1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلف امت ... نہ کہ اکابرین جماعت ۔ اہلسنت کا منہج تعامل

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد آصف مغل, ‏جون 05، 2013۔

  1. ‏جون 05، 2013 #1
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    ایک طرف وہ لوگ ہیں جو سلف کے فہم سے آزاد ہو کر قرآن و سنت کو اپنی ، اپنی جماعتوں اورگروہوں کی تحقیق سے دیکھتے ہیں تو دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو سلف کی اتباع کے نام سے اُن متاخرین سے جڑے ہیں کہ جن میں بدعات بلکہ بسا اوقات شرک تک پایا جاتا ہے ۔وہ انہیں سلف کے اُس مقدس مقام پر فائز کیے ہوئے ہیں کہ جو مقام صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین کا ہے ۔یہ بھی سیدھی راہ سے ہٹی ہوئی سوچ اور فکر ہے ۔

    ہمارے معاشرے میں 'اکابرین 'اور 'بزرگوں ' کی اصطلاح بکثرت استعمال ہوتی ہے ۔اپنے بڑوں کا احترام کرنا اور ان کے علمی ورثہ کو قیمتی جاننا بے حد مستحسن امر ہے مگر انہیں قرآن وسنت کے فہم کا معیار سمجھنا اور جو کچھ انہوں نے کہہ دیا اسے ناقابل تنقید جاننا نہایت غلط روش ہے ۔یہ حیثیت تو صرف پہلے تین زمانوں کے سلف صالحین کو حاصل ہے کہ کتاب سنت کی تشریح میں جس بات پر وہ متفق رہے اُسے ناقابل تنقید جانا جائے ۔باقی جو کچھ ان کے بعد وجود میں آیا ہے بہرحال اس کی تحقیق کرنا اور اسے کتاب و سنت کے سلفی مفہوم پر پرکھنا بے حد ضروری ہے ۔

    آج سے سو دوسو سال پہلے آنے والے 'بزرگوں ' اور 'بڑوں ' کوسلف کا مقام دینا نہایت غلط ہے ۔صفات باری تعالیٰ میںاشعریت و ماتریدیت کی تاویلات ،صو فیاء کے چشتی،نقشبندی ،سہروردی اور دیگر سلسلے ،علم کلام اور علم تصوف کیا ابو بکر و عمر اور ابن مسعود؇ ایسی اسلام کی نسل اول کے ہاں پائے گئے ہیں ؟یا عمر بن عبدالعزیز ،مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ ایسی اسلام کی نسل دوئم سے منقول ہیں؟ یا یہ سب کچھ امام ابو حنیفہ ، مالک ،ثوری ،شافعی ، ابن حنبل رحمہم اللہ ایسی نسل سوئم کے علمی ذخیروں میں پایا جاتا ہے ؟... یا پھر یہ پہلے تین زمانے گزر جانے کے بعد امت میں دیکھی جانے لگیں ؟

    کسی چیز کی تعظیم میں خاموش ہوا جا سکتاہے تو وہ کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ اور خیر القرون کا فہم اسلام ہے ۔اس کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں جس پر بات نہ ہو سکے ۔ یہ سوچ کہ بزرگوں نے کتاب و سنت سے جو نچوڑ نکالنا تھا وہ نکال لیا ہے اور ہمیں بس بزرگوں پر ہی انحصار کرنا ہے ،نسل در نسل اب قیامت تک انہی کی دہرائی ہوئی عبارتوں کودہرانا ہے ...ہلاکت خیز سوچ ہے ۔کتاب و سنت کا نچوڑ نکالنے کا کیا مطلب ؟ یہ تو وہ چشمہ ہے کہ اس سے جتنا بھی نکالا جائے اس کی سطح ذرہ بھربھی نیچی نہ ہو ۔زمانے اس سے سیراب ہو لیں اس میں کچھ کمی نہ آئے ۔پھر اس نچوڑ کے حق ہونے کے لیے بھی لازم ہے کہ یہ ' سلف صالحین' سے سند یافتہ ہو ۔

    ''فہم سلف'' کتاب و سنت کا متبادل نہیں بلکہ وہ وحی کے چشمہ سے سیراب ہونے کا ہی وہ ادب اور طریقہ ہے جس کے بغیر انسان کو شفا اور سیریابی ہونے کی بجائے کوئی روگ لگ سکتا ہے ۔ارشاد ربانی ہے :

    ﴿ۘ يُضِلُّ بِہٖ كَثِيْرًا۝۰ۙ وَّيَہْدِىْ بِہٖ كَثِيْرًا۝۰ۭ ﴾(البقرۃ:۲۶)
    ''بہتوں کو وہ اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے اور بہتوں کو گمراہی ۔''
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں