1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سجدہ سہوكے أحکام

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 02، 2011۔

  1. ‏جون 13، 2011 #31
    آفتاب

    آفتاب مبتدی
    جگہ:
    گرین ٹاؤن کراچی
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    132
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    ہمارے نذدیک شرعی دلائل 4 ہیں
    1- قرآن
    2- حدیث
    3-اجماع امت
    4- قیاس
    یہ آپ حضرات کی غلط فہمی کھ فقہ حنفی کی بنیاد صرف امام ابو حنیفہ کے اقوال پر ہے۔
     
  2. ‏جون 14، 2011 #32
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ١۔
    ماشاء اللہ!اہل الحدیث کی محنتوں کا کم ازکم اتنا فائدہ تو آج نظر آ رہا ہے کہ آج ہمارے بھائی عام بات چیت کو بھی اصول حدیث کی روشنی میں پرکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن مزہ تو تب ہے کہ جب ہم سب اپنے اہل علم سے فتوی طلب کرتے وقت بھی اسی طرح ان سے سند مانگنے کے بھی قائل ہو جائیں جس طرح ہم لوگوں سے دنیاوی خبروں میں بھی سند اور رجال کا نام پوچھتے ہیں۔
    بہرحال شیخ محترم حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب نے مجھے یہ فرق بتلائے تھے۔اگر ابھی بھی سند کی صحت کے تقاضے مکمل نہ ہوئے ہوں توآپ ان سے فون پر تصدیق بھی کر سکتے ہیں کہ یہ ان کا فکر ہے یا نہیں ۔ اور اتفاق کی بات ہے کہ ایک آدھ ہفتہ پہلے مجھے کہہ بھی رہے تھے کہ جامعہ کے مجلہ رشد کے لیے اس موضوع پر کوئی مضمون لکھو جن میں ان پوائنٹس کو اجاگر کرو۔
    ٢۔
    آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر انسان سائنس کے مسائل فلسفہ کی کتابوں میں تلاش کرنا شروع کردے تو واقعتا اسے پریشانی توہوتی ہے کہ وہاں یہ مسائل نہیں ملتے ہیں۔ بہرحال کیا کریں ؟مصنقفین پر اعتراضات کریں؟ کہ وہ ایک ہی فن کی کتاب میں ہر قسم کے فن کے مسائل جمع کیوں نہیں کر دیتے ہیں۔ بہرحال میں اس بارے تاحال کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پایا ہوں ۔
    ٣۔
    میں عرض کر چکا ہوں کہ یہ کوئی میری ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ اپنے شیوخ سے نقل کی ہے۔ بہرحال آپ کے اطمینان کے لیے ایک دو حوالہ جات بھی نقل کر رہا ہوں۔ امام مالک رحمہ اللہ اپنی کتاب ’موطا‘ میں فرماتے ہیں:
    '' وحدثنی یحی عن مالک عن ربیعة بن أبی عبد الرحمن أنہ قال سألت سعید بن المسیب کم فی صبع المرأة فقال عشر من البل فقلت کم فی صبعین قال عشرون من البل فقلت کم فی ثلاث فقال ثلاثون من البل فقلت کم فی أربع قال عشرون من البل فقلت حین عظم جرحھا واشتدت مصیبتھا نقص عقلھا فقال سعید أعراقی أنت فقلت بل عالم متثبت أو جاھل متعلم فقال سعید ھی السنة یا ابن أخی.''(مؤطا امام مالک' کتاب الطلاق' باب عدة المتوفی عنھا زوجھا اذا کانت حاملا (١٢٢٥)' ٢ ٥٨٩ ۔
    بھائی اہل عراق پر یہ جرح تو تابعین کے زمانہ میں شروع ہو گئی تھی اور سید التابعین حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے یہ نقد کی ہے اور امام مالک رحمہ اللہ کے زمانے میں تو اپنے نقطہ عروج پر تھی۔ اسی طرح عالم عرب کے جید عالم دین اور خطیب ڈاکٹر مصطفی السباعی لکھتے ہیں:
    مدرسة الرأي مدرسة أهل الكوفة وإلى أبي حنيفة انتهت رئاسة هذه المدرسة ,فيعد إمام فقهاء العراق،يعد أبو حنيفة -رحمه الله- أول من توسع في استنباط الفقه من أئمة عصره وفي تفريع الفروع على الصول وافتراض الحواث التي لم تقع وقد كان العلماء قبله يكرهون لك ..............وقد عرفت مدرسة أبي حنيفة بمدرسة الأرأيتيين أي الذي يقولون أرأيت يفترضون الوقائع بقولهم :" أرأيت لو حصل كذا ؟أرأيت لو كان كذا " فقد سأل مالكاً رحمه الله بعض تلاميذه يوماً عن حكم مسالة فأجابه ,فقال تلميذه :أرأيت لو كان كذا ؟فغضب مالك وقال :هل أنت من الأرأيتيين ...(السنة ومكانتها في التشريع : د. مصطفي السباعي ، ص 403 )
    بقیہ تفصیلی حوالہ جات بنیادی مصادر سے ان شاء اللہ تفصیلی مضمون میں ملاحظہ فرمایے گا۔

    ٤۔
    یہ تو ایسے ہی ہے کہ ہم فقہ یا اصول فقہ کی کتاب سے حنفی فقیہ کی کوئی رائے بیان کریں تو آپ کہیں یہ تو مناقب کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ فقہ یعنی قانون کی کتابوں میں مناقب کا کیا کام؟اگر یہ مناقب ہیں تو انہیں بطور ”اصول فتوی“ نصاب میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟واضح رہے کہ یہ حوالہ فتاوی شامیہ کے مقدمہ سے لیا گیا ہے اور فتاوی شامیہ کا مقدمہ دیوبندی مدارس میں آٹھ سالہ درس نظامی کے بعد دو سالہ مفتی کورس میں بطور ’اصول فتوی‘ کے نصاب کے پڑھایا جاتا ہے۔
    آپ کوئی اور معنی بیان کردیں جو حنفی مدارس میں اس مقدمہ کو بطور نصاب تعلیم دیتے ہوئے مفتی حضرات کوبتلایا بھی جاتا ہو تو ہمیں بصد جان قبول ہے۔
    آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ فتاوی عالمگیریہ کو اپنے وقت کے چوٹی کے چالیس حنفی اہل علم نے مرتب کیا ہے۔ پھر اس کے ایک ایک فتوی پر شاہ عالمگیر اور کبار حنفی اہل علم کی نظر ثانی ہوئی ہے بلکہ ایک حصہ کی نظر ثانی تو شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کے والد محترم نے کی ہے۔ یہ فتوی اورنگ زیب عالمگیر نےبرصغیر پاک وہند کی عدالتوں کے لیے مرتب کروایا تھااور یہ ایک طرح سے مغلیہ سلطنت کےلیے بطور قانون مرتب کروایا گیا تھا لیکن اس قانون کی حیثیت یہ ہے کہ یہ نافذ نہیں تھا لیکن اس قانون سے حنفی عدالتیں رہنمائی لیتی تھیں۔اس بارے تفصیل کے لیے میرے پی۔ایچ ۔ڈی کے مقالہ میں باب پنجم میں ایک فصل فتاوی عالمگیری پر ہے۔ اس کا مطالعہ یہاں کریں۔ یعنی یہ فتاوی کبار حنفی اہل علم کی ایک بڑی جماعت کی اجتماعی تحقیقات کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جو بطور فتوی بھی نہیں بلکہ بطور قانون مرتب کیا گیا تھا اور ایسی سنجیدہ کوششوں میں آپ کے بقول شاذ اور متروک اقوال کا تذکرہ ایک مسلک کے نمائندگان کی جماعت کی طرف سے بہت ہی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہے۔
     
  3. ‏جون 14، 2011 #33
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,173
    موصول شکریہ جات:
    15,214
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    یہی شرعی دلائل ہمارے ہاں بھی ہیں، پھر اختلاف کس بات کا ہے؟!!
    اختلاف وہی ہے جو اہل الحدیث اور اہل الرائے میں ہے جس کا ذکر علوی بھائی نے اپنی تفصیلی پوسٹ نمبر 10 میں کیا ہے۔ میں نے اس کی کچھ وضاحت یہاں کی تھی۔
    واللہ تعالیٰ اعلم!
     
  4. ‏جون 14، 2011 #34
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے ؟
    الفرق بین الفرق میں علامہ عبدالقاہر جرجانی نے بھی اہل الحدیث اوراہل الرائے پر گفتگو کی ہے۔ علامہ ابن خلدون نے بھی علم حدیث اورعلم فقہ اورمجتہدین ائمہ پر گفتگو کی ہے اورامام ابوحنیفہ کو امام اہل الرائے بتایاہے لیکن کہیں بھی آپ کی مذکورہ تعریف کا ذکر نہیں کیاہے۔اگرآپ نے الانصاف اورحجۃ اللہ البالغۃ میں اہل الرائے کا ذکر نہیں پڑھاتوبراہ کرم مضمون لکھتے وقت ایک بار پھر پڑھ لیں انہوں نے اہل الرائے کا بھی ذکر کیاہے اورکس کو اہل الرائے کہتے ہیں وہ بھی بیان کیاہے (اگرچہ اس سے راقم الحروف کو اختلاف)لیکن اپ کی بیان کردہ تعریف سے وہ کوسوں دور ہے۔
     
  5. ‏جون 15، 2011 #35
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,173
    موصول شکریہ جات:
    15,214
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جمشید بھائی!
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    کیا آپ کو یہ بات تسلیم ہے کہ اہل الرّائے کے نزدیک قاضی کا فیصلہ ظاہری وباطنی طور پر لاگو ہوتا ہے جبکہ اہل الحدیث کے نزدیک صرف ظاہری طور پر لاگو ہوتا ہے؟!!
    اور کیا آپ کا بھی یہی مسلک ہے؟!!
     
  6. ‏جون 16، 2011 #36
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    جزاکم اللہ خیرا جمشید بھائی!
    آپ نے اچھی بحث کی۔ اپنے مضمون میں ان شاء اللہ آپ کی طرف سے پیش کردہ نکات کو ملحوظ رکھوں گا۔ آپ کے ساتھ اس مکالمہ کا ایک فائدہ مجھے ضرور ہوا ہے کہ اس موضوع پر کچھ کام کرنے کا میرا متزلزل ارادہ تقریبا عزم میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اس کے لیے آپ کا شکر گزار ہوں۔
    مکالمے کا مقصود کسی کو اپنی بات منوانا ہر گز نہیں ہوتا ہے بلکہ اپنی بات یا موقف کی وضاحت ہوتی ہے اوردوسرے کے موقف پر غور کرنا ہوتا ہے اور یہ تقریبا اب تک حاصل ہو چکا ہے۔
    آپ سے گزارش ہے کہ اس مکالمہ کے مابین ناچیز سے کوئی خطا ہوئی ہو تو درگزر فرما دیں کیونکہ بعض اوقات دوران گفتگو کچھ اونچ نیچ ہو جاتی ہے اور علمی دلائل کے ساتھ کچھ طنز بھی لاشعوی یا شعوری طور گفتگو میں شامل ہو جاتا ہے۔آپ ایک اچھے انسان ہیں اور ہمارے لیے محترم ہیں۔ ہم میں بہت کمیاں کوتاہیاں ہیں، بس ہمارے لیے دعا فرماتے رہیں ۔ مجلس کے اختتام کی دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہوں گا تا کہ اس باہمی مجلس میں ہماری طرف سے کوئی کمی کوتاہی ہوئی تو اللہ تعالی معاف فرما دے۔
    سبحنک اللھم وبحمدک نشھد ان لا الہ الا انت نستغفرک ونتوب الیک۔
    اللہ تعالی آپ کو دنیا وآخرت میں بھلائی عطا فرمائے۔
    کل رات مغرب کی نماز کے بعد اپنی کی ہوئی پوسٹس کے بارے کچھ اپنا محاسبہ کیا تو محسوس ہوا کہ شاید اس مکالمہ میں یہ جملہ کہنا میری طرف سے مناسب نہیں تھا کیونکہ اس میں طنز تھا؛
    کہنے کا مقصد صرف یہی تھا کہ اس موضوع سے متعلق آپ تاریخ فقہ اسلامی کی کتب پڑھیں لیکن اس بات کو میری طرف سے آپ تک پہنچانے کا اسلوب طنزیہ بن گیا۔ بہرحال باہمی گفتگو میں انسان سے ایسی خطا ہو جاتی ہے جس کی کوئی جسٹفیکیشن تو نہیں کی جا سکتی، ہاں معذرت ضرور کی جا سکتی ہے۔بعض اوقات مکالمہ کے مابین ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل ہار جیت یہاں اس کی دنیا کی نہیں ہے بلکہ اصل ہار جیت تو اس دن کی ہے۔
    اس کے علاوہ بھی اگر میری کوئی بات آپ کو بری لگی ہو تو اس کے لیے بھی معذرت خواہ ہوں۔اللہ آپ کو اس دنیا میں اپنے دین، دین اسلام کی خدمت کے لیے قبول فرمائے اور ہم سب کو آخرت میں جنت الفردوس میں اکھٹا فرمائے۔
    جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  7. ‏جون 11، 2013 #37
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    ماشاء اللہ، اللہ مزید توفیق دے کہ امام ابوحنیفہ یا کسی بھی اور عالم کے بے بنیاد اور بے دلیل مسائل کو چھوڑ کر کتاب و سنت کے مطابق فتویٰ دیا جائے۔ انشاء اللہ اسی طرح یہ اندھی تقلید کی گمراہیاں ختم ہوں گی۔
     
  8. ‏جون 11، 2013 #38
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    امام شافعی ؒ صرف امام مالک ؒ کے ہی شاگرد نہیں تھے بلکہ
    جس وقت اما م شافعی صا حبؒ کی عمر34سال ہوئی تو ۤپ اما م ابو حنیفہ ؒکے نا مور شا گرد اور فقہ حنفی کے تر جما ن اما م محمدؒ کی خد مت میں حاضر ہوئے ،اور برابر تین سال تک امام محمد ؒ کی خد مت میں ر ہ کر ان سے بھر پور استفا دہ کرتے رہے ،آپ خود اس تحصیل علم پر اما م محمد کے احسان مند رہے ۔چنا نچہ فر ما تے ہیں کہ'' میں نے جوکچھ اما م محمدؒ سے پڑھنا اورسنا ،نقل کیا اور لیا وہ ایک اونٹ کے بوجھ برا بر ہے ''۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 26، 2017 #39
    haya

    haya مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 26، 2017
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    اسلام علیکم..

    مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ سجدۂ سھو کا اصل طریقہ کیا ہے؟

    1. غلطی ہونے کی صورت میں آخری رکعت میں تشہد پڑھ کر سلام پھیرنا دو سجدے کرنا، دوبارہ تشہد، درود شریف، دعا پڑھ کر سلام پھیرنا
    یا
    2. آخری رکعت میں نماز مکمل کرنا، سلام پھیرنا دو سجدے کرنا اور پھر سے سلام پھیرنا..
    کوئی رہنمائ فرما دیں ..
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں