1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة-اردو میں

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالمنان, ‏فروری 06، 2016۔

  1. ‏جنوری 10، 2018 #301
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ٣٨٥- قال ابن ماجه: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا «عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ» عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلَالَ»

    تخريج: سنن ابن ماجه (٢٠١٥) (المتوفى: ٢٧٣هـ)؛ سنن الدارقطني (٣٦٧٩) (المتوفى: ٣٨٥ھ)؛ تاريخ أصبهان لأبي نعيم الأصبهاني (المتوفى: ٤٣٠ھ)؛ السنن الصغرى للبيهقي (٢٤٤٨) (المتوفى: ٤٥٨ھ)؛ تاريخ بغداد للخطيب البغدادي (المتوفى: ٤٦٣ھ)؛ الفردوس بمأثور الخطاب للديلمي (٧٨٣٦) (المتوفى: ٥٠٩ھ)؛ (ضعیف)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند عبداللّٰہ بن عمر عمری مکبر کی وجہ سے ضعیف ہے، یہ حدیث ایک دوسری سند سے متن میں زیادتی کے ساتھ بھی مروی ہے۔
     
  2. ‏جنوری 11، 2018 #302
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ٦٩٨٦- قال الطبراني: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي حَدَّثَنَا «مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ» عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حُرِمَ أَحَدُكُمُ الزَّوْجَةَ وَالْوَلَدَ فَعَلَيْهِ بِالْجِهَادِ»

    ترجمہ: جب تم میں سے کوئی بیوی اور اولاد سے محروم کر دیا جائے تو اس پر جہاد (کے ذریعے ان کو حاصل کرنا) فرض ہے۔

    تخريج: المعجم الكبير للطبراني (١٩/ ٢٤٢/ ٥٤٣) (المتوفى: ٣٦٠هـ)؛ معرفة الصحابة لأبي نعيم الأصبهاني (٦٥٠) (المتوفى: ٤٣٠ھ)؛ ( ضعيف)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند ضعیف ہے،
    اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے موسیٰ بن محمد بن حاطب کے، مجھے اس کا تعارف نہیں ملا، ابن حبان رحمہ اللّٰہ کی"ثقات" میں بھی نہیں ملا، مزی رحمہ اللّٰہ نے عبدالرحمن بن ابی موال کا ذکر موسیٰ بن محمد بن حاطب سے روایت کرنے والوں میں کیا ہے۔
    مجمع الزوائد میں ہیثمی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے اس میں موسیٰ بن محمد بن حاطب ہے اس کو میں نہیں جانتا، باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔
     
  3. ‏جنوری 11، 2018 #303
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ٥٨٢٢- قال البيهقي: أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّا حَدَّثَنَا «مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ» حَدَّثَنَا «عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ الْعَبْديُّ» حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَاءَتْ بِي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! خَادِمُكَ أَنَسٌ فَادْعُ لَهُ وَهُوَ كَيِّسٌ وَهُوَ عَارٍ يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَكْسُوَهُ رَازِفِيَّتَيْنِ يَسْتَتِرُ بِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
    «الْكَيِّسُ مَنْ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَارِي الْعَارِي مِنَ الدِّينِ، اللهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ، اللهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ»

    ترجمہ: انس رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللّٰہ عنہا میرے ساتھ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم آپ کے اس خادم انس کے لئے دعا فرمائیں وہ عقلمند ہے لیکن محتاج و تنگ دست ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے دو سفید کتان کے کپڑے پہنا دیں جن سے وہ اپنا ستر چھپا سکے، تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو موت کے بعد کے لئے عمل کرے، محتاج اور ننگا وہ ہے جو دین سے خالی ہے۔
    اے اللہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، اے اللّٰہ تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما۔

    تخريج: شعب الإيمان للبيهقي (١٠٠٦١) (موضوع)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: بیہقی کہتے ہیں ابن عمارہ ضعیف ہے، اس حدیث کے کچھ الفاظ کی شاہد شداد بن اوس رضی اللّٰہ عنہ کی حدیث ہے۔
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: اس میں دو باتیں ہیں:
    پہلی بات: بیہقی رحمہ اللّٰہ کا قول " کچھ الفاظ میں شاہد" کہنا صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ پہلے جملے کا شاہد ہے۔

    دوسری بات: شداد رضی اللّٰہ عنہ کی شاہد روایت خود ضعیف ہے جیسا کہ ہم نے "الروض النضير" میں واضح کیا، اس لئے یہ روایت اس کو قوت نہیں دیتی، کیونکہ یہ اُس سے زیادہ ضعیف ہے، اس سند کی علت صرف عون بن عمارہ کو کہنا واضح تقصیر ہے کیونکہ ان سے روایت کرنے والے محمد بن یونس ان سے زیادہ ضعیف ہے، وہ احادیث گھڑنے میں مشہور ہے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت میں گزر چکا ہے۔
    یہ علت مناوی رحمہ اللّٰہ پر مخفی رہی، انہوں نے بیہقی رحمہ اللّٰہ کی تقلید کرتے ہوئے صرف پہلی علت بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے، مناوی رحمہ اللّٰہ نے یہ زیادہ کہا کہ اس میں ایک راوی کو ابو حاتم وغیرہ نے ضعیف کہا ہے۔
    جب ہم نے "ضعيف الجامع الصغير" کی تالیف کی تو اس میں صرف تضعیف پر اکتفا کی تھی، لیکن اب ہم اس کی سند سے واقف ہوئے تو معلوم ہوا کہ محمد بن یونس کے سخت ضعف کی وجہ سے صرف تضعیف میں تساہل ہے، الا یہ کہ محمد بن یونس کا کوئی متابع ہو جو کہ بعید بات ہے۔ و اللہ اعلم
    اور جو اس کے متن میں زیادتی ہے وہ صحیح ہے کیونکہ اس کی شاہد انس رضی اللّٰہ عنہ کی وہ حدیث ہے جس میں مسجد نبوی کی تعمیر کا ذکر ہے:

    وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، ‏‏‏‏‏‏فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ. ( سنن أبي داود: ٤٥٣)

    ترجمہ: لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔
    ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: «أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ»
     
  4. ‏جنوری 13، 2018 #304
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ٦٠٠٩- قال الطبراني في الكبير: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنِي «عِكْرِمَةُ بْنُ جَعْفَرٍ» عَنْ «عُقْبَةَ بْنِ كَثِيرٍ» عَنْ «خِرَاشٍ» عَنِ «ابْنِ عَبْدِ اللهِ» عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ:
    «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتِهِ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفَ دَرَجَةٍ» فَقَالَ عُمَرُ: هَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ قَالَ: «ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ» ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَتْ حَقَّ زَوْجِهَا وَ تَذْكُرُ حُسْنَهُ وَلَا تَخُونَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةً وَاحِدَةً فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ»

    ترجمہ: میمونہ رضی اللّٰہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ مردوں اور عورتوں کی صفوں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور کہا: اے عورتوں کی جماعت! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو تم بھی اسی کی طرح کہنا، کیونکہ ہر لفظ کے بدلے تمہارے ہزار ہزار درجے بلند کیے جائیں گے تو عمر رضی اللّٰہ عنہ نے کہا: یہ تو عورتوں کے لیے ہے مردوں کے لیے کیا اجر ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: دگنا اجر ہے اے عمر! پھر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے، اس کا حق ادا کرتی ہے، اس کی اچھائی بیان کرتی ہے اور اپنے نفس اور اس کے مال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں اس کے اور شہداء کے درمیان صرف ایک درجے کا فرق ہوگا، اگر اس کا شوہر مومن، اچھا اخلاق والا ہوگا تو وہ جنت میں بھی اس کا شوہر ہوگا ورنہ اللہ تعالیٰ اس کا نکاح شہداء میں سے کسی سے کرا دے گا۔
    ۩تخريج: المعجم الكبير للطبراني (٢٨) (المتوفى: ٣٦٠ھ)؛ (منكر جدًا)
    شیخ البانی کہتے ہیں کہ اس کی سند بہت زیادہ ضعیف ہے۔ میمونہ رضی اللّٰہ عنہا اور بکر بن عبدالوہاب کے درمیان کے تمام راویوں کا ذکر کتب الرجال میں سے کسی میں نہیں ہے۔
    یہ حدیث دوسری سند سے طبرانی رحمہ اللّٰہ کی المعجم الکبیر میں بہت زیادہ مختصراً مروی ہے حدیث یہ ہے:
    قال الطبراني في الكبير: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ «عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ» عَنْ «عَبْدِ اللهِ الْجَزَرِيِّ» عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَصَفِّ النِّسَاءِ فَقَالَ لِلنِّسَاءِ:
    «إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ»
    تخريج: المعجم الكبير (١٥) و الدعاء للطبراني (٤٤١) (المتوفى: ٣٦٠ھ)؛
    شیخ البانی کہتے ہیں کہ اس کی سند بہت زیادہ ضعیف ہے۔ «عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ» کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللّٰہ تقریب التہذیب میں کہتے ہیں کہ وہ متروک ہے۔
    «عَبْدِ اللهِ الْجَزَرِيِّ» کے متعلق ہیثمی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ میں اسے نہیں جانتا، ان کا یہ قول مقبول ہے۔
    اس حدیث کو منذری رحمہ اللّٰہ نے الترغيب والترهيب میں طبرانی رحمہ اللّٰہ کی اوپر کی روایت نقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس حدیث میں نکارت ہے۔
     
  5. ‏جنوری 15، 2018 #305
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ
    دعاء مومن کا ہتھیار ہے ( موضوع، من گھڑت روایت)

    ١٧٩- قال أبو يعلى: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا «مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ الْهَمْدَانِيُّ» عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

    «الدُّعَاءُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ وَ عِمَادُ الدِّينِ وَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ»

    ترجمہ: دعاء مومن کا ہتھیار، دین کا ستون، آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

    تخريج: مسند أبي يعلى (٤٣٩) (المتوفى: ٣٠٧هـ)؛ الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي (في ترجمة ١٦٥٦- مُحَمد بْن الحسن بْن أَبِي يزيد الهمداني كوفي) (المتوفى: ٣٦٥ھ)؛ المستدرك على الصحيحين للحاكم (١٨١٢) (المتوفى: ٤٠٥ھ)؛ مسند الشهاب للقضاعي (١٤٣) (المتوفى: ٤٥٤ھ)؛ الفردوس بمأثور الخطاب للديلمي (٣٠٨٥) (المتوفى: ٥٠٩ھ)؛ الترغيب في الدعاء (١٠) و نهاية المراد من كلام خير العباد (٤٦) لعبد الغني المقدسي (المتوفى: ٦٠٠ھ)؛ (موضوع)

    [مترجم: جعفر بن محمد کا نام جعفر بن محمد بن علی بن حسین (بن علی بن ابی طالب) ہے جیسا کہ مستدرک حاکم کی سند میں ہے]۔

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: حاکم رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ محمد بن حسن التل کوفیوں سے روایت کرنے میں صدوق ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
    ہم کہتے ہیں اس میں دو وجہ سے واضح غلطی ہے:
    پہلی وجہ: اس سند میں علی بن حسین اور ان کے دادا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے جیسا کہ امام ذہبی نے خود میزان الاعتدال میں ذکر کیا ہے۔
    دوسری غلطی: محمد بن حسن ہمدانی یہ "التل" صدوق راوی نہیں ہے جیسا کہ حاکم رحمہ اللّٰہ نے کہا ہے بلکہ یہ محمد بن حسن بن ابی یزید ہمدانی کذاب ہے جیسا کہ اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔

    اس پر درج ذیل امور دلالت کرتے ہیں:
    1- امام ذہبی نے خود ہمدانی کے تعارف میں ابن معین رحمہ اللّٰہ وغیرہ سے اس کی تکذیب نقل کرنے کے بعد اس حدیث کو ذکر کیا ہے، اسی طرح ابن عدی نے بھی کیا ہے۔ اس لئے سیوطی کا اس حدیث کو اپنی جامع میں ذکر کرنا غلطی ہے۔ ( کیونکہ ان کی شرط ہے کہ اپنی کتاب میں کذاب کی روایت بیان نہیں کریں گے)۔
    2- اس حدیث کو ہیثمی رحمہ اللّٰہ نے مجمع الزوائد میں ذکر کرنے کے بعد کہا کہ اس کو ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اس کی سند میں محمد بن حسن بن ابی یزید متروک ہے۔
    3- محمد بن حسن التل کا ذکر جعفر بن محمد نے اپنے شیوخ میں نہیں کیا بلکہ اس کا ذکر محمد بن حسن ہمدانی کے شیوخ میں ہے۔
    4- التل کی نسبت ہمدان کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ابن ابی یزید کی نسبت ہمدان کی طرف کی گئی، مجھے یہی لگ رہا ہے کہ مستدرک کے بعض رواۃ پر (أبي يزيد) تبدیل ہو کر (الزبير) ہو گیا، اسی وجہ سے حاکم رحمہ اللّٰہ نے اسے "التل" کہا ہے اور غلطی کی۔ و اللہ اعلم

    اس حدیث کا پہلا جملہ فضیل بن عیاض کے قول کے طور پر سلفی رحمہ اللّٰہ نے "الطيوريات" میں روایت کیا ہے۔
    یہ جملہ دوسری حدیث (اس کے بعد والی حدیث) میں بھی مروی ہے لیکن وہ بھی صحیح نہیں ہے۔
     
  6. ‏جنوری 15، 2018 #306
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ١٨٠- قال أبو يعلى: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا «سَلَامٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ» عَنْ «مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ» عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
    «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يُنْجِيكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَيَدِرُّ لَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ؟ تَدْعُونَ اللَّهَ فِي لَيْلِكُمْ وَنَهَارِكُمْ، فَإِنَّ الدُّعَاءَ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِ»

    ترجمہ: کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہیں دشمن سے بچائے اور تمہارے رزق میں زیادتی کرے؟ تم رات دن اللہ سے دعا کرتے رہو، کیونکہ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔

    تخريج: مسند أبي يعلى (١٨١٢) (المتوفى: ٣٠٧هـ)؛ (موضوع وليس ضعيفا فقط)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: ہیثمی رحمہ اللّٰہ مجمع الزوائد میں کہتے کہ اس حدیث کو ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اس کی سند میں محمد بن ابی حمید ضعیف ہے۔

    کشف الشفاء میں شیخ عجلونی نے گزشتہ حدیث (حدیث نمبر: 179) پر کلام کرتے ہوئے اس حدیث کو بھی بیان کیا ہے اور ہیثمی رحمہ اللّٰہ کا قول نقل کیا ہے کہ محمد بن ابی حمید ضعیف ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ " ابن غرس نے کہا ہے کہ اس حدیث کو ہمارے شیخ نے صحیح کہا ہے، شاید ان کی مراد جبر کے لحاظ سے ہے، آپ غور کریں "۔
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: آپ یہ جان گئے ہیں کہ اس سے پہلے کی حدیث موضوع ہے اس لئے اِس ضعیف حدیث کو وہ موضوع حدیث تقویت نہیں دے سکتی، جیسا کہ علم المصطلح میں معروف ہے۔

    اس سند کی ایک دوسری علت بھی ہے جو مجھے ابو یعلیٰ کی سند پر مطلع ہونے کے بعد معلوم ہوئی۔
    اس سند میں جو سلام ہے وہ سلام طویل مدنی ہے جو کہ متروک، متہم بالوضع ( حدیث گھڑنے کا ملزم) ہے۔ اس لئے اس حدیث کی علت محمد بن ابی حمید بتانے سے بہتر سلام طویل مدنی کو بتانا ہے۔
    اس کی ایک موضوع روایت (حدیث نمبر: 57 پر) گزر چکی ہے، اور ایک ضعیف روایت جس میں اس کی متابعت کی گئی ہے (حدیث نمبر: 26 پر) گزر چکی ہے۔

    اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث صرف ضعیف نہیں ہے جیسا کہ ہم نے ہیثمی رحمہ اللّٰہ کے قول کی بنیاد پر کہا تھا بلکہ اس سے پہلے والی حدیث ہی کی طرح موضوع ہے۔
     
  7. ‏جنوری 22، 2018 #307
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    لَا يُعَادُ الْمَرِيضُ إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
    مریض کی عیادت بیماری کے تین دن بعد ہی کی جاتی ہے۔
    ١٤٥- قال ابن ماجه: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا «مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِي» حَدَّثَنَا «ابْنُ جُرَيْجٍ» عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَعُودُ مَرِيضًا إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ.
    ترجمہ: انس رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مریض کی عیادت (اس کی بیماری کے) تین دن گزر جانے کے بعد ہی فرماتے تھے۔
    تخريج: سنن ابن ماجه (١٤٣٧) (المتوفى: ٢٧٣هـ)؛ المرض والكفارات لابن أبي الدنيا (٥٤) (المتوفى: ٢٨١ھ)؛ المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين لابن حبان (في ترجمة ١٠٧٨ - مسلمة بن عَليّ الْخُشَنِي) (المتوفى: ٣٥٤هـ)؛ المعجم الأوسط (٣٦٤٢) و المعجم الصغير (٤٨٤) للطبراني (المتوفى: ٣٦٠ھ)؛ الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي (في ترجمة ١٧٩٩- مسلمة بْن علي أَبُو سَعِيد الخشني الشامي) (المتوفى: ٣٦٥ھ)؛ أخلاق النبي وآدابه لأبِي الشيخ الأصبهاني (٧٥٢) (المتوفى: ٣٦٩هـ)؛ شعب الإيمان للبيهقي (٨٧٨١) (المتوفى: ٤٥٨ھ)؛ من فوائد أبي القاسم ابن عليك (٢٦) (المتوفى: ٤٦٨ھ)؛ الأنوار في شمائل النبي المختار للبغوي (٦٦٢) (المتوفى: ٥١٦ھ)؛ تاريخ دمشق لابن عساكر (في ترجمة ٧٣٩٧ - مسلمة بن علي بن خلف أبو سعيد الخشني و ٨٩٠٧ - أبو يعقوب التميمي) (المتوفى: ٥٧١ھ)؛ (موضوع)
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: ابن جریج مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ ضعیف راویوں سے ہی تدلیس کرتے ہیں۔
    مسلمہ متہم بالکذب ہے جیسا کہ حدیث نمبر: 141 میں گزر چکا ہے، اور یہی اس حدیث کی علت ہے۔
    ابن ابی حاتم علل الحدیث میں کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث باطل موضوع ہے، میں نے پوچھا کس کی وجہ سے؟ تو انہوں نے کہا: مسلمہ ضعیف ہے۔ امام ذہبی نے میزان الاعتدال میں یہی کہا ہے، پھر بھی سیوطی نے اپنی جامع کو اس حدیث سے سیاہ کیا ہے۔
    بیہقی رحمہ اللّٰہ نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کی سند قوی نہیں ہے، حافظ ابن حجر نے اس حدیث کو مسلمہ کے مناکیر میں ذکر کیا ہے۔
    بعض لوگوں نے اس حدیث کو اسی معنی کی دوسری حدیث سے تقویت دینے کی کوشش کی ہے لیکن کامیاب نہیں ہو سکے کیونکہ وہ بھی اس کی طرح موضوع ہی ہے۔ وہ حدیث اس کے بعد والی ہے۔
     
  8. ‏جنوری 22، 2018 #308
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    ١٤٦- قال الطبراني: حَدَّثَنَا حَبَابُ بْنُ صَالِحٍ الْوَاسِطِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النَّشَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا «نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو الْحَارِثِ الْوَرَّاقُ» عَنْ «رَوْحِ بْنِ جَنَاحٍ» عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُعَادُ الْمَرِيضُ إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ»

    ترجمہ: مریض کی عیادت تین دن بعد ہی کی جاتی ہے۔

    تخريج: المعجم الأوسط للطبراني (٣٥٠٣) (المتوفى: ٣٦٠ھ)؛ الكامل في ضعفاء الرجال لابن عدي (في ترجمة ٦٦٠- روح بْن غطيف) (المتوفى: ٣٦٥ھ)؛ الفردوس بمأثور الخطاب للديلمي (٨٠١٩: عن أنس) (المتوفى: ٥٠٩ھ)؛ الموضوعات لابن الجوزي (المتوفى: ٥٩٧ھ)؛ (موضوع)
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: طبرانی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو صرف ابو حارث وراق ہی نے روایت کیا ہے۔
    شیخ البانی: اس سند کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ابو حارث کو ابن معین نے کذاب کہا ہے، امام بخاری کہتے ہیں کہ محدثین نے اس پر کلام کیا ہے۔ روح بن جناح متہم بالکذب ہے، آگے اس کی اور ایک حدیث آ رہی ہے۔
    اس حدیث کو ابن جوزی رحمہ اللّٰہ نے موضوعات میں ابن عدی رحمہ اللّٰہ کی سند سے روایت نصر بن حماد کے طریق سے روایت کیا ہے مگر روح بن جناح کی جگہ روح بن عطیف لکھا ہے، پھر ابن جوزی کہتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے، روح بن جناح اور اسی طرح نصر بن حماد دونوں متروک ہیں۔
    سیوطی نے " اللآليء " میں ابن جوزی کا تعقب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا شاہد موجود ہے پھر اس سے پہلی والی حدیث ذکر کی ہے، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ حدیث بھی موضوع ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔
    پھر سیوطی رحمہ اللّٰہ نے اس حدیث کا دوسرا شاہد اس سند سے پیش کی: (نوح بن أبي مريم حدثنا أبان عن أنس مرفوعا)
    اس سند میں نوح بن ابی مریم اور ابان ( ابن ابی عیاش) دونوں متہم بالکذب ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔
     
  9. ‏جنوری 22، 2018 #309
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    خُلِقَ الْحُورُ الْعِينُ مِنْ زَعْفَرَانٍ
    حور عین کی تخلیق زعفران سے کی گئی ہے۔


    ٣٥٣٩- قال ابن الأعرابي: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ أَبُو جَعْفَرٍ التَّمْتَامُ حَدَّثَنَا «الْحَارِثُ بْنُ خَلِيفَةَ» حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خُلِقَ الْحُورُ الْعِينُ مِنْ زَعْفَرَانٍ»، وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ.

    ترجمہ: حور عین کی تخلیق زعفران سے کی گئی ہے اور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے آدمی کو زعفران لگانے سے منع فرمایا ہے۔

    تخريج حديث أنس: معجم ابن الأعرابي (٢٦٨) (المتوفى: ٣٤٠هـ)؛ تفسير الثعلبي (المتوفى: ٤٢٧ھ)؛ البعث والنشور للبيهقي (٣٥٥) (المتوفى: ٤٥٨ھ)؛ تاريخ بغداد للخطيب البغدادي (في ترجمة ٣٤٩٣ - بنان بن سليمان أبو سهل الدقاق) (المتوفى: ٤٦٣ھ)؛ الآثار المروية في الأطعمة السرية لابن بشكوال (١٢٩) (المتوفى: ٥٧٨ھ)؛ (ضعيف)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند ضعیف ہے، حارثہ بن خلیفہ کے متعلق ابن ابی حاتم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وہ مجہول ہے۔
    یہ حدیث درج ذیل سند سے بھی مروی ہے:

    قال الطبراني في الكبير: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ «عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ» عَنْ «عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ» عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
    «خَلَقَ اللَّهُ الْحُورَ الْعِينَ مِنَ الزَّعْفَرَانِ»

    تخريج حديث أبي أمامة: المعجم الكبير للطبراني (٧٨١٣)؛ صفة الجنة لأبي نعيم الأصبهاني (٣٨٣)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند واہیات ہے، عبید اللہ بن زحر اور علی بن یزید دونوں ضعیف ہیں اور ابن حبان نے متروک کہا ہے (یا ترک کیا ہے)۔

    یہ حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے

    قال الطبراني في الأوسط: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ قَالَ حَدَّثَنَا «عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ الْأَنْصَارِيُّ» قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ابْنُ ابْنَةِ اللَّيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي «عَائِشَةُ ابْنَةُ يُونُسَ امْرَأَةُ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ» عَنِ «اللَّيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ» عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «خُلِقَ الْحُورُ الْعِينُ مِنِ الزَّعْفَرَانِ»

    تخريج: المعجم الأوسط للطبراني (٢٨٨)؛ صفة الجنة لأبي نعيم الأصبهاني (٣٨٥)؛ صفة الجنة لضياء المقدسي (١٢٢)

    طبرانی رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو صرف اسی سند سے روایت کیا گیا ہے، اس کو روایت کرنے میں علی بن حسن بن ہارون منفرد ہے۔
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: میں علی بن حسن بن ہارون کو نہیں جانتا۔
    درج ذیل سند میں علی بن حسن بن ہارون کی مخالفت ثقہ راوی نے کی ہے:

    قال أبو بكر الشافعي: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ عَنْ «عَائِشَةَ بِنْتِ يُونُسَ امْرَأَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ» قَالَتْ: كَانَ لَنَا جِيرَانٌ يَشْرَبُونَ الشَّرَابَ، قَالَتْ: فَقَالَ «لَيْثٌ»: مَا أَقَلَّ طَلَبَ هَؤُلَاءِ لِحُورِ الْعِينِ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ أَنَّ حُورَ الْعِينِ خُلِقْنَ مِنْ زَعْفَرَانٍ.

    تخريج: كتاب الفوائد (الغيلانيات) لأبي بكر الشافعي (٦٨٨) (المتوفى: ٣٥٤هـ)؛ الثقات لابن حبان (في ترجمة ١٤٨٤١ - عَائِشَة بنت يُونُس بن عبيد) (المتوفى: ٣٥٤هـ)

    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند اس سے پہلے والی سند سے زیادہ ٹھیک ہے، کیونکہ محمد بن عیسیٰ بن طباع ثقہ، صحیح مسلم کے رجال میں سے ہے، اور محمد بن احمد بن ولید بھی ثقہ ہیں ان کا تعارف تاریخ بغداد میں موجود ہے۔

    مرفوع اور مقطوع دونوں اسناد کا مدار عائشہ بنت یونس پر ہے، مجھے ان کا تعارف نہیں ملا اور ان کے شوہر لیث بن ابی سلیم کو اختلاط ہو گیا تھا۔
     
  10. ‏جنوری 27، 2018 #310
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    خُلِقَ الْحُوْرُ الْعين مِنْ تَسْبِيْحِ الْمَلَائِكَةِ
    حور عین کی تخلیق فرشتوں کی تسبیح سے کی گئی ہے۔

    ٣٥٤٠- أخرجه الديلمي: عن عمر بن الخطاب حدثنا «محمد بن عبد العزيز بن خالد» حدثنا «العباس بن الوليد» حدثنا «عبد الله بن هارون» عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة مرفوعاً:
    «خُلِقَ الْحُوْرُ الْعين مِنْ تَسْبِيْحِ الْمَلَائِكَةِ فَلَيْسَ فِيْهِنَّ أَذَى وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: «إِنَّآ أَنشَأْنَـٰهُنَّ إِنشَآءً۬ فَجَعَلْنَـٰهُنَّ أَبْكَارًا عُرُبًا أَتْرَابً۬ا»
    [الواقعة: ٣٥ - ٣٧] عَوَاشِقَ لِأَزْوَاجِهِنَّ»
    ترجمہ: حور عین کی تخلیق فرشتوں کی تسبیح سے کی گئی ہے، اس لئے ان میں کوئی تکلیف نہیں ہو گی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «ہم نے ان کی (بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے۔محبت والیاں اور ہم عمر ہیں»۔ اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں۔
    تخريج: الفردوس بمأثور الخطاب للديلمي (٢٩٥٥) (ضعيف)
    شیخ البانی رحمہ اللّٰہ: یہ سند ضعیف ہے، عبداللّٰہ بن ہارون کو میں نہیں جانتا، اس کے طبقے میں اس نام کے چار آدمی ہیں۔
    پہلا: فروی مدنی، اس کے منکر روایات ہیں، ابن عدی نے اس پر طعن کیا ہے۔
    دوسرا: حجازی، معروف نہیں ہے۔
    تیسرا: صوری، یہ بھی معروف نہیں ہے۔
    چوتھا: ليس بالقوي ( زیادہ قوی نہیں ہے)۔
    اللّٰہ بہتر جانتا ہے کہ ان چار میں سے اس حدیث کا راوی کون ہے۔
    عباس بن ولید کو بھی میں نہیں جانتا، اس کے طبقے میں بھی اس نام کے کئی لوگ ہیں آپ "الجرح والتعديل" میں دیکھ سکتے ہیں۔
    محمد بن عبدالعزیز بن خالد کو بھی میں نہیں جانتا۔
    الغرض اس حدیث کا متن منکر اور سند مظلم ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں