    توکل کرتے ہوئے ہمت کر کے مشکل کا مقابلہ کرنا تقدیر کے قطعا منافی نہیں۔
    قدر اللہ ما شاء فعل کہیے اور کمر بستہ رہیے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں