1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

سخت سردی کے موسم میں جنبی شخص کا تیمم کرنا

'طہارت' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جنوری 08، 2017۔

  1. ‏جنوری 08، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    918
    موصول شکریہ جات:
    293
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    ٹھندی کے موسم میں عام طور سے لوگ یہ سوال بار بار پوچھتے ہیں کہ جسے فجر کی نماز کے لئے غسل کی ضرورت ہے مثلا جنبی یا محتلم تو کیا ایسا آدمی سخت ٹھنڈی کے سبب غسل کی بجائے تیمم کرسکتا ہے اس حال میں کہ پانی گرم کرنے کی سہولت نہ ہو ؟

    یہ سوال میری نظر میں کافی اہم ہے خاص طور پر اس جہت سے کہ ٹھنڈے پانی سے غسل کا خوفناک تصور کرکے لوگ غسل چھوڑدیتے ہیں حتی کہ نماز فجر جیسی اہم عبادت بھی ترک کردیتے ہیں۔ اس لئے یہ اہم مسئلہ جان لینا ضروری ہے ۔
    اللہ تعالی نے بندوں کو طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایاہے اور دین مشکل کا نام نہیں ، اس میں بندوں کے لئے آسانی ہے ۔ اگر کوئی آدمی رات کو جنبی ہوگیا یا اسے فجر سے پہلے احتلام ہوگیا ۔ پانی موجود ہے مگر اسے گرم کرنے کی کوئی صورت نہیں اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے پر بیمار ہوجانے یا پہلے سے بیمار ہوتو اس کی بیماری میں اضافہ ہوجانے کا سبب ہو تو اس صورت حال میں غسل کی بجائے تیمم کرنا کافی ہوگا جو غسل اور وضو دونوں کے لئے کفایت کرے گا ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
    وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ
    ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا (النساء:43)
    ترجمہ: اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منہ اور اپنے ہاتھ مل لو ، بے شک اللہ تعالی معاف کرنے والا ،بخشنے والا ہے ۔
    اس آیت میں بیمار اور مسافرکو پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کی اجازت دی گئی ہے ۔ بیمار سے وہ آدمی مراد ہے جسے وضو اور غسل سے نقصان یا بیماری میں اضافہ کا اندیشہ ہو۔ اس بیمار میں وہ مقیم بھی داخل ہے جس نے رات میں بیوی سے جماع کیا یا اسے احتلام ہوگیا ، گرم پانی میسر نہیں، ٹھنڈ پانی سے غسل باعث ضرر یا ضرر میں اضافہ کا سبب ہے ۔ حدیث سے اس کی خاص دلیل بھی ملتی ہے ۔
    حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    احتَلمتُ في ليلةٍ باردةٍ في غزوةِ ذاتِ السُّلاسلِ فأشفَقتُ إنِ اغتَسَلتُ أن أَهْلِكَ فتيمَّمتُ، ثمَّ صلَّيتُ بأصحابي الصُّبحَ فذَكَروا ذلِكَ للنَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ فقالَ: يا عَمرو صلَّيتَ بأصحابِكَ وأنتَ جنُبٌ ؟ فأخبرتُهُ بالَّذي مَنعَني منَ الاغتِسالِ وقُلتُ إنِّي سَمِعْتُ اللَّهَ يقولُ:( وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) فضحِكَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ ولم يَقُلْ شيئًا(صحيح أبي داود:334)
    ترجمہ: غزوہ ذات سلاسل میں مجھے ایک ٹھنڈی رات احتلام ہو گیا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے غسل کیا تو ہلاک ہو جاؤں گا ، چنانچہ میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کو صبح کی نماز پڑھائی ، انہوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ذکر یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :اے عمرو ! کیا تو نے جنبی ہوتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی جماعت کرائی تھی ؟ میں نے بتایا کہ کس وجہ سے میں نے غسل نہیں کیا تھا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اللہ کا فرمان سنا ہے «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما»(اپنے آپ کو قتل نہ کرو ، اللہ تم پر بہت ہی مہربان ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور کچھ نہ کہا ۔
    اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے :
    وفي هذا الحديث جواز التيمم لمن يتوقع من استعمال الماء الهلاك سواء كان لأجل برد أو غيره ، وجواز صلاة المتيمم بالمتوضئين .( فتح الباري 1 / 454 ) .
    ترجمہ: اس حديث ميں اس كا جواز پايا جاتا ہے كہ سردى وغيرہ كى بنا پر اگر پانى استعمال كرنے سے ہلاكت كا خدشہ ہو تو تیمم كيا جا سكتا ہے، اور اسى طرح تيمم كرنے والا شخص وضوء كرنے والوں كى امامت بھى كروا سكتا ہے.

    چند مزید مسائل :
    (1) آج کل اکثر جگہ پانی گرم کرنے کی سہولت موجود ہے ، اکثروبیشتر گھروں میں اسٹوو اور گیس چولہا پایا جاتا ہے جس سے بآسانی پانی گرم کرسکتے ہیں، تین چار لیٹرپانی گرم کرکے ایک بالٹی پانی میں ملاکر بدن دھویا جاسکتا ہے مگردوسروں سے شرم وحیا محسوس کرتے ہوئے پانی گرم کرکے نہیں نہایا جاتا ہے ۔ یہ سراسر غلط ہے ۔
    (2) سردی میں عام طور سے لوگ زکام میں مبتلا ہوتے ہیں ، اگر زکام مسلسل چلا آرہاہواور غسل سے طبیب نے منع کیاہوجنابت سے طہارت کے لئے بس تیمم کرلے لیکن معمولی سردی وزکام ہواور پانی سے خواہ سرد ہو یا گرم نقصان نہ ہوتوغسل واجب ہے۔ (بیماری کے وقت پانی کے استعمال سے متعلق طبیب سے مشورہ لیں)
    (3) اگر واقعی گرم پانی دستیات نہیں ہے اور ٹھنڈے پانی سے بدن دھونا ممکن ہوتو جہاں تک ہوسکے دھولیں ، سر دھونا نقصان دہ ہو تو سر چھوڑ دیں اور ساتھ ہی تیمم بھی کرلیں ۔
    (4) اگر کوئی فجر کی نماز شروع ہونے کے وقت بیدار ہوااس حال میں کہ غسل کرنا ضروری ہے اور پانی گرم کرنے اور نہانے میں نماز باجماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہےپھر بھی غسل کرے کیونکہ طہارت کے بغیر نماز نہیں ، ہاں اگر نماز قضا ہونے کا خطرہ ہے یعنی سورج نکلنے میں چند منٹ باقی رہ گئے ہیں تو پانی گرم کرنے اور نہانے کا انتظار نہ کرے بلکہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ۔
    (5) اگر عورت نے بال کو مضبوطی سے باندھ کر لٹیں بنائی ہو تو غسل جنابت کے وقت بال کھولنے کی ضرورت نہیں بلکہ تین لپ سر پہ پانی ڈالنا کافی ہے ۔ اس کی دلیل مسلم شریف کی وہ روایت ہے جس میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کوبال مضبوطی سے گوندھنے کی وجہ سے نبی ﷺ نے سر پہ تین لپ پانی ڈالنے کا حکم دیا ہے ۔
    (6) تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پرصرف کلائی تک پھیرے اور پھر چہرے پر پھیر لے ۔ تیمم سےوضو اور غسل دونوں ایک ساتھ ہوجائے گا ۔
    (7) تیمم پاک مٹی سے کیا جائے گا ،زمین اور دیوار بھی پاک مٹی کے حکم میں ہے خواہ اس پہ دھول لگی ہو یا نہ لگی ہو۔ ہاں اگر دیوار مٹی /اینٹ کی بجائے اس پہ لکڑی یا ٹائلس لگی ہو تو اس پہ تیمم نہ کرے کیونکہ یہ مٹی کے حکم میں نہیں ہے ، اس پہ دھول مٹی جمی ہوتب اس سےتیمم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

    واللہ اعلم
    کتبہ
    مقبول احمد سلفی
     
    • علمی علمی x 6
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں