1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة-اردو میں

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالمنان, ‏فروری 06، 2016۔

  1. ‏فروری 06، 2016 #1
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    موضوع کے مطابق احادیث شامل کریں۔
     
  2. ‏فروری 06، 2016 #2
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    کتاب النکاح
     
  3. ‏فروری 06، 2016 #3
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    «مَنْ صَبَرَ عَلَى سُوءِ خُلُقِ امْرَأَتِهِ أَعْطَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ مَا أَعْطَى أَيُّوبَ عَلَى بَلَائِهِ وَمَنْ صَبَرَتْ عَلَى سُوءِ خُلُقِ زَوْجِهَا أَعْطَاهَا اللَّهُ مِثْلَ ثَوَابِ آسِيَة امْرَأَة فِرْعَوْن»

    تخريج: أورده الغزالي في " الإحياء " (٢ / ٣٩) وقال العراقي: لم أقف له على أصل؛ قال ابن السبكي:لم أجد له إسناداً.الضعيفة 627.( کوئی سند نہیں ہے)

    جو آدمی اپنی بیوی کے برے اخلاق پر صبر کرے گا ﷲ تعالٰی اسے ایسا اجر و ثواب دے گا جیسا اجر ایّوب عليہ السلام کو انکی مصیبت پر دیا۔ اور جو عورت اپنے شوہر کے برے اخلاق پر صبر کرے گی ﷲ تعالٰی اسے ایسا بدلہ دے گا جیسا بدلہ فرعون کی بیوی آسیہ کو دیا تھا۔
     
  4. ‏فروری 06، 2016 #4
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال ابو داود: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنِي الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ»

    تخريج: أبو داود 2095،أحمد4905 ؛ سنن الكبرى للبيهقي 13664؛ الضعيفة 1386.(ضعیف)(اس کی سند میں ایک راوی ''الثقۃ'' مبہم ہے)

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ لو''۔
     
  5. ‏فروری 06، 2016 #5
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال ابو داود: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُوعَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : «أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» - وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ:- «امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا»

    * تخريج: أبوداود 5149؛مسند أحمد (24006،24008)؛ابن أبي الدنيا في "العيال" 86؛ الضعيفة 1122؛ (ضعیف)
    ( اس کے راوی ''نھاس بن قهم'' ضعیف ہیں)

    عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب وزینت سے محرومی کے باعث بد ل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے'' ( یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا )'' عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہوجائیں یا وفات پا جائیں''۔
     
  6. ‏فروری 06، 2016 #6
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال الطبراني: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ: نا عِيسَى بْنُ الْمُسَاوِرِ قَالَ: نا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا، وَزَوْجُهَا كَارِهٌ لذَلِكَ، لَعَنَهَا كُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَكُلُّ شَيْءٍ تَمُرُّ عَلَيْهِ، غَيْرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، حَتَّى تَرْجِعَ».

    معجم الأوسط للطبراني 513؛الضعيفة 1102. (ضعيف جدا) .(احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ نے سويد بن عبد العزيز کو متروک الحدیث کہا ہے)

    جب عورت اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے اور اس کا شوہر اس کے گھر سے باہر نکلنے کو ناپسند کرتا ہے تو آسمان کا ہر فرشتہ اور ہر وہ چیز جس پر سے وہ گزرتی ہے سوائے جن و انس کے اس کے گھر واپس لوٹنے تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔
     
  7. ‏فروری 06، 2016 #7
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال الخطيب: أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْعَزَائِمِ، بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْخِضْرُ بْنُ أَبَانَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هُدْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنْسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ غَيْرِ أَمْرِ زَوْجِهَا، كَانَتْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا أَوْ يَرْضَى عَنْهَا "

    تخريج: أخرجه الخطيب في " تاريخ بغداد " الضعيفة 1020؛

    (موضوع) (ابن معين اور أبو حاتم نے إبراهيم بن هدبة کو کذاب کہا ہےاور علي بن ثابت نے کہا کہ« هو أكذب من حماري هذا» (وہ میرے اس گدھے سے زیادہ جھوٹا ہے) ابن حبان نے ابراہیم کو دجالوں میں سے ایک دجال کہا ہے۔]


    جو عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جاتی ہے تو وہ گھر واپس لوٹنے تک یا شوہر کے راضی ہونے تک ﷲ تعالٰی کی ناراضگی میں ہوتی ہے۔
     
  8. ‏فروری 06، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,362
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    قال الخطيب أبو بكر أحمد بن علي (المتوفى: 463 ھ) :
    ’’ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْحَافِظُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْعَزَائِمِ، بِالْكُوفَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْخِضْرُ بْنُ أَبَانَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هُدْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنْسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ غَيْرِ أَمْرِ زَوْجِهَا، كَانَتْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى تَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهَا أَوْ يَرْضَى عَنْهَا "
    تخريج: أخرجه الخطيب في " تاريخ بغداد " الضعيفة 1020؛

    سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    جو عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے باہر جاتی ہے تو وہ گھر واپس لوٹنے تک یا شوہر کے راضی ہونے تک ﷲ تعالٰی کی ناراضگی میں ہوتی ہے۔

    علامہ الالبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ روایت (موضوع ہے )
    امام ابن ابن معين اور أبو حاتم نے إبراهيم بن هدبة کو کذاب کہا ہےاور علي بن ثابت نے کہا کہ« هو أكذب من حماري هذا» (وہ میرے اس گدھے سے زیادہ جھوٹا ہے) ابن حبان نے ابراہیم کو دجالوں میں سے ایک دجال کہا ہے۔ (
    سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة 88ـ3 )


     
  9. ‏فروری 07، 2016 #9
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال ابو القاسم حامض: حَدثنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ الرَّازِيُّ قَالَ: {نَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ قَالَ: نَا جَدِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَازِعِ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَن جَابر، قَالَ: قَالَ رَسُول الله - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ -:

    «ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ: مَنْ سَعَى فِي فِكَاكِ رَقَبَةٍ ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ تَزَوَّجَ ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ، وَمَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً ثِقَةً بِاللَّهِ وَاحْتِسَابًا، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُ، وَأَنْ يُبَارِكَ لَهُ»

    تخريج: منتقى من حديث المروزي لأَبي القَاسِمِ، حَامض (المتوفى: ٣٢٩هـ)؛ المعجم الأوسط للطبراني (4918) (المتوفى: ٣٦٠هـ)؛ المنتخب من الفوائد لابن منده (المتوفى: ٣٩٥هـ)؛ السنن الكبرى للبيهقي (21613) (المتوفى: ٤٥٨هـ)؛ الفوائد العوالي المنتقاة (الثقفيات) - للقاسم بن الفضل الثقفي (المتوفى: ٤٨٩هـ)؛ المنتقى من مسموعات مرو -لضياء الدين المقدسي(657) (المتوفى: ٦٤٣هـ)؛ الضعيفة: 1256.
    (ضعيف)
    [ابن حجر رحمہ اللّٰہ نے عمرو بن عاصم الکلابی کے متعلق "تقريب التهذيب" میں کہا ہے "صدوق في حفظه شيء" عمرو بن عاصم کے دادا عبيد الله بن الوازع مجہول ہیں(تقریب التھذیب)، شیخ البانی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ ابو زبیر معروف مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے].

    «تین کام ایسے ہیں جو بھی ان کو ﷲ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اجر و ثواب کی نیت سے کرے گا تو ﷲ تعالٰی پر اس کا یہ حق ہوگا کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس کو برکت دے۔۔ 1)جو شخص ﷲ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اجر و ثواب کی نیت سے غلام کو آزاد کرانے کی کوشش کرے تو ﷲ تعالٰی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس کو برکت دے، 2)جو شخص ﷲ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اجر و ثواب کی نیت سے شادی کرے تو ﷲ تعالٰی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس کو برکت دے،3) اور جو شخص ﷲ تعالٰی پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اجر و ثواب کی نیت سے مردہ زمین کو زندہ کرے تو ﷲ تعالٰی پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی مدد کرے اور اس کو برکت دے» ۔
     
  10. ‏فروری 07، 2016 #10
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    قال عَبْدُ الرَّزَّاق في المصنف : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ، أَوْ حِبَاءٍ، أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ، فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ، وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ».

    * تخريج: مصنف عبد الرزاق (10739)؛مسند أحمد (6709)؛ سنن أبي داود (2129)؛ سنن النسائي (3353)؛ ابن ماجه (1955)؛ شرح مشكل الآثار للطحاوي (4471) ، والبيهقي في سنن الكبرى للبيهقي (14428)؛ الضعيفة (1007)شیخ البانی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے)

    [شيخ البانی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ اس کے راوی ''ابن جریج'' مدلس ہیں اورعنعنہ سے روایت ہےاس لیے یہ حدیث ضعیف ہے، ابن جریج کی متابعت حجاج بن أرطاة نے (السنن الكبرى للبيهقي: 14429) کی ہے اور وہ بھی مدلس ہی ہیں]

    [ شیخ شعیب ارنؤوط مسند احمد کی تحقیق میں کہتے ہیں کہ ابن جریج کا نام عبد الملك بن عبد العزيز ہے ان کی سماعت کی تصریح نسائی اور شرح مشکل الآثار میں موجود ہے اس لیے تدلیس کا شبہ ختم ہو جاتا ہے اور یہ حدیث حسن ہے، مصنف عبدالرزاق (10740) اور سنن کبری (14429)میں عائشہ رضی ﷲ عنہا کی حدیث شاہد ہےلیکن اس کی سند میں حجاج بن أرطاة مدلس ہے اور روایت عنعنہ سے کی ہے، مصنف عبدالرزاق میں مکحول کی مرسل روایت (10743) ہے اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللّٰہ کا قول (10745)بھی ہے] وﷲاعلم

    عبداللہ بن عمروبن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جوکچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا(انعام وغیرہ)، مرد جس چیزکے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے''۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں