1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

**سعودی عرب میں دہشت گردوں کو سزائے موت اور فارسی حکومت کی چیخ وپکار**

'عصر حاضر کے فتنے' میں موضوعات آغاز کردہ از یاسر اسعد, ‏جنوری 03، 2016۔

  1. ‏جنوری 03، 2016 #1
    یاسر اسعد

    یاسر اسعد رکن
    جگہ:
    مئو ناتھ بھنجن، بھارت
    شمولیت:
    ‏اپریل 24، 2014
    پیغامات:
    158
    موصول شکریہ جات:
    44
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    **سعودی عرب میں دہشت گردوں کو سزائے موت اور فارسی حکومت کی چیخ وپکار**

    آج سعودی عرب میں 47 لوگوں کو دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت دی گئی، اور ایسا اقدام خصوصی شرعی عدالت کے فیصلوں کی روشنی میں کیا گیا، اور یہ فیصلے یوں ہی جلد بازی میں یا یکایک نہیں اختیار کئے گئے، بلکہ کئ برسوں کی چهان بین اور تمام دلائل کی سنوائی کے بعد بڑے بڑے علماء اور وزارت عدل کے موثوق ججوں کی زیر نگرانی کتاب وسنت کی روشنی میں صادر کئے، اور متہمین کو فیصلے کے خلاف ہر طرح کی قانونی چارہ گوئی کی آزادی دی گئی.

    اور الحمد للہ سعودی عرب میں سارے عدالتی فیصلے قرآن وسنت کی دلائل کی روشنی میں کئے جاتے ہیں، یہ اس اسلامی ملک کی بہت بڑی خصوصیت ہے، (اللہ تعالی اس خصوصیت کو تا قیامت باقی رکهے).

    لہذا مجرمین کے جرائم دلائل وبراہین کی روشنی میں مکمل طور سے ثابت ہو جانے کے بعد یہ فیصلے سنائے گئے، اس میں کسی کے مذہبی وخاندانی پس منظر کو ملحوظ نہیں رکها گیا، بلکہ کئی سالوں کے سوچ وبچار کے بعد آج فیصلوں کا نفاذ کیا گیا، اور جرم ثابت نہ ہونے کی وجہ سے بعض اشخاص کو بری کر دیا گیا.

    لیکن ان دہشت گردوں کی سزائے موت کی خبر میڈیا میں کیا نشر ہوئی؛ ایران اور اس کے دمچهلوں پر قیامت ٹوٹ پڑی، فارسی میڈیا پر جنون طاری ہو گیا، اور بعض عالمی ذرائع ابلا غ بهی بوکهلاہٹ میں ایران کی دهمکی نقل کرنے اور معاملے کو فرقہ پرستی کا رنگ دینے لگے، اور ایسا محسوس ہوا کہ آج صرف ایک ہی انسان "نمر" کو سزا ملی ہے، اور باقی کے سارے مجرمین جانور تهے.

    جبکہ 47 انسانوں کی طویل فہرست ہے، جنہیں ان کے وحشیانہ جرائم کے پاداش میں سزا ملی ہے..جن میں بعض اہم جرائم درج ذیل ہیں:

    1/خوارج کے تکفیری عقائد کو اپنانا اور حکمرانوں کو کافر کہنا.

    2/ معصوم جانوں کے خون، مال اور عزت کو حلال سمجهنا.

    3/ سرکاری عمارتوں، پولیس ٹهکانوں، فوجی وسلامتی دستوں، تیل کی ریفائنریز، تجارتی مول، شاپنگ سنٹروں، عام رہائش گاہوں اور غیر ملکی سفارت خانوں پر بلاسٹ کرنا.

    4/ ملکی معیشت اور امن وامان کو تباہ کرنا.

    5/ ناحق خون بہانا، بچے، عورتوں اور بوڑهوں کو بلا تفریق بے دریغ قتل کرنا.

    6/ ملک کی بدنامی کا ذریعہ بننا.

    7/ اور دوسرے ملکوں کے ساتهہ ملک کے تعلقات کو نقصان پہونچانا.

    8/ دہشت گرد تنظیموں کی مدد کے لئے مال جمع کرنا.

    اس کے علاوہ اور بهی دل دہلانے والے جرائم ہیں، جنہیں بیان کرنے کے لئے اردو میں ایک تفصیلی مضمون کی ضرورت ہے.

    اور نمر النمر جس کی وجہ سے ایران اور اس کے دمچهلوں میں چیخ وپکار کا سماں بندهہ گیا، اور بعض مغربی میڈیا اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیمیں حرکت میں آگئیں، جبکہ سزا پانے والوں میں باقی 46 لوگ اور بهی تهے، جو اپنی نسبت سنیوں کی طرف کرتے تهے، ہاں یہ اور بات ہے کہ در اصل وہ سنی نہیں بلکہ بدعتی ہیں، خارجی ہیں.

    لیکن ان کا کوئی ذکر نہیں، ان کے نام نہاد مفتی فارس آل شویل کو بهی تو قتل کیا گیا ہے، جس کا تعلق ابہا سے تها. جس کی تشدد سے بهری بہت ساری کتابیں اور تقریریں ہیں.

    لیکن سب کو چهوڑ کر سارا چیخ وپکار نمر کے قتل پر ہے، بلکہ معاملہ یہاں تک پہونچ گیا کہ ایران نے سعودی عرب کو دهمکی دے ڈالی، اور اس کے حق میں نازیبا بیانات بهی صادر کئے، پاسداران انقلاب کے غنڈوں نے سعودی سفارت خانے میں آگ لگادی، اور اندر گهس کر توڑ پهوڑ کا مظاہرہ کیا.

    اب آپ ایران اور اس کے دمچهلوں کے رویے سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ فارسی ملک کس قدر سعودی عرب سے بغض وحقد رکهتا ہے، اور کس طرح فرقہ پرست سیاست کے ذریعہ پورے خطہ کو جنگ کی آگ میں جهونک دینا چاہتا ہے.

    ارے بهائی یہ تو سعودی عرب کا معاملہ ہے، ایران کو بولنے کا حق کس نے دیا؟ کیا نمر ایرانی شہری تها؟ نہیں تو پهر سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کی اجازت کس نے دی؟ ایک مصری اور ایک تشادی مجرم کو بهی قتل گیا، لیکن ان دونوں ملکوں نے تو کوئی نازیبا بیان نہیں دیا.

    لہذا اس کی وجہ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں، اور عربی زبان سمجهتے ہیں؛ تو یوٹیوب پر اس نمر نامی مجرم کے خطابات سن لیں، دسیوں خطابات آپ کو ایسے ملیں گے جن سے اس کے جرائم کو سمجهنے میں آسانی ہو گی.

    یہ شخص قطیف کے قریب عوامیہ کا رہنے والا تها، ایرانی دلال تها، ایک مسلح گروپ بنا کر لوگوں کو ٹریننگ دیتا تها کہ پولیس افسران کو کیسے نشانہ بنایا جائے، اسی طرح اپنے خطابات میں ملک کے خلاف لوگوں کو ابهارتا تها، اعلانیہ طور پر حکمرانوں کو گالی دیتا تها، اس کی وجہ سے عوامیہ اور اس کے اطراف میں پولیس کی گاڑیوں پر کئی دفعہ فائرنگ کی گئی اور موٹر گولے داغے گئے، متعدد دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جس میں بہت سارے پولیس اہل کار شہید ہو گئے، کئی گاڑیاں اور سرکاری عمارتیں نذر آتش ہو گئیں.

    اور اب تک دہشت گردی کا یہ کهیل جاری ہے، اور سب کچهہ نام نہاد اسلامی جمہوریت کے شہ پر ہو رہا ہے.
    اسی طرح یہ مجرم سعودی عرب اور بحرین میں ولایت فقیہ کے نفاذ کا مطالبہ بهی کرتا تها کہ سارا ملک خمینیت کے حوالہ کر دیا جائے.
    رہتا یہاں تها، کهاتا پیتا یہاں کا تها..لیکن دلالی ایران کی کرتا تها..اسی لئے ایران اور اس کے دم چهلے آگ بگولہ ہوگئے ہیں، اور تمام بین الاقوامی اعراف اور سفارتی اصول وضوابط کو بهلا کر شیطنت پر اتر آئے ہیں.

    "کیوں کہ ان کا دلال چلا گیا"

    یاد رہے کہ سعودی عرب میں شیعہ حضرات کے ساتهہ کوئی دو رخی نہیں برتی جاتی، انہیں ایک سعودی شہری کی بنا پر سارے حقوق ومراعات حاصل ہیں، بلکہ صحت، محنت، بلدیاتی شعبہ جات میں انہیں کا غلغلہ ہے،، سونے چاندی، سبزی منڈی، مچهلی مارکیٹ، سیر وسیاحت پر انہیں کا قبضہ ہے، عمرہ وحج کی ساری بسیں انہیں کے ما تحتی میں حرکت کرتی ہیں، ہر ہفتہ ایران، عراق وشام کے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے ان کے قافلے آتے جاتے ہیں..ان کی بڑی بڑی کمپنیان ہیں..قطیف اور الاحساء میں ان کی مسجدیں اور حسینیات ہیں، سعودی عرب میں ہر طرح کی بدعات وخرافات پر پابندی کے باوجود شیعہ حضرات اپنے سارے رسومات قوانین کی پرواہ کئے بغیر مناتے ہیں.

    غرضیکہ انہیں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے، لیکن ان سب کے باوجود ان کی اکثریت ایران کی راگ الاپتی ہے، اور اسی کے لئے دل کے نہاں خانے میں جذبہ وفا رکهتی ہے.

    اور دنیا جانتی ہے کی سعودی عرب کی سیاست کس قدر سنجیدگی، برد باری اور متانت پر مبنی ہے، کسی دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا جب تک کہ پانی سر سے اوپر نہ ہو جائے.

    اسی لئے آپ نے اندازہ کیا ہوگا کہ ایران کے آئے دن کے دل سوز مظالم پر سعودی عرب خاموش رہتا ہے، ایران میں معتمد رپورٹ کے مطابق روزانہ 3 سنیوں کو پهانسی دی جاتی ہے، صرف سال گذشتہ 2015 میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 700 سے زائد لوگوں کو پهانسی دی گئی، ابهی حال میں ایک سنی شاعر کو ایرانی حکومت نے پهانسی پر لٹکایا.

    کسی نے ان تمام امور شنیعہ سے متعلق سعودی عرب کا کوئی سرکاری بیان سنا؟؟ ہر گز نہیں، کیونکہ سعودی عرب دوسرے ممالک کی سیادت کا خیال رکهتا ہے، اور ان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا ہے.

    لیکن ایران کا معاملہ دگر گوں ہے، اسے ہر جگہ ٹانگ اڑانے کی خبیث عادت ہے. اسی لئے شام، لبنان، عراق اور یمن میں دن رات تباہی پهیلانے کے لئے ہر جتن کرتا رہتا ہے.

    اور تعجب کی بات یہ ہے کہ چور شاہ کو سمجهائے، ایران کے مظالم ودہشت گردی سے کون واقف نہیں،، اقوام متحدہ میں ایران کے کئی حکومتی اداروں کا نام دہشت گردی میں سر فہرست ہے، اور ان پر قاعدہ کے اہم لیڈران کو پناہ دینے کا الزام ہے.

    کون نہیں جانتا کہ خود ایران میں سنی مسلمانوں کے ساتھ ایرانی حکومت کا سلوک کس قدر گھناؤنا اور وحشیانہ ہے، طہران میں آج تک سنیوں کی کوئی مسجد نہیں، انہیں پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی حاصل نہیں، احوازیوں پر مظالم کے پہاڑ آج تک کس بے رحمی سے توڑے جارہے ہیں.

    اسلامی وعرب ممالک بحرین، یمن، لبنان، شام، عراق اور خلیج میں ان کی در اندازی و شر انگیزی کس قدر ہے!!!۔

    ملک شام کا ذرہ ذرہ ان کی درندگی کا گواہ ہے، عصر حاضر کے سب سے بڑے خونی بشار الاسد کے ساتھ مل کر یہ لاکھوں شامیوں کا خون بہانے میں شریک ہیں، انہوں نے ملین کی تعداد میں لوگوں کو گھر ووطن چھوڑنے اور در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا۔ اور اس خوبصورت ملک شام کو مکمل کھنڈر میں تبدیل کر ڈالا، اور پھر بھی پیٹ نہیں بھرا تو روس کو بلا کر لے آئے ہیں تاکہ شامیوں کا بچا کھچا خون بھی چوس لیں۔

    یمن کو برباد کرنے کے لئے حوثیوں کی پشت پناہی، اسلحہ وبارود کی ریل پیل کون نہیں جانتا؟؟
    عراق کے جہنمی حالات کو کون نہیں جانتا؟؟ وہاں کا ایک ایک سنی ایرانی بربریت سے پناہ مانگنے پر مجبور ہے.بحرین میں برسوں سے ان کی شر انگیزی کس سے ڈھکی چھپی ہے؟؟،

    قاعدہ، داعش، حزب اللات، عصائب الحق اور دوسری دہشت گرد تنظیموں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے. یہ سب کون نہیں جانتا!!

    سچ تو یہ ہے کہ ان کے جسم کا ہر ہر عضو لاکھوں مسلمانوں کے خون سے رنگا ہوا ہے، اور انہیں کی مکر وسازش اور خیانت وغداری کا نتیجہ ہے کہ آج پورا خطہ فتنہ وفساد کی آگ میں جھلس رہا ہے۔

    اور ان سب وحشیانہ جرائم کے بعد آج یہ ظالم شرم وحیا کی چادر پھاڑ کر ایک مجرم کے قتل پر چیخ وپکار اور واویلا مچانے آئے ہیں.

    اور تو اور یہ دشمن حرمین شریفین کی خدمت ونگرانی اور علاقے میں پرانی فارسی کسروی سلطنت کی واپسی کا خواب دیکه رہے ہیں.

    اسی لئے اس بار سعودی خارجہ نے ایران کے جارحانہ بیانات کی مذمت میں نہایت سخت بیان جاری کرتے ہوئے ایران کو خبر دار کیا ہے. اور کہا ہے کہ ایران کو نہیں معلوم کہ اسلامی فیصلے عدل وانصاف پر مبنی ہوتے ہیں، اور جس ملک میں روزانہ بلا کسی عدالتی چارہ جوئی کے سزائے موت کے فیصلے صادر ہوتے ہیں، وہ آج ہمیں انصاف سکهانے آیا ہے، اور اس موضوع پر بات کے لئے ایران کو سب سے آخر ملک ہونا چاہئے.

    نام نہاد اسلامی جمہوریت کے بارے میں یہ بعض دل خراش حقائق ہیں، لیکن ان سب کے باوجود ہمارے بعض بھولے بھالے مسلمان یا اب بهی خمینیت کے نشے میں چور بعض برادران ایران ایران کا ہی دم بھرتے ہیں، اور سعودی عرب کو ہر طرح کے ظلم وستم کا نشانہ بناتے ہیں۔

    (اللہ انہیں ہدایت دے، اور مملکت کی ہر شر سے حفاظت فرمائے..آمین!

    (عبد السلام شکیل)
    2016/1/3
     
    • پسند پسند x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں