1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سفرِ حج سے پہلے حجاج کیلیے نصیحتیں

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جولائی 26، 2017۔

  1. ‏جولائی 26، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,863
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سفرِ حج سے پہلے حجاج کیلیے نصیحتیں


    سفر حج پر جانے والے کیلیے کیا نصیحتیں ہیں؟ نیز سفر حج پر جانے سے پہلے اسے کیا کرنا چاہیے؟

    Published Date: 2017-07-26

    الحمد للہ:

    مسلمان حج یا عمرے کے سفر پر روانہ ہونے لگے تو اس کیلیے اپنے اہل خانہ اور دوست احباب کو تقوی اختیار کرنے کی نصیحت کرنا مستحب ہے، تقوی اسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالی کے احکامات کو بجا لائیں اور منع کردہ کاموں سے رک جائیں۔

    نیز یہ بھی مناسب ہے کہ اس نے کسی سے لین دین کرنا ہے تو اسے تحریر میں لے اور اس پر گواہ بنا لے، نیز تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    (وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)

    ترجمہ: اور اے مؤمنو! تم سب اللہ تعالی سے توبہ مانگو ، تا کہ تم کامیاب ہو جاؤ۔ [النور:31]

    اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ : انسان تمام گناہوں سے باز آ کر انہیں چھوڑ دے ، ماضی کے گناہوں پر پشیمان ہو، آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرے اور اگر اس کے گناہ لوگوں پر جانی، مالی یا عزت آبرو سے متعلقہ واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ہوں تو انہیں ادا کرے یا سفر سے پہلے ان سے معاملہ صاف کر لے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (کسی کے ذمے اپنے بھائی کا غصب شدہ مال ہو یا اس نے بے عزتی کی ہو تو آج ہی اس سے معاملہ صاف کر لے اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جب درہم و دینار کچھ نہیں ہوں گے، اگر اس ظالم کے نیک عمل ہوئے تو اس کے ظلم کے بقدر نیک عمل لے لیے جائیں گے۔ اور اگر اس کی نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دئیے جائیں گے)

    اسی طرح حج اور عمرے کیلیے اپنی حلال اور پاک کمائی استعمال کرے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (بیشک اللہ تعالی پاکیزہ ہے اور پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے)

    ایسے ہی معجم طبرانی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (جب کوئی آدمی پاکیزہ کمائی سے حج کرنے نکلے اور اپنا پاؤں سواری کی رکاب میں ڈال کر کہے : "لَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ"[میں حاضر ہوں یا اللہ! میں بار بار حاضر ہوں] تو آسمان سے آواز لگانے والا کہتا ہے: " لَبَّيْكَ وَ سَعْدَيْكَ"[تو بار بار حاضر ہو اور تیرے نصیب اچھے ہوں] تیرا زادِ راہ حلال اور تیری سواری بھی حلال کمائی کی، تیرا حج بھی مبرور ہو گا تجھ پر بوجھ ثابت نہ ہو گا۔ اور جب کوئی حرام کمائی سے حج کرنے نکلے اور اپنا پاؤں سواری کی رکاب میں ڈال کر کہے : "لَبَّيْكَ اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ"[میں حاضر ہوں یا اللہ! میں بار بار حاضر ہوں] تو آسمان سے آواز لگانے والا کہتا ہے: " لَا لَبَّيْكَ وَ لَا سَعْدَيْكَ"[نہ تو بار بار حاضر ہو اور نہ تیرے نصیب اچھے ہوں] تیرا زادِ راہ حرام ، تیرا خرچہ حرام کا اور تیرا حج بھی مبرور نہ ہو۔)

    حاجی کو چاہیے کہ لوگوں کی جیبوں پر نظر نہ رکھے، لوگوں سے مت مانگے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ سلم کا فرمان ہے:

    (جو پاکدامنی چاہے تو اللہ تعالی اسے پاکدامنی دے دیتا ہے، اور جو بے نیازی چاہے تو اللہ تعالی اسے بے نیاز کر دیتا ہے)

    اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے:

    (ایک شخص ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے پر بالکل گوشت نہیں ہو گا۔)

    اسی طرح حاجی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ حج اور عمرے کا مقصد رضائے الہی اور آخرت میں کامیابی ہو، ان مقدس مقامات پر ایسے زبانی اور بدنی کام کرنے کی توفیق مانگے جن سے قرب الہی نصیب ہو۔ حج کے ذریعے اپنے آپ کو دنیاوی مفادات کے حصول سے یکسر دور کر لے، اسی طرح ریا کاری ، اور شیخی مارنے سے باز رہے؛ کیونکہ اگر کسی کے حج یا عمرے کا یہی مقصد ہوا تو یہ قبیح ترین مقصد ہے جو کہ نیکی کے ضائع ہونے اور مسترد کیے جانے کیلیے کافی ہے۔ اللہ تعالی نے اسی بارے میں فرمایا:

    (مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ * أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)

    ترجمہ: جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہے تو ہم ایسے لوگوں کو دنیا میں ہی ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے دیتے ہیں اور وہ دنیا میں گھاٹے میں نہیں رہتے [15] یہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں آگ کے سوا کچھ حصہ نہیں۔ جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ برباد ہو جائے گا اور جو عمل کرتے رہے وہ بھی بے سود ہوں گے [هود: 15-16 ]

    اسی طرح فرمایا:

    (مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُرِيدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهُ جَهَنَّمَ يَصْلَاهَا مَذْمُومًا مَدْحُورًا * وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُورًا)

    ترجمہ: جو شخص دنیا چاہتا ہے تو ہم جس شخص کوچاہیں یاور جتنا چاہیں دنیا میں ہی دے دیتے ہیں پھر ہم نے جہنم اس کے مقدر کر دی ہے جس میں وہ بدحال اور دھتکارا ہوا بن کر داخل ہوگا۔ [18] اور جو شخص آخرت کا ارادہ کرے اور اس کے لئے اپنی مقدور بھر کوشش بھی کرے اور مومن بھی ہو تو ایسے لوگوں کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔ [الإسراء:18-19]

    نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی سے بیان کرتے ہیں کہ:

    (میں شریکوں میں سے سب سے زیادہ شراکت سے بے نیاز ہوں، جس نے بھی کوئی عمل کرتے ہوئے اس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک بنایا تو میں اس عمل کو اس کے شریک کیلیے چھوڑ دیتا ہوں)

    اسی طرح حاجی کو چاہیے کہ دوران سفر اہل علم، متقی، اور نیک لوگوں کے ساتھ رہے جنہیں دین کا علم ہو اپنے آپ کو بیوقوف اور فاسقوں کے ساتھ مت رکھے۔

    سفر حج پر جانے سے پہلے حج اور عمرے کا طریقہ اچھی طرح سیکھ لے اور جان لے، جن مسائل میں اسے پیچیدگی محسوس ہو رہی ہو ان کے بارے میں پوچھ لے تا کہ صاحب بصیرت بن کر حج اور عمرے کے ارکان ادا کرے۔

    سفر پر جانے کیلیے جانور، گاڑی یا جہاز جو بھی سواری ہو اس پر سوار ہوتے ہوئے اللہ کا نام لے ، الحمد للہ کہے اور پھر تین بار تکبیر کہتے ہوئے کہے:

    (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ * وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ)

    ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اسے مطیع کر دیا اور ہم تو اسے قابو میں نہ لا سکتے تھے۔ [13] اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ [الزخرف:13-14]

    اور یہ بھی کہے:

    "اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِيْ سَفَرِيْ هَذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَى ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى ، اَللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا ، وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ ، اَللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَلِيْفَةُ فِي الْأَهْلِ،اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الأَهْلِ وَالْمَالِ"

    ترجمہ: یا اللہ! میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقوی کا سوال کرتا ہوں، تیرے پسندیدہ کام کرنے کی توفیق مانگتا ہوں، یا اللہ! میرے لیے اس سفر کو آسان بنا دے، اس کی دوریاں ہم سے ختم کر دے، یا اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا سہارا ہے اور ہمارے اہل و عیال کا پاسبان ہے، یا اللہ! میں سفر کی تھکاوٹ اور ماندگی ، نیز اہل و عیال اور مال میں خرابی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

    یہ دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔

    اپنے سفر کے دوران کثرت سے ذکر اور استغفار کرے، اللہ تعالی سے دعائیں مانگے، اسی کی جانب گڑگڑائے، قرآن کریم کی تلاوت کرے، اس کے معانی پر غور و فکر کرے، نماز با جماعت کا بھر پور خیال رکھے، فضول بات چیت سے اپنی زبان کو محفوظ رکھے، لا یعنی چیزوں میں مشغول ہونے سے بچے، بے حد ہنسی مذاق میں نہ پڑے، اپنی زبان کو جھوٹ، غیبت، چغلی ، ٹھٹھا اڑانے سے محفوظ رکھے اور مسلمانوں کو تکلیف مت پہنچائے۔

    اسی طرح اپنے ہم سفر ساتھیوں کے ساتھ سفر میں کام آئے ، انہیں تکلیف مت دے، انہیں حکمت اور دانائی کے ساتھ حسب استطاعت نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے" انتہی

    فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ

    واللہ اعلم

    ماخوذ از: "مجموع فتاوى ابن باز" (16/32- 37)

    https://islamqa.info/ur/109226
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں