1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سعودی عرب میں بھارت کے وزیراعظم مودی کا پرتپاک استقبال

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از بنیامین, ‏اپریل 06، 2016۔

  1. ‏اپریل 15، 2016 #211
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    اگر یہ حضرت اُس وقت میرے سوالات کے جوابات دے دیتے تو یہ پوسٹ کب کی ختم ہو چُکی ہونی تھی۔
     
  2. ‏اپریل 15، 2016 #212
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    ان شاء اللہ
    آپ ملتِ اسلامیہ کے لیے دعا کرتے رہا کریں۔
     
  3. ‏اپریل 15، 2016 #213
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    اب یار آپ تو یہ چاہ رہے ہیں کہ بندہ سوال بھی نہ پوچھے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 15، 2016 #214
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    اہل علم حضرت ہی ہمیں جواب نہ دیں گے تو پھر کون آ کر ہمیں بتائے گا کہ یہ ایسے ہے اور ایسے نہیں ہے؟
     
  5. ‏اپریل 15، 2016 #215
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,123
    موصول شکریہ جات:
    8,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امید ہے کہ اب آپ کو اس تھریڈ سے متعلقہ اطلاعات موصول نہیں ہوں گی ۔
     
  6. ‏اپریل 15، 2016 #216
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,123
    موصول شکریہ جات:
    8,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اپنے سوال دوبارہ دہرادیں ، جن کا جواب نہیں دیا گیا ۔
     
  7. ‏اپریل 15، 2016 #217
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    باقی چیزوں کو چھوڑیے صرف اِن دو سوالات کے جوابات دے دیں تو پھر ہم اِس پوسٹ میں کبھی کمنٹ نہیں کریں جب تک ہمیں اُبھارا نہ جائے گا۔

    آپ نے کہا تھا کہ شاہ سعود نے شریفِ مکہ کی اسلامی حکومت کے ساتھ اِس لیے قتال کیا تھا کہ اُن کی دوستی امریکہ کے ساتھ تھی۔ تو کیا یہ ٹھیک ہے کہ اگر کسی اسلامی ملک کے صدر کی دوستی امریکہ یا برطانیہ کے ساتھ ہو تو اُس کے خلاف بھی قتال کیا جائے۔

    دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر آپ کہتے ہیں کہ شریفِ مکہ کی حکومت اسلامی نہیں تھی اور اسلامی حکومت کے قیام کے لیے شاہ سعود نے شریفِ مکہ کے ساتھ قتال کیا تھا۔ تو کیا اُس وقت مکہ و مدینہ دارالکفر تھا؟ کیوں کہ جہاں اسلامی حکومت نہ ہو وہ جگہ دارالکفر ہوتی ہے۔
     
  8. ‏اپریل 15، 2016 #218
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,123
    موصول شکریہ جات:
    8,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    چونکہ آپ نے یہ دونوں باتیں میری طرف منسوب کی ہیں ، ذرا پوسٹ کا نمبر بتادیں ، جن میں میں نے یہ کہا ہے ۔
    میں نے آل سعود کے قبضے کی وجہ یہ بتلائی تھی کہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ، حجاز کا علاقہ کافروں کے ہاتھ لگنے کا خطرہ تھا ، گویا آل سعود کی جنگ اصلا انگریز کے ساتھ تھی ، خلافت عثمانیہ سے ان کو کوئی خار نہ تھی ، شریف مکہ اس لیے نشانہ بنا کیونکہ اس نے انگریزوں کا ساتھ دیا ۔
     
  9. ‏اپریل 15، 2016 #219
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    جب شروع سے گفتگو چلی تھی تو آپ نہیں تھے اور آپ بعد میں آ کر کمنٹ کرنے شروع ہو گئے تھے۔
    اصل بات کچھ اور لوگوں نے کی تھی جن میں اسحاق سلفی صاحب اور سید طہ عارف صاحب صاحب موجود تھے۔ اور ایک صاحب اور موجود تھے کنعان
    اِن میں سے کسی نے جھیمان محمد ؒ کے بارے میں کہا تھا کہ اُنھوں نے جب کعبہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو اُن پر شیطان سوار تھا۔
    اب یہاں پر میں نے پوچھا کہ جب شاہ سعود نے شریفِ مکہ کی اسلامی حکومت پر حملہ کیا تو کیا شاہ صاحب کے اوپر شیطان سوار نہیں تھا۔
    تو ان میں سے کسی نے کہا کہ وہ امریکہ کے دوست تھے اور اسلام کو اُن سے خطرہ تھا یا ایسے ہی کچھ الفاظ ادا کیے۔
    تو اب میرا سوال تھا کہ کیا کسی اسلامی حکومت کا حکمران امریکہ یا برطانیہ کا دوست ہو تو اُس کے خلاف قتال جائر ہے جس طرح شاہ صاحب نے کیا تھا؟
    اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ شریفِ مکہ یہود و نصاری کی دوستی کی وجہ سے کافر ہو گے تھے اِس لیے شاہ صاحب نے اُن کے خلاف قتال کیا تھا۔ تو یہ بتا دیجیے کہ کیا اُس وقت مکہ و مدینہ دارالکفر تھا۔ کیوں کہ جہاں اسلامی حکومت نہیں ہوتی وہ دارالکفر ہوتا ہے۔

    یہ تمام خلاصہ ہے۔ اگر آپ نہیں جواب دینا چاہتے تو اُن سے فرما دیجیے جنھوں نے یہ بات شروع کی تھی۔
     
  10. ‏اپریل 15، 2016 #220
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,123
    موصول شکریہ جات:
    8,176
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ جہیمان اور شریف مکہ والے واقعے کو ایک جیسا قرار دے رہے ہیں ، حالانکہ دونوں میں ایک بنیادی فرق ہے کہ :
    کہ آل سعود نے اس جگہ حملہ کیا ، جہاں شریف موجود تھا ، جبکہ جہیمان نے حملہ حرم میں کیا ، جبکہ ان کے مطلوبہ افراد ریاض بیٹھے ہوئے تھے ۔ دار الحکومت کو چھوڑ کر حرم آمن میں فساد بر پا کرنا ، معصوم حاجیوں کو خون میں نہلانے جیسے جرم کرنے والے کو آپ کے خیال میں مجاہد کا خطاب دینا چاہیے ؟ ان کی نیت جیسی بھی تھی ، اس سے ہمیں کوئی تعلق نہیں ، لیکن انہوں نے جو کیا وہ سراسر فساد و خون ریزی تھی ۔
    یہ بات پہلے محتاج ثبوت ہے کہ شاہ سعود کی شریف سے لڑائی صرف اس بنیاد پر تھی کہ وہ کافروں کا دوست تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ دوستی کے مختلف درجے ہیں ۔ اور ہر ایک پر حالات و واقعات کو مد نظر رکھتےہوئے ہی کوئی حکم لگایا جاسکتا ہے ۔ سب کے لیے کوئی کلی حکم نہیں ہے ۔
    جہاں اسلامی ریاست نہیں ہوتی وہ دار الکفر ہوتا ہے ، اس وقت کہنا مشکل ہے ، کیونکہ کئی ایک ریاستیں ہیں جو کافر بھی نہیں ہیں کہ انہیں دار الکفر کہا جائے اور وہاں اسلامی نظام کی بھی کوئی وقعت نہیں کہ انہیں دار الاسلام کہا جائے ۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے ، کہ کچھ لوگ پکے مسلمان ہوتے ہیں ، کچھ پکے کافر ، اور کچھ سیکولر قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں