1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سجدہ سہوكے أحکام

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 02، 2011۔

  1. ‏جون 11، 2011 #21
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    کاش کے یہ اصول مقلدین اچھی طرح خود بھی سمجھ لیں جن کی کتب اہل حدیث کے خلاف اسی طرح کے شاذ اور یک شخصی مسائل کو پوری جماعت کی جانب تھوپنے سے بھری پڑی ہیں۔ نیز یہ بھی سوچنا چاہئے کہ ایک شخص کی صریح غلط بات سامنے آنے پر بھی اگر کوئی انکار نہیں کرتا اور اس کی تائید کرتا ہے وہ کس زمرے میں آتا ہے۔۔۔۔؟
     
  2. ‏جون 11، 2011 #22
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    محترم ہم آپ کی بات تسلیم کر لیتے ہیں کہ آپ کے نزدیک مدت رضاعت دو سال ہی ہے اور امام ابوحنیفہ کا جو قول ڈھائی سال کا ہے آپ سے نہیں مانتے۔ اچھی بات ہے اللہ مزید توفیق دے، آمین۔ مگر اسی مسئلہ کا ایک پہلو دوسرا بھی ہے ذرا اپنے مدارس سے وہ بھی معلوم کر دیجئے۔ ہو سکتا ہے کہ میری معلومات غلط ہوں اسی لئے آپ کو ہی زحمت دے رہا ہوں۔ وہ دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب مدت رضاعت دو سال ہے تو رضاعت قائم ہونے کی یعنی جب تک بچہ دودھ پی لے تو رضاعت قائم ہو جائے وہ بھی دو سال ہونی چاہئے۔ آپ ذرا اس سے متعلق تحقیق فرما دیں کہ آپ کے مدارس کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ بھی دو سال ہے یا۔۔۔ڈھائی سال۔۔۔؟؟؟
    اگر یہ بھی دو سال ہے تو اس مسئلہ کا تو قصہ ختم اور اگر دودھ پلانے کی مدت تو دو سال لیکن رضاعت قائم ہونے کی ڈھائی سال ہی ہے تو کس دلیل سے۔۔۔؟ امید کرتا ہوں کہ ضرور رہنمائی فرمائیں گے۔ والسلام
     
  3. ‏جون 11، 2011 #23
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,173
    موصول شکریہ جات:
    15,215
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    دیو بندیوں کے شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد صاحب عثمانی ﷫ سورۂ لقمان کی آیت کریمہ ﴿ وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ ﴾ کے تفسیر میں فرماتے ہیں:
    قرآن کریم کی آیت کریمہ کی تشریح میں یہ فرمانا
    کیا تقلید کا شاخسانہ نہیں؟!!! قرآن کریم کی صریح آیت کریمہ کے بعد اب اور کیا دلیل ہوگی؟!! فرمانِ باری ہے: ﴿ وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ ... سورة يونس کہ ’’اور ان میں سے اکثر لوگ صرف گمان پر چل رہے ہیں۔ یقیناً گمان، حق (کی معرفت) میں کچھ بھی کام نہیں دے سکتا یہ جو کچھ کررہے ہیں یقیناً اللہ کو سب خبر ہے۔‘‘
    اللہ تعالیٰ ہماری اصلاح فرمائیں!
     
  4. ‏جون 11، 2011 #24
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ١۔
    تبصرہ کے لیے شکریہ!
    لیکن میرے بھائی اتنی بھی عجلت میں نہیں لکھی گئی ہے۔ یہ موقف میں نے اپنے شیوخ سے نقل کیا ہے اور انہوں نے اپنے شیوخ سے نقل کیا ہے اور کم از کم اس موقف کے اظہار میں اگر آپ دو نسلوں کا ہی اعتبار کرلیں تو تقریبا٦٠ سال کا عرصہ بنتا ہے اور یہ کوئی کم عرصہ نہیں ہے۔(ابتسامہ محب)
    ٢۔
    آپ کا یہ مطالبہ بالکل درست اور بجا ہے۔ ان شاء اللہ اس موضوع پر پہلی فرصت میں ایک مضمون ماہنامہ محدث یا کسی اور مجلہ کے تحریر کرتا ہوں۔
    ٣۔ آپ تاریخ فقہ اسلامی پر کوئی بھی کتاب اٹھا لیں ، چاہے وہ شیخ مصطفی زرقا کی ہو یا شیخ علی السایس یا ڈاکٹر تاج الدین عروسی کی ہو وغیرہ تو آپ کو کچھ بنیادی فروق تو وہاں بھی مل جائیں گے ۔اور اس موضوع پر بیسیوں کتابوں میں یہ ابحاث ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔اگر علم عرب کے اس علمی کام کو یہاں پاکستان پہنچتے پہچنتے ایک عرصہ دراز لگ جاتا ہے ۔
    ٤۔ فوری اطلاع کے لیے صرف اس مسئلہ میں کچھ حوالہ جات پیش کر رہا ہوں کہ جس میں آپ نے تاکید سے مطالبہ کیا ہےیعنی حنفیہ کے نزدیک ائمہ کے اجتہادات شریعت اسلامیہ کی طرح دائمی یعنی تاقیام قیامت ہیں۔
    والحاصل أن أبا حنیفة النعمان من أعظم معجزات المصطفی بعد القرآن وحسبک من مناقبہ ما قال قولاًا لا أخذ بہ ا مام من الأئمة الأعلام وقد جعل اللہ الحکم لأصحابہ وأتباعہ من زمنہ ا لی ھذہ الأیام الی أن یحکم بمذھبہ عیسی علیہ السلام.(رد المحتار علی در المختا ر:جلد١، ص ١٤٢)
    حنفی ارتحل الی مذھب الشافعی رحمہ اللہ تعالی یعزر کذا فی جواھرالأخلاطی.(الفتاوی الھندیة' کتاب ا لحدود' باب فصل فی التعزیر)
    ٥۔ مزید تفصیلی حوالہ جات ان شاء اللہ اپنے مستقل مضمون میں پیش کروں گا۔
     
  5. ‏جون 11، 2011 #25
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    میرے خیال اسے موضوع کو مکالمہ کے ضمن میں ’اہل الرائے کون ہیں‘کے عنوان سے منتقل کردیں۔ چونکہ یہاں پر دوتین موضوع آپس میں خلط ملط ہورہے ہیں۔ آپ کی تفصیلی تحریر کا انتظار رہے اس کے بعد کچھ ناچیز کی عرض ومعروضات ہوں گی۔
     
  6. ‏جون 11، 2011 #26
    حراسنبل

    حراسنبل مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 04، 2011
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    105
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول سے اس کا جواب دے دیں ۔
     
  7. ‏جون 12، 2011 #27
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    آپ نے اپنے شیوخ کا نام نہیں تبایاتومیرے لئے وہ مجہول کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
    اہل الرائے پر میں نے کچھ کتابیں پڑھیں ہیں۔ جس میں جدید وقدیم دونوں قسم کے مصنفین شامل ہیں لیکن آپ کابیان کردہ فرق مجھے کہیں نہیں ملا۔ نہ عبدالقاہر جرجانی کی الفرق بین الفرق میں، نہ ابن خلدون کے مقدمہ میں ،نہ شاہ ولی اللہ کی الانصاف اورحجۃ اللہ البالغہ میں۔ہوسکتاہے کہ یہ میرے مطالعہ کا قصور ہو لیکن جب تک کوئی دلیل سامنے نہ آئے اس تعریف کو ماننے میں سخت اشکال ہے۔ویسے اگرآپ یہ عرض کردیں کہ یہ آپ کااپنااجتہاد ہے توپھرکوئی گنجائش رہتی ہے کیونکہ اس میں کلام کرنے کی گنجائش بہت کم بچتی ہے(ابتسامہ )

    ٤
    اصول تحقیق سے ماشاء اللہ آپ واقف ہوں گے۔ آپ بھی جانتے ہیں اورہم بھی جانتے ہیں کہ یہاں پر ابن عابدین شامی اہل الرائے کا ذکر نہیں کررہے تھے بلکہ امام ابوحنیفہ کی تعریف وتوصیف بیان کررہے تھے اس میں انہوں نے کسی حد تک مبالغہ سے کام لیاہے اورحکم کاجومعنی آپ سمجھ رہے ہیں کیاوہی ابن عابدین کابھی منشاء ہے یہ بات محتاج تحقیق ہے۔
    یہ دلیل مکمل جب ہوتی کہ ابن عابدین اہل الرائے کے ذکر میں اس بات کونقل کرتے پھرآپ کا اس کاحوالہ دیناصحیح ہوتا۔
    اس کی ایک مثال دیکھیں حافظ ابوالولید باجی مشہور مالکی محدث اورفقیہہ ہیں جنہوں نے ابن حزم ظاہری کا ناطقہ بند کردیاتھا۔وہ اپنی کتاب الوصیۃ یاالنصیحۃ لویدیہ میں امام ابوحنیفہ اورامام شافعی کے بارے میں لکھتے ہیں۔
    وإنَّما خصصنا مذهبَ مالكٍ رحمه الله؛ لأنه إمامٌ في الحديث، وإمامٌ في الرأي، وليس لأحدٍ من العلماء مِمَّن انبسط مذهبُه وكثُرت في المسائل أجوبتُه درجةُ الإمامةِ في المعنيين، وإنَّما يشاركه في كثرة المسائل وفروعها والكلام على معانيها وأصولها أبو حنيفة والشافعي، وليس لأحدهما إمامةٌ في الحديث، ولا درجة متوسطة( ).
    اب اس کو کوئی بنیاد بناکر کہے کہ وہ امام شافعی اورامام ابوحنیفہ کو حدیث میں یتیم مانتے ہیں توغلط ہوگا کیونکہ انہوں نے یہ بات محض امام مالک سے فرط عقیدت کی بناء پر کہاہے۔ہاں اگروہ کسی حدیث پر کلام کرتے ہوئے یاعلم جرح وتعدیل پر لکھتے ہوئے یہ بات کہتے تو قابل ذکر تھی۔ دوسری چیز دیکھئے وہ امام مالک کوامام فی الرائے کہہ رہے ہیں۔ اب پتہ نہیں آپ اس کا کیامطلب بیان کریں گے۔
    آپ سے ایسی توقع تونہ تھی ایسی بچکانہ بات آپ نے بیان کی ہے۔فتاوی ہندیہ میں ہزاروں اقوال ہیں ۔اس میں صحیح غیرصحیح شاذ اورمتروک ہرقسم کے قول موجود ہیں اس میں سے ایک جزئیہ لے کر بغیرتحقیق کے بطور حوالہ پیش کرنا غلط ہے۔پھراس میں اہل الرائے کا ذکر کہاں ہے ۔ اسی طرح کچھ عرصہ قبل ایک صاحب نے کسی گمنام حنفی کے حوالہ سے ذکر کیاتھاکہ اگرمیں قادر ہوتاتوشافعیوں سے جزیہ وصول کرتا۔
    ہرفرقہ کی تاریخ میں کچھ شدت پسند لوگ ہوتے ہیں اورباہمی نزاع اس کو مزید گدلاکردیتی ہے۔اس کو ایک قول بناکر پیش کرنا اصولی طورپر غلط ہے۔اگریہی بات صحیح ہوتی توتاریخ کے وہ تمام مشاہیرحنفی جنہوں نے شافعی علمائ سے استفادہ کیا اوروہ تمام شافعی علماء جنہوں نے حنفی علماء سے استفادہ کیاوہ کس بات کی نظیر ہے۔ایک قول کو لے لینا اوربقیہ تمام امور کو پس پشت ڈالنا اہل تحقیق کا شیوہ نہیں ہواکرتا۔
    امید ہے کہ آنجناب کا اہل الرائے پر مضمون وقیع،تحقیقی اورعلمی اصولوں کو پیش نظررکھ کرہوگا۔مناظرانہ اورمجادلانہ نہیں ہوگا۔والسلام
     
  8. ‏جون 12، 2011 #28
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,140
    موصول شکریہ جات:
    5,440
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    مجھ جیسے طالب علم کو بھی اس کے جواب کی ضرورت ہے،
     
  9. ‏جون 12، 2011 #29
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    سمجھنے کی ضرورت تو دونوں کو ہے اس اصول کی خلاف ورزیاں آپ کے یہاں بھی کچھ کم نہیں ہیں۔اصولی حضرات میں سے کس نے اس بات کی تائید کی ہے۔اوراس کو بطور اصول ذکر کیاہے بتاکر ہمیں ممنون کریں۔کیاامام کرخی کے شاگردوں کا اوران کے شاگردوں کے شاگردوں کو اصول کی فقہ کی کتابوں میں اس اصول کونہ ذکر کرنا بالواسطہ اس کاانکار نہیں ہے؟
     
  10. ‏جون 13، 2011 #30
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    لو بھائی رضاعت ثابت ہو نی کی مدت بھی دو سال کا فتوی ۔ جھگڑا ختم ۔
    Answer: Darul Ifta Deoband India

    آپ حضرات نے دعوے کے جواب میں کسی دیوبندی مدرسہ کا فتوی نہیں دیا ۔ بلکہ شبیر عثمانی صاحب کا قول ذکر کیا ۔ اس میں بھی انہوں نے فتوی نہیں دیا بلکہ صرف ایک قول ذکر کیا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں