1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلام + شغل تکفیر۔ تفسیر السراج۔ پارہ:5

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏اکتوبر 30، 2013۔

  1. ‏اکتوبر 30، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً يَّكُنْ لَّہٗ نَصِيْبٌ مِّنْھَا۝۰ۚ وَمَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَيِّئَۃً يَّكُنْ لَّہٗ كِفْلٌ مِّنْھَا۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيْتًا۝۸۵ وَاِذَا حُيِّيْتُمْ بِتَحِيَّۃٍ فَحَيُوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَآ اَوْ رُدُّوْھَا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَسِيْبًا۝۸۶ اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۝۰ۭ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ لَا رَيْبَ فِيْہِ۝۰ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللہِ حَدِيْثًا۝۸۷ۧ
    ۱؎ شفع ووترجوڑا اور ایکائی کوکہتے ہیں۔ شفاعت کے معنی ہیں کسی دوسرے کے ساتھ ہو کر کسی مسئلے کو طے کرنے کے۔آیت کا مقصد یہ ہے کہ اچھی باتوں کی طرف لوگوں کو مائل کرنا اچھی بات ہے اور برائی کی طرف دعوت دینا برا ہے۔یعنی جہاد کی ترغیب واشاعت ازقبیل حسنات ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کو کسل ودون ہمتی کی تعلیم دیتے ہیں مجرم ہیں۔
    سلام

    ۲؎ تحیۃ کے معنی اصل میں کلمات دعائیہ کے ہیں۔ جن میں مخاطب کی درازی عمر مقصود ہو۔اسلامی اصطلاح میں مراد السلام علیکم کہنا ہے ۔
    بات یہ ہے کہ جہا د میں بعض دفعہ مسلمان باوجود السلام علیکم سننے کے مخاطب کو تلوار کے گھاٹ اتاردیتے ۔ اس شبہ میں کہ یہ کہیں منافق نہ ہو۔قرآن حکیم نے فرمایا۔ جو شخص تمھیں سلام کہے۔ تمہارا فرض ہے کہ اسے مسلمان سمجھو اور اسے اس سے بہتر ہدیۂ سلام پیش کرو۔یعنی مسلمان کو کسی حالت میں بھی زیبا نہیں کہ وہ سوء ظن سے کام لے اور خواہ مخواہ مسلمانوں کو کافرسمجھے۔ ہر وہ شخص جو اسلام کا اظہار کرتا ہے ، مسلمان ہے ۔باہمی ملاقات کے وقت یہ لفظ اسلام نے ایسا تجویز کیا ہے جو بے حد موزوں ہے اور مشرقی لٹریچر کا جزو بن گیا ہے ۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اسلام دنیا کا کامل ترین مذہب ہے ۔
    شغل تکفیر

    ۳؎ اس آیت کا ماقبل کے ساتھ ایک لطیف ربط ہے اور وہ یہ کہ سابقہ آیت میں شغل تکفیر سے منع کیا ہے اورکہا ہے کہ ہروہ شخص جو ہدیۂ سلام پیش کرتا ہے ،زائد از زائد عزت واکرام کا مستحق ہے ۔تم مجاز نہیں کہ اسے غیر مسلم یا منافق سمجھو۔

    اللہ لاالہٰ الا ھو کہہ کر اس مفہوم کی تائید فرمائی ہے یعنی جب خدا وہ ہے جس کی پرستش ضروری ہے اورجو علام الغیوب ہے توتمھیں کیا حق حاصل ہے کہ کسی کے باطن کے متعلق فیصلہ کرو اورخواہ مخواہ ناجائز بدظنی سے کام لو۔ تم کسی کے خدا نہیں کہ جسے کافر کہہ دو،کافر ہوجائے۔لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ میں زجر وتوبیخ ہے ان لوگوں کے لیے جوخدائی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔ظاہر ہے کفرواسلام کا صحیح اورسچا فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ، اس لیے تکفیر میں حتی الوسع محتاط سے رہناچاہیے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں