1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سعودی عرب: فیملی ویزے کی مدت 6 ماہ مقرر

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏دسمبر 26، 2014۔

  1. ‏دسمبر 26، 2014 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    سعودی عرب: فیملی ویزے کی مدت 6 ماہ مقرر

    جمعرات 3 ربیع الاول 1436هـ - 25 دسمبر 2014م
    الریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ


    سعودی عرب نے غیر ملکی شہریوں کے لیے فیملی ویزے کی زیادہ سے زیادہ مدت چھ ماہ مقرر کی ہے۔

    سعودی ڈائریکٹوریٹ برائے امیگریشن اور پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ فیملی ویزے کی نئی مدت 180 دن مقرر کی گئی ہے۔ ویزے کی مدت کا آغاز سعودی عرب میں داخلے کے وقت کی گئی رجسٹریشن سے ہو گا ۔

    محکمہ امیگریشن کے ترجمان کیپٹن احمد بن فہد الیحدان نے میڈیا کو بتایا کہ سعودی شہریوں اور ملک میں مقیم غیرملکی تارکین وطن کی بڑی تعداد نے بار بار مملکت میں غیرملکی فیملی کے قیام کی مدت کے بارے میں استفسارات کیے تھے۔ اس سلسلے میں عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ غیر ملکی فیملی کے مملکت میں قیام کے لیے ویزے کی مدت چھ ماہ رکھی گئی ہے۔

    دنیا کے مختلف ملکوں میں موجود سعودی سفارت خانے، قونصل خانے اور نمائندہ دفاتر ویزے جاری کرنے کے مجاز ہیں۔ اگر سعودی عرب آنے والے کسی غیر ملکی خاندان نے اپنے وزٹ ویزے کی مدت میں توسیع کرانا ہو تو اس کو پہلی مدت ختم ہونے سے قبل متعلقہ حکام سے رجوع کرنا ہو گا۔

    ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ حکومت نے ویزے کی مدت میں آن لائن سروسز کے ذریعے توسیع کی سہولت پہلے ہی دے دی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنے ویزے کی مدت پر نظرثانی اور اس میں توسیع کے لیے آن لائن درخواست دے سکتا ہے۔
    =====

    خبر میں ایک طرف فیملی ویزہ کا لکھا ھے اور دوسری طرف وزٹ ویزہ کی مدت بڑھانے پر۔ دونوں الگ الگ کیٹگریز ہیں۔ فیملی ویزہ جس پر پرمننٹ ریزیڈنس ہوتا ھے اور وزٹ ویزہ جو چند دن یا مہینوں کا ہوتا ھے جو کسی کے لئے بھی حاصل کیا جا سکتا ھے جیسے اپنی فیملی کے لئے بھی مگر اسے فیملی ویزہ نہیں بلکہ وزٹ ویزہ ہی کہا جاتا ھے۔ کیا کوئی سعودی عرب سے بتا سکتا ھے کہ یہ خبر فیملی ویزہ پرمننٹ ریزیڈنس پر ھے یا فیملی کے وزٹ ویزہ پر کیونکہ وہاں شائد چند دن تک شور ہو جائے۔ شکریہ!
     
  2. ‏دسمبر 26، 2014 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    ویزا دستاویزات، دبئی نے درخواست گزاروں کو سخت وارننگ دے دی

    25 دسمبر 2014

    دبئی (نیوزڈیسک) دبئی انتظامیہ نے عوام الناس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی فیملی اور رشتے داروں کے ویزہ اپلائے کرتے ہوئے ان لوگوں سے ہوشیار رہیں جو انہیں ہاﺅس لیزنگ سرٹیفکیٹ دینے کا کہہ رہے ہوں کیونکہ اس طرح وہ جعلسازی کے زمرے میں آتے ہیں۔

    دبئی پراسیکیوشن، دبئی ریزیڈینسی اینڈ فارن افیئیرز (DNRD) نے خبردار کیا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ لوگ کچھ جعلسازوں کے جھانسے میں آکر اپنی فیملی کا ویزہ اپلائے کرتے ہوئے ساتھ جعلی ہاﺅس لیز لگا رہے ہیں جس کا فوراً علم ہو جاتا ہے، ایسی صورت میں کیس اپلائے کرنے والا کافی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

    (DNRD) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیر خلف ال غیت کا کہنا ہے کہ فیملی ویزہ اپلائے کرنے کے لئے ہاﺅس لیز کا ساتھ لگایا جانا ضروری ہے لیکن ادارے کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ لوگ کنسلٹنٹس کی مدد سے جعلی لیز لگار کر ویزہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ایک سنگین جرم ہے لہذا لوگوں کو کسی بھی ایسی کوشش سے دور رہنا چاہیے۔

    حال ہی میں ایک شخص نے (DNRD) میں اپنا کیس جمع کرواتے ہوئے لیز سرٹیفکیٹ ساتھ لف کیا لیکن یہ سرٹیفکیٹ جعلی ہونے کی وجہ سے فوراً "اجارہ" سسٹم کے ذریعے پکڑا گیا۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ اسے علم نہیں کہ یہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے کیونکہ اس نے جہاں سے ویزہ درخواست بنوائی تھی اسی ایجنٹ نے یہ سرٹیفکیٹ دیا تھا اور اس بات کا یقین دلایا تھا کہ یہ اصل ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ جب کوئی درخواست گزار کیس جمع کروانے آتا ہے تو اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ کیا کیا ساتھ لگا رہا ہے کیونکہ کسی بھی چیز کے جعلی ہونے کی صورت میں اس کی تمام ذمہ داری درخواست گزار پر ہو گی اور صرف یہ کہنے سے کہ "اسے اس کا علم ہی نہیں تھا" وہ بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ متعدد ایسے کیسوں میں عدالت نے درخواست گزار کو مجرم گردانتے ہوئے تین سے چھ ماہ کی قید بھی دی ہے لہذا بہت ضروری ہے کہ لوگ اس امر سے اچھی طرح آگاہ ہوجائیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ ایجنٹ اس جعلسازی میں ملوث ہیں اور لوگوں نے درخواست مکمل کروانے کے لئے ان ایجنٹوں کو تین سے چار ہزار درہم (تقریباً ایک لاکھ روپے) ادا کئے لہذا ان ایجنٹوں کو بھی شامل تفتیش کر لیا گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ اس سرٹیفکیٹ کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ درخواست گزار کے پاس اپنی رہائش ہے اور وہ با آسانی اپنی فیملی کو رکھ سکتا ہے کیونکہ کچھ کیسز میں حکومت کو یہ علم ہوا کہ لوگ شئیرڈ رہائش میں رہ رہے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے اپنی فیملی بھی رکھی ہوئی ہے جو کہ ایک حیاء سوز اور تشویشناک حرکت ہے۔

    دبئی کے ایڈووکیٹ جنرل علی حومید الخاتم کا کہنا ہے کہ لوگ معمولی کام کی اتنی بڑی رقم ادا کرتے ہیں لہذا یہ کہنا کہ "مجھے علم ہی نہیں تھا" ایک غلط بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک کیس میں درخواست گزار نے اپنے بھائی کے کاغذات میں جعلسازی کرتے ہوئے اپنی ماں کو سپانسر کیا اور کامیاب ہو گیا لیکن دوسری بار اس کے بھائی نے اصل کاغذ لگاتے ہوئے اپنی بیوی کو سپانسر کیا لیکن فیملی نام کی وجہ سے وہ پکڑا گیا اور اب دونوں کو جعلسازی کے مقدمے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ (DNRD) کے ملازمین بڑی آسانی سے جعلسازی پکڑ سکتے ہیں لہذا درخواست گزار اگر سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی میں کوئی جعلسازی کریں گے تو یہ بہت آسانی سے پکڑی جا سکتی ہے۔ دبئی میں اب تک 71 ایسے کیسز پکڑے جا چکے ہیں، ان میں سے 19 کیسز 2013ء میں اور 52 کیسز 2014ء میں سامنے آئے تھے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں