1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سعودی حکومت کی اجازت کے بغیر فرض حج

'وجوب واستطاعت' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏اگست 24، 2015۔

  1. ‏اگست 24، 2015 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    فرض حج کیلئے کسی حکومت کی اجازت کی ضرورت نہیں
    کیونکہ حج اللہ کی طرف سے فرض ہے ،اور کسی فرد جماعت ،یا، حکومت وغیرہ ۔ اس فریضہ کی ادائیگی سے نہیں روک سکتی؛
    اور روکے تو اس کام میں حکومت کی اطاعت نہیں کرنی چاہیئے ،کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے
    کہ ’’ اللہ کی نافرمانی میں (حکومت وغیرہ ) کی اطاعت نہیں ہوسکتی۔ شرعی امور میں ہوگی ‘‘
    اگر کوئی حکومت کی اجازت کے بغیر حج کرلے گا تو شرعاً اس کا حج ہوجائے گا ؛

    ایک سعودی عالم الشیخ خالد الرفاعی کا فتوی ملاحظہ ہو؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حكم الحجِّ بدون تصريح
    إجابة الشيخ خالد الرفاعي - مراجعة الشيخ سعد الحميد


    نسأل - يا سماحة الشَّيخ - عن حكم الحجِّ بدون تصريح.

    الجواب:
    الحمدُ لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصَحْبِه ومَن والاه، أمَّا بعدُ:

    فإنَّ حُكْمَ الحجِّ بدون تصريح يتوقَّف على كوْنِه فريضةً أو نافلة:
    فإن كان حجَّ فريضةٍ، وكان الشخصُ قادرًا مستطيعًا لأداء تلك الفريضة، ولكنَّه عجز عن استِخْراج التَّصريح لأي سببٍ - جاز له أداءُ الحجِّ بدون تصريح؛ لأنَّ الله قد افترض عليه الحجَّ، ولا يجوز لأيِّ جهة بعد ذلك - فردًا أو جماعةً أو غيرَهما - منعُه من أداء تلك الفريضة، فإن مُنِعَ منها فلا تَجب عليه الطاعة؛ لقوله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((لا طاعةَ في معصية الله، إنَّما الطاعة في المعروف))؛ أخرجاه في الصحيحينِ عن ابن عمر، وقال رسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم -: ((السمعُ والطاعة على المرء المسلم، فيما أَحَبَّ وكَرِهَ؛ ما لم يُؤمَرْ بمعصية، فإذا أُمر بمعصية، فلا سمعَ ولا طاعةَ)).

    ولأنَّ الرَّاجح: أنَّ الحجَّ فرضٌ على الفوْر، كما هو مذهب الجمهور خلافًا للشافعي، ويَجب في أوَّل أوقات التَّمكين،


    رابط الموضوع: http://www.alukah.net/spotlight/0/8239/#ixzz3jhVCVuHR
     
    Last edited: ‏اگست 24، 2015
  2. ‏اگست 24، 2015 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,951
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اگست 24، 2015 #3
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    سعودی عرب میں بغیر اجازت حج کی کوشش کرنے والوں کے لئے سزائیں مقرر

    ویب ڈیسک پير 24 اگست 2015

    ریاض: سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے رواں برس بغیر اجازت حج کی کوشش کرنے والوں سخت سزاؤں کی منظوری دے دی ہے۔

    عرب ویب سائیٹ العربیہ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے رواں برس عازمین حج کے لئے نیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مقامات مقدسہ میں داخل ہونے والے ہر عازم کے پاس حکومتی اجازت نامہ ہونا لازمی ہو گا۔ کسی بھی شخص کو مقامی یا غیر ملکی کی مدد سے حج کرنے کی اجازت نہیں ہو گی کیونکہ مقامی اور وہاں موجود غیر ملکی بھی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی کو حج کرانے کے مجاز نہیں ہیں۔

    سعودی وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ حج کے لئے جاری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزائیں دی جائیں گی۔ حکومتی اجازت کے بغیر حج کے ارادے سے عازمین حج میں شامل ہونے والے افراد کو جرمانہ، املاک کی ضبطگی اور ملک سے بے دخلی جیسی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

    سعودی عرب میں ہر سال حج کے موقع پر غیر قانونی طریقے سے حجاج میں شامل ہونے والے لوگوں کو روکنا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ سعودی حکومت نے ضابطہ اخلاق پر عمل کو سخت بنانے کے لئے فنگر پرنٹس کا نظام متعارف کرایا ہے جس کی مدد سے بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے جو جعلی طریقے سے حج کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ سال حکومت کی اجازت کے بغیر حج کی کوشش کر نے والے 2 لاکھ 20 ہزار افراد کی نشاندہی ہوئی تھی جنہیں حج کے ارکان کی ادائیگی سے روک دیا گیا تھا۔

    ایکسپریس نیوز
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 25، 2015 #4
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    اگر کوئی حکومت کی اجازت کے بغیر حج کرلے تو اس کا حج ادا ہوجائے گا اور اگر بغیر اجازت حج کرنے کے جرم میں حکومت اس کو سزا دیتی ہے تو اس سزا کے بارے کیا حکم ہوگایا مجرمانہ خاموشی اختیار کی جائے گی یعنی کہ
    رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی
     
  5. ‏اگست 25، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,662
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس مسئلے پر غور و فکر کرنے سے پہلے ’’ تصریح ‘‘ کا معنی سمجھیں ، تصریح کیوں دی یا لی جاتی ہے یہ بات ذہن میں رکھیں ۔
    تصریح کا عام فہم معنی ہے ’’ حکومت کی طرف سے حج کرنے کا اجازت نامہ ‘‘ ۔
    سوال یہ ہے کہ حکومت سے حج کے لیے اجازت نامہ لینےکی ضرورت کیوں پیش آتی ہے ؟
    اس سوال کے جواب سے پہلے ایک مثال پر غور کریں : اگر ایک دعوتی ہال میں 500 بندے آسکتے ہوں ، 500 کی تعداد کے لیے کھانے پینے اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا گیا ہو ۔
    لیکن دعوت کے وقت 500 سے بڑھ کر سات آٹھ سو افراد آجائیں ، تو وہاں گرمی و حبس اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے لوگ پریشانی کا شکار ہوں گے یانہیں ؟ بات دم گھٹ کر مرنے تک بھی پہنچ سکتی ہے ۔
    اب اگر ایسی صورت حال ہو جائے تو اس میں غلطی کس کی ہے ؟
    اگرتو دعوتی ہال کی انتظامیہ نے حقیقت سے باخبر نہیں کیا ، اور پیسے وغیرہ کے لالچ میں ایسا کیا تو ان کی غلطی ہے ۔
    لیکن اگر دعوت پر آنے والوں اور ہال کرایہ پر خریدنے والوں نے تعداد تھوڑی بتا کر زیادہ لے آئے ہیں تو ان کی غلطی ہے ۔
    اس مثال سے یقیناآپ صورت حال کوسمجھ چکے ہوں گے ۔
    حج کے لیے لاکھوں لوگ آتے ہیں ، اب اگر کوئی تصریح وغیرہ کا نظام نہ ہو تو ان کے لیے انتظام و انصرام کا اندازہ کیسے لگایا جائے گا ؟
    اتنے سارے لوگوں کے لیے کھانے پینے کا انتظام ، رہائش کا انتظام ، ٹریفک کا انتظام ، امن و امان کا خیال وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں مناسب طریقے سے اسی صورت تیار ہوسکتی ہیں جب سعودی حکومت کے علم میں ہوگا کہ حج پر کتنے لوگ آرہے ہیں ؟
    اور اس تعداد کا صحیح پتہ لگانے کی یہی صورت ہے کہ سعودی حکومت کو اطلاع کرکے ان سے اجازت نامہ لیا جائے یعنی ’’ تصریح ‘‘ لی جائے ۔
    اور حج کے موقعہ پر کئی دفعہ ایسے ہوا ہے کہ بھیڑ کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی اور کئی جانوں کا نقصان ہوگیا ۔ اس طرح کے حادثات کی ایک بڑی وجہ یہی تھی کہ ریکارڈ کے مطابق لوگوں کی جو تعداد متوقع تھی اس سے بڑھ کر کئی لوگ وہاں آگئے ، اور جو انتظام مثلا 20 لاکھ لوگوں کے لیے کیے گئے تھے وہاں پچیس تیس لاکھ افراد کے آ جانے کی وجہ سے وہ ناکافی ہوگئے ، اور یوں کئی غیر قانونی لوگ خود بھی مشکل میں مبتلا ہوئے اور بہت سارے قانون کے مطابق آنے والوں کو بھی پریشان کرکے گناہ گار ہوئے ۔
    ان تمام خطرات و خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے آہستہ آہستہ اس معاملات میں سختی کا فیصلہ کیا ہے ، تاکہ اللہ کے مہمانوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
     
  6. ‏اگست 26، 2015 #6
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اسحاق بھائی میرے لئے قابل احترام ہیں جیسا کہ انہوں نے جو پیش کیا وہ بالکل درست ھے، جزاک اللہ خیر! مگر اگر ہم کچھ باتوں کو مدنظر رکھیں تو سعودی حکومت نے حج پر جو قوانین بنائے ہیں اگر اس کی کیمسٹری پر نظر دہرائیں تو وہ حکمت عملی ھے اس پر اعتراض شائد درست نہیں۔

    حضر بھائی نے بہت اچھے طریقہ سے سمجھانے کی کوشش کی ھے جزاک اللہ خیر! میں نہیں سمجھتا کہ مزید کوئی ضرورت ہو پھر بھی اس پر ایک کوشش میں بھی کر کے دیکھ لیتا ہوں حضر بھائی کا مراسلہ میں مفید معلومات اپنے ذہن میں رکھیں تو میری باتیں سمجھنی آسان ہو جائیں گی۔

    یہاں حج کا طریقہ پر ایک پوسٹر ھے اس پر ایک نظر ڈالیں، اتفاق و اختلاف پر کوئی کمنٹس نہیں جو بھی حج پر جو طریقہ جانتا ھے وہ اسے اپنے ذہن میں رکھے۔

    1۔ حج کی جگہ کا رقبہ،

    2۔ حج طریقہ پر سارے ارکان،

    3۔ حاجیوں کی تعداد اندازاً 20 لاکھ

    4۔ بہت مخصوص و ٹائٹ وقت

    اس کے مطابق تمام ممالک پر حاجیوں کو اپنے اور سعودی عرب کے تمام قوانین اور شرائط پر عمل کے صلہ میں ویزے جاری کئے جاتے ہیں۔ حج پر سعودی حکومت کی طرف سے ویزہ فری ھے اس کے علاوہ جو واجبات ہیں وہ حاجی اپنے ملک میں ادا کرتے ہیں۔ اسی کے مطابق سعودی حکومت ساری پلاننگ کرتی ھے جیسے

    سکیورٹی میں ہر قسم کی فورسیز، ڈاکٹرز، نرس، رضاکار، میزبان، حج پر ہر قسم کے شعبہ ہائے پر مدد کرنے والا سٹاف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اپنے ملک اور دوسرے ممالک سے حاصل کئے جاتے ہیں۔

    رہائش، خوراک، پانی، سیویج سسٹم، موبائل حمام و ٹوائلیٹس، موبائل ڈسپنسریاں، موبائل کیمپ، ٹرانسپورٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اکثر دیکھا گیا ھے کہ جب حاجی اپنے ملکوں میں لوٹتے ہیں تو ایک دوسرے کو یا اپنے عزیزوں میں حج پر بتاتے ہیں تو یہ بھی سنا ھے کہ او ہو بھئی وہاں سے اتنے وقت سے پہلے نکلنا تھا اور فلاں جگہ اس وقت پہنچنا تھا مگر تم دیر سے نکلے اور دیر سے پہنچے تمہارا تو حج درست نہیں ہوا۔

    سعودی حکومت نے حج جگہ کا رقبہ، وقت کے مطابق تعداد 2 ملین کا تعین کیا ہوا ھے، اب یہاں اگر عمرہ پر گئے ہوئے لوگ اور سعودی عرب کے عوامی لوگ حج پر ساتھ ملیں گے تو تعداد بڑھنے سے جو 2 ملین سے اگر 3 ملین ہو جاتی ھے تو پھر قانونی تقاضے پورے کر کے آنے والوں اور ہر چیز پر برا اثر پڑے گا جس وجہ سے نقصانات ہوتے ہیں۔

    ایک اکنامکس کا طالب علم اور سعودی عرب میں رہنے والا جس نے حج کیا ہو وہ اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ سکتا ھے۔

    سعودی حکومت حج سے کسی کو روکتی نہیں، حج کا ویزہ لے کر جائیں تاکہ حکومت کو بھی انتظامات کرنے میں آسانی ہو اور حاجیوں کو بھی وقت پر تمام مینوئر پورے کرنے کو ملیں۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 02، 2015 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    حجاج میں شامل ہونے کے چور دروازے بند کرنے کا فیصلہ
    جدہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
    منگل 1 ستمبر 2015م

    سعودی عرب کی حکومت نے رواں سال حج کے موقع پر بغیر اجازت کے حجاج میں شامل ہونے والوں کے خلاف ماضی کی نسبت زیادہ سخت پالیسی اپناتے ہوئے ان تمام چور دروازوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن سے اندرون اور بیرون ملک سے لوگ بغیر اجازت کے حجاج میں شامل ہونے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔


    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جدہ گورنری کے پولیس چیف میجر جنرل مسعود بن فیصل العدوانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غیرقانونی طورپر حج کے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے والوں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی اور کسی شخص کو بغیر اجازت چور راستوں سے حجاج میں شامل ہونے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ فریضہ حج اور مناسک حج کی ادائی کے حوالے سے طے پائے ضابطہ اخلاق کے اندر رہتے ہوئے مقامی اور غیرملکی شہریوں کو حجاج میں شمولیت کی ہر ممکن سہولت مہیا کی گئی ہے مگر ضابطہ اخلاق اور حج کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں اور ان کے سہولت کاروں کو بھی سزا دی جائے گی۔ غیر قانونی طور پر حجاج میں شامل ہونے والوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت اور کاریں مہیا کرنے والوں کو بھی سزا ہو گی اور ان کی گاڑیاں بحق سرکار ضبط کر لی جائیں گی۔

    جدہ پولیس چیف نے ان خیالات کا اظہار حج کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے حجاج میں شامل ہونے کے کئی چور راستوں کا پتا چلا کر ان پر نگرانی سخت کردی ہے۔ مکہ مکرمہ کو ملانے والے تمام بحری اور بری راستوں پر پولیس کا کڑا پہرا اور کسی شخص کو غیرقانونی طور پر حجاج میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کی بارڈر پرواقع چوکیوں پر بھی عازمین حج کی پوری طرح چھان بین کی جا رہی ہے تاکہ کوئی شخص غیرقانونی طریقے سے حجاج میں شامل نہ ہو سکے۔

    میجر جنر العدوانی کا کہنا تھا کہ آئینی اور قانونی طریقے سے بیت اللہ کی زیارت کرنے والے ہمارے معزز مہمان ہیں اور ہم ان کی ہرممکن خدمت کی بجا آوری کو یقینی بنائیں گے۔ تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے کہ وہ حج کے موقع پر حجاج کرام کی رہ نمائی اور تحفظ میں کوئی کسر نہ چھوڑیں۔ حج کے دوران کسی قسم کی بد نظمی پھیلانے اور طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرنے والوں پر بھی نظر رکھی جائے گی تاکہ تمام عازمین حج فریضہ حج کے روحانی فیوض وبرکات کو سمیٹ سکیں۔

    خیال رہے کہ سعودی عرب میں حج کے موقع پر اندرون اور بیرون ملک سے بڑی تعداد میں جعلی دستاویزات پر حج کرنے اور غیرقانونی طریقے سے حجاج کی صفوں میں شامل ہونے کا رحجان بڑھ رہا ہے مگر سعودی حکومت نے غیرقانونی حج کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت ترین اقدامات کیے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں