1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سر زمین حجاز میں اسلامی آثار کو شدید خطرہ

'تاریخ عرب' میں موضوعات آغاز کردہ از عابدالرحمٰن, ‏مئی 13، 2013۔

  1. ‏مئی 13، 2013 #1
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    سر زمین حجاز میں اسلامی آثار کو شدید خطرہ​


    ریاض ۱۲ مئی : ابنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کےمطا بق ویسے تو مکہ مدینہ میں اسلامی تہذیب کے تمام آثار وہاں کی حکومت کے ہاتھوں تباہ ہوچکے ہیں لیکن اب سر زمین حجاز میں ان آثار کا صفایا کرنے کے کام کو تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔گویا سعودی حکمراں اس مہم کو سر کرنے میں کسی معاہدے پر عمل کر رہے ہیں جس کی مدت پوری ہونے والی ہے ۔رپورٹ کے مطابق سر زمین حجاز میں اسلامی آثار قدیمہ کا ۹۵ فیصد حصہ مٹادیاگیا ہے ۔سر زمین مکہ معظمہ میں برطانوی ’’ماسوینوںنورمن فوسٹر ‘‘اور’’ زباحدید‘‘ کے ہاتھوں بیت الحرام کے توسیعی منصوبے پر عمل ہورہا ہے ۔جنہوں نے اسلامی آثار کے ویرانوں پر شیطانی علامتوں سے بھرپور لمبی چوڑی عمارتیں تعمیر کی ہیں ، اور یہ منصوبہ ہوٹلوں اور عمارتوں کے تعمیر کے دوسرے مرحلہ کے ساتھ مل کر مکہ معظمہ کو، مغربی انداز کے شہر میں تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے جبکہ توسیعی منصوبے کے بہانے سعودی حکمراں مکہ اور مدینہ سمیت حجاز کے تمام شہروں اور دشت و کوہ و صحرا میں اسلامی آثار کومٹانے میں مصروف ہے ۔اطلاعات کے مطابق،آل سعود نے اس سال حج کے اعمال کے خاتمہ کے بعد مسجد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد ایک عظیم توسیعی منصوبے کے لیے تحقیق و مطالعہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہےجس کے بہانے مسجد الحرام اور اس کے اطراف میں موجود اسلامی آثار کو مٹانے کا منصوبہ ہے ۔کہا جارہا ہےکی اس منصوبے کے بہانے دنیا کی سب سے بڑی عمارت تیار کی جائے گی جس میں ۱۶ لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہوگی ۔اطلاعات کے مطابق اسلام کے تاریخی آثار کے مدافعین اور حجاز کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے ہر سعودی منصوبے پر شدید احتجاج کیاہے ۔اور ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبہ کے ذریعہ باقی ماندہ اسلامی آثار بھی نیست نابود ہوجائیں گے۔انڈیپنڈنٹ نے لکھا ہے کہ سعودی حکمران بعض مقامات کو منہدم کرنے کے لیے بلڈوزروں سمیت بھاری مشینری کا ستعمال کررہے ہیں ۔اس حوالہ سے حال ہی میں برطانوی اخبار انڈیپنڈیٹ نے واشنگٹن کے خلیج فارس اسٹڈیز کے حوالے سے لکھا ہے کہ آل سعود نے گزشتہ بیس سال کے عرصہ میں مکہ مدینہ کے ۹۵ فیصد آثار کو تباہ کردیا ہے جن کی عمر ایک ہزار سال سے زائد تھی ۔اور یہ کہ لندن میں سعودی سفارتخانہ ا ور سعودی وزارات خارجہ نے ابھی تک اس سلسلہ میںپوچھے جانے والے کسی بھی سوال کاجواب نہیں دیا ہے مصری قانون داں ،سعودی حکمراں اسلامی تاریخ وتمدن کو مٹا رہے ہیں روضہ اقدس کو خطرہ ،بلاد الحرمین میں اسلام کےقدیم تہذیبی ،و مقدس آثار و مقامات کے انہدام کا سلسلہ جو سعودی حکمرانوں کے آغاز سے ہی جاری ہوچکا تھا ۔اس وقت حساس ترین دور میں داخل ہوچکا ہے۔او راگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہاتو چند سال بعد ان آثار و مقامات کے بارے میں ہمیں معلومات حاصل کرنے کے لیے تاریخ کی کتابوں سے رجوع کرناپڑیگا ۔اطلاعات کے مطابق مصری قانون داں ’’منصور عبدالغفار ‘‘نے کہا ہے قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ممکنہ انہدام کو سعودی منصوبہ در حقیقت اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام آثار ،نشانیاں اور افتخار و عظمت سے بھر پور اسلامی تاریخ کو مسلمانان عالم بالخصوص نوجوان نسل کے ذہنوں سے مٹا نے کا نہایت خطرناک منصوبہ ہے انہوں نے کہا ہے قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دست درازی عظیم ترین گناہ میں شمار ہوتاہے اور کوئی بھی قانون اسلامی عمارتوں اورآثار بالخصوص قبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا ،منصور عبدالغفار نے کہا کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات کے انہدام کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں آنے والی نسل اسلام کی تاریخ وتہذیب کے ان آثار کو دیکھنے سے محروم ہوجائیں گی،تحقیقات کے مطابق آل سعود نے توسیعی منصوبے کے بہانے اس شہر کی تین مساجد کو گرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
    (اخبار مشرق: ۱۳مئی ۲۰۱۳؁ء بروز پیر)
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • لسٹ
  2. ‏مئی 13، 2013 #2
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    مٖفتی صاحب اس بات پر بڑی حیرانگی ہے کہ کیا سعودیہ میں علما نہیں،اگر ہیں تو بولتے کیوں نہیں،میرے خیال اصل کمزوری یہی ہے۔
     
  3. ‏مئی 13، 2013 #3
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    کیا اسلام اور اسلامی آثار کی رکھوالے کا ٹھیکہ صرف علماء کے پاس ہے؟ ۔۔ اور وہ بھی خاص ملک کے؟۔۔۔۔۔
     
  4. ‏مئی 14، 2013 #4
    فیض اللہ

    فیض اللہ رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 25، 2013
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    مفتی صاحب یہ خبر ابنا نیوز کی ہے جو ایران کا ادارہ ہے باقی آپ خود سمجھدار ہیں
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 14، 2013 #5
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    اللہ کرے ایسا ہی ہو
    جزاک اللہ خیراً
     
  6. ‏جون 03، 2013 #6
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    آپ کی اس بات کا کیا مطلب ہے، وضاحت فرمائیں گے؟؟؟
     
  7. ‏جون 03، 2013 #7
    محمد عثمان

    محمد عثمان رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏فروری 29، 2012
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    594
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    نھایت سنسنی خیز و معلوماتی پوسٹ ھے، بلکہ بریکنگ نیوز ھے۔۔۔ اس پوسٹ پر مختصراَ تبصرہ تین الفاظ میں ھو سکتا ھے " بریلوی شیعہ پروپیگینڈہ" :) ابتسامہ
     
  8. ‏جون 03، 2013 #8
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    مفتی صاحب نے اس مراسلے کے ذریئے اپنا نٖقطہ نظر واضع کیا ھے

    یا شکوک و شبہات کا اظہار کیا ھے یا پھر اس خبر کو مخض خبر کے

    طور پر شئیر کیا ھے۔

    اس خبر رساں ادارے نے اس پوری کہانی میں کہیں بھی ان آثارات کا

    نام ظاہر نہیں کیا جن کو مٹایا جا رہا ھے۔

    حرمین شریفین کا توسیع منصوبہ حجاج اور معتمرین کے لیے ھے نہ کہ

    آلِ سعود کے بیٹھنے کے لئے۔

    حرم مکی شریف کے توسیع منصوبے میں ارد گرد کی لوگوں کی عمارات

    اور ہوٹلز کے مالکان کو باقاعدہ ادائیگی کرنے بعد گرایا گیا ھے۔

    اس توسعی منصوبے کے متعلق ان معتمرین سے پوچھا جاسکتا ھے

    کہ اس سے حرم شریف میں آنے والوں کو کتنا آرام ھے اور ہو گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں