1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سجدے کی حالت میں دونوں پیرکو ہٹائے رکھناسنت ہے

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏دسمبر 15، 2016۔

  1. ‏دسمبر 20، 2016 #11
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اگر کہا جائے کہ امام شافعی سمیت ائمہ اربعہ کا یہی موقف ہے تو کیا کہیں گے؟

    اور اگر کہا جائے کہ امام حاکم نے بھی اسے شاذ قرار دیا ہے۔ شیخ ابن باز اور شیخ بکر ابو زید وغیرہم بھی ان بھائی سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں، تو کیا کہیں گے؟
    اور بات بھی دراصل یہی صحیح ہے۔
    یحیی بن ایوب پر آپ نے اتنی واضح جروح نقل کر کے اس معاملے کو اور سیدھا بنا دیا ہے، کیونکہ شذوذ کا تعلق راوی کی ثقاہت یا ضعف سے ہر گز نہیں ہوتا بلکہ اس کی مخالفت ونکارت سے ہوتا ہے اور اسی لئے راوی اگر شعبہ اور سفیان جیسے ثقہ ائمہ بھی کیوں نہ ہوں ان کی بھی بعض روایات شاذ قرار پاتی ہیں! اور یحیی بن ایوب پر تو پھر صراحتا نکارت اور کثرتِ خطاء کا الزام ہے۔ ان کی مخالفت والی روایت تو بدرجہ اولی شاذ بلکہ منکر قرار پائے گی۔
     
    • علمی علمی x 2
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 21، 2016 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محترم تابش صاحب نے شیخ مقبول صاحب کے مضمون پر تبصرہ نقل کیا ، اسے بھی یہیں منتقل کردیا گیا ہے ، تاکہ دونوں موقف ایک ہی تھریڈ میں قارئین کے سامنے ہوں ۔
     
  3. ‏دسمبر 21، 2016 #13
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,242
    موصول شکریہ جات:
    353
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    کبھی کبھی مصروف ہوجاتا ہوں ، کچھ تاخیر سے یہ سب تبصرے دیکھے ، اللہ تعالی آپ سب کو خوش رکھے ۔ میں نے اپنی بساط بھر مسئلہ واضح کرنے کی کوشش کی ۔ تحریر آپ کے سامنے ہے ۔ محسن علی صاحب نے بھی اپنے علم کی حد تک اپنا موقف بیان کرنے کی کوشش کی ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے ۔ یہاں مسئلہ کسی کی تائید یا تردید کا نہیں بلکہ نصوص کی روشنی میں صحیح موقف تک پہنچنے کا ہے اس کام کے لئے ہمارا اسلوب بھی صحیح ہونا چاہئے ۔ محترم عمر اثری سلمہ اللہ نے اس کی طرف اشارہ کردیا ہے ۔
    محسن صاحب نے جن باتوں کو اٹھایاہے ، برادرم رضا میاں صاحب نے بہت ہی اختصار سے اتنا صحیح دیا دے دیا ہے کہ مزید جواب دینے کی ضرورت نہیں لگتی۔
    اللہ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔ آمین
     
  4. ‏دسمبر 21، 2016 #14
    Mohsin Ali Tabish

    Mohsin Ali Tabish رکن
    جگہ:
    Raiwind
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امام حاکم کی طرف شاذ کی نسبت درست نہیں انہوں نے تفرد کا ذکر کیا ہے۔ اور ہر تفرد شاذ نہیں ہوتا۔ اس سے اگلی روایت بھی منفرد ہے اسے امام حاکم اور امام ذہبی دونوں نے تفرد کے باوجود صحیح کہا ہے۔ آخری اور فیصلہ کن بات صھیح مسلم کی اسی حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں جس کے خلاف بتاتے ہیں۔ الفاظ یہ ہیں: صحيح مسلم نسخہ فواد عبد الباقی(1/ 352)
    (486) عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی میرا ہاتھ آپ ﷺ کے قدموں پر پڑا۔ یہی الفاظ موطا وغیرہ میں بھی ہیں: موطأ مالك ت عبد الباقي (1/ 214)
    أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَسْتُهُ بِيَدِي، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ، وَهُوَ سَاجِدٌ۔ ترمذی: سنن الترمذي ت شاكر (5/ 524)
    3493 - أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ نَائِمَةً إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَقَدْتُهُ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ۔ نسائی: سنن النسائي (1/ 102)
    169۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى قَدَمَيْهِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ سَاجِدٌ ۔ سنن النسائي (8/ 283)
    5534 - عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: طَلَبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي فِرَاشِي، فَلَمْ أُصِبْهُ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى رَأْسِ الْفِرَاشِ، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ، فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ. اس کے علاوہ بھی بہت سی کتب میں یہ الفاظ ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ جب دونوں پاؤں الگ الگ ہیں تو ایک ہی ہاتھ دونوں قدموں کو کیسے لگ سکتا ہے۔ متقدمین ومتاخرین بہت سے محدثین کے مقبلے میں شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا اس حدیث کو شاذ کہنا بذات خود شاذ ہے۔ هذا ما عندي والله أعلم بالصواب
     
  5. ‏دسمبر 22، 2016 #15
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم بھائی
    تفرد اور چیز ہے اور کسی لفظ یا جملے کو باقی رواۃ کے مخالف منفرد ذکر کرنا اور چیز ہے۔ اور امام حاکم نے اس روایت میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ خیر اگر محدثین کا زیادت راوی پر موقف کا مطالعہ کریں تو یہ بات بڑی واضح ہو جائے گی۔ اور پھر اگر امام حاکم اسے شاذ نہ بھی کہتے تو اصولا یہ شاذ ہے۔
    جہاں تک آپ کے صحیح مسلم کی اس روایت سے استدلال کا تعلق ہے تو یہ ایک بہت ہی بعید استدلال ہے۔ کیا اس روایت میں آپ یہ الفاظ دکھا سکتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی بار ہاتھ رکھا اور وہ دونوں قدموں پر پڑے؟ عموما اندھیرے میں انسان کا ہاتھ کسی چیز پر پڑتا ہے تو وہ ایک دو بار ادھر اُدھر گھما کر اس چیز کا اندازہ لگا لیتا ہے کہ وہ کیا ہے وغیرہ۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ایک بار لگا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ یہ قدم ہیں۔ اور انہوں نے دوسری بار ہاتھ رکھا ہی نہیں!
    الٹا یہ حدیث واضح طور پر اس اضافے کے شاذ ومنکر ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے، کیونکہ کسی بھی روایت میں عائشہ نے وہ الفاظ نہیں کہے جو یحیی بن ایوب نے بیان کیے ہیں حالانکہ سند ایک ہے واقعہ بھی ایک ہے اور قول بھی ایک ہے اور پھر راوی کا حافظہ بھی کچھ کمزور ہے۔
     
  6. ‏دسمبر 22، 2016 #16
    Mohsin Ali Tabish

    Mohsin Ali Tabish رکن
    جگہ:
    Raiwind
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    34
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    میرے بہت ہی عزیز برادرز!
    فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا جائے اب...
    محترم @مقبول احمد سلفی
    میرے لئے بہت قابل عزت و احترام ہیں اور اچھے محقق بھی.
    اگر میرے الفاظ میں کوئی سختی ہو تو معذرت آپ انڈینز سے.

    " اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل واجعلنا للمتقين إماما "
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 22، 2016 #17
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اس کا کیا مطلب ہے بھائی؟
    ویسے میں انڈین نہیں ہوں البتہ اس تعین کی سمجھ نہیں آئی؟
     
  8. ‏دسمبر 22، 2016 #18
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35


    السلام عليكم و رحمت الله و بركاته

    اميد كرتا هو شيخ خيريت سے ہوگے۔
    راص العقبتین والی روایت مے یحیی بن آیوب ہے جو مختلف فیہ ہے اور انکی متابعت نہی پائی جاتی۔

    اور آپ میرے عزیز محترم نے دلائل سے استدلال پیش کیا ہے، اس مسألہ مے صریح دلیل بھی یحیی بن آیوب کی روایت کے سوا نہی پائی جاتی۔

    تو اسی بنا ایک استدلال یہ بہی بنتا ہے صحیح مسلم کے حدیث سے جسکو آپنے پیش کی ہے۔

    فقدتُ رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم ليلةً من الفراشِ فالتمستُه فوقعتْ يدي على بطنِ قدميْه وهو في المسجدِ وهما منصوبتانِ وهو يقول:" اللهم أعوذُ برضاك من سخطِك, وبمعافاتِك من عقوبتِك , وأعوذُ بك منك لا أُحْصى ثناءً عليك أنت كما أثنيتَ على نفسِك " .(صحيح مسلم:486)
    ترجمہ: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ نہ پایا تو میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کو تلاش کرنا شروع کر دیا، چنانچہ میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کو لگا جو سیدھے کھڑے تھے، جب کہ آپ سجدے میں تھے اور پڑھ رہے تھے"اللهم أعوذُ برضاك من سخطِك, وبمعافاتِك من عقوبتِك , وأعوذُ بك منك لا أُحْصى ثناءً عليك أنت كما أثنيتَ على نفسِك"۔

    مای عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہے: فالتمستُه فوقعتْ يدي على بطنِ قدميْه وهو في المسجدِ وهما منصوبتانِ

    یعنی آپ کا ایک ہاتہ نبی صل اللہ علیہ وسلم کے دونو قدمو کے بطن پر لگا اور اپکے دونو قدم مبارک کہڈے ہوے تہے۔

    ایسا ہونا تب ہی درست معلوم ہوتا ہے جب دونو قدم ملے ہوے ہو یا قریب ہو۔ اگر آپ علیہ سلام کے قدمو کے درمیان فاصلہ ہوتا تو مای دونو قدم کا ذکر نہ کرتی یا قدمو مے فاصلہ ہوتا تو اس ترہ الفاظ ہوتے کہ پہلے ایک قدم پر ہاتہ لگا پہر دوسرے پر پر روایت مے ایسا نہی جس سے استدلال نکلتا ہے کہ آپ علیہ سلام کہ پیر جڈے ہوے تہے یا کافی قریب تہے۔

    واللہ اعلم بالثواب۔
     
    Last edited: ‏دسمبر 22، 2016
  9. ‏دسمبر 22، 2016 #19
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یہ عجیب استدلال ہے۔
     
  10. ‏دسمبر 22، 2016 #20
    تبريز بن أبرار

    تبريز بن أبرار رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 16، 2016
    پیغامات:
    51
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    35

    السلام علیکم۔
    جی میرے بھائی شیخ عثیمین رحمہ اللہ نے یہی استدلال کیا ہے۔
    پہلے ذکر نہی کیا آپکا نام کہ شیخ پر کوئ بات منصوب نہ کردو، پر بحمد اللہ ابھی اپکا قول ملا۔

    قال الشيخ العثيمين في(صفة الصلاة) ص 147:
    " ولكن الذي يظهر مِن السُّنَّة: أن القدمين تكونان مرصوصتين، يعني: يرصُّ القدمين بعضهما ببعض، كما في «الصحيح» من حديث عائشة حين فَقَدَتِ النبي صلى الله عليه وسلم فوقعت يدُها على بطن قدميه ، وهما منصوبتان، وهو ساجد . واليد الواحدة لا تقع على القدمين إلا في حال التَّراصِّ، وقد جاء ذلك أيضاً في «صحيح ابن خزيمة» في حديث عائشة المتقدِّم: «أنَّ الرسول صلى الله عليه وسلم كان رَاصًّا عقبيه .
    وعلى هذا ؛ فالسُّنَّةُ في القدمين هو التَّراصُّ بخلاف الرُّكبتين واليدين
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں