1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سلف صالحین سے کیا مراد ہے؟

'سلفیت' میں موضوعات آغاز کردہ از عکرمہ, ‏مئی 04، 2013۔

  1. ‏مئی 02، 2017 #21
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    nasim نے کہا ہے:
    یعنی اگر میرے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کے مساوی رقم ہے تو میرا اختیار ہے کہ میں زکوۃ نہ دوں ۔ کیونکہ وہ تو ایک تولہ سونے کے برابر ہے اور ایک تولہ سونے پر زکوۃ نہیں ہے ۔(فہم سلف کے مطابق)​
    درست ۔

    محترم خضرحیات صاحب
    السلام علیکم

    فقہ حنفی کے علماء کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس سونا ساڑھے سات تولہ نہیں ہے کچھ سونا ہے اور کچھ نقد رقم ہے جن پر سال گذرگیا ۔لیکن اس کی مالیت ساڑھے سات تولہ سونے سے کم ہے تو چاندی کی مالیت کے نصاب سے زکوۃ نکالنا ہوگی ۔اگر صرف سونے کو زکوۃ کا نصاب بنادیا جائے تو زکوۃ ادا کرے والے بہت کم ہوجائیں گے لہذا احسن یہ ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے ، اس کی تصدیق اشماریہ بھائی کر سکتے ہیں۔ @اشماریہ
    میں اسی فہم کی بات کر رہا ہوں کہ یہاں پر صرف وہ الفاظوں کے فہم پر مقید ہوگئے ہیں ۔

    محترم میں منکرین حدیث میں شامل نہیں ہوں ۔ اس لئے میرا ایسا فہم نہیں ہے۔ واضح فرمان موجود ہے قران اور سنت ۔

    ایک حدیث جس میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنے جوتے نشانی میں دیکر بھیجا تھا یہ بات پہنچانے جس نے کلمہ پڑھا وہ جنتی ہے لیکن بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات پر آپ نے اس بات کی تشہیر سے روک دیا ۔
    یہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کا فہم ہی تھا جسے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا۔

    عین ممکن ہے کہ کسی تابعی کے ذہن میں شریعت کا کوئی نکتہ نہ آیا ہو اور بعد میں آنے والے نے وہ بیان کیا ہو۔ یا اس کی تشریح مختلف کی ہو۔ آپ کی یہ بات صحیح ہے کہ 14ویں صدی میں ہی زیادہ تر لوگوں کے اعتراض آرہے ہیں ۔ لیکن یہ صدی ہی انقلابی صدی ہے جتنی ایجادات اور مادے نے جتنی ترقی اس دور میں کی ہے وہ انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔

    احادیث کے تراجم بھی اسی صدی میں ہوئے ہیں ۔ اب یا تو علماء کی ذمہ داری تھی کہ ایک عام آدمی کی دسترس تو ذخیرہ احادیث پہنچنے ہی نہیں دیتے ۔ اب عامی احادیث براہ راست پڑھ رہا ہے تو اس کے ذہن میں مختلف سوالات جنم لیتے ہیں ۔

    کیا شریعت اسلامی میں آج تک کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس میں آپ نے جن تین ادوار کا ذکر کیا ہے اس سے ہٹ کر کسی نے اپنے فہم سے کچھ اور بیان کیا ہو۔ اسلام دین فطرت ہے ۔ اور انسان کی فطرت اسے جستجو اور کھوج میں مصروف رکھتی ہے ۔

    یہاں فضیلت کی بات ہی نہیں ہے ۔ میرا اس پر کامل یقین ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مقدس ہستیاں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی ہیں ۔بات تو فہم کی ہورہی ہے۔ افضیلت اور فہم بالکل دو مختلف چیزیں ہیں ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسٰی علیہ السلام سے افضل ہیں لیکن ان کے فہم کے مطابق نمازوں میں تخفیف کر واتے رہے ۔

    اس بات کی معذرت کہ میری پوسٹ اکثر بے ربط ہوجاتی ہے ۔ عامی کیلئے بات میں ربط رکھنا مشکل ہے۔
     
  2. ‏مئی 03، 2017 #22
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,661
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اس موضوع سے متعلق میں جو کہنا چاہتا تھا ، عرض کردیا ، مزید کچھ کہنا میرے لیےمشکل ہے ، اگر کوئی اور ساتھی اس حوالے سے نسیم بھائی کے اشکالات سمجھ سکیں اور ان کا جواب دے سکتے ہوں ، تو ضرور شرکت کریں ، بالخصوص @اسحاق سلفی صاحب ، محترم @عبدہ صاحب اور عزیز بھائی @اشماریہ صاحب ۔
    البتہ اگر مجھے محسوس ہوا کہ میں اس موضوع کے حوالے سے کچھ عرض کرسکتا ہوں ، تو ضرور شرکت کی کوشش کروں گا ۔
     
    Last edited: ‏مئی 03، 2017
  3. ‏مئی 03، 2017 #23
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترمی نسیم بھائی! میرا خیال ہے کہ میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں.
    آپ غالبا یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ جب اصول اور مسائل دونوں کا استنباط اس دور میں ہو گیا جب انسان کم ترقی یافتہ اور کم متمدن تھا تو آج کے دور کا ذہین و فطین انسان جس کے پاس جدید اور تیز رفتار ذرائع بھی ہیں ماضی کے انسان سے زیادہ قرآن و سنت کو سمجھ کر استنباط اور استخراج کر سکتا ہے. پھر بھلا کیا وجہ ہے کہ ہم اسلاف کے فہم سے ہی چمٹے رہیں اور اپنے فہم کو نہ دیکھیں؟
    میں اس بات کو تفصیلا عرض کرتا ہوں لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے کچھ ٹکڑوں میں عرض کروں گا.
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 03، 2017 #24
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم خضرحیات صاحب
    آپ کا بہت شکریہ۔
    محدث فورم کی اس بات کا میں دل سے قائل ہوں کہ یہاں علماء کرام اپنا قیمتی وقت دیتے ہیں ۔ اور سوالات کے جوابات دینے کی ہر ممکن کو شش کرتے ہیں۔ اور کسی جگہ اگر عالم سے سے ایک سے زیادہ سوال کر دیا جائے تو فوراً وہ آپ کو یہ کہیں گے کہ جتنا بتادیا بس اسی پر عمل کرو۔
     
  5. ‏مئی 03، 2017 #25
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم اشماریہ بھائی
    میرا مؤقف یہی ہے کیونکہ جس رفتار سے ترقی ہورہی ہے اور جیسے مسائل پیش آرہے ہیں آج سے بیس سال پہلے بھی کسی کی سوچ میں نہیں تھے۔انسانی سوچ یکسر تبدیل ہوچکی ہے ۔ جو چیز کسی زمانے میں باعث فخر تھی وہ اب قابل فخر نہیں رہی۔
    اسلام کو تو رہتی دینا تک رہنا ہے ۔ تو ہر دور میں اس کے حساب سے مسائل کا استنباط کیوں نہ ہو۔ واضح رہے کہ فرض عبادات اس بحث میں شامل نہیں ہیں بلکہ معاملات کے بارے میں ہے ۔
     
  6. ‏مئی 03، 2017 #26
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترم نسیم بھائی! سب سے پہلا سوال ہمارے سامنے اس حوالے سے یہ ہے کہ کیا انسانی ذہن واقعی ارتقاء کی جانب بڑھ رہا ہے؟ کیا انسان روز بروز پہلے سے زیادہ ذہین اور پہلے سے زیادہ سمجھدار ہو رہا ہے؟ کیا انسان کی علمی وسعت ماضی سے زیادہ ہو رہی ہے؟
    حقیقت یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں۔ انسان پہلے سے زیادہ ذہین نہیں ہو رہا اور نہ ہی ارتقاء کر رہا ہے۔ صرف اس کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔ ہر نئی سوچ اور نئی چیز ترقی نہیں ہوتی بلکہ وہ تبدیلی ہوتی ہے۔
    انسان اولاً اناج اور سبزیاں خالص حالت میں کھاتا تھا۔ آج وہ ان میں بیسیوں چیزیں ملا کر طرح طرح کے ذائقے بنا کر کھاتا ہے۔ یہ آج کے دور کے انسان کی پسند ہے ترقی نہیں۔ اس دور کے انسان کو آج کی سوں سوں کرتی بریانی کھلا دیں تو وہ اسے کبھی پسند نہیں کرے گا۔
    انسان نے ابتداءً فطری ضرورت کے پورا کرنے کا طریقہ جنس مخالف میں ڈھونڈا تھا۔ لیکن قوم لوط نے اپنی جنس میں ڈھونڈا اور اس وقت سے یہ طریقہ آج تک رائج ہے۔ آج اس میں بہت جدت آ گئی ہے اور قانون بن گئے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ترقی ہے؟ یہ فقط آج کے دور کے انسان کی مکروہ پسند ہے۔
    انسان حضرت نبی کریم ﷺ کے دور میں کروڑوں کا کاروبار اکیلا کرتا تھا (بخاری میں حضرت عبد الرحمان بن عوف رض کے ترکے کی روایت دیکھیے) اور آج کے دور میں پچاس افراد کو ملا کر کمپنی قائم کر کے کرتا ہے۔ یہ فقط اس کی پسند اور اپنی کم مائیگی کے باوجود ضرورت پوری کرنے کی خواہش ہے۔
    یہود نبی کریم ﷺ کے دور میں بھی سود کے ساہوکار تھے اور مدینے کا واحد بازار ان کا تھا (وفاء الوفاء دیکھیے) اور آج بھی وہ سود کے ساہوکار ہیں اور دنیا کے بڑے بڑے بینک ان کے ہیں۔ کوئی ترقی نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ اس وقت ریکارڈ کم تھا اور کاغذوں میں ہوتا تھا اور آج زیادہ ہے اور کمپیوٹر پر رکھا جاتا ہے۔
    قارون تن تنہا ایسے خزانے کا مالک تھا جس کی فقط چابیاں چالیس اونٹ اٹھاتے تھے اور آج بڑی بڑی کمپنیاں اس خزانے کا تصور نہیں رکھ سکتیں۔ آج کی کمپنیوں کی کمائی کمپیوٹروں میں بٹ کوئین جیسی کرنسیاں، بینکوں میں موجود کھوکھلے حساب کتاب اور کچھ کاغذ کے ٹکڑے ہیں جبکہ قارون کے زمانے میں خزانہ سونا اور چاندی تھا۔
    (جب یہ بات چلی ہی ہے تو بہت سے قارئین کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ ہم جب بینکوں میں رقم رکھواتے ہیں تو وہ اس رقم کو گھماتے ہیں۔ یعنی اگر نسیم بھائی نے لاکھ روپے رکھوائے تو وہ اس کا ایک حصہ مرکزی بینک میں رکھوا کر باقی مجھے قرض دے دیں گے۔ میں نے وہ قرض لے کر واپس بینک میں رکھوایا تو وہ آگے خضر بھائی کو قرض دے دیں گے۔ انہوں نے بینک میں رکھوایا تو وہ کسی اور کو قرض دے دیں گے۔ اس طرح روپے تو ایک لاکھ ہیں لیکن بینک نے وہ تین بندوں کو قرض دیے ہوئے ہیں۔ اب اگر نسیم بھائی، میں اور خضر بھائی ایک ساتھ اپنا اپنا رکھا ہوا ایک لاکھ روپیہ مانگ لیں تو بینک کو تین لاکھ دینے ہوں گے جبکہ اس کے پاس ہوں گے صرف ایک لاکھ۔ نتیجتاً وہ دیوالیہ ہوجائے گا۔ اس کے اثاثوں سے جو کچھ ہمیں مل سکا وہ مل جائے گا اور بینک کے مالکان مزے سے اپنے گھر چلے جائیں گے کیوں کہ وہ بینک کے چلنے کے عرصے کے دوران اپنے پیسے ڈیوڈنڈ اور تنخواہوں وغیرہ کی شکل میں وصول کر چکے ہوں گے اور ان پر کوئی ذمے داری نہیں ہوگی کہ وہ وہ پیسے واپس کریں۔
    ذرا سوچیں کہ یہ ارتقاء ہے انسانی ذہن کا یا تنزلی؟ بعض لوگ ساری انسانیت کو اعداد و شمار کے کاغذ پکڑا کر بے وقوف بنا رہے ہیں اور سب ترقی یافتہ خوشی خوشی بے وقوف بن رہے ہیں)

    صرف انسانی ذہن کو دیکھا جائے تو اس نے بھی ترقی نہیں کی بلکہ تنزلی کی ہے۔
    ائمہ کرام کو اپنے زمانے میں لاکھوں حدیثیں یاد تھیں۔ آج کون ہے جو دس بارہ ہزار حدیثیں بمع سند کے یاد کر سکے الا ما شاء اللہ۔ اگر یہ کہا جائے کہ آج یاد نہیں کی جا سکتیں تو محفوظ تو ہیں اور محفوظ بھی ایسی جو چند کلکوں پر مل جائیں اور کئی ائمہ کا علم ایک ساتھ مل جائے، تو بھی یہ بات صرف جزوی طور پر صحیح ہے۔ جتنی کتابیں حافظ ابن حجرؒ کے زمانے میں موجود تھیں اور ان کی دسترس میں تھیں کیا آج ہمارے پاس وہ سب موجود ہیں؟ جب ابن حجرؒ کے زمانے میں یہ حال ہے تو اس سے پہلے کیا ہوگا؟ امام طحاویؒ کی ایک ایک حدیث کی کئی کئی اسانید دیکھیے۔ ہر کسی نے اس طرح کئی سندیں جمع نہیں کیں۔ انہوں نے اپنے لحاظ سے جمع کیں کیوں کہ ان کے پاس جمع کرنے کی سہولت کم تھی۔ جو کچھ وہ جانتے تھے کیا وہ آج ہمارے پاس موجود ہے؟ امام بخاریؒ لاکھوں احادیث کے حافظ تھے یعنی لاکھوں اسانید۔ وہ اسانید کیا ہمارے پاس ہیں؟ الفاظ کا ہر سند کے ساتھ معمولی سا فرق بھی مسئلہ کے استنباط پر اثر ڈالتا ہے۔ اور وہ سب الفاظ اسلاف کے پاس موجود تھے اور ہمارے پاس نہیں۔
    پھر اگر وہ سب کتابیں مل جائیں، سب روایات مل جائیں، سب اسانید مل جائیں اور سب الفاظ مل جائیں تب بھی اسلاف کے سامنے عمل تھا۔ صحابہ کرام رض نے نبی کریم ﷺ کو عمل کرتے دیکھا، تابعین نے صحابہ کو، تبع تابعین نے تابعین کو، ان کے بعد والوں نے تبع تابعین کو۔ یہ تو سب ہی مانتے ہیں کہ حافظہ اور دیانت دونوں وقت کے ساتھ کم ہوتے گئے ہیں۔ آج ہم کسے دیکھ کر یقینی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا عمل بھی یہی تھا جو یہ کر رہے ہیں؟ لیکن اسلاف کے زمانے میں یہ کہا جا سکتا تھا۔ اسی لیے امام مالکؒ اہل مدینہ اور فقہاء سبعہ کے عمل کو دیکھتے تھے اور امام ابو حنیفہؒ اہل کوفہ اور ابراہمی نخعیؒ اور ان کے ہم عصر تابعین کے عمل اور فتوی کو دیکھتے تھے۔
    تو آج کے دور میں نہ تو عملی لحاظ سے ہم اصل الاصول نبی کریم ﷺ کے اس قدر قریب ہیں اور نہ ہی حافظے کی قوت اتنی رکھتے ہیں۔
    پھر مزید آگے جائیں تو آج ہماری سمجھ بھی ان سے کم ہے۔ امام اصمعیؒ کا قصہ ہے جو غالبا التفسیر الوسیط میں مذکور ہے۔ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا تلاوت کر رہا تھا "السارق و السارقۃ فاقطعوا ایدیہما جزاءً بما کسبا نکالا من اللہ۔ واللہ غفور رحیم"۔ برابر میں ایک بدو بیٹھا تھا۔ اس نے تصحیح کی " واللہ عزیز حکیم"۔ میں نے پوچھا تم عالم ہو؟ اس نے کہا نہیں لیکن جب اللہ نے پیچھے سزا ذکر کی ہے تو آگے خود کو غفور رحیم کیسے کہہ سکتا ہے؟ (الفاظ میرے ہیں۔)
    میں یہ نہیں کہہ رہا کہ قرآن میں قیاس جائز ہے بلکہ یہ بتا رہا ہوں کہ یہ اس زمانے کے بدؤوں کی لغت دانی کا علم تھا اور یہ ان کی فہم تھی۔ تو پھر علماء کی فہم کیا ہوگی؟ اور آج ہم میں سے عرب بھی لغت کے محتاج ہیں جبکہ لغت ان معانی کی وضاحت کر ہی نہیں سکتی جو اہل لسان سمجھتے ہیں۔ اردو میں کراچی والے ایک لفظ استعمال کرتے ہیں "ابے"۔ لغت صرف یہ بتا سکتی ہے کہ مخاطب کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہ لفظ کس ماحول میں کس انداز میں کس طرح کے معانی دیتا ہے یہ صرف کراچی کے وہ لوگ جان سکتے ہیں جو اس ماحول میں رہے ہوں۔ کئی برگر لوگوں کے لیے تو یہ لفظ ہی نا آشنا ہوگا۔

    اس پر اور بھی بے شمار مثالیں ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ آج کے انسان کے ذہن نے ترقی نہیں کی بلکہ صرف اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اور صرف ترجیحات بدل جانے سے وہ اسلاف کے ذہن کا مقابلہ نہیں کر سکتا جبکہ اسلاف کے سامنے مسائل کے استنباط میں مدد دینے والی بے شمار چیزیں اور بھی تھیں جیسے عمل اور راویوں کی قلت وغیرہ۔
    اب موجودہ دور میں پیدا ہونے والے مسائل کا کیا حل ہوگا؟ جبکہ اسلاف ان کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے؟ تو یہ میں ان شاء اللہ آگے جا کر بتاتا ہوں۔
    پہلے یہ بتائیے کہ اس حد تک بات واضح ہے؟ اگر کوئی اشکال ہے تو ہم اسے پہلے حل کر لیتے ہیں۔
     
    • علمی علمی x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 05، 2017 #27
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم اشماریہ بھائی
    السلام علیکم

    پہلے تو انتہائی معذرت کے آپ کی گذارشات کا بروقت جواب نہیں دے سکا۔
    اس کو کس نے یہ چیز سکھائی کہ چیزوں کا تناسب ایک خاص طریقے سے دینے سے ایک نئی شکل وجود میں آسکتی ہے ۔ذہنی ارتقاء نے۔جہاں تہذیب نہیں پہنچی اور وہاں ترقی نہیں ہوئی (افریقہ کے دوردراز قبائل) وہاں آپ کو دور قدیم کے انسان مل سکتے ہیں ۔پھر آپ کیا یہ کہیں گے کہ یہ ہماری ذہنی سطح سے اوپر کے لوگ ہیں۔؟

    محترم 6ارب سے اوپر کی آبادی میں ان کا تناسب لاکھوں میں بھی نہیں ہوگا۔ مثال ہمیشہ اکثریت کی ہوتی ہے۔

    51 سالہ ٹی وی میزبان " اوپراہ ونفرے " ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی مالک ہے۔ اٹلی کے سابق وزیراعظم "سلویابرلسکونی" اپنے ملک کے سب سے امیر اور دنیا کے دس امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ مشہور زمانہ فٹبال کلب " اے سی میلان" انہی کی ملکیت ہے۔ وہ دس ارب ڈالر کے مالک ہیں بل گیٹس دس سال تک دنیا بھر کا امیر ترین شخص رہا، اس کی دولت کا اندازہ 96 ارب ڈالر لگایا گیا ہے مشہورومعروف یہودی " جارج ساروز" دس ارب ڈالر سے زائد کے مالک ہیں۔
    یہ چند مثالیں ہیں ۔چاندی جس اس دور کی مہنگی ترین چیز تھی اب انتہائی ارزاں ہے۔ آج قیمتی دھات یورنیم ، ریڈیم ہیں۔ دولت کی قوت اس کی قوت خرید ہوتی ہے ۔ اب چاہے کاغذ کے ٹکڑے ہوں یا کوئی اور اس سے سرو کار نہیں ۔

    اب رہی حافظے کی بات تو آج بھی آپ کو ایسے ہزاروں لوگ مل جائیں گے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ قرانی کمپیوٹر بچے بڑی تعداد میں موجو ہیں ۔ آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ انسان آرام پسند ہوگیا اس کی جسمانی طاقت پہلے کے مقابلے میں کم ہوگئی لیکن یہ کہنا کہ ذہنی صلاحیت بھی تنزلی کا شکار ہے صحیح نہیں ہے ۔ آپ کا یہ کہنا ہر نئی سوچ ترقی نہیں ہوتی تبدیلی ہوتی ہے سمجھ میں نہیں آیا۔
    ارتقاء تو کہتے ہی تبدیلی کو ہیں اور تبدیلی نئی سوچ نئے وژن سے ہی ہوتی ہے۔ آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ انسان تو کند ذہنی کی طرف جارہا ہے لیکن تبدیلیاں خود بخود واقع ہورہی ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو آپ ڈارن یا بگ بین کی تھیوری کو فالو کر رہے ہیں۔
    میری ساری بحث کا مرکز یہی ہے کہ ہمارے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تعلیمات صحیح حالت میں موجود ہیں اور ہمارے ذہن ارتقاء کی منزل طے کررہے ہیں۔اگر آپ کا یہ کہنا ہے کہ ان کے پاس ہم سے زیادہ معلومات تھیں جو ہم تک نہیں پہنچیں تو پھر تو ساری بحث خود بخود ختم ہوجاتی ہے ۔

    سلف اپنے طور پر بالکل مخلص تھے انہوں نے انتہائی درجے کی کوشش کی جب ہی ہم تک یہ سب کچھ پہنچا۔ ہم نے اس کو ایسا محفوظ کر دیا ہے کہ جب تک اللہ کا حکم نہ ہوگا موجود رہے گا۔ عین ممکن ہے ہمارے بعد آنے والی نسلیں ہم سے بھی آگے ہوں اور وہ کچھ ایساسوچ سکیں جہاں تک ہمارے ذہن کی رسائی نہیں ہے۔

    یہ جملہ میں نہیں سمجھ سکا۔
     
  8. ‏مئی 06، 2017 #28
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    کیا واقعی ذہنی ارتقاء نے اسے یہ چیز سکھائی؟ ایسا نہیں ہے۔ ذہنی ارتقاء ہم اسے اس وقت کہتے جب بیٹھے بیٹھے یا کسی ورزش یا کسی طریقے سے اس کا ذہن ترقی کرتا اور اسے یہ چیز خود بخود آ جاتی۔ اس نے تجربہ کیا مختلف چیزوں کو ملانے کا۔ اس سے ایک چیز بنی جو اسے پسند آئی اور وہ اس کی ترجیح بن گئی۔ ظاہر ہے درمیان میں کئی ایسی چیزیں بھی بنی ہوں گی جو اسے پسند نہیں آئی ہوں گی۔ کیا وہ بھی ذہنی ارتقاء تھا؟
    ہم لوگ اپنے کھانوں میں مرچیں ڈالتے ہیں۔ ترک نہیں ڈالتے۔ وہ ڈالیں تو کھا نہیں سکتے اور ہم نہ ڈالیں تو کھا نہیں سکتے۔ ذرا سوچئے کہ کس کا ذہن زیادہ "ترقی یافتہ" ہے؟ کسی کا بھی نہیں۔ بس ترجیحات الگ الگ ہیں۔

    لیکن کیا کیجیے کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ "روشن خیال" کہتے ہیں جس کا لازمی مطلب ہے زیادہ ذہنی ارتقاء۔ باقی دنیا تنگ نظر ہے اور تنگ نظری انسان میں تب ہوتی تھی جب اس کے ذہن نے ترقی نہیں کی تھی۔ تو جس کی تنگ نظری کم ہے اس کا ارتقاء زیادہ ہے۔
    کیا ہم یہ بات مان سکتے ہیں کہ ان کا ارتقاء زیادہ ہے؟؟؟ یا یہ بھی ان کی ترجیح ہے فقط؟؟

    نبی کریم ﷺ کے دور کی بات ہے۔ آپ نے ایک صحابی رض کو ایک دینار دیا اور ایک بکری لانے کو کہا۔ وہ گئے اور واپس آئے تو ان کے پاس ایک بکری تھی اور ساتھ میں ایک دینار بھی واپس کیا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے دریافت فرمایا کہ یہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے بکری خریدی اور ایک شخص کو دو دینار میں بیچ دی۔ پھر ایک دینار میں ایک اور بکری لے کر آگیا۔ آپ ﷺ نے انہیں برکت کی دعا دی۔ (صحيح بخاری)
    وکی پیڈیا کے مطابق خلیفہ عبد الملک بن مروان کے دور کا ایک دینار آج کے سوا 4 گرام سونے کا بنتا تھا جو کہ ایک مثقال کے برابر تھا۔ آج کے دن اس کا ریٹ ہے اٹھارہ ہزار تین سو ساٹھ روپے۔ اور اس رقم میں آپ آج بھی (عید الاضحی سے ہٹ کر) ایک بکری اسی طرح خرید سکتے ہیں جس طرح ان صحابی نے خریدی تھی۔ اسے کہتے ہیں حقیقی قوت خرید! حقیقی قوت خرید پر ڈیمانڈ اور سپلائی مستقل اثر انداز نہیں ہو سکتیں۔ عارضی طور پر اثر ہوتا ہے اور پھر ختم ہو جاتا ہے۔
    ذرا ڈالر کا حال دیکھیے۔ 70ء کی دہائی کی ابتدا میں ایک ڈالر کی قوت خرید ایک ٹرائے اونس سونے کا پینتیسواں حصہ تھی۔ یعنی 35 ڈالر میں ایک ٹرائے اونس سونا آتا تھا اور ایک ٹرائے اونس سونا تقریباً ڈھائی تولے (پاکستانی) سونے کے برابر ہوتا ہے۔ آج ایک گرام سونا انٹر نیشنل مارکیٹ میں 39 ڈالر کا ہے۔ کیا یہ وہ قوت خرید ہے جو اوپرا وینفرے، سلویابر لسکونی اور بل گیٹس کی "دولت" رکھتی ہے؟ یعنی وہ قوت جو ہر سال کم ہو جاتی ہے اور یہ لوگ اگر اپنی یہ دولت بغیر سود کے کہیں رکھ دیں تو اگلے سو سال میں ممکن ہے کہ ان کا شمار غریبوں میں ہونے لگے؟؟؟
    آپ کے پاس اگر خلیفہ عبد الملک کے دور کا ایک دینار ہو اور آپ اسے پگھلا کر سونے کی ڈلی بنادیں تو بھی اس کی قیمت میں کوئی فرق نہیں آئے گا لیکن آپ کے پاس ایک ڈالر ہو اور آپ اس پر لکھی عبارت کو صاف کر دیں تو اس کی قیمت ایک روپیہ بھی نہیں رہے گی۔ یعنی اس کی کوئی قوت خرید نہیں۔
    پھر مزید آگے دیکھیے۔ 1973ء میں امریکا نے ڈالر کی پشت پر رکھا سونا دینے سے انکار کر دیا اور ڈالر کی پشت پر ڈالر کو رکھ دیا۔ آج آپ کو امریکی حکومت ایک ڈالر کے بدلے ایک ڈالر سے کچھ زائد دینے کی پابند ہے (یہ تفصیل جنرل آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس میں بٹ کوئین پر اپنے مقالے میں ڈاکٹر چارلس ڈبلیو ایوان نے لکھی ہے جو بیری یونیورسٹی فلوریڈا کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں)۔ فرض کیجیے وہ سوا ڈالر دیتی ہے۔
    اب ذرا یہ سمجھیے کہ بالفرض چین نے امریکی ڈالر کی لین دین سے انکار کر دیا ہے۔ جارج ساروز اپنے دس ارب ڈالر لے کر امریکی حکومت کے پاس جاتا ہے۔ وہ اسے ان کے بدلے سوا دس ارب ڈالر دے دیتی ہے۔ وہ پھر جاتا ہے تو امریکی حکومت اسے ان کے بدلے تھوڑے سے اور ڈالر اضافی دے دیتی ہے۔ وہ یوں ہی چکر لگاتا رہے گا تو کیا وہ چین سے خرید و فروخت کر لے گا؟
    چلیے فرض کیجیے کہ میرے پاس ایک ڈالر ہے اور اس کی ایک چاکلیٹ آتی ہے۔ اس ایک ڈالر کی امریکی قانونی قیمت سوا ڈالر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سوا ڈالر کی ایک چاکلیٹ ہونی چاہیے۔ اس سوا ڈالر کی قانونی قیمت ڈیڑھ ڈالر سے کچھ زائد ہے۔ یعنی وہی چاکلیٹ اب ڈیڑھ ڈالر کی ہونی چاہیے۔ اس کی قانونی قیمت۔۔۔۔۔ یہ اسی طرح چلتا رہے گا لاکھوں کروڑوں تک۔ مجھے ذرا ان دونوں مثالوں میں حقیقی قوت خرید دکھائیے اور اس کا فلسفہ سمجھائیے۔ مجھے بتائیے کہ ایک چاکلیٹ حقیقتاً کتنے ڈالر میں آنی چاہیے؟
    اور اگر آپ خود اس گورکھ دھندے کو سمجھ نہ پائیں تو پھر یہ سمجھیے گا کہ "دولت کی قیمت اس کی قوت خرید ہونا" بھی دنیا کو پاگل بنانے اور اپنی فزیکل قوت میں اس ڈالر کے ذریعے جلد از جلد اضافہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
    اب اس قوت اور طاقت کے مذکورہ حاملین کا موازنہ اصلی دینار اور سونے کی قوت سے کیجیے اور پھر اندازہ لگائیے کہ میرے بیان کردہ لوگوں کی دولت زیادہ تھی یا ان کی دولت زیادہ ہے۔
    رہ گئی بات چاندی کی تو وہ دینار کے "کھلے پیسوں" کی حیثیت رکھتی تھی اور اسی لیے اس کی قیمت گری کہ وہ سونے کی طرح اصل نہیں تھی۔

    ہزاروں کو چھوڑیے۔ میں نے کہا کہ ایسے چند لوگ ڈھونڈ کر دکھائیے جو دس بارہ ہزار احادیث سند کے ساتھ یاد رکھے ہوئے ہوں۔
    ہزاروں میں کوئی ایک آج ایسا ہوتا ہے۔ ہمارے مدرسے کے رئیس اپنے زمانہ طالب علمی میں طحاوی شریف کے بمع اسانید کے حافظ تھے۔ لیکن کب تک؟ انہیں بھی آج یاد نہیں وہ۔ محدثین مرتے دم تک یاد رکھتے تھے۔ غالباً زہریؒ نے کہا تھا کہ میں نے نہ کبھی کسی عالم سے کسی حدیث کو دہرانے کو کہا اور نہ کبھی مفہوم سمجھانے کو کہا۔ اور بھی کئی ایسے محدثین تھے۔
    رہ گئے قرآنی کمپیوٹر بچے تو ایک تو وہ بھی کب تک قرآنی کمپیوٹر رہتے ہیں؟ یہ آپ کے سامنے ہے۔ دوسرا قرآن کریم کا سینوں میں محفوظ ہونا اس کا معجزہ ہے۔ دنیا کی اور کوئی کتاب اتنی آسانی سے اتنے سینوں میں محفوظ نہیں ہوتی بشمول کتب حدیث کے۔

    یہ تو ظاہر ہے۔ ایک چیز یہ ہوتی ہے کہ میں نے ایک چیز بنائی۔ آپ نے اس میں اضافہ کرکے ایک اور چیز بنا دی۔ یہ ذہنی ترقی نہیں ہے۔ آپ کے پاس میری بنائی ہوئی چیز تھی تو آپ نے اضافہ کیا۔ ورنہ آپ وہ بھی نہ بنا سکتے۔ امریکہ نے آئن اسٹائین سے یورینیم کے افزودہ کرنے کا فارمولا منتیں کر کے لیا تھا۔ آج اس کے سائنسدان اس میں اضافے کر رہے ہیں۔ لیکن اگر وہ یہ فارمولا نہ دیتا تو آج والے ویسے ہی بیٹھے ہوتے جیسے آئن اسٹائن سے پہلے والے بیٹھے تھے۔ لہذا چیزوں میں اضافہ ذہنی ترقی کی علامت نہیں ہوتا۔
    اگر ایڈیسن بلب نہ بنا جاتا تو آج رنگ برنگی بتیوں کے بجائے آپ لالٹین ہی جلاتے اور آج کے سائنسدان بلب نہ بنا پاتے۔ یہ سب تو تجربات سے سیکھی جانے والی چیزیں ہیں اور تجربہ کر کے تو بندر اور کتے بھی سیکھ جاتے ہے۔

    تین بڑے اہرام مصر اور دنیا کے مختلف علاقوں کے اہرام بنانے والے آج والوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھے جنہیں (آج والوں کو) یہی سمجھ نہیں آیا کہ بر اعظم امریکہ کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں اہرام بنانے کی ٹیکنیک کیسے استعمال کی گئی اور مصر کی ریاستوں میں اہرام کا حساب کتاب کیسے بنایا گیا۔ اس پر مفروضے کیا کیا ہیں، نیٹ پر ہی دیکھ لیجیے۔

    میں ایک انسان ہوں۔ مجھے برسوں پہلے حساب کرنا تھا تو میں نے اباکس بنایا تھا۔ میرے بعد والوں نے اس میں تبدیلیاں کیں اور کرتے گئے۔ پنچ کارڈ مشین اور نہ جانے کہاں کہاں سے گزر کر آج وہ کور آئی سیون پروسیسر کا حامل کمپیوٹر چلا رہے ہیں۔ میں نے تو ترقی کی تھی کہ ایک نئی چیز بنائی تھی اور اپنا کام آسان کر لیا تھا۔ باقی تو تبدیلیاں کرتے رہے اسی میں۔ ہر نئی سوچ ترقی نہیں ہوتی، تبدیلی ہوتی ہے۔

    ارتقاء تبدیلی کو نہیں عروج کو کہتے ہیں۔ یعنی آپ میں ایک صلاحیت ہو اور میں آپ کے بعد آؤں تو آپ سے زیادہ صلاحیت مجھ میں ہو اور میرے بعد والوں میں مجھ سے زیادہ۔
    اصل میں "ارتقاء" ڈارون کی تھیوری ہے جس کے مطابق بندروں نے ارتقاء کیا تھا، تبدیلی نہیں۔

    جی ہاں ان کے پاس عمل کا مشاہدہ تھا، ان کے پاس طرق کی کثرت تھی، ان کے پاس روایات کے واسطوں کی قلت تھی (یعنی ان کے اور نبی کریم ﷺ کے درمیان واسطے کم تھے جس سے روایت زیادہ سے زیادہ عمدہ حالت میں ان کے پاس پہنچی تھی) اور ان کے پاس ذہنی قوت اور ایمانی طاقت کی پختگی تھی۔

    یہاں سے ہم بات کو آگے شروع کریں گے یعنی ان مسائل کے بارے میں جو سلف کے زمانے میں نہیں تھے۔ اور وہ مسائل جو ہمارے سامنے نہیں ہیں اور ہمارے بعد والوں کے سامنے ہوں گے۔
    ان میں کیا کیا جاتا ہے اور انہیں کیسے حل کیا جاتا ہے جب کہ اسلاف کی فہم سے باہر بھی نہیں جایا جاتا اور مسئلے کو بھی حل کیا جاتا ہے۔
     
  9. ‏مئی 06، 2017 #29
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    701
    موصول شکریہ جات:
    113
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم اشماریہ بھائی
    ابھی ہماری بحث اسی نکتہ پر جاری ہے کہ انسانی ذہن نے ترقی کی ہے یا نہیں۔ آپ نے ایک مثال سنی ہوگی ضرورت ایجاد کی ماں ہے ۔
    جب ہم سوچتے ہیں تو ہماری تخیل کی پرواز لامحدود ہوتی ہے۔
    انسان کے ذہن میں ہوا میں اڑنے کا تصور برسوں سے موجود تھا ۔ ہندوستانی دیومالائی کہانیاں، الف لیلہ اور فکشن پڑھ لیں ۔ اس کی عملی شکل کب ہوئی اور اس میں کسطرح بہتری آرہی ہے یہ بھی سب کے علم میں ہے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ اس مفروضے پر یقین رکھتے ہیں کہ مادے نے ترقی کی ہے انسان نے نہیں کی ہے۔

    ابھی ہم اپنے دماغ کتنا حصہ استعمال کر تے ہیں کتنا نہیں اس پر تحقیق جاری ہے ۔ ہرانسان کی ذہنی صلاحیتیں مختلف ہوتی ہے جس صلاحیت کو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے وہ نکھر کر آتی ہے ۔ ایک مفروضے کے مطابق ہر انسان میں جو اس دنیا میں موجود ہے اس کے دماغ میں پچھلے دور کی تمام معلومات محفوظ ہے ۔لیکن اس رسائی دماغ کے اس حصے تک نہیں یعنی اس کو استعمال کے قابل نہیں بنا پایا۔(اس کی مثال کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک ہے جس میں ہزاروں کتابوں کی کئی لائبریریاں سما سکتی ہیں)


    معلومات کی منتقلی کی ایک مثال ایک حدیث میں بھی ملتی ہےجس کا مفہوم ہے کہ جب ایک صحابی نے اپنے بچے کے رنگ کا ذکر کیا کہ یہ ماں باپ میں سے کسی پر نہیں گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پچھلے اجداد میں کوئی ایسا ہوگا۔ یعنی اس کی جین میں وہ کلر شامل تھا اور ایک خاص وقت پر ظاہر ہوگیا۔

    اس کا مطلب ہے ہم میں ہر معلومات منتقل ہورہی ہے ۔
    ہم اپنے حافظے کی قوت کو استعمال کر نے کے عادی نہیں رہے اس لئے وہ کمزور ہوگئی ہے ۔جو دماغ کے جس حصے کو زیادہ استعمال کر تا ہے وہ زیادہ پاور فل ہوتا جاتا ہے ۔اس کی مثال آپ کے ایک ہوٹل کے ویٹر کی لے لیں جس کو مختلف گاہکوں کو دیا ہوا کھا نا بالترتیب یاد ہوتا ہے اور سب کا بل زبانی بتارہا ہوتا ہے۔

    ایک ٹی وی پروگرام خبردار میں ایک کم پڑھا لکھا شخص ضرب کے انتہائی مشکل ترین سوالوں کا جواب سیکنڈوں میں دے دیتا ہے ۔ انسان تجربے اور ریسرچ سے سیکھتا ہے اور جب وہ نئی بات سیکھتا ہے تو اس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے یہی چیز ذہنی صلاحیت بڑھاتی ہے ۔ انسان میں ابھی کتنی صلاحیتیں مخفی ہیں ۔اس کا کچھ پتا نہیں۔

    دریافت کا یہ عمل جاری ہے ۔ اس ساری بحث کا مقصد یہی ہے اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ انسانی ذہن ترقی نہیں کررہا(آپ کے مطابق) تو میری ساری باتیں محض عبث ہوجائیں گی۔ میرا مؤقف ہی غلط ہوجائے گا۔ اوریہ ساری بحث وہیں ختم ہوجائی گی۔
     
  10. ‏مئی 06، 2017 #30
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا.
    آپ نے عمدہ بات کہی. اسی بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تخیل جو انسانی ذہنی صلاحیت ہے, اس نے ترقی نہیں کی. بلکہ وہ اس وقت بھی یہ صلاحیت رکھتا تھا کہ اڑنے کا تصور کر سکے. تجربات تو اس نے عملی شکل میں لانے کے لیے کیے جن میں وہ کبھی کامیاب ہوا اور کبھی ناکام. ہر کامیاب تجربے کے ساتھ اس کا تصور تبدیل ہوتا گیا جبکہ تخیل وہی تھا اڑنے کا. آپ نے شاید ہالی وڈ کی میوٹنٹ پر بنی فلمیں دیکھی ہوں. ان میں آج بھی ایک میوٹنٹ انسان کو پروں سے اڑتا دکھایا گیا ہے. یعنی وہی تصور جو برسوں پہلے تھا آج بھی جدید سمجھا جاتا ہے.

    کیمسٹری میں ایک قانون پڑھایا جاتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مادہ اپنی شکل تبدیل کرتا ہے, نہ پیدا ہوتا ہے اور نہ فنا. یہ قانون ہے, مفروضہ نہیں. اور مفروضے, نظریے اور قانون میں اصطلاحی فرق بہت زیادہ ہے. قانون ثابت شدہ فیصلہ ہوتا ہے.
    میں بھی بعینہ یہی کہتا ہوں کہ مادہ ترقی نہیں کرتا, تبدیلی کرتا ہے.
    اور رہا ذہن تو وہ غذا سے پیدا شدہ انرجی کا محتاج ہوتا ہے. اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آج ہماری غذا ہمارے جسم کے لیے ناکافی ہے تو پھر وہ ہمارے ذہن کو بھی وہ قوت نہیں دے سکتی جو پہلے والوں کے ذہنوں کو دیتی تھی.
    جاری ہے.....
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں