1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سفرنامہ ابن بطوطہ کی ایک حکایت اور ابن تیمیہ کے موقف کی وضاحت

'علماء' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏دسمبر 02، 2012۔

  1. ‏دسمبر 16، 2013 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کاتب ابن جزی نے یہ سفر نامہ ابن بطوطہ سے براہ راست سن کر مرتب کیا ہے ۔ البتہ اپنی طرف سے اس میں اضافے بھی کیے ہیں ۔
    آپ کا یہ مضمون کچھ دیر پہلے پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا ۔ ماشاء اللہ عمدہ ہے ۔ لیکن جب میں نے یہ تحریر مرتب کی تھی اس وقت نظروں سے نہیں گزرا ورنہ آپ سے استفادہ ضرور کرتے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 16، 2013 #12
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    شیخ کفایت نے بھی اس موضوع پر یہاں فورم پر لکھا ہے


    http://forum.mohaddis.com/threads/ک...ہ-رحمہ-اللہ-کے-مزاج-میں-شدت-تھی-؟.9011/page-5
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 17، 2013 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اصل میں یہ تحریر ایک طویل مضمون (جو شاید قیامت تک مکمل ہوجائے ۔ مسکراہٹ ) کا حصہ ہے جو مولانا سعید احمد پالن پوری کی ایک تقریر ’’ اصلی سلفی اور آج کے سلفی ‘‘ (تحریری شکل میں موجود ہے ۔ ) کا جائزہ لینے کے لیے شروع کیا تھا ۔
    کفایت اللہ بھائی کی ابن تیمیہ کی حدت یا شدت والے عنوان کے تحت تقریبا ساری شراکتیں میں پڑھتا رہا ہوں اور غالبا اس کے بعد ہی میں نے یہ تحریر لکھی ہے ۔ لیکن اس وقت لکھنے کے شوق اور تحقیق کے ذوق میں کچھ یاد نہیں رہا اس لیے کافی محنت کرنا پڑی تھی ۔ اگر یہ تحاریر ذہن میں ہوتیں تو یقینا بہت سارا وقت بچ جاتا اور شاید یہ تحریر لکھنے کی نوبت نہ آتی ۔
    لیکن الحمد للہ یہ ہوا ہے کہ اس واقعہ کے تعلق سے میری تحریر میں کچھ باتیں نئی آگئی ہیں جو پہلی تحاریر میں موجود نہیں ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 17، 2013 #14
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    یہی مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب ،دارلعلوم دیوبندمیں مشہور علمی شخصیت اور سلفی عالم دین فضیلتہ الشیخ حافظ جلال الدین قاسمی حفظہ اللہ کے بخاری ،ترمذی اور طحاوی کے استاذ رہ چکے ہیں۔
    (معاف کیجیے گا میں سوئے اتفاق کا لفظ استعمال نہیں کر سکتا،کیونکہ ابھی حال ہی میں مجھے پتہ چلا ہے کہ اسطرح کہنا صحیح نہیں ہے۔)
    محترم خضر صاحب ،آپکی تحقیقی تحاریر بیشک پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔اور ہمارے علم میں اضافہ کیا کرتی ہیں۔اللہ آپکی کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے اور آپکو اس کا بہتر اجر دے۔ آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 17، 2013 #15
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    شكرا و جزاكم الله خيرا ۔

    ویسے مجھے ’’ حسن اتفاق ‘‘ اور ’’ سوئے اتفاق ‘‘ میں کوئی حرج ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ۔ بڑے بڑے علماء دین سے بھی سنا ہے ۔
    اس بارے مزید ذرا وضاحت فرمائیے گا ۔ ممکن ہے ہمیں اپنی غلطی درست کرنے کا موقعہ مل جائے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 17، 2013 #16
    Urdu

    Urdu رکن
    جگہ:
    انڈیا
    شمولیت:
    ‏مئی 14، 2011
    پیغامات:
    199
    موصول شکریہ جات:
    341
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    میں نے شیخ قاسمی حفظہ اللہ کے حالیہ بیان میں سنا تھا۔الفاظ ٹھیک سے یاد نہیں۔میں ایک بار دوبارہ سن کر یہاں لکھنے کی جسارت کرسکوں گا۔ایک درمیانی کوالیٹی میں شیخ حفظہ اللہ کا حالیہ خطاب تفسیر سورۃ العصر دستیاب ہے۔آپ اس میں اس تعلق سے سماعت کر سکتے ہیں۔
    پارٹ1
    پارٹ 2
    پارٹ 3
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 18، 2013 #17
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا خضر بھائی
     
  8. ‏اپریل 16، 2016 #18
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ مضمون اسی عنوان سے انڈیا کے ایک معروف ادارے جامعہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے ماہنامہ طوبی کے مارچ ( 2016ء ) کے شمارے میں بھی چھپا ہے ۔
    شاید دو سال پہلے @سرفراز فیضی صاحب نے ایک رسالے ’’ اذان ‘‘ میں چھپنے کا بھی بتایا تھا ، البتہ وہ میری نظر سے نہیں گزرا ۔
     
  9. ‏اپریل 16، 2016 #19
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,340
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
    کمنٹ کرنے کے لۓ شکریہ شیخ محترم.
    آپ کے کمنٹ سے الحمد للہ یہ مضمون پڑھنے کو ملا. اور پڑھ کر الحمد للہ علم میں اضافہ ھوا.
    آپ نے بہت اچھے انداز میں وضاحت کی.
    جزاک اللہ خیرا.
    اللہ آپکو مزید توفیق عطا فرماۓ اور آپکی کوششوں اور کاوشوں کو شرف قبولیت بخشے.
    والسلام
     
  10. ‏فروری 04، 2017 #20
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,686
    موصول شکریہ جات:
    8,308
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    مولانا عطاء اللہ بھوجیانی نے حیات ابن تیمیہ از ابو زہرہ کے آخر میں بطور ضمیمہ ( ص نمبر 793 تا 798 )اس پر ایک تحریر لکھی ہے ، جس کا عنوان ہے :
    ابن بطوطہ سیاح کی ایک غلط فہمی اور اس کی تحقیق
    چند صفحات میں سمندر سمودیا ہے ، اس وقت جب کمپیوٹر پر انٹرنیٹ اور شاملہ وغیرہ کا نام نشان نہیں تھا ، اس انداز سے جامع اور مختصر مضمون مکمل حوالہ جات کے ساتھ ترتیب دے دینا ، اس بات کی دلیل ہے کہ مولانا جس موضوع پر لکھتے ،مصادر و مراجع میں موجود اس کے مالہ و ما علیہ مولانا کی نظر میں ہوتے تھے ، جیسا کہ شیخ عزیر شمس صاحب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے ۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ ۔
     
    Last edited: ‏فروری 04، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں