1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

::::::: سب ہی مر جائیں گے لیکن میں نہیں مروں گا :::::::

'اصلاح نفس' میں موضوعات آغاز کردہ از عادل سہیل, ‏ستمبر 03، 2017۔

  1. ‏ستمبر 03، 2017 #1
    عادل سہیل

    عادل سہیل مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2011
    پیغامات:
    366
    موصول شکریہ جات:
    941
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    بِسَّمِ اللہِ و الحَمدُ للہِ وَحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نَبیَّ بَعدہ ُ
    اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں
    ::::::: سب ہی مر جائیں گے لیکن میں نہیں مروں گا :::::::
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
    آپ اِس عنوان کو دیکھ کر حیران یا پریشان مت ہوں ، یہ عنوان میری اور آپ کی ز ُبان حال سے ادا ہوتا ہے ، جی ہاں ، یہ بات ہمارے عمل سے ظاہر ہوتی ہے سوائے اُس کے جسے اللہ محفوظ رکھے ،
    دُنیا میں صِرف ایک ایسی حقیقت ہے جِس پر کِسی بھی اِختلاف کے بغیر ہر ایک اِنسان یقین رکھتا ہے اور اِس سے اِنکار کی کوئی گنجائش نہیں پاتا، اور وہ اکیلی متفق علیہ حقیقت ہے ، موت ،
    موت ایسی حقیقت جِس کا سامنا ہر کِسی کو کرنا ہی کرنا ہے ، اور جِس سے کوئی بھی جان خود کو بچا نہیں سکتی اور نہ ہی کِسی اور کو اُس سے بچا سکتی ہے ،
    موت جو اپنی راہ چلتی ہی جاتی ہے ، جسے اُس کے رب کے عِلاوہ کوئی نہیں روک سکتا ، جِس پر کسی چیخ و پکار کا اثر نہیں ہوتا ، جس پر کِسی آہ وفُغاں کوئی تاثیر نہیں رکھتی ، جسے کِسی کے حُزن و ملال کی پرواہ نہیں ہوتی ، جسے کِسی چھوڑ کر جانے والے کا درد محسوس نہیں ہوتا ، جسے کِسی پیچھے رہ جانے والا کا دُکھ محسوس نہیں ہوتا ،
    موت ایسی طاقتور چیز جو عظیم سے عظیم جان والی طاقتور مخلوق کو بھی اُسی آسانی سے قابو کر لیتی ہے جس آسانی سے کسی ننھی سی جان والی انتہائی کمزور مخلوق کو ،
    موت جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی ، سوائے اُسے چلانے والے کے حُکم کے ، پھر بھی کوئی اُس کے بارے ، اُس کی قوت و قُدرت کی بارے میں سوچتا نہیں جِس کے حکم سے موت چلتی ہے
    !!!
    عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب بھی ہم لوگ موت کو یاد کرتے ہیں ، یا موت کی سوچ آتی ہے تو کِسی اور کی موت کے سبب آتی ہے کہ ہاں فُلاں مر گیا ، فُلاں بھی مر گیا ، فُلاں بھی مر جائے گا ، کِسی نے یہاں نہیں رہنا ، سب ہی کو موت آئے گی وغیرہ وغیرہ ، لیکن ، یہ سب کچھ سوچتے ہوئے اور بڑے اندازسےیہ سب باتیں کہتے ہوئے کہیں شاید ایک لمحے کے لیے بھی ہماری دِلوں یا اذہان میں خود ہماری اپنی موت کا کوئی تصور نہیں اُبھرتا،
    اگر کبھی آبھی جائے تو اُس کے ساتھ ہم ماں باپ ، بھائیوں بہنوں ، بیوی بچوں ، دوستوں رشتہ داروں ، دُنیا کے آرام و آسائش اور رنگینیوں کے فراق کے خوف میں گم ہوجاتے ہیں ،
    اور شاید ہی کوئی ایسا ہوتا ہے جو اُس کے بعد والے وقت کے بارے میں سوچے ، اُس وقت کے بارے میں جس کی کوئی انتہاء نہیں جس کے بعد کوئی موت نہیں ،

    شاید ہی کوئی ایسا ہوتا ہے جو یہ سوچے کہ مرنے کے بعد کے لیے میں نے کیا کر رکھا ہے ؟
    میں نے کون سے أعمال بھیجے ہیں جن کی موجودگی میں مجھے اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے ؟
    آخر ہم کِس دھوکے میں ہیں ؟ کِس انتظار میں ہیں؟ کیا ہمیں اُس وقت تک رُکا رہنا چاہیے جب تک موت ہمیں آن نہ دبوچے ، اور ہماری رُوح اپنے مالک کے حُکم سے قبض نہ کر لی جائے ،
    ہم دُوسروں کی موت کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں یہ سب کیوں یاد نہیں آتا ؟ ہم اِن سب اُمور کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے ؟ہم اپنی ہی موت کے بارے میں کیوں نہیں سوچتے؟
    ہم کس انتظار میں ہیں ؟؟؟
    کیا ہم اِس اِنتظار میں ہیں کہ ہم اپنی خواہشات پوری کر لیں ، دُنیا کی تمنائیں مکمل کر لیں ، تو پھر اپنی موت کے بارے میں سوچیں گے ؟
    کیا ہم اِس اِنتظار میں ہیں کہ بوڑھے ہو جائیں تو پھر ہم اپنی موت کے بارے میں سوچیں گے ؟
    کیا ہماری صحت مندی ہمیں ہماری موت کے بارے میں سوچنے سے روکے ہوئے ہے؟
    کیا لوگوں کے بارے میں ہماری یہ خام خیالی کہ وہ ہمیں مرنے کے بعد فائدہ دیں گے ، ہمیں ہماری موت کے بارے میں سوچنے سے روکتی ہے ؟
    گو کہ موت کے بارے سوچنے یا نہ سوچنے سے موت پر ،اُس کے آنے کے وقت اور مُقام پر کوئی فرق نہیں واقع نہیں ہوتا ، وہ اُس کے لیے مُقرر شُدہ وقت پر، مُقرر شدہ مُقام پر آ کر ہی رہے گی اور جسے مرنا ہے اُسے مرنا ہی ہے ،
    اپنے اِرد گِرد نظر کیجیے ، اور کچھ نہیں تو اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون کی ایڈریس بک یا اپنی فون نمبرز والی ڈائری کو ہی دیکھیے تو آپ کو کسی ایسی شخصیت کا نام نظر آہی جائے گا جو موت کا لقمہ بن چکی ہو ،
    جی ہاں سوچیے کہ موت کے بارے میں سوچنے سے سوچنے والے پر فرق ضرور واقع ہوسکتا ہے ، خاص طور پر جب وہ سوچنے والا موت کے بارے میں اُس کے اور اپنے خالق و مالک کے فرامین ، اور اُس خالق و مالک کے رسول کے فرامین کی روشنی میں سوچے گا تو یہ سوچ یقیناً اس پر بہت بڑا فرق ڈال گی ،
    سوچیے کہ موت ہمیں کِسی بھی وقت آن دبوچے گی ، اُسے نہ تو ہماری خواہشات کے پورے ہونے کی فِکر ہے اور نہ ہی ہماری تمناؤں کی تکمیل کا انتظار ،

    اِسے نہ ہی ہمارے بڑھاپے کے آنے کا انتظار ہے ، اور نہ ہی ہماری صحت مندی اُسے روک سکتی ہے ،
    ((((( وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ :::اور ہر ایک گروہ کے لیےموت کا ایک وقت مقرر ہےپس جب وہ آجاتا ہے تو وہ اُس میں ایک لمحہ بھی نہ تو دیر کر سکتے ہیں اور نہ ہی جلدی ))))) سورت الأعراف(7) /آیت 34،
    (((((
    إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ::: بے شک اللہ کے پاس ہی قیامت (کے وقت ) کا عِلم ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ بچہ دانیوں میں کیا ہے اور کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کون سی جگہ مرے گی بے شک اللہ ہی بہت زیادہ اور مکمل علم اور خبر رکھنے والا ہے ))))) سورت لُقمان (31) /آیت34،
    اور نہ ہی کوئی ہماری موت کے بعد ہمیں پیش آنے والے حالات میں مدد دے سکتا ہے ، سوائے اُس کے جِسے اللہ کِسی سفارش کی اِجازت دے دے ،اور اجازت اُسے ملے گی جِس کے پاس اللہ کی طرف سے اِس اِجازت کے لیے کوئی وعدہ ہو، کوئی حسب نسب ، کسی سے کوئی نِسبت ، کسی کی درگاہی، کسی کی خانقاہی ، کسی کے نام کا طوق، کسی کا جانور ہونے کا پَٹّہ کچھ کام نہ آئے گا ، نہ ہی یہ سب کچھ اور نہ ہی وہ لوگ جِن سے عقیدت میں یہ سب کچھ اختیار کیا جاتا ہے ،
    (((((
    مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ :::کون ہے جو اللہ کے ہاں اللہ کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے )))))آیت الکرسی ، سورت البقرہ (2)/آیت 256،
    (((((لَا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا :::(تو لوگ)کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے سوائے اُس کے جس نے رحمٰن (اللہ)سے اِقرار لیا ہو ))))) سورت مریم (19)/آیت 87،
    (((((وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ :::اور بچو اُس دِن (کی سختی اور عذاب )سے جس دِن کوئی جان کسی جان کو کسی چیز سے کوئی فائدہ نہ دے سکی گی اور نہ ہی کسی جان سے کوئی بدل قبول کیا جائے گا ، اور نہ ہی کسی جان کو کوئی سفارش فائدہ دے گی اور نہ ہی اُن کو مدد مل سکے گی )))))سورت البقرہ (2) /آیت123،
    جب ہم اُس موت کی آمد کا اور اُس کی آمد پر اپنے ممکنہ حال کے بارے میں سوچیں کہ ہمیں اس اٹل حقیقت کا سامنا کس حال میں کرنا ہے تو ان شاء اللہ یہ سوچ ہم پر بہت بڑا فرق ڈالنے والی ہو گی ،
    اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ (((((
    أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ :::لذتوں کو کاٹنے والی کا ذِکر زیادہ کیا کرو))))) سنن ابن ماجہ/حدیث 4258 /کتاب الزُھد /باب31، سنن النسائی ، سنن الترمذی و غیرھا ، درجہءصحت ،حَسن صحیح،
    جی ہاں ان اور ان جیسی معلومات کی روشنی میں جب ہم اپنی موت کے بارے میں غور کریں گے تو ہماری شخصیات اور ہمارے اعمال پر یہ فرق پڑے گا کہ ہمیں اپنے پاس دُنیاوی چیزوں کی کمی کا احساس نہ ہوگا، موت کی سوچ ہمیں یہ یاد کرواتی رہے گی کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے بہت زیادہ ہے کہ کچھ پتہ نہیں کب مجھے یہ سب کچھ چھوڑنا ہے ، یعنی مجھے اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ میں جو کچھ میرے پاس ہے اسے استعمال کر سکوں گا ، پس یہ میرے لیے زیادہ ہے ،
    اور اگر دوسرے پہلو سے دیکھیے تو بھی اگر ہم دُنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ہوں تو موت کی سوچ ہمیں یہ یاد کرواتی رہے گی کہ اگر میں نے اس مال و متاع سے اپنی آخرت نہ کمائی تو یہ سب مال و متاع مجھے کچھ فائدہ دینے والا نہیں میرے لیے بے کار ہے ،
    اگر ہم اِیمان کی صحیح کیفیت کے ساتھ اپنی موت کی سوچ رکھیں گے تو ہمیں اپنی موت کے وقت اور موت کے بعد کے کبھی ختم نہ ہونے والے وقت کی خبر حاصل کرنے کی فکر ہو گی ، وہاں اپنی ابدی زندگی گذرانے کے لیے سامان کی تیاری کی فکر ہو گی ،
    ہمیں یہ معلوم ہو گا کہ ہمیں موت کے بعد صرف نیک اعمال ہی فائدے کا سبب ہو سکتے ہیں ، پس ہمیں ان کی طرف جلدی کرنا چاہیے ،
    پھر ہمیں دُنیا کی لذتوں اور خواھشات میں وقت ضائع کرنے کی بجائے موت کی تیاری میں وقت لگانے اور موت کے بعد کی دائمی زندگی کے لیے وقت صَرف کرنے کی ہمت ہونے لگے گی ،
    ہمیں چاہیے اور یقیناً چاہیے کہ ہم اپنی ذات کے ساتھ کچھ تنہائی اختیار کریں اور اپنے اندر جھانکیں اور اپنے اندر والی جان سے پوچھیں کہ ہمارے پاس اپنی موت کا سامنا کرنے کے لیے کیا ہے ؟ ہمارے پاس اپنی موت کے بعد کے لیے کیا ہے ؟ اِن شاء اللہ ہمیں جواب میں ایسے بہت سے حقائق ملیں گے جِن سے ہم غافل ہیں (((((
    بَلِ ٱلْإِنسَـٰنُ عَلَىٰ نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ ::: بلکہ اِنسان خود اُس کی ذات پر گواہ ہے ))))) سورت القیامہ (75)/آیت 14،
    لیکن انہیں جاننا ہماری دُنیاوی اور اُخروی دونوں ہی زندگیوں کی کامیابی کے لیے بہت ضروری ہے ،کہ اس طرح ہم اپنی موت کے استقبال اور دُنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو کر اپنے رب کے سامنے خوشی سے حاضر ہونے کی ہمت او رسامان حاصل کرسکتے ہیں ، کچھ ایسا معاملہ بن سکتا ہے کہ گویا ایک محبوب دوسرے محبوب کے پاس جا رہا ہے ، کچھ ایسا معاملہ بن سکتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا کہ :::

    ولدتك أمك يابن آدم باكيًا والناس حولك يضحكون سرورا
    فأجهد لنفسك أن تكون إذا بكوا في يوم موتك ضاحكاً مسرورا

    اے آدم کے بیٹے تمہاری ماں نے تمہیں جنم دیا تو تم رو رہے تھے
    اور تُمہارے اِرد گِرد والے لوگ خوش اور مُسکرا رہے تھے
    اب تم اپنے لیے کوشش کرو کہ جب یہ لوگ رو رہے ہوں
    تُمہارے مرنے پر تو تُم خوش اور مُسکرا رہے ہو ،
    اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ موت کی سختیاں ہم پر آسان فرمائے ، اُن میں سے بنائے جن کو نفس مطمئنہ کہہ کر اللہ کی جنت میں داخلے کی دعوت دی جائے گی ، اور اُن میں سے نہ بنائے جن کے چہروں اور کمروں پر مار مار کر اُن کی روحیں قبض کی جاتی ہیں ، ہمارے خاتمے اِیمان پر فرمائے ، بُرے خاتمے اور بُرائی پر خاتمے سے ہمیں بچا لے ، اور ہماری قبروں کو ہمارے لیے جنت کے باغات میں سے باغ بنائے ، جہنم کے گڑھوں میں سے نہ بنائے ، اور جب ہم تیرے سامنے حاضر ہوں تو وہ تُو ہم سے راضی ہو ۔ اس مضمون کو اپنے دُوسرے بھائی بہنوں تک بھی ضرور پہنچایے گا، اور اپنی دُعاؤں میں یاد رکھیے گا ،
    والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
    طلب گارء دُعاء،
    عادِل سُہیل ظفر ۔
    تاریخ کتابت : 27/01/1431ہجری، بمُطابق، 13/01/2010۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
    http://bit.ly/2v6dr8Y
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں