1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سعودی مرد غیر ملکی عورت سے شادی نہیں کر سکتے!

'مغرب کے ہمنوا مسلمان' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏اگست 06، 2014۔

  1. ‏اگست 06، 2014 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اسلام علیکم
    وہ سعودی مرد جو غیر ملکی عورت سے شادی کرنا چاہتے ہیں ان کو پہلے حکومت کی اجازت طلب کرنی پڑے گی شادی کی درخواست درج کروانی پڑے گی۔۔ سعودی حکام نے کہا ہے کہ مردوں کو پاکستان، بنگلہ دیش، چاد، میانمر کی غیر ملکی عورتوں سے شادی پر ممانعت ہے۔
    سورس: http://www.saudigazette.com.sa/index.cfm?method=home.regcon&contentid=20140805213657

    ایک اور تنقیصِ اسلام!
     
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 06، 2014 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    سو فیصد ایسا ہی ہے۔۔اور یہ درخواست معمولی نوعیت کی نہیں ہوتی۔بلکہ ٹھوس وجوہات دینی ہوتی ہیں کہ غیر ملکی سے کرنے کی کیا وجہ ہے!
    منظوری ملنے تک ایک طویل عمل ہے!
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 06، 2014 #3
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    یہ تو خالص نسل پرستی ہے!
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 06، 2014 #4
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    نسل پرستی نہیں اس کے پیچھے وجہ کچھ اور ہو گی، الامارت میں بھی غریب عرب نیشنل بیرون ملک جا کر شادیاں کرتے، اس پر وجہ حق مہر تھی جو بہت زیادہ ہوتا تھا، پھر شیخ زاید کو بہت سی رپوٹس ہوئیں کہ یہاں کے نیشنل باہر جا کر شادیاں کر رہے ہیں اور یہاں کی جو لڑکیاں ہیں ان سے کون شادی کرے گا، تو شیخ زاید نے اس پر ایک ادارہ بنایا کہ باہر شادی نہ کریں اس کے ادارہ سے سوا لاکھ کے قریب رقم حاصل کریں، یہ غلباً 1996 کے قریب کی بات ھے۔

    والسلام
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 06، 2014 #5
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    دراصل نسل پرستی سعودی عرب کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے!
    اور دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ اسی سعودی اپرووڈ اخبار نے تبصرہ لکھا ہے:
    "However the Makkah daily report leaves many questions unanswered: Why only women from the four mentioned nationalities have been put on the list and whether only expatriate women from these communities are targeted or the ban extends to women from the said countries as well. Secondly, Islam does not require men to have consent from their first wives to remarry, nor do they require a period between a divorce and the second marriage. "

    جو غلط ہے وہ غلط ہے۔ چاہے جو بھی وجہ ہو، اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سعودی غیر ملکیوں کو دراصل حقارت سے دیکھتے ہیں خاص کر ہندوستان کے برصغیر سے اور دوسرے ملک کے لوگوں کو جن کی چمڑی ان سے ملتی ہو! جبکہ امریکہ، برٹش اور مغربی لوگوں کے وہ سپنے دیکھتے ہیں!
    یہ سب پیسوں کے بُرے اثرات ہیں!
     
    • متفق متفق x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 06، 2014 #6
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    رضا محترم! سمائل کے ساتھ برطانیہ اور امریکہ پر چمڑی کالی اور گوری کی مثال تو دی جاتی ھے مگر عرب اور پاکستان، انڈیا، بنگال پر چمڑی ایک جیسی ہی ھے، مثال درست نہیں، میرے پاس ابھی وقت نہیں خبر پر انکوائری کے لئے مگر سکیورٹی ریزن بھی ہو سکتی ہیں۔

    پاکستان کے حوالہ سے یہ ذہن میں رکھیں کہ پاکستان میں بھی عرب نیشنل شادی منع ھے، وہ الگ بات ھے کہ ویزٹ ویزہ پر جا کر وہاں شادی کر لے مگر پاکستان سے ایسا نہیں ائرپورٹ کراس نہیں کر سکتے۔

    والسلام
     
    Last edited: ‏اگست 06، 2014
  7. ‏اگست 06، 2014 #7
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    کیا آپ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ وہاں اس قسم کی کوئی بات نہیں؟! مثال تو الگ بات ہے!

    پاکستان میں نہ تو شریعت کے قانون کو نافذ کیا جاتا ہے اور نہ ہی پاکستان میں بھی اس قسم کی کوئی چیز کی میں حمایت کرتا ہوں!
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  8. ‏اگست 06، 2014 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    بھائی میرے شادی کے حوالہ سے سعودی عرب کی آپ کیا بات کرتے ہیں پاکستان میں کونسی شادی آسانی سے ہوتی ھے حالنکہ وہاں تو سب کی چمڑی ایک جیسی ھے، ہر ملک کے قوانین میں امینڈمنٹ اگر ہوتی ھے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ ہوتی ھے، برطانیہ میں تقریباً 5 سال پہلے تک شادی پر یہ قانون تھا کہ کوئی بھی اللیگل ایمگرینٹس یہاں کسی بھی نیشنل سے شادی کر سکتا ھے جس پر اسے لیگل سٹیٹس آسانی سے مل جاتا تھا، مگر اب ایسا نہیں، جب شادی رجسٹرڈ کی جاتی ھے تو 3 مہینے کا وقت دیتے ہیں، جس پر ایمگریشن ڈپارٹمنٹس سے اپروول لی جاتی ھے جس پر قانونی سٹیٹس ہونا ضروری ھے۔

    =====
    غیر ملکی خواتین سے شادی، سعودیوں کے لیے قانون سخت

    مکہ مکرمہ ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ: منگل 5 اگست 2014م

    غیر ملکی خواتین سے شادی کے خواہاں سعودی مردوں کے لیے قواعد وضوابط سخت کردیے گئے ہیں اور اب انھیں غیر ملکی خواتین سے شادی کے لیے حکومت سے باضابطہ اجازت لینا ہوگی۔

    مکہ پولیس کے ڈائریکٹر میجر جنرل آصف القریشی نے ان نئی قدغنوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب کسی غیرملکی خاتون سے شادی کے خواہاں سعودی شہری کو سرکاری چینل کے ذریعے حکومت کو درخواست دینا ہوگی۔ایسے درخواست گزاروں کی عمر پچیس سال سے زیادہ ہونی چاہیے۔وہ اپنی درخواست کے ساتھ تمام شناختی دستاویزات منسلک کرنے کے پابند ہوں گے۔یہ دستاویزات مقامی ضلعی مئیر کی دستخط شدہ ہونی چاہئیں۔اس کے علاوہ وہ اپنے خاندان کے کارڈ کی کاپی بھی منسلک کریں گے۔

    میاں آصف قریشی نے بتایا ہے کہ ''اگر درخواست گزار پہلے سے شادی شدہ ہوا تو اسے اسپتال سے حاصل کردہ ایک رپورٹ درخواست کے ساتھ لگانا ہوگی کہ اس کی پہلی بیوی معذور ہے یا وہ کسی دائمی مرض میں مبتلا ہے یا بانجھ ہے''۔

    انھوں نے وضاحت کی ہے کہ شادی کے خواہاں سعودیوں سے پولیس درخواست وصول کرے گی اور ان کو منظوری کے لیے گورنری کو بھیج دے گی۔ تاہم رنڈوے مرد پہلی بیوی کو طلاق دینے کے چھے ماہ کے بعد نئی شادی کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ''سعودی مردوں پر پاکستان ،بنگلہ دیش ،چڈ اور میانمر سے تعلق رکھنے والی تارک وطن خواتین سے شادیوں پر پابندی عاید کردی گئی ہے''۔غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں ان چاروں ممالک سے تعلق رکھنے والی قریباً پانچ لاکھ خواتین مقیم ہیں۔

    سعودی عرب کے سرکاری ذرائع کے مطابق مراکش نے پہلے ہی مراکشی خواتین سے شادی کے خواہاں سعودی مردوں پر یہ شرط عاید کررکھی ہے کہ وہ بے داغ ہوں اور کسی بھی قسم کے مجرمانہ ریکارڈ کے حامل نہ ہوں۔اگر وہ پہلے سے شادی شدہ ہوں تو اپنی پہلی بیوی سے تحریری رضامندی بھی پیش کرنے پابند ہوں گے۔

    سعودی مردوں کی غیرملکی خواتین سے شادی سے متعلق یہ رپورٹ روزنامہ مکہ میں شائع ہوئی ہے لیکن اس میں اس امر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ مذکورہ چاروں ممالک سے تعلق رکھنے والی خواتین سے سعودی مردوں کی شادیوں پر پابندی کیوں عاید کی گئی ہے اور آیا اس پابندی کا اطلاق صرف سعودی عرب میں تارک وطن کے طور پر مقیم خواتین پر ہی ہوگا یا ان ممالک میں رہنے والی دوسری خواتین بھی اس کی زد میں آئیں گی۔

    نیز اسلام کی رو سے مرد کو دوسری شادی کے لیے اپنی پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی اس پر ایسی کوئی پابندی عاید کی گئی ہے کہ وہ اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے بعد چھے ماہ تک رنڈوا ہی بیٹھا رہے اور دوسری شادی نہ کرے۔

    حال ہی میں بعض میڈیا رپورٹس میں بیرون ملک مقیم سعودی خاندانوں کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والی سوسائٹی کے چئیرمین توفیق السویلم کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بیش قیمت جہیز کو کم کر کے شادیوں کو آسان بنایا جانا چاہیے۔
    =====

    خبر میں جہیز لکھا ھے مگر یہ لڑکے کی طرف سے حق مہر ھے۔ یہاں بھی غیر ملکی سے شادی پر ممانعت کی وجہ حق مہر ھے جو ایک بہت بھاری رقم میں شادی سے پہلے ادا کرنا ہوتا ھے، پھر شادی پر ایک الگ گھر بھی، پاکستان میں کس بھی ملازمت پیشہ کے لئے شادی پر الگ گھر کا تصور کہاں ھے، باپ دادوں کے گھر میں سٹوریاں بنا کر ہی گزارا کیا جاتا ھے۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اگست 06، 2014 #9
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!
    کنعان بھائی آپ کا پوائنٹ بھی اہم ہے۔مگر یہ اہم وجہ نہیں۔سبب زیادہ تر یہی ہے کہ سعودیوں میں غیر ملکی اقوام بالخصوص پاکستان ، بنگلا دیش ، ہندوستان سے تعصب بہت پایا جاتا ہے۔
    چونکہ ان کی کفالت میں کام کرنے والوں کے یہاں شادی کرنا انھیں خاصا ناگوار گزرتا ہے۔اسی طرح دوسری جانب سعودی مرد وں کا غیر ملکی لڑکیوں سے شادی کی بہت ساری وجوہات بھی ہیں۔
    دوسری شادی ، شاہانہ موحول کی عادی سعودی اور غیر سعودی لڑکی میں فرق، وغیرہ وغیرہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 06، 2014 #10
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    یہ موضوع سعودی مرد نیشنل کی دوسرے ممالک کی عورت نیشنل سے شادی پر ھے اس میں تعصب شائد کہیں ںہیں، چند ماہ پہلے ایسی ہی ایک خبر عورتوں کے حوالہ سے شائع ہوئی تھی اس کا مطالعہ بھی مفید رہے گا۔
    ==========

    شادی قانونی ہونے کی صورت میں نئے قانون کا اطلاق ہو گا
    سعودی خواتین کو اپنے غیر ملکی شوہروں کو اسپانسر کرنے کی اجازت

    سعودی عرب کی حکومت نے بالآخر غیر ملکیوں سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کو اپنے شوہروں اور بچوں کو اسپانسر کرنے کی اجازت دے دی ہے اور وہ اب قانونی طور پر مملکت میں قیام کر سکیں گے۔

    سعودی عرب کی نظامت عامہ (ڈائریکٹوریٹ جنرل) پاسپورٹس کے اتوار کو شائع کردہ ایک پریس ریلیز کے مطابق غیر ملکیوں سے قانونی طریقے سے شادی کرنے والی سعودی خواتین اب اپنے بچوں اور خاوندوں کو قانونی طور پر اسپانسر کر سکیں گے۔

    واضح رہے کہ سعودی خاتون کو کسی غیر ملکی شہری سے شادی کے لیے وزارت داخلہ سے اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔ سعودی مردوں کے برعکس غیر ملکیوں سے شادی کرنے والی سعودی خواتین کو ماضی میں اپنے خاوندوں اور بچوں کو مملکت میں بلانے کی اجازت نہیں تھی۔

    ایسی خواتین کے بچے اور خاوند صرف ایک ہی صورت میں سعودی عرب میں رہ سکتے تھے اور وہ یہ تھی کہ کوئی کمپنی انھیں کام کے لیے اجازت نامہ جاری کرے۔ کسی بھی دوسری صورت میں وہ سعودی عرب میں قانونی طور پر قیام نہیں کر سکتے تھے۔

    سعودی عرب میں پہلے سے نافذ قانون کے تحت سعودی مرد اپنی غیر سعودی (غیر ملکی) بیویوں کو شادی کے چار سال کے بعد اور بچے ہونے کی صورت میں مملکت کی شہریت دلا سکتے ہیں۔ اس قانون کا پہلے سعودی خواتین پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔

    تاہم اب سعودی عرب کے محکمہ پاسپورٹس کے اختیار کردہ نئے قانون کے تحت غیر ملکیوں سے شادیاں کرنے والی بہت سی سعودی خواتین کو ریلیف ملے گا جبکہ ماضی میں ان کے شوہروں اور بچوں کو سعودی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے ڈی پورٹ کیا جاتا رہا ہے۔

    ڈائریکٹوریٹ جنرل پاسپورٹس کے ڈائریکٹر میڈیا امور اور ترجمان کرنل بدرالملک نے بتایا ہے کہ ''حکومت ان تمام کیسوں میں شہریت کے کاغذات کی تیاری کے لیے درکار تمام فیس خود برداشت کرے گی''۔

    امیگریشن قانون میں کی گئی نئی ترامیم کے تحت سعودی خواتین کے خاوندوں اور بچوں کو صرف نجی شعبے میں کام کرنے کی اجازت ہو گی اور وہ سرکاری محکموں میں خدمات انجام نہیں دے سکیں گے۔

    سعودی خواتین کے غیر ملکی خاوندوں کو جاری کردہ ریزیڈینسی پیپر میں یہ عبارت لکھی ہو گی:''سعودی شہری کا خاوند''۔ لیکن مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے ایسے خاوندوں اور بچوں کو شہریت کا کاغذ جاری نہیں کیا جائے گا۔

    ریاض، العربیہ ڈاٹ نیٹ: اتوار 29 ربيع الأول 1434هـ - 10 فروری 2013م
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں