1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

#سلسلہ__اعتراضات___احادیث

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از فیاض ثاقب, ‏جنوری 28، 2017۔

  1. ‏جنوری 28، 2017 #1
    فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 30، 2016
    پیغامات:
    80
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    بسم الله الرحمٰن الرحیم
    #سلسلہ__اعتراضات___احادیث
    اس سلسلہ کا پہلا "اعتراض حدیث" ملاحظہ ہو :
    #ا__عتراض:
    "حدیث میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولے سوائے تین مرتبہ کے ، یہ حدیث کبھی صحیح نہیں ہوسکتی اسلئے کہ نبی جھوٹ نہیں بول سکتا ،قرآن مجید میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام صدیق تھے ،اسلئے یہ حدیث قرآن مجید کہ بھی خلاف ہے ،لہٰذا اس کہ جعلی ہونے میں کوئی شبہ نہیں "
    #_جواب :
    منکرین حدیث اس حدیث کو شان ابراہیم علیہ السلام کہ خلاف سمجھتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ ایک نبی جھوٹ نہیں بولتا مگر حدیث میں ہے کہ نبی نے جھوٹ بولے ،
    بیشک ہمارا بھی یہ ہی ایمان ہے کہ ایک نبی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا لیکن حدیث مذکور میں لفظ "کذب" وجہ غلط فہمی ہے جس سے بظاھر ایسا لگتا ہے کہ جھوٹ کی بات ہورہی ہے مگر درحقیقت ایسا نہیں ہے لفظ "کذب "کی وجہ سے اکثر عامی بھی اس سوچ میں پڑ کر شکوک و شبہات میں مبتلاء ہوکر گمراہی کی طرف نکل جاتے ہیں جبکہ تھوڑی سی تحقیق سے اس غلط فہمی کا ازالہ کیا جاسکتا ہے ،
    "کذب" عربی میں صرف جھوٹ کو نہیں کہتے ،بلکہ ،وہم ،غلطی اور خطاء کو بھی کہتے ہیں ،توریہ اور تعریض کو بھی کہتے ہیں اور اونٹنی کہ عاجز کو بھی کہتے ہیں ،سیاق و سباق کہ حوالے سے دکھا جائے تو یہاں صحیح ترجمہ جھوٹ کہ بجائے توریہ ہی ہوسکتا ہے کیوں کہ خود حدیث میں توریہ کی ہی صراحت ہے ،
    #توریہ__کسے_کہتے_ہیں ؟؟:
    توریہ یہ ہے کہ کہنے والا بات تو سچ کہے لیکن بیان اس انداز سے کرے کہ سنے والا اس کا مطلب کچھ اور سمجھے ،
    جیسے:
    "ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی کہ متعلق فرمایا تھا کہ یہ میری بہن ہیں اور پھر اپنی بیوی سے فرمایا کہ روئے زمین پر میرے اور تمہارے علاوہ کوئی مومن نہیں ہے"
    (صحیح بخاری )
    یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مومن کو مخصوص کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی منشاء دینی رشتہ کی ہے یعنی دینی بہن ،حضرت سارہ یقینا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دینی بہن تھیں انہی معنوں میں حضرت ابراہیم نے انہیں بہن کہا تھا ،لہٰذا وہ جھوٹ نہیں توریہ تھا ،
    یعنی حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی توریہ نہیں کیا سوائے تین توریوں کے "یہ ترجمہ انہی الفاظ سے ماخوز ہے جن الفاظ میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی کو دینی بہن ہونے کی نیت سے بہن کہا "
    جھوٹ اور فلسفہ اخلاق :
    قتل انسانی بہت ہی مذموم فعل ہے .لیکن جہاد اور قصاص میں یہ ہی عمل محمود ہوجاتا ہے بلکہ فرض ہوجاتا ہے ،یعنی قتل کی دو قسمیں ہوئیں!
    ایک مذموم اور
    دوسرا محمود
    اب یہ منحصر ہوا مقصد پے یعنی اگر کسی مظلوم کو یا کسی بھی انسان کو بلا وجہ قتل کردیا جائے تو یہ یقینا بہت بڑا گناہ ہے جس کی وعید خود قران مجید میں موجود ہے ،
    جب کہ اس کہ برعکس اسلام کہ خلاف کھڑے ہونے والوں کے لئے.اسلام کی سر بلندی کہ لئے الله خود قتال کا حکم صادر فرمارہا ہے ،
    فعل ایک ہی ہے یعنی انسانی جان کا قتل مگر موقع اور مقصد الگ ،بلکل اسی طرح جھوٹ کا بھی مماملہ ہے یعنی کذب محمود و کذب مذموم ،ایسا جھوٹ جو فتنہ فساد خونریزی کا خاتمہ کرے اس سچ سے یقینا بہت بہتر ہے جس کہ نتیجہ میں فتنہ و فساد پھیلے اور ہزاروں انسانوں کی جانیں چلی جائیں ،کیا کوئی فلسفۂ اخلاق اس جھوٹ کو برا کہے گا ،؟نہیں جب حقیقی جھوٹ بعض حالات میں محمود ہوسکتا ہے تو پھر توریہ تو بدرجہ اولی محمود ہوگا اور ایسے محمود فعل پر جو ابطال شرک ،انسداد فساد اور حفاظت نفس کہ لئے کیا جائے اعتراض لا یعنی ہے،
    #قرآن_مجید_اور_ابراہیم_علیہ_السلام_کہ_توریہ :
    ابراہیم علیہ السلام کہ دو توریوں کا ذکر تو خود قرآن مجید میں موجود ہے،
    پہلا توریہ :
    "ابراہیم (علیہ السلام )نے (تمام ) بت توڑ ڈالے سوائے بڑے بت کے"
    (الانبیاء-٥٨ )
    قوم نے پوچھا :اے ابراہیم کیا یہ کام تم نے کیا ہے ؟
    ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا :
    "نہیں بلکہ یہ کام اس بڑے بت نے کیا ہے "
    (الانبیاء – ٦٣ )
    آیات بالا سے جو نتیجہ نکلتا ہے وہ بظاھر یہ ہی ہے کہ حضرت ابراہیم نے جھوٹ بولے لہٰذا جو اعتراض حدیث پر ہوا وہ ہی قرآن مجید کی ان آیت پے لاگو ہوتا ہے ،
    لیکن یہ حدیث ہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حقیقی جھوٹ نہیں تھے ورنہ اس اعترض کی زد سے قرآن مجید بھی نہیں بچتا یعنی یہاں بھی رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی تشریح ہی لازم آتی ہے ،اب جن لوگوں نے احادیث کا ہی رد کردیا انہیں ایسی اور اس قسم کی دیگر آیات کی عجیب و غریب تاویلیں کرنا پڑیں ،اور بہت مشکل میں پھنس گئے ،
    اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حدیث بھی قران مجید کہ موافق ہوئی نہ کہ مخالف بلکہ یہ تو اس اعتراض کو دور کرتی جو خود قرآن مجید پے بھی ہوسکتا ہے ،بتوں کہ توڑنے کہ سلسلہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو توریہ کیا اس میں حضرت ابراہیم کی کیا نیت تھی نہیں معلوم ، قرآن مجید اور حدیث دونوں ہی خاموش ہیں ،لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیان ہے کہ مقصد ابطال شرک تھا ،بتوں کو توڑ کر بتوں کی پوجا روکنا ،
    دوسرا توریہ :
    "ابراہیم علیہ السلام نے کہا "میں بیمار ہوں "
    (الصفت – ٨٩ )
    بیمار ہوتے ہوئے مندر جاکر بتوں کو توڑنا بھی قرین قیاس نہیں ،ہاں یہاں بھی مقصد یہ ہو کہ روحانی بیمار ہوں ،اپنی قوم کہ غم میں گھلے جارہے ہوں اور اسی روحانی غم و رنج کو بیماری قرار دیا ہو اور اسی کو ذہن میں رکھتے ہوئے توریہ کیا ہو ،قران مجید اس سلسلہ میں بھی خاموش ہے کہ توریہ کرتے وقت آپ کی نیت کیا تھی ،بلکہ قران مجید تو یہ تک نہیں بتاتا کہ توریہ تھا یا حقیقی جھوٹ ،بتائیں اب اعتراض کیا رہا ؟کیا درج بالا آیات بظاھر شان نبوت کہ منافی نظر نہیں آتیں ؟؟؟
    الغرض دو توریہ الله کی توحید کہ لئے تھے اور تیسرا شوہر ہونے کہ ناتے رقابت کہ خطرات کہ پیش نظراور یہ تینوں توریہ محمود تھے ،
    احادیث پر اعتراض کرنے والے جن اعتراضات کو وجہ بنا کر احادیث کو کر رد کرتے ہیں تو ایسی وجوہات کی زد میں تو بظاھر خود قرآن مجید بھی آتا ہے تو قرآن مجید پے اعتراضات کیوں نہیں کرتے ؟؟؟
    اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ اگر انہونے ایسا کیا تو ایک عامی کم از کم اتنا ضرور سمجھتا ہے کہ قرآن پے اعتراض کرنے والا اسلام سے خارج ہے اسلئے وہ ایسا نہیں کرتے اگر ایسا کیا تو وہ سادہ عامی کو دھوکہ نہیں دے سکیں گے قرآن مجید کا دعویٰ اور اس کی ستائش صرف اسلئے کہ سادہ عوام انکو اسلام کا خیر خواہ سمجھیں اور دھوکے میں آجائیں ،مگر حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے ترجمہ میں رد و بدل کر کہ اپنے معنیٰ پہنا دیتے ہیں چونکہ ایک عامی عربی سے نابلد ہوتا ہے اسلئے دھوکہ میں آجاتا ہے،....
    اگر ان کی وجہ اعتراض حدیث دیانتداری ہے تو پھر یہ ناانصافی کیوں کہ جب وہ ہی اعتراض قرآن مجید پے آجائے تو اسے چھپا جائیں ؟؟؟؟
    یاد رکھیں ! نہ ہی قرآن مجید پے اعتراض ہوسکتا ہے اور نہ ہی صحیح حدیث پر کوئی اعتراض ہوسکتا ہے بظاھر معنیٰ کتنے ہی قابل اعتراض کیوں نہ ہوں ،اعتراض کی وجہ صرف غلط فہمی .کم علمی اور تحقیق کا فقدان ہوسکتا ہے اس کہ سوا کچھ نہیں ،
    الله ہمیں ایسے فتنوں سے اپنی امان میں رکھے ،
    آمین
    سیف علی
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 01، 2017 #2
    فیاض ثاقب

    فیاض ثاقب مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 30، 2016
    پیغامات:
    80
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    بسم الله الرحمٰن الرحیم
    #سلسلہ_اعتراضات_احادیث
    "کردار حضرت عائشہ رضی الله عنہا"
    #حدیث :
    حضرت ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
    میں اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا بھائی حضرت عائشہ رضی الله عنہا رضی الله عنہ کے پاس گئے ،ان کہ بھائی نے ان سے دریافت کیا کہ رسول الله صلی الہ علیہ وسلم کس طرح غسل فرمایا کرتے تھے ، حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے پانی سے بھرا ایک برتن منگوایا جس سے آپ نے غسل کیا اور سر پر بھی پانی ڈالا درمیان میں ایک پردہ لٹکا ہوا تھا "
    (صحیح بخاری )
    #حدیث_مذکور_پے_اعتراض :
    مذکورہ حدیث پر دو اعترض کئے جاتے ہیں:
    ١)دو غیر مرد حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہ پاس گئے اور
    ٢) حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے ان کہ سامنے غسل فرمایا،
    جب کہ باریک پردہ پڑا ہوا تھا اگر ایسا نہیں تھا تو غسل کا کیسے بتایا ،کیا کوئی مسلم اس حدیث کو تسلیم کرسکتا ہے کہ زوجہ رسول صلی الله علیہ وسلم اس طرح دو غیر مردوں کہ سامنے آجائیں ...لہٰذا یہ حدیث جھوٹی ہے جو شان حضرت عائشہ رضی الله عنہا پرضرب ہے،
    #جواب :
    منکرین حدیث کا اس حدیث کو شان حضرت عائشہ صدیقہ، طاہرہ، مطاہرہ رضی الله عنہا کہ خلاف سمجھنا درحقیقت ان کے اپنے ذہنی فتور کا مظہر ہے ،کس طرح اپنے موقف "رد حدیث" ثابت کرنے کہ لئے اس حد تک چلے گئے کہ مذکورہ حدیث جس کا قطعی مطلب وہ نہیں جو اعتراض کیا گیا شان زوجہ رسول صلی الله علیہ وسلم کو بھی نہیں بخشا اور ایسا غلیظ تاثر پیش کیا کہ از خود نہ صرف گستاخی کہ مرتکب ہوئے بلکہ اپنی گندی سوچ کو بھی عیاں کر ڈالا یہ ہی وجہ ہے کہ اس کم علمی، عدم تحقیق ،غلط تراجم و معنیٰ کی وجہ سے الله نے ہمیشہ ہر مقام پے منکرین حدیث کہ ہر اعتراض کا علماء اسلام سے دندان شکن جواب دلواکر رسواء کرایا اور اب منکرین حدیث کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ "بندہ کو بےغیرت ہونا چاہیےعزت تو آنی جانی چیز ہے" کہ مصداق ہیں،
    علمائے اسلام نے منکرین حدیث کو روز اول سے ہی ان کہ ہر اعتراض پر ایسے مفصل جوابات سے نوازا ہے کہ میری یہ تحریر ان جوابات و دلائل کہ آگے سورج کو چراغ دکھانے کہ مانند ہے لیکن مقصود صرف اتنا ہے کہ جب مجھ جیسا ایک عامی ایک ناقص العلم بندہ ان کہ اس مکر و فریب کو بآسانی سمجھ کر ان کہ خلاف لکھ کر منہ توڑدلائل دے سکتا ہے تو مجھ جسے دیگر عامی کیوں نہیں ؟؟؟بس ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قرآن مجید کا مطالعہ حضور قلب سے کیا جائے اور پھر دیکھیں کہ ان منکرین حدیث کہ اس باطل دعویٰ"اہل قران " جس کی ضرب احادیث پر پڑتی ہے کو اسی قرآن مجید سے کتنی آسانی سے از خود رد کیا جاسکتا ہے اور ہر اعتراض کا مفصل و علمی جواب خود قرآن مجید سے بآسانی دیا جاسکتا ہے ،
    مذکورہ حدیث پر اعتراض کی بنیاد لفظ "غسل "ہے یعنی یہ بھی منکرین حدیث کی علمیت کا ایک مظہر ہے کہ دیگر احادیث کہ کو رد کرتے ہوئے منکرین حدیث "غسل" کا ترجمہ "نہانا" ہی کرتے ہیں ،جب کہ مذکورہ حدیث میں "غسل" کا ترجمہ "نہانا" نہیں ہے ،
    ملاحظہ ہو :
    لفظ "غسل" کہ معنیٰ :
    لغوی معنیٰ :
    لغت میں غ:سل "کہ معنیٰ صرف "نہانا" ہی نہیں بلکہ "آب غسل "یعنی "غسل کا پانی "کہ بھی ہیں ملاحظہ ہو منتھی الا رب فی مجموعہ لغات العرب یہ تو ہے لغوی ترجمہ،لیکن کیا اس لفظ کو ان معنوں میں شرعی اصطلاح میں بھی استعمال کیا گیا ہے؟ کیوں کہ صرف لغوی اصطلاح ہی کافی نہیں ،
    ملاحظہ ہو :
    شرعی اصطلاح:
    کتب احادیث میں "غسل" کہ معنیٰ "اب غسل" یعنی "نہانے کا پانی" کئی جگہ استعمال ہوا ہے صحیح بخاری میں ہی کئی جگہ موجود ہے ملاحظہ ہو :
    حضرت میمونہ رض فرماتی ہیں :
    "وضعت لرسول صلی الله علیہ وسلم غسلا "
    میں نے رسول الله کہ لئے "غسل" رکھا یعنی نہانے کا پانی "
    (صحیح بخاری )
    امام بخاری نے اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے:
    "باب الغسل بلصاع و نحوہ"
    "ایک صاع یا اس کہ مثل (پانی ) سے غسل کا باب'
    اسی طرح امام مسلم نے بھی باب باندھا ہے :
    "قدر المستحب،من الماءفی غسل الجنآبہ"
    غسل میں کتنا پانی لینا مستحب ہے "
    امام بخاری و امام مسلم اس کو لیکر پورا باب باندھ رہے ہیں مگر منکرین حدیث جو ان ہی محدثین کی کتب پے اعتراض کرتے ہیں ان کو نشانہ بناتے ہیں مگر اتنی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ان ہی کتب کو مفصل دیکھ لیا جائے تو ایسے اعتراض جنم ہی نہ لیں ،ان کو یہ باب نظر نہیں آئے ،یعنی صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ان احادیث کی جو سرخی(باب ) ہیں وہ ہی ان اعتراض کہ رد کہ لئے کافی ہیں،الحمدللہ
    خلاصہ :
    الغرض امام بخاری و امام مسلم رحم الله کا اس پے باب باندھنا ، پھر کتب احادیث میں پانی کہ معنوں میں اس کا استعمال اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ مذکورہ حدیث میں غسل کہ معنیٰ "نہانا نہیں بلکہ "آب غسل" کہ ہیں،
    حدیث کا صحیح ترجمہ
    ابو سلمہ کہتے ہیں :
    "میں اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا کا بھائی حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہ پاس گئے ، حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہ بھائی نے حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے دریافت کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کتنے پانی سے نہاتے تھے (اس سوال پر )انہوں نے تقریبا ایک صاع کہ برابر پانی منگوایا (اور بتایا کہ اتنے پانی سے نہایا کرتے تھے )پھر (ہمارے تعجب کو دور کرنے کہ لئے )وہ نہائیں حتیٰ کہ سر بھی دھویا ،ہمارے اور ان کہ درمیان پردہ پڑا ہوا تھا"
    (صحیح بخاری )
    لہٰذا اس پناہ پر" فسا لھا عن غسل النبی صلی الله علیہ وسلم" کا مطلب یہ ہوا کہ انہونے نہانے کہ پانی کہ متعلق سوال کیا تھا نہ کہ نہانے کہ طریقے کہ متعلق، جس کا ثبوت خود آپ کہ الفاظ "فدعت بانا " انہونے برتن منگوایااور اس برتن کہ ذریعہ یہ بتا دیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم اتنے پانی سے نہایا کرتے تھے" لہٰذا حدیث مذکور میں غسل کی کیفیت کا بیان نہیں بلکہ غسل کہ پانی کا بیان ہے ،کیفیت غسل تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا رض نے زبانی بتائی تھی:
    حضرت ابو سلمہ کہتے ہیں :
    " حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب غسل کرتے تو سیدھے ہاتھ سے شروع کرتے وغیرہ وغیرہ ..
    ( صحیح مسلم )
    نسائی میں بھی ہے :
    حضرت ابو سلمہ کہتے ہیں :
    "حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کہ غسل کی کیفیت بتائی تو کہا کہ آپ پہلے دونوں ہاتھ دھوتے تھے وغیرہ.. .
    (نسائی )
    الغرض حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے غسل کی کیفیت بتانے کہ لئے غسل نہیں کیا تھا، بلکہ جب انہوں نے تعجب کا اظہار کیا کہ اتنے کم پانی سے کیسے نہایا جسکتا ہے تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا نے فرمایا بلکل نہایا جسکتا ہے ،اور فرمایا میں اتنے ہی پانی سے نہا کر دکھاؤں گی ،پس انہونے پردہ ڈالا اور غسل فرمایا اور ثابت کردیا کہ اتنے پانی سے نہانا نا ممکن نہیں، یعنی نہانے کا مقصد درحقیقت مقدار کو ثابت کرنا تھا نہ کہ جو منکرین حدیث اپنی گندی سوچ سے لیتے ہیں وہ.اسی لئے باریک پردہ ،اوراس طرح غیر محرم کہ سامنے نہانا وغیرہ باتیں صرف منکرین حدیث کی ذہنی اختراع کہ سوا کچھ نہیں،
    رہا اعتراض نا محرم کا تو حدیث میں مذکور ہے کہ ایک تو حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہ بھائی ہی تھےاور دوسرے خود ابو سلمہ رحم الله حضرت عائشہ رضی الله عنہا کہ رضائی بھانجے تھے((فتح الباری) اس لئے نا محرم والا اعتراض بھی کلعدم ہے اور صرف رنگ آمیزی اور مبالغہ آرائی کہ سوا کچھ نہیں ،
    منکرین حدیث اگر تمام احادیث کے دقیق مطالعہ کی زحمت گوارا کرلیں تو آدھے اعتراضات خود احادیث سے ہی دور ہوجائیں،..
    لیکن!
    "شرم تم کو مگر آتی نہیں"
    سیف علی..
     

اس صفحے کو مشتہر کریں